قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى
He said, ‘Get down both of you from it, all together, being enemies of one another! Yet, should any guidance come to you from Me, those who follow My guidance will not go astray, nor will they be miserable.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:123
[Pooya/Ali Commentary 20:123] (see commentary for verse 115)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:123-127
4- "هبوط" کیاہے ؟
4- "هبوط" کیاہے ؟ "ھبوط" لغت میں قہرًا نیچے کی طرف آنے کے معنی میں ہے ، مثلًا پتھرکا بلندی سے گرنا ۔ جس وقت یہ لفظ انسان کے بارے میں استعمال ہو تو سزا کے طور پر تنزل کی طرف راندہ درگاہ ہونے کے معنی دیتا ہے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آدم زمین پر ہی زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا ہوئے تھے اور وہ جنت بھی اسی جہاں کا سرسبز پر نعمت کوئی علاقہ تھا لہذا آدم کاهبوط ونزول یہاں نزول مقامی کے معنی میں ہے نہ کہ نزول مکانی کے معنی میں ۔ یعنی خدا نے ان کے مرتبہ و مقام کو ترک اولی کی وجہ سے تنزل کیا اور ان سب جنتی نعمتوں سے محروم کردیا اور اس جہاں کے رنج و بلا میں گرفتار کر دیا۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہاں مخاطب کرنے کے لیے تثنیہ کا صیغہ استعال ہوا ہے "اهبطا" یعنی تم دونوں نیچے اتر جاؤ ۔ ممکن ہے اس سے مراد آدم وحوا ہوں اور اگر بعض دوسری آیات میں" اهبطوا" جمع کی صورت میں ذکر ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان بھی اس خطاب میں شریک تھا کیونکہ وہ بھی بہشت سے راندہ گیا تھا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مخاطب آدم اور شیطان ہوں کیونکہ اس کے بعد کے جملے میں قرآن کہتا ہے :" يضحكم لبعض عدو" (تم میں سے بعض دوسرے لبعض کے دشمن ہوگے)۔ بعض مفسرین ، یہ بھی کہا ہے کہ " بعضكم لبعض عدو" سے مراد جوکہ جمع کی صورت میں خطاب ہے یہ ہےکہ ایک طرف سے آدم و حوا اور دوسری طرف سے شیطان کے درمیان عداوت پیدا ہوگئی یا ایک طرف سے آدم اور ان کی اولاد اور دوسری طرف سے شیطان اور اس کی ذریت کے درمیان دشمنی پیدا ہوگئی ہے۔ لیکن بہرحال " اما يأتيكم منی هدى" (جس وقت میری ہدایت تمھارے پاس آۓ)کے جملہ میں حتمًا آدم و حوا کی اولاد ہی مخاطب ہے کیونکہ خدا کی ہدایت انہیں کے ساتھ مخصوص ہے۔باقی رہ شیطان اور اس کی ذریت تو چونکہ انہوں نے اپنا حساب کتاب خدائی ہدایت سے جدا کرلیا ہے. لہذا وہ اس خطاب میں شامل نہیں ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:123-127
3- گناہ میں اسراف
3- گناہ میں اسراف : یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ زیرنظر آیات میں یہ دردناک سزائیں اور عذاب ایسے افراد کے لیے ذکر ہوئے ہیں کہ جو اسراف کرنے میں اور خدا کی آیات پر ایمان نہیں لاتے۔ یہان "اسراف کے ساتھ تعبیرممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ انہوں نے خدا کی دی ہوئی نعمتوں مثلا آنکھ ، کان اورعقل کو غلط راستوں پر ڈال دیا ہے اور اسراف اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ انسان نعمت کو فضول اور بیہودہ طور پر برباد کرے۔ اور یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ گنہگاروں کے دوگروہ ہیں ، ایک گروہ کے تو کچھ محدود گناه ہیں اور ان کے دل میں خدا کا خوف بھی ہے لیکن انہوں نے اپنے پروردگار سے اپنا رابطہ بالکل منقطع نہیں کرلیا۔ اگر فرض کریں ایک شخص کوئی ظلم و ستم کرتا ہے مگر کسی یتیم و بے سہارا پر نہیں اور خود کو قصوروار بھی سمجھتا ہے اور بارگاہِ خدا میں اپنے آپ کو روسیاه جانتاہے ۔ اس میں شک نہیں کہ اس قسم کا آدمی بھی گنہگار ہے اور سزا کا مستحق ہے لیکن یہ ایسے شخص سے بہت مختلف ہے کہ جوبے حساب گناہ کرتا ہے، جو گناہ کے لیے کسی حد اور شرط کا قائل نہیں ہے اور بعض اوقات گناه انجام دینے پر فخر کرتا ہے یا گناہ کو چھوٹا سمجھتا ہے کیونکہ پہلا گروہ ممکن ہے کہ آخر کار توبہ اور تلافی کے لیے تیار ہوجائے لیکن جولوگ گناہ کرنے میں اسراف کرتے ہیں وہ اس بات پر آمادہ نہیں ہوتے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:123-127
