مَن كَانَ عَدُوّٗا لِّلَّهِ وَمَلَـٰٓئِكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَجِبۡرِيلَ وَمِيكَىٰلَ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَدُوّٞ لِّلۡكَٰفِرِينَ
[Say,] ‘Whoever is an enemy of Allah, His angels and His apostles and Gabriel and Michael, [let him know that] Allah is the enemy of the faithless.’
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:97-98
جبرئیل و میکائیل
جبرئیل کا نام تین مرتبہ اور میکائیلل کا نام ایک مرتبہ اسی مقام پر آیاہے۔ انہی آیات سے اجمالا معلوم ہوتاہے کہ دونوں فرشتے بزرگ اور مقرب الہی ہیں۔ مسلمانوں کی عمومی تحریروں میں جبریل (ہمزہ کے ساتھ اور میکال (ہمزہ) اور (یا) کے ساتھ آتاہے لیکن متن قرآن میں جبریل اور میکال ہے۔ ایک گروہ کا نظریہ سے کہ جبریل عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس کی اصل جبرئیل ہے جس کا معنی ہے مرد خدا یا (قوت خدا) (جبر کا معنی قوت یا مرد ہے اورئیل کا معنی خداہے( محل بحث آیات کے مطابق جبرئیل پیغمبر کے لئے وحی کا قاصد تھا اور آپ کے قلب مبارک پر قرآن نازل کرنے والاتھا جب کہ سورہ نحل کی آیہ ۱۰۲ کے مطابق روح القدس وحی لا تا تھا اور سورہ شعراء ، آیہ ۱۹۱ میں ہے کہ روح الامین تدریجا قرآن پیغمبر اکرم پر لاتارہا لیکن جیسا کہ مفسرین نے تصریح کی ہے ر وح القدس اور روح الامین سے مراد جبرئیل ہی ہیں۔ ہمارے پیش نظر ایسی احادیث ہیں جن کے مطابق جبرئیل مختلف شکلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوتے رہے اور مدینہ میں جبرئیل زیادہ تر وحی قلبی کی شکل میں آنحضرت کے سامنے ظاہر ہوتے تھے جو ایک خوبصورت جوان تھا۔ سورہ نجم سے ظاہر ہوتاہے کہ پیغمبر اکرم نے جبرئیل کو دو مرتبہ (اس کی اصل شکل میں) دیکھا ہے۔ اسلامی کتب میں جن چار فرشتوں کا عموما مقرب بارگاہ الہی شمار کیاگیاہے وہ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل ہیں۔ جن میں سے جبرئیل بلند مرتبہ ہیں۔ یہودیوں کی کتب میں بھی جبرئیل اور میکائیل کے متعلق گفتگو ہوئی سے۔ منجملہ ان کی کتاب دانیال میں جبرائیل کو شیطانوں کے سر براہ کو مغلوب کرنے والا اور میکائیل کو قوم اسرائیل کا حامی کہا گیا ہے لیکن بعض کے بقول کوئی ایسی چیز جو جبرئیل کی یہودیوں سے دشمنی پر دلالت کرے دسترس میں نہیں آئی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں یہودیوں کا جبرئیل سے اظہار دشمنی ایک بہانہ تھا تا کہ اس کے ذریعے اسلام قبول کرنے سے بچ جائیں یہا ںتک