وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَى
I have chosen you; so listen to what is revealed.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:13
[Pooya/Ali Commentary 20:13] (see commentary for verse 9)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:13-16
۳۔ نماز یاد خدا کا بہترین ذریعہ ہے
۳۔ نماز یاد خداکابہترین ذریعہ ہے : زیر بحث آیات میں نماز کے ایک اہم فلسفہ کی طرف اشارہ ہواہے کہ وہ انسان اس جہان کی زندگی میں ۔ غافل کرنے والے عوامل کومدّ نظر رکھتے ہوئے یاددہانی کامحتا ج ہے ، ایسے وسیلے کے ذریعے ، جومختلف زمانی فاصلوں میں ،قیامت ،پیغمبروں کی دعوت اور مقصد خلقت کواسے یاددلائے اوراسے غفلت اور جہالت کے گرداب میں غرق ہونے سے بچائے ، نماز اس اہم ذمّہ داری کو پوری کرتی ہے ۔ انسام صحیح سویرے نیند سے بیدار ہوتاہے وہ نیند کہ جس نے اسے اس جہان کی ہرچیز سے ہیگانہ کریادیاتھازندگی ے پرگراموں کو نئے سرے سے شروع رناچاہتاہے ،ہرچیز سے پہلے نماز میں مشغول ہوتاہے اپنے دل و جان کوخداکی ےاد کے ساتھ بخشاہے ، اس سے قوت ومدد حاصل کرتاہے اوار پاکیز گی و صداقت کے ساتھ سعی و کوشش کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ پھر جس وقت وہ روزانہ کے کاموں مشغول ہے ،اور چند گھنٹے گزرجاتے ہیں اور اکثر اس کے اورخداکی یاد کے درمیان جدائی ہوجاتی ہے ، اچانک ظہرکاوقت ہوجاتاہے اور وہ موء ذن کی آواز سنتاہے ”اللہ اکبر “ حیّ علی الصلٰوة ! : خدا ہرچیز سے برتر ہے کہ اس کی تعریف و توصیف کی جاسکے نماز کے لیے آؤ “ تو نماز کے لیے تیار ہوجاتاہے اور اپنے معبود کے سامنے رازونیاز کے لیے کھڑا ہوجا تاہے ،اور اگر کسی قسم کی غفلت کاگردوغبار اس پر بیٹھ گیاہوتاہے تو وہ اسے دھودیتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ خداوحی کے آغاز میں ابتدائی احکامات میں حضر ت موسٰی (علیه السلام) سے کہتاہے : نماز قائم کرو تاکہ میری یاد میں رہو۔ یہ بات خاص طور پرقابل توجہ ہے کہ یہ آیت کہتی ہے کہ نماز قائم کر تاکہ تومیری یاد میر یاد میں رہے لیکن سورئہ رعد کی آیہ ۲۸ میں ہے : الابذکراللہ تطمئن القلوب ذکرخدااطمینا ن اور سکون قلب کاسبب ہے ۔ اور سورہ فجر آیہ ۲۷ تا۳۰ میںفرماتاہے : یاایتھاالنفس المطمئنة ارجعی الیٰ ربک راضیة مرضیة فادخلی فی عبادی واد خلی جنتّی اے نفس مطمئنہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آ جبکہ تو بھی اس سے خوش ہے اور وہ بھی تجھ سے خوش ہے ، تو میرے بندوں میں داخل ہوجا،اور میری جنّت میں چلاآ۔ ان تینوں آیات کوایک دوسرے کہ ساتھ ملاکرہم اچھی طرح سمجھ جارتے ہیں کہ نماز انسان کو خداکی یاد دلاتی ہے ، خداکی یاداس کے نفسوں کو مطمئن بناتی ہے اور نفس مطنئن اسے مخصوص نبدوں اور بہشت جاوداں میں پہنچادیتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:13-16