2- اندرونی اور بیرونی نابينائي
2- اندرونی اور بیرونی نابينائي : أن لوگوں کے لیے کہ جو خدا کی یاد سے روگردانی کرتے ہیں، زیر بحث آیات میں دو سزائیں معین کی گئی ہیں۔ ایک اس جہان کی تنگی حیات کہ جس کی طرف گزشتہ نکتے میں اشارہ ہوا ہے اور دوسری دوسرے جہان میں نابینائی اور اندھا پن۔ ہم نے بار بیان کیا ہے کہ عالم آخرت عالم دنیا کی ایک پھیلی ہوئی اور وسیع مجسم صورت ہے اور اس دنیا کے تمام حقائق وہاں پر ایک متناسب شکل وصورت میں مجسم ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ کہ جن کی روحانی انکھیں (چشم بصیرت) اس عالم میں حقائق کو دیکھنے سے نابینا ہیں ، اس جہان میں ان کے جسم کی آنکھیں بھی نابینا ہوجائیں گی۔ لہذا جس وقت وہ یہ کہیں گے کہ ہم تو پہلے بینا تھے۔ اب نابینا کیوں محشورہوئے ہیں تو انہیں جواب ملے گا کہ یہ اس بنا پر ہے کہ تم نے خدا کی آیات کو بھلا دیا تھا (اور یہ حالت اس حالت کا عکس العمل ہے)۔ یہاں پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن کی بعض آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ قیامت میں تمام لوگ بینا ہوں گےاور ان سے یہ کہا جائے گا کہ اپنا نامہ عمل پڑھو اقرأ كتابك - - - (اسراء / 14)۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 معمائے ہستی ، ص 50 ، 51 ۔ ؎2 نورالثقلين ، جلد 2 ص 45 ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یا یہ کہ گنہگار جہنم کی آگ کو اپنی آنکھوں دیکھیں گے: ورأى المجرمون النار..... (کہف / 53)۔ یہ تعبیرات کچھ لوگوں کے نابینا ہونے کے ساتھ کسی طرح مطابقت رکھتی ہیں۔ بعض بزرگ مفسرین نے تو یہ کہا ہے کہ اس جہان کی وضع و کیفیت اس جہان سے مختلف ہے کتنے ہی ایسے افراد ہیں کہ جو بعض امور کو تو دیکھ سکتے ہیں اور بعض دوسرے امور کے لیے نابینا ہیں۔ مرحوم طبرسی نے بعض مفسرین سے نقل کیا ہے: " انهم اعمى عن جهات الخير لايهتدي یشي منها" وہ ان چیزوں کے لیے کہ جو خیر و سعادت اور نعمت ہیں نابینا ہوں گے اور ان چیزوں کے لیے کہ جو عذاب و شر اور حسرت و بدبختی کا سبب ہیں بینا ہوں گے۔ کیونکہ اس جہان کا نظام اس جہان کے نظام سے مختلف ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ بعض منازل و موافقت میں تو نابینا ہوں گے اور بعض میں بینا ہوجائیں گے۔ ضمنی طور پر زمین کا دوسرے جہان میں فراموش کیا جانا ہی نہیں ہے کہ خدا انہیں بھول جائے گا بلکہ یہ بات واضح ہے کہ اس سے مراد ان کے ساتھ فراموشی والا معاملہ کرنا ہے۔ جیساکہ ہماری روزمرہ کی زبان میں ہے کہ اگرکوئی شخص کسی دوسرے۔ سے بے اعتنائی کرے تو وہ کہتا ہے کہ ہمیں کیوں بھلا دیا ہے؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:123-127
تنگ زندگی
