وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَامُوسَى
‘Moses, what is that in your right hand?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:17
[Pooya/Ali Commentary 20:17] (see commentary for verse 9)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:17-23
۳۔ توات اس بارے میں کیا کہتی ہے
۳۔ توات اس بارے میں کیاکہتی ہے : زیربحث آیات میں بیان ہواہے کہ موسٰی نے جس وقت اپنے ہاتھ کوگریبان سے باہر نکالاتو وہ بلاکسی عیب کے سفید اور روشن تھا ممکن ہے یہ جملہ اس تعبیرکی نفی کے لیے ہوجوتوریت میں تحریف شدہ دکھائی دیتاہے چونکہ اس موجودہ تورات میں اس طرح لکھاہے : اور خد ا نے پھر اس سے کہا: اب تواپنے ہاتھ کواپنی بغل میں دے لے ،توموسٰی نے اپنے ہاتھ کوبغل میں دے لیا، اور پھراس کو باہر نکالا،تو اس کاہاتھ برف کی مانند مبروص تھا (1) ۔ کلمہ ”مبروص “ ”برص “ کے مادہ سے کوڑھ کے معنی میں ہے جوایک قسم کی بیماری ہے ، اور مسلمہ طور پراس تعبیر کاا ا موقع پراستعمال غلط اور ناجائز ہے ۔ 1. توارت سفرخروج فصل : ۴ ،جلد :۶۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:17-23
سوره طه / آیه 17 - 23
۱۷۔ وماتلک بیمینک یٰموسٰی ۱۸۔ قال ھی عصای اتوکئواعلیھا و اھش بھا علیٰ غنی ولی فیھا مارب اخرٰی ۱۹۔ قال القھایٰموسٰی ۲۰۔ فالقٰھا فاذ ھی حیة تسعٰی ۲۱ ۔ قال خذ ھاولاتخف سنعید ھاسیرتھا الاولیٰ ۲۲ ۔ وا ضمم یدک الیٰ جناحک تخرج بیضآ ء من غیر سوٓء اٰیة اخرٰی ۲۳۔ لنریک من اٰیٰتنا الکبرٰی ترجمہ ۱۷۔اور اے موسٰی ! یہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیاہے ؟ ۱۸۔ کہا : یہ میراعصا ہے ، میں اس پر سہارالیتاہوں،اس سے اپنی بھیڑ وں کے لیے درختوں سے پتے جھاڑ تاہوں، اور اس سے اپنی اور دوسری ضررریات بھی پور ا کرتاہوں ۔ ۱۹۔ کہاسے موسٰی ! اسے نیچے پھینک دے ۔ ۲۰ ۔ (موسٰی نے ) اسے پھنک تو وہ اچانک ایک بہت بڑا سانپ بن گیااور چلنے لگا ۔ ۲۱۔ فرمایا اسے پکڑ لے اور ڈر نہیں ہم اسے اس کی اسی پہلی صورت میں پلٹا دیں گے ۔ ۲۲ ۔ اور اپناہاتھ اپنی بغل کے اند ر لے جا،تو وہ بے عیب ،سفید اور چمکتاہوا نکلے گا ، یہ دوسرامعجزہ ہے ۲۳۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بڑی بڑی نشانیاں تجھے دکھائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:17-23
موسٰی کا عصا اور ید بیضا