۲۔ ایک سوال کاجواب
۲۔ ایک سوال کاجواب : بعض مفسرین نے یہاں ایک سوال اٹھایاہے اور وہ یہ کہ موسٰی (علیه السلام) نے کہا سے اور کیسے یہ جان لیاکہ یہ آواز جووہ سن رہے ہیں خدا کی طرف سے ہے اور یہ یقین کیسے پیدا ہوا کہ پروردگار ا نہیں(رسالت پر ) مامور کررہاہے ؟ یہ سوا ل تمام انبیاء کے بارے میں اٹھایاجاسکتاہے دوطریقہ سے جواب دیاجاسکتاہے پہلا جواب یہ ہے کہ : اس حالت میں ایک قسم کامکاشفر باطنی اوراندرونی احساس کو انسان کو یقین کامل تک پہنچا دیتاہے اور ہرقسم کاشک و شبہ زائل کردیتاہے تمام پیغمبرں کو حاصل ہوجاتاہے ۔ دوسراجواب یہ ہے کہ : ممکن ہے کہ وحی کاآغاز معجزاتی طورپرایسے کام سے کیاجاتاہوکہ پروردگار کی قدرت کے سواممکن نہ ہو جیساکہ موسٰی علیہ اسلام نے سبز درخت کے اندر آگ دیکھی ،اوراسی سے سمجھ گئے کہ یہ ایک خدائی اور اعجاز آمیز مسئلہ ہے ۔ اس بات کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ خدا کاکلام سننا اور وہ بھی بغیرکسی واسطے کے اس کایہ مفہوم نہیں ہے کہ خداحنجرہ اور آواز رکھتاہے بلکہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے فضامیں آواز کی لہریں پیدا کردیتاہے ا ورلہروں کے ذرئعہ اپنے پیغبروں سے کلام کرتاہے ،اور جونکہ حضرت ، موسٰی (علیه السلام) کی نبوت کاآغاز اسی طرح ہواتھا اسی لیے انہیں”کلیم اللہ “ کہاجاتاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:13-16
” فاخلع نعلیک “ سے کیامراد ہے ؟
۱۔ ” فاخلع نعلیک “ سے کیامراد ہے ؟ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ آیت کاظاہری مفہوم یہ ہے کہ موسٰی کواس مقدس سرزمین کے حترام میں کا حکم دیا گیاکہ اپنے پاؤ ں سے جوتے اتاردے اوراس وادی میں نہایت عجزو انکسار ری کے ساتھ قدم رکھے ، حق کوسنے اور فرمان رسالت حاصل کرے لیکن بعض مفسرین کچھ روایات کی پیروی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ : یہ حکم اس وجہ سے دیاگیاتھاچونکہ اس جوتے کا چمڑا مردہ جانور کاتھا ۔ یہ بات خود اپنے طور پربعید نظر آتی ہے ۔کیونکہ کوئیوجہ نہیں تھی کہ موسٰی (علیه السلام) اس قسم کے آلودہ چمڑے اور جوتے سے استفادہ کرتے ۔ بعض نے دوسری روایات میں اس کاانکار بھی پایاجاتاہے ایک روایت و ہ ہے جو امام زمانہ ( ارواحنالہ الفداء ) کے ناحئہ مقدس سے نقل ہوئی ہے کہ جواس تفسیرکی شّدت کے ساتھ نفی کرتی ہے (1) ۔ موجودہ توات کے سفیرخروج فصل سوم میں بھی یہی تعبیر کہ جو قر آ ن میں ہے نظر آتی ہے ۔ فاخلع نعلیک ای خوفیک : خوفک من ضیاع اھلک و خوفک من فرعون ” فاخلع نعلیک “ سے مراد یہ ہے کہ اپنے سے دوخوف و خطر دورکردے ایک اپنے گھر والوں کے اس بیان میں تباہ ہوجانے کا خوف اور دوسرا فرعوم کاخو ف (2) ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ اسلام سے حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی کے اس واقعہ سے متعلق ایک عمدہ مطلب نقل ہواہے ، آپ فرماتے ہیں : کن لمالاترجواارجی منک لماترجوا،فان موسٰی بن عمران خرج لیقبس لاھلہ بارا جرجع الیھم وھوارسول نبی ! جن چیزوں کی تمہیں امید نہیں ہے ان کی ان چیزوں سے بھی زیادہ امیدرکھو کہ جن کی تمیں امید ہے کیونکہ موسٰی بن عمران ایک چنگاری لینے گئے تھے لیکن عہدئہ نبوت و رسالت کیساتھ واپس پلٹے (3) ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اکثر ایساہوتاہے انسا ن کسی چیز کی امید رکھتاہے مگر وہ اسے حاصل نہیں ہوتی ہے لیکن بہت سی اہم ترین چیزیں جن کی اسے کوئی امید نہیں ہوتی لطف پروردگارسے اسے مل جاتی ہیں ۔ یہی معنی امیرالمومنین علی علیہ اسلام سے بھی نقل ہو ا ہے (4) ۔ 1۔ نوراثقلین ،جلد ۳ ، ص ۳۷۳۔ 2۔ نوثقیلن ،جلد ۳ ، ص ۳۷۴۔ 3۔ نورا ثقلین ،جلد ۳ ، ۳۷۴۔ 4۔ سفینتہ البحار ، جلد ۱، ص ۵۱۳۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:13-16
بیابان میں آگ کاشعلہ
بیابان میں آگ کاشعلہ : یہاں سے خدا کے عظیم پیغمبر حضرت موسٰی کی داستان شروع ہوتی ہے ۔اسّی ۸۰ سے زیادہ آیات میں ان پر گزر نے والے واقعات کے اہم حصّوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ تاکہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین کے لیے جوان دنو ں مکّہ میں دشمنوں کی طرف سے سخت دباؤ میں تھے ، یہ داستان تسلّی اور دلاسے کاکا م دے ۔ تاکہ وہ یہ جان لیں کہ شیطانی طاقتیں خدا کی قدرت کے مقابلے میں ٹھر نے کی تاب نہیں رکھتیں اور ان کی یہ سب ساز شیں نفس برآب ہیں ۔ تاکہ اس داستان سے ، جو بہت سے سبق آموز مطالب سے معمور ہے ، توحید و خدا پرستی کی جدوجہد میں اپنی منزل کو لیں ۔ زمانے کے فرعونوں اور جادوگروں کے کے خلاف معرکہ جاری رکھیں اور اسی طرح داخل انحرفات اور انحرفی میلانات کے خلاف پیکار میں اپنی منزل مقصود کوپالیںیہ ایسے درس ہیں کہ جوان کے لیے انقلاب اسلامی کے سارے دورمیں راہ نما او ر راہ کشاہوسکتے ہیں ۔ پہلے حصّہ میں ۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی نبوت و بعثت کے آغازاور وحی کی پہلی شعاعوں کابیان ہے ۔یہ وہ دور ہے جس کی مّدکم ہے اور مطالب زیادہ ہیں یہ وہ دن ہیں جو حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اس ” وادی مقدس “ میں ،اس بیابان تاریک میں اور خلوت میں گزارے ۔ دوسرے حصّہ ۔ میں موسٰی (علیه السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیه السلام) کی طرف فرعون اوراس کے حواریوں کو توحید پرستی کے دین کی دعوت دینے کا ذکر ہے اور اس کے بعد دشمن کے ساتھ ان کی معرکہ آرائی کوبیا ن کیاگیاہے۔ تیسرے حصّہ ۔ میں موسٰی (علیه السلام) اور بنی اسرئیل کے مصر سے نکلنے اور فرعو ن اور اس کے حواریوں کے چنگل سے ان کے نجات پانے کی کیفت اور دشمنوں کے غرق ہونے کاتزکرہ ہے ۔ چوتھے حصّہ میں ۔ بنی اسرئیل کے ،دین توحید سے شرک کی طرف بڑی تیزی سے انحراف کرنے ، اور سامری کے وسوسوں کوقبول کرنے کاذکر ہے ۔ نیز اس انحراف پر حضرت موسٰی (علیه السلام) کے قاطع اور شدیدرد عمل کاذکر ہے ۔ اب ہم زیر بحث آیات کی طرف کہ جوپہلے حصّے کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں یہ آیات ایک جاذب و لطیف تعبیرکے ساتھ کہتی ہیں:کیاتمہیں موسٰی کی خبر پہنچی ہے (وھل آتٰک حدیث موسٰی ) ۔ یہ بات محتاج ثبوت نہیں کہ یہ استفہام حصول خبرکے لیے نہیں ہے کیونکہ خدتو تمام اسرار سے آگاہ ہے ، بلکہ مشہور تعبیر کے مطابق یہ استفہام تقریری یادوسرے لفظوں میں ایک ایسا استفہام ہے کہ جوایک اہم خبربیان کرنے کے لیے تمہید اور مقدمہ کے طور پربولاجاتاہےجیساکہ ہم اپنی روزمرہ کی زبان میں بھی ایک اہم خبرکوشروی کرتے وقت کہتے ہیں : کیاتم نے یہ خبرسنی ہے کہ ؟ اس کے بعد فرمایاگیاہے: جب اسے (دور سے ) آگ دکھائی دی تواس نےاپنے گھروالوں سے کہاتم تھوڑ ی دیر کے لیے رک جاؤ ، میں نے آگ دیکھی ہے میں اس کی طرف جاتاہوں ،شایدمیں اس میں سے تمہارے لیے ایک چنگاری لے آوں ، یا اس آگ کے ذریعے راستہ معلوم کرلو ( اذراء ی نارافقا ل لاھلہ امکثواانی اٰنست نارا لعلی اٰتیکم منھا بقبس او اجد علی النار ھدی ) ۔ ” قبس “ (بروزن ” قفس “ ) تھوڑی سی آگ کے معنی میں ہے کہ جسے کچھ زیادہ آگ سے الگ کرلیتے ہیں بیابانوں میں آگ کادکھائی دیناعام طورپراس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ کچھ لوگ اس کے جمع ہیں یا یہ بلندی آگ کااشعلہ اس لیے روشن کیاجاتاہے تاکہ دکھائی دینا عام طور پراس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ کچھ لوگ اس کے معنی میں یایہ بلندی پر آگ کاشعلہ اس لیے روشن کیاجاتاہے تاکہ قافلے والے رات کے وقت بھٹک نہ جائیں ۔ ” امکثو “ ” مکث “ کے مادہ سے مختصر تو قف کے معنی میں ہے ۔ان تمام مجموعی طور پر یہ معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اپنے بیوی اور بچّے کے ساتھ اندھیری رات میں بیابان سے گزر رہے تھے را ت ایسی سرداور تاریک تھی کہ وہ اراستہ کھوبیٹھے تھے انہیں دورسے آگ کاایک شعلہ دکھائی دی یہ شعلہ دیکھتے ہی حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اپنے گھروالوں سے کہا : تھوڑ ی سی دیرکے لیے ٹھرجاؤ ،میں نے آگ دیکھی ہے ، میں جاکراس میں سے تھوڑی سی آگ تمہارے لیے لے آؤں یاآگ کے ذریعے یاان لوگوں کے وسیلے سے جو وہاں ہیں راستہ معلوم کرلوں ۔ تواریخ میں بھی ہے کہ جب موسٰی (علیه السلام) کی شعیب (علیه السلام) کے ساتھ معاہدہ کی مدّت مدین میں پوری ہوگئی تو وہ اپنے بیوی بچے اور اپنی بھڑوں کولے کرمدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تو راستہ بھول گئے ، رات ایسی تاریک اور اندھیری تھی کہ بھڑیں بیابان میں بکھر گئیں انہوں نے چاہاکہ آگ روشن کریں تاکہ اس سردرات میںوہ خود اور ان کے بچے گرم ہوں،لیکن آگ جلانے والی چیز سے آگ روشن نہ ہوئی ،اسی عرصے میں ان کی حاملہ بیوی کو وضع حمل کی تکلیف شروع ہو گئی ۔ گویامصائب کاایک طوفان تھا جس نے انہیںچاروں طرف سے گھیرلیا ہے یہ وقت تھا جبکہ انہیں دورسےایک شعلہ نظر آی لیکن یہ آگ نہیں تھی بلکہ خدائی نور تھا موسٰی (علیه السلام) اس گمان میں کہ وہ آگ ہے ، راستہ معلوم کرنے یاآگ لینے کے لیے اس آگ کی طرف چل پڑے (۱) ۔ اب اس سر گزشت کاآخری حصّہ قرآن کی زبان سے سنتے ہیں : جب موسٰی (علیه السلام) آگ کے پاس آئے توایک آواز سنی جو انہیں مخاطب کرکے کہہ رہی تھی ۔اے موسٰی (علیه السلام) (فلما اتا ھانودی یاموسٰی ) ۔ میں تیراپروردگار ہوں ، اپنے جوتے اتار دے کیونکہ تو مقدّس سر زمین طوی میں ہے (انی اناربک جاخلع نعلیک انک بالواد المقدس طویٰ) ۔ سورہ قصص کی آیہ ۳۰ سے یہ معلوم ہوتاہے کہ موسٰی نے یہ ندااس درخت کی طرف سے جو وہاں تھاسنی تھی : نودی من شاطئی الوادی الایمن فی البقعة المبارکة من الشجرة ان یاموسٰی الّی انااللہ ربّ العالمین مجموعی طورپر ان دونوں تعبیروں سے معلوم ہوتاہے کہ موسٰی جس وقت قریب گئے تو آگ کو درخت کے اندردیکھا (جو مفسرین کے قول مطابق عناب کادرخت تھا )اور یہ خود ایک واضح و روشن قرینہ تھا ، اس بات کایہ آگ کوئی عام آگ نہیں ہے ،بلکہ یہ خدائی نور ہے ، کہ جو نہ صرف یہ کہ درخت کو نہیں جلاتا بلکہ اس کے ساتھ یکجان آشناہے ، یہ نورحیات ہے۔ موسٰی (علیه السلام) نے یہ آواز سنی کہ ” میں تیراپروردگار ہوں“ تو حیرت میں رہ گئے اور ایک ناقابل بیان پرکیف حالت ان پرطاری ہوگئی ، یہ کون ہے جو مجھ سے باتیں کررہاہے ؟ یہ میراپروردگار ، کہ جس نے لفظ ” ربک “ کے ساتھ مجھے افتخار بخشا ہے تاکہ یہ میرے لیے اس بات کی نشاندہی کرے کہ میں نے آغاز بچپن سے لے کراب تک اس کی آغوش رحمت میں پررش پائی ہے اور ایک عظیم رسالت کے لیے تیار کیاگیاہوں ۔ حکم ملاکہ پاؤ ں سے اپناجوتااتار ودو ،کیونکہ تو نے مقدس سر زمین پرقدم رکھا ہے سرزمین کہ جس میں نورالٰہی جلوہ گرہے ،وہاںخدا کاپیغام سنناہے اور رسالت کی ذمّہ دار ی کو قبول کرناہے ، لہذاانتہائی خضوع اور انکساری کے ساتھ اس سرزمین میں قدم رکھو ۔یہ ہے دلیل پاؤں سے جوتااتار نے کی ۔ اس بناپر بعض مفسرین نے جوتااتار نے کے سلسلے میں بحث کی ہے ۔انہوں نے بعض چندورچندودوسررں کے اقوال نقل کیے ہیں جو بہت زیادہ ہیں ان میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جوبہت بعد میں معلوم ہوتی ہے البتہ جو روایات اس ایت کی تاویل کے سلسلے میں نقل ہوئی ہیں ہم نکات کے ذکر کے موقع پران کے بارے میں بحث کریں گے ۔ ”طوی “ کی تعبیر یاتو اس بنا ء پر ہے کہ اس سرزمین کانام طو ی تھا ، جیساکہ اکثر مفسرین نے بیان کیاہے اور ایا یہ بات ہے کہ ” طوی “ جو کہ اصل میں لپیٹنے کے معنی میں ہے ، یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس سرزمین کو معنوی برکات نے ہرطرف سے گھیر رکھا تھا اسی بناء پرسورہ قصص کی آیہ ۳۰ میں اسے ”البقةالمبارکة “ سے تعبیرکیاگیاہے۔ اس کے بعد اسی کے کہنے والے سے یہ بات بھی سنی : اور میں نے تجھے مقام رسالت کے لیے چن لیاہے ،اب جوبھی وحی تیری طرف ہوتی ہےاسے غورسے سنو(واناخترتک فاستمع لمایوحٰی ) ۔ اوراس کے بعد موسٰی نے وحی کاپہلاجملہ اس صورت میں حاصل کیاہے :میں اللہ ہوں، میرے سوااور کوئی معبود نہیں ہے (اننی انااللہ الاالہٰ الاان ) ۔ اب جبکہ بات ہے تو صرف میرہی عبادت کر ، ایسی عبادت کہ جوہرقسم کے شرک سے پاک ہو۔ (فاعبد نی )اورنماز قائم کر تاکہ ہمیشہ میری یاد رہے (واقم الصلٰوة لذکری ) ۔ اس آیت میں انبیاء کی دعو ت کی اہم ترین بنیاد یعنی مسئلہ توحید کو بیان کرنے کے بعد خدا ئے یگانہ کی عبادت کاموصوع ،ایمان و توحید کے درخت کے ایک ثمر کے عنوان سے بیان ہوا ہے اور اس کے بعد عظیم ترین عبادت اور خلق کاخالق کے ساتھ اہم ترین تعلق اوراس کی ذات پاک کوفراموش نہ کرنے کی موء ثرترین راہ یعنی نماز کاحکم دیاگیاہے ۔ فرمان رسالت کے ساتھ ،جواس سے پہلی آیت میں آیاہے ،ان تینوں احکام کابیان اورمسئلہ معاد کابیان جواس سے بعد والی آیت میں ، اصول وفروع دین کے ایک کامل اور مختصر مجموعہ کو بیان کرتاہے اور استقامت کے حکم کے ساتھ جوزیربحث آیات کی آخری آیت میں آئے گاہرلحاظ سے اس سلسلئہ کلام کی تکمیل ہوجاتی ہے ۔ اور چونکہ ”توحید “ اوراس کی فروعات کے ذکر کے بعددوسرا بنیادی مسئلہ معاد ہے لہذابعدوالی آیت میں قرآن کہتاہے قیامت یقیناآئے گی ،میںچاہتاہوں کہ اسے مخفی رکھوں تاکہ ہرشخص اپنی سعی و کوشش کے مطابق جزاء پائے (ا ن انساعة اٰتیة اکاد اخفیھالتجزٰی کل نفس بماتسعٰی ) ۔ اس جملہ میں دو نکات ہیں کہ جن کی طرف توجہ کرناضروری ہے: پہلانکتہ :یہ ہے کہ (کاد اخفیھا ) کے جملہ کامفہوم یہ ہے کہ ” نزدیک “ ہے کہ میں قیامت کی تاریخ کو مخفی رکھوں اوراس تعبیرکے لیے یہ بات لازم آتی ہے کہ میں نے (ابھی تک ) مخفی نہیں رکھا ہے ، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآ ن کی بہت سی صریح اور واضح آیات کے مطابق کوئی شخص بھی تاریخ قیامت سے آگاہ نہیں ہے جیسا کہ سورئہ اعراف کی آیہ۱۸۷ میں بیان ہواہے : یسئلونک عن الساعة ایان مرسٰھاقل علمھاعندربی لوگ قیامت بارے میں تجھ سے سوال کرتے ہیں تم کہہ دو کہ اس کاعلم تو خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے ۔ مفسرین نے اس سوال کے جواب میں بہت سی باتیں کی ہیں ۔