تفسیر تنگ زندگی : آدم کی توبہ اگرچہ قبول ہوگئی تھی مگر انہوں نے ایسا کام کیا تھا کہ اب پہلی ہی حالت کی طرف لوٹنا ممکن نہیں تھا، لہذا خدا نے " انہیں اور حوا کوحکم دیا کہ تم دونوں ، اور اسی طرح شیطان بھی تمھارے ساتھ ، جنت سے زمین پر اتر جاؤ ( قال اهبطا منهاجميغا)۔ "در آنحالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے" (بعضکم لبعض عدو)۔ لیکن میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ راہ سعادت اور نجات تمہارے سامنے کھلی ہوئی ہے. پس جس وقت میری ہدایت تمھارے پاس آئے تو تم میں سے جو کوئی اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہوگا اور نہ ہی بدبخت ( فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ هُدًىۙ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰى)۔ اور اس غرض سے کہ جو لوگ حق تعالی کے فرمان کو بھلا دیتے ہیں، ان کی پریشانی کا نتیجہ بھی واضح ہوجائے مزید فرمایا گیا ہے: اور جو شخص میری یاد سے روگردانی کرے گا وہ تنگ اور سخت زندگی بسر کرے گا: (ومن اعرض عن ذكري فان له معيشة ضنکًا)۔ " اور قیامت کے دن ہم اسے نابینا محشور کریں گے" (ونحشره يوم القيامة أعمى) وہاں وہ یہ عرض کرے گا کہ پروردگارا ! تم نے مجھے نابینا کیوں محشور کیا ہے جب کہ پہلے تو میں بینا تھا" ( قال رب لم حشرتني اعمى وقد كنت بصيرًا)۔ خدا کی طرف سے اسے فورًا یہ جواب دیا جائے گا : یہ اس بنا پر ہے کہ ہماری آیات تیرے پاس آئی تھیں تو نے انہیں فراموش کردیا اورانہیں ملحوظِ نظر نہ رکھا۔ لہذا آج کے دن تو بھی فراموش کر دیا جائے گا۔ ( قَالَ كَذٰلِكَ اَتَـتْكَ اٰيَاتُنَا فَـنَسِيْتَـهَا ۖ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى) ۔ اور تیری آنکھیں پروردگار کی نعمتوں اور اس کے مقام قرب کو نہ دیکھ پائیں گی۔ اور آخر میں مجموعی نتیجہ نکالتے ہوئے آخری زیر بحث آیت میں فرمایاگیا ہے ، اور جولوگ اسراف کریں گے اور اپنے پروردگار کی آیات پر ایمان نہیں لائیں گے ہم انہیں اسی قسم کی جزا دیں گے : ( وكذالك نجزی من اسرف ولم يؤمن بایات ربہ)۔ " اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ شدید اور زیادہ پائیدار ہے ( ولعذاب الأخرة اشد وابقٰی)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:123-127
سوره طه / آیه 123 - 127
(123) قَالَ اهْبِطَا مِنْـهَا جَـمِيْعًا ۖ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ هُدًىۙ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰى (124) وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِىْ فَاِنَّ لَـهٝ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُـرُهٝ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَعْمٰى (125) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِىٓ اَعْمٰى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيْـرًا (126) قَالَ كَذٰلِكَ اَتَـتْكَ اٰيَاتُنَا فَـنَسِيْتَـهَا ۖ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى (127) وَكَذٰلِكَ نَجْزِىْ مَنْ اَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِاٰيَاتِ رَبِّهٖ ۚ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَاَبْقٰى ترجمہ (123) (خدا نے) فرمایا : تم دونوں (اور اسی طرح شیطان) اس (باغ) سے نیچے أترو. اسی حالت میں ---- کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو لیکن جس وقت میری ہدایت تمہارے پاس آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا نہ تو وه گمراہ ہوگا اور نہ ہی رنج و تکلیف میں مبتلا ہوگا۔ (124) اور جو شخص میری یاد سے روگروانی کرے گا ، وہ تنگ زندگی گزارے گا اور قیامت کے دن ہم اسے نابینا محشور کریں گے (125) وہ کہے گا: پروردگارا ! تو نے مجھے نابینا کیوں محشور کیا؟ میں تو بینا تھا۔ (126) (خدا) فرمائے گا! یہ اس بناء پر ہے کہ میری آیات تیرے پاس پہنچیں اور تونے انہیں بھلا دیا ۔ اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ (127) اور ہر شخص اسراف کرے گا اور اپنے پروردگار کی آیات پر ایمان نہیں لائے گا، ہم اسے اسی قسم کی جزا دیں گے اور آخرت کا عذاب زیادہ شدید اورزیادہ پائیدار ہے۔