موسٰی کا عصا اور ید بیضا : اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کواپناخداکے ساتھ رابطہ ثابت کر نے کے لیے معجزے کی ضرورت ہے ، ورنہ ہرشخص پیغمبر ی کادعوٰی کرسکتاہے ۔اس بناپرسچے انبیاء کاجھوٹوں سے امتیاز معجزہ ے کے علاوہ نہیں ہوسکتاہے ، یہ معجزہ خود پیغمبر کی دعوت کے مطالب اور آسمانی کتاب کے اندر بھی ہوسکتاہے اور حسّی اور جسمانی قسم کے معجزات و دوسرے امورمیں بھی ہوسکتے ہیں ۔علاوہ ازیں معجزہ خود پیغمبرکی روح پربھی اثر انداز ہوتاہے اور وہ اسے قوّت قلب ، قدرت ایمان اور استقامت بخشتاہے ۔ بہر حا ل حضرت موسٰی (علیه السلام) کو فرمان نبّوت ملنے کے بعد اس کی سند بھی ملنے چاہیئے ، لہذا اسی پر خطررات جناب موسٰی (علیه السلام) نے دوعظیم معجزے خدا سے حاصل کیے ۔ قرآن اس ماجرے کو اس طر ح بیان کرتاہے : خدانے موسٰی سے سوال کیا : ” اے موسٰی (علیه السلام) یہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیاہے “ (وماتلک بیمینک یاموسٰی ) ۔ اس سادہ سے سوال ۔ میں لطف و محبت کی چاشنی تھی ۔ فطرتاموسٰی (علیه السلام) ۔ کی روح میں اس وقت طوفانی لہریں موجزن تھیں ایسے میں یہ سوال اطمینا ن قلب کے لیے بھی تھا اورایک عظیم حقیقت کو بیان کرنے کی تمہیداتھا ۔ موسٰی نے جوا ب میں کہا: یہ لکڑی میراعصا ہے ( قال ھی عصای ) ۔ اور چونکہ محبوب نے ان کے سامنے پہلی مرتبہ یوں اپنادروازہ کھولا تھا لہذا وہ اپنے محبوب سے باتیں جاری رکھنااور انہیںطول دیناچاہتے تھے اوراس وجہ سے بھی کہ شاید وہ یہ سوچ رہے تھے کہ میرا صر ف یہ کہناکہ یہ میرا عصا ہے ، کافی نہ ہوبلکہ اس سوال کامقصد اس عصاکے آثار و فوائد کو بیان کرناہوا لہذا مزید کہا : میں اس پر ٹھیک لگاتا ہوں (اتوکو ء علیھا ) ۔ اور اس سے اپنی بھڑوں کے لیے درختوں سے پتّے جھاڑ تاہوں (واھش بھاعلیٰ غنمی )(۱) ۔ اس کے علاوہ میں اس سے دوسر ے کام بھی لیتاہوں (۲) ۔ البتہ یہ بات واضح اور ظاہر ہے کہ عصارکھنے والے سے کون سے کا م لیتے ہیں کبھی اس سے موذی جانور وں اور دشمنوں کامقابلہ کرنے کے لیے ایک دفاعی ہتیھار کے طور پرکام لیتے ہیں کھبی اس کے ذریعے بیا بان میں سائبان بنالیتے ہیں ، کھبی اس کے ساتھ برتن باندھ کر گہری نہر سے پانی نکالتے ہیں ۔ بہرحال حضرت موسٰی (علیه السلام) ایک گہرے تعجب میں تھے کہ اس عظیم بارگاہ سے یہ کس قسم کا سوال ہے اور میرے پاس اس کاکیاجو اب ہے پہلے جوفرمان دیئے گئے تھے وہ کیاتھے ، اوریہ پرسش کس لیے ہے ؟ اچانک انہیں حکم دیاگیااے موسٰی ! اپناعصاپھنیک دے (قال القھایاموسٰی ) ۔ موسٰی نے اس فورا اسی وقت عصا پھینک دیا، وہ اچانک ایک بہت بڑا سانپ بن گیا ،اور وہ چلنے پھرنے لگا ۔( فالقاھافاذاھی حیة تسعٰی ) ۔ ”تسعیٰ “ ”سعی “ کے مادہ سے تیز ی کے ساتھ راہ چلنے کے معنی میں ہے جودوڑنے کی حد تک نہ ہو ۔ اس موقع پر موسٰی کوحکم دیاگیااسے پکڑ لے اور ڈر نہیں ، ہم اسے اس کی اسی پہلی صورت میں پلٹادیں گے (قال خذاھاولاتخف سنعید ھاسیرتھاالاولیٰ) (۳) ۔ سورہ قصص کی آیہ ۳۱ میں ہے : ولی مدبراولم یعقب یاموسٰی اقبل ولاتخف موسٰی اس عظیم سانپ کو دیکھ کر ڈر گئے اور پیچھے ہٹے خدا نے دوبار ہ ا ن سے کہا اے موسٰی ! پلٹ آ ؤ اور ڈرو نہیں ۔ اگر چہ حضرت موسٰی کے ڈرنے کامسئلہ بہت سے مفسرین کے لیے سوال کاباعث بن گیاہے کہ یہ حالت اس شجاعت کے ساتھ ، جوحضرت موسٰی (علیه السلام) کے بارے میں ہمیں معلوم ہے میل نہیں کھاتی ہم جانتے ہیں کہ انہونے ساری عمرفرعونیوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے گزار دی اور اپنی شجاعت کاعملی طورپرثبوت دیا،جبکہ یہ بات انبیاء کی شرائط کلی میں سے بھی ہے ۔ توپھریہاں یہ صورت کس طرح درست ہوسکتی ہے ؟ لیکن ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس کاجواب واضح ہوجاتاہے،کیونکہ یہ بات ہرانسان کے لیے فطری ہے ۔چاہے وہ کتناہی شجاع اور نڈر ہو ۔ کہ اگروہ یہ دیکھ لے کہ لکڑٰ اچانک ایک بہت بڑے سانپ میں بدل گیا،اور وہ تیز ی کے ساتھ چلنے لگاہے تو وہ قتی طورپروحشت زدہ ہوگاور خود کواس سے بچائے گا ،سوائے اس صورت کے کہ اس منظر کو اس کے سامنے باربار دہرایاجائے اس فطری اثر کاموسٰی پرکسی طرح بھی اعتراض نہیں ہوسکتا ، اور سورئہ احزاب کی آیہ ۳۹ میں جو یہ بیان ہواہے کہ : الذین یبلغون رسالات اللہ ویخشون احد االااللہ ” جولو گ اللہ کے پیغا مات کی تبلیغ کرتے ہیںوہ اسی سے ڈرتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے “ ۔ اس کے منافی نہیں ، چونکہ یہ ایک فطری زودگزراوروقتی وحشت ہے جو ایک ایسے حادثہ سے ہوئی ہے جس سے پہلے کبھی واسطہ نہیں پڑا اور جوخلاف معمول ہے ۔ اس کے بعد حضرت موسٰی (علیه السلام) کے دوسرے معجزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیاگیاہے : اپناہاتھ اپنے گریبان میں لے جاتاکہ سفید چمکدار اور روشن ہوکر باہر آئے اوراس میں کوئی عیب و نقص نہ ہوگا اور یہ تمہارے لیے ایک دوسرامعجزہ ہے (واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضاء من غیرسوء اٰیة اکریٰ )(۴) ۔ اگر چہ (واضمم یدک الی جناحک ) کے جملہ کی تفسیرمیں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں لیکن سورہ قصص کی آیہ ۳۶ کی طرف توجہ کرنے سے جس میںیہ بیان کیاگیاہے : اسلک یدک فی جیبک اور سورہ نمل کی آیہ ۱۲ جس میںیہ بیان ہوا ہے : وادخل یدک فی جیبک بخوبی معلو م ہوتاجاتاہے کہ جناب موسٰی (علیه السلام) کواس بات کاحکم دیاگیاتھا وہ اپناہاتھ گریبان میں ڈالیںاوراسے بغل یاپہلوکے نیچے تک لے جائیں(کیونکہ جناب اصل میں پرندوں کے پروں کے معنی میں ہے اور یہاں ہوسکتاہے کہ زیربغل کے لیے کنایہ ہو ) ۔ ” بیضا“ سفید کے معنی میں ہے ، اور ” من غیرسو ء“ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تیرے ہاتھ کی سفید ی ، برص یااسی جیسی کسی بیماری کے اثر سے نہ ہوگی ،کیونکہ اس میں ایک خاص قسم کی چمک اور روشنی ہوگی ، وہ ایک لمحہ کے لیے ظاہرہوگی اور دوسرے ہی لمحہ میںغائب ہوجائے گی ۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ اس وقت حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ہاتھ میں انتہائی زیادہ نورانیت پیدا ہوجاتی تھی اگر ایساتھا تو پھر ہمیں یہ قبول کرناپڑے گا کہ (من غیر سو ء) کامفہوم اس کے علاو ہ بھی ہے کہ جو ہم نے اوپربیان کیاہے یعنی اس میں ایک ایسی بے عیب نورانیت تھی ،جونہ آنکھ کوتکلیف دیتی تھی نہ اس کے درمیاں کوئی سیاہ دھبہ دکھائی دیتاتھااور نہ ہی کوئی اور ایسی چیز تھی ۔ پہلی آیات میں جو کچھ بیان کیاگیااس سے نتیجہ نکالتے ہوئے آخری زیربحث آیت میں فرمایاگیاہے : ہم نے ان کو تیرے اختیار میں دے دیاہے تاکہ ہم تجھے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں(لنریک من اٰیاتناالکبرٰی ) ۔ یہ بات صاف ظاہرہے کہ ” آیات کبریٰ “ سے مراد وہی دواہم معجزہ ے ہیں کہ جن کااوپر ذکر آیاہے ، اوریہ جو بعض مفسرین نے احتما ل ذکر کیاہے کہ یہ دوسرے معجزات کی طرف اشار ہ ہے جو خدانے جناب موسٰی (علیه السلام) کوبعد میں عطافرمائے ،یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے ۔ ۱۔” اھش “ ” ھش “ (ھاء کی فصتح کے ساتھ ) کے مادہ سے درختوں کے پتوں پرمارنے اور انہیں جھاڑ نے کے معنی میں ہے ۔ ۲۔ ” ماٰرب “ جمع ہے ” ماء ربة“ کی جوحاجت ،نیاز اور مقصد ک معنی میں ہے ۔ ۳۔”سیرة “ جیسا کہ راغب مفردا ت میں کہتا ہے ،یاباطنی حالت کے معنی میں ہے ، چاہے وہ حالت غریز ی ہو یااکتسابی ۔ بعض نے یہاں ہیئت و صورت کے معنی کیے ہیں ۔ ۴۔” اٰیة “ منصوب ہے ، کیونکہ یہ ایک ایسااسم ہے جوحال کی جگہ آیاہے ، اس ضمیر کاحال ہے کہ جو ” تخرج “ میں مستتر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:17-23
۲۔ چیزوں کی فوق الفادت استعداد
۲۔ چیزوں کی فوق الفادت استعداد : مسلمہ طور پر جس دن حضرت موسٰی (علیه السلام) نے چرواہوںوالی وہ لاٹھی اپنے لیے منتخب کی تھی وہ یہ نہ جانتے تھے کہ یہ سادہ ساوجود خداکے حکم سے اتناعظیم کام کرے گا اس سے کہ فرعون کی قدرت کو درہم برہم کرکے رکھ دے گا لیکن خدانے اسے دکھایاکہ اسی سادہ سے وسیلے کے ذریعہ ایسی خارق العادت قوت پیدا کی جاسکتی ہے یہ دراصل تمام انسانوں کے لیئے ایک درس ہے کہ وہ اس دنیامیں کسی چیز کومعمو لی نہ سمجھیں کئی دفعہ ایساہوتاہے کہ جن چیزوںیاافراد کو ہم حقارت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کے اندر ایک عظیم طاقت پہنان ہوتی ہے کہ جس سے ہم بے خبرہوتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:17-23
۱۔ دوعظیم معجزے