بہت سے مفسرین یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ ایک تعبیرایک قسم کامبالغہ ہے اوراس کامفہوم یہ ہے کہ قیامت کے شروع ہونے کی تاریخ اس قدر مخفیاور پہناں ہے کہ نزدیک ہے کہ میںخود اپنے آپ تک سے بھی اسے پنہاں رکھوں اس بارے میں ایک روایت بھی وارد ہوئی ہے اور احتمال یہی ہے کہ مفسرین کی اس جماعت نے اپنامطلب اسی روایت سے اخذ کیاہے ۔ دوسری تفسیریہ ہے ”کاد “ کے مشتقات ہمیشہ نزدیک ہونے کے معنی میں نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات تاکید کے معنی میں آتے ہیں اور اس میں نزدیک ہونے کے معنی ہوتے ۔ لہذابعض مفسرین نے ” اکاد “ کو ” ارید “ (میں چاہتاہوں ) کے معنی کے ساتھ تفسیر کیاہے اور متون لغت میںیہ معنی صراحت کے ساتھ آئے ہیں (۲) ۔ ۲۔ دوسرانکتہ یہ ہے: کہ زیربحث آیت کے مطابق قیامت کو مخفی رکھنے کی علّت و سبب یہ ہے کہ ” خدایہ چاہتاہے کہ ہرشخص کواس کی سعی وکوشش کے مطابق جزاء دے “دوسرے لفظوں میں اس کے مخفی رہنے سے سب کے لیے ایک قسم کی آواز ئی عمل پیدا ہوگی اور دوسری طر ف چونکہ اس کوئی خاص وقت معلوم نہیں اور ہرزمانہ میں اس کاحتمال ہے لہذا اس کانتیجہ ہمیشہ آمادہ رہنے کی حالت یاتربیتی پروگراموں کوجلد ی قبول کرنے کی صورت میں تکلیف ہے ۔جیساکہ ”شب قدر “ کے پوشیدہ رکھنے کے فلسفہ کے بارے میں کہاگیاہے کہ اس کامقصد یہ ہے کہ لوگ سال کی تمام راتوں یاماہ مبارک رمضان کی تمام راتوں کااحترم کریں او ر خدا کی درگاہ میں حاضری دیں ۔ آخری زیربحث آیت میں ایک اسامی مسئلے کی طرف کہ جو تمام مذکور ہ عقید تی اور تربیتی پروگرموں کے اجراء کاضامن ہے اشارہ کرتے ہوئے فرامیاگیاہے : جولوگ قیامت پرایمان نہیں رکھتے اور انہیونےااپنی خواہشات کی پیروی کی ہے تجھے پرگز اس سے باز نہ رکھیں ورنہ ہلاک ہوجائے گا (فلایصد نک عنھامن لایوئمن بھاواتبع ھواہ فتردٰی ) ۔ تم بے ایمان لوگوں، ا ن کے وسوسوں اورکاموں میں رکاوٹیں ڈالنے کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے ہوجاؤ نہ توان کی کثرت سے وحشت زدہ ہو، نہ ان کی سازشوں سے قسم کاخوف کرو اور نہ ہی ان کی اس ہاؤ ہواور شورو غل سے اپنی دعوت کی حقانیت اور اپنے مکتب کی اصالت میں کسی قسم کاشک و شبہ کرو ۔ یہ بات خاص طور پرقابل توجہ ہے کہ یہاں پر” لایئومن “ صیغہ مضارع کی صورت میں اور ” واتبع ھواہ “ صیغہ ماضی کو صورت میں ہے یہ درحقیقت اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے منکرین کاایمان نہ لانا ہوا ئے نفس کی پیروی کی وجہ سے ہے گویاوہ یہ چاہتے ہیں کہ آزادرہیں اور جوکچھ اان کادل چاہے کریں، الہذا اس سے بہتر اوراکیاہے کہ قیامت کاہی انکار کردیں تاکہ ان کی ہواو ہوس اور خواہشات نفسانی کی آزاد ی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔ ۱۔مجمع البیان زیر بحث آیہ کے ذیل میں ۔ ۲۔ قاموس الغت میں ”کاد “ کے مادہ میں آیاہے : وتکون نمعنی اراداکاد اخفیھااریہ (کاد کامعنی ہے میںچاہتاہوں ) ۔