۱۔ دوعظیم معجزے : اس میں شک نہیں کہ موسٰی (علیه السلام) کے عصاکے ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہوجانے کے بارے میں زیر نظر آیات میں جو کچھ کہاگیاہے یہاں تک کہ سورئہ اعراف کی آیات ۱۰۷ میں اسے ” ثعبان “ (اژدھا) سے تعبیر کیاگیاہے او ر اسی طرح ایک مختصر سے لمحہ کے لیے ہاتھ میں ایک خاص قسم کی چمک پیداہونااور پھراس کاپہلی حالت کی طرف پلٹ جانا، یہ ایک معمولی یانادروکمیاب امرنہیں ہے ، بلکہ یہ دونوںخلاف معمول اور معجزہ شمار ہوتے ہیں جوایک مافوق بشرقوت کے سہارے اور مدد کے سوایعنی خدائے عظیم کی قدرت کے بغیر ممکن نہیں ہیں ۔ جولوگ خداپرایمان رکھتے ہیں اوراس کے علم و قدرت کوبے پایاں سمجھتے ہیںوہ ان امور کاہرگز انکار نہیں کرسکتے ،اور نہ ہی مادہ پردستوں کی طرف اسے خرافات کہہ سکتے ہیں ۔ معجزہ میں جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ عقلی طور پر محال نہ ہواور یہ اور یہ بات اس مقام پرپورے طور سے صادق آتی ہے کیونکہ کوئی عقلی دلیل عصاکے بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہونے کے امکان کی نفی پردلت نہیں کرتی ۔ کیاعصا اوربڑاسانپ دونوں ماضی میں مٹی سے ہی پیدانہیں ہوئے ؟ یقینی طور پرشاید لاکھوں یاکروڑوں سال گزر گئے ہوں کہ جب اس قسم کی موجودات وجود میں آئی ہوں (اور اس مسئلہ میں کوئی فرق نہیں ہے خوہ ہم انواع کے ثبوت کو مانیںیااس کے ارتقا کے قائل ہوں،کیونکہ ہرحال میں درختوں کی لکڑی بھی مٹی سے ہی پیدا ہوئی ہے اور حیوانات بھی) ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ یہ کام معجزانہ طورپرانجام پایاہے کیونکہ و ہ مراحل جو ہزاروں سالوں میںطے ہونے چاہیئں تھے وہ ایک لمحے اورایک انتہائی کم اور مختصر مدّت میں انجام پاگئے ہیں ، کیاایساکام محال نظر آتاہے ؟ ممکن ہے کہ میں تو ایک ضخیم کتاب کوایک سال میں لکھوں، اب اگر کوئی ایساشخص پیداہوجائے کہ وہ اعجاز کے سہارے اتنی تیزی کے ساتھ لکھے کہ وہ ایک گھنٹے یااس سے بھی کم وقت میں لکھی جائے ،تو یہ محال عقلی نہیں ہے ،یہ خلا ف معمول ہے (غور کیجئے گا ) ۔ بہر حال معجزات کے بارے میں عاجلانہ فیصلے اور خدانخوستہ ان کو خرافات کہنامنطق اور عقل سے دور ہے محض ایک چیز جوکبھی کبھی ایسے افکارکوجنم دیتی ہے یہ ہے کہ ہم معمول کی علت و معلول کے خوگر ہوگئے ہیں یہاں تک کہ ہم ان کو ایک ضرورت قرار ینے لگ گئے ہیں اور جو کچھ اس کے خلاف ہواسے مخالف ضرورت سمجھنے لگے ہیں،حالانکہ ان طبعی اور عادی معلوں کی شکل پرگز بھی ضرورت کاپہلونہیں رکھتی ، اور اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ مافوق طبیعت عامل ا ن میں تبدیلیاں پیدا کردے ( 1) ۔ 1۔ اس کے بارے میں ہم نے جلد ۶ / ب پربھی بات کی ہے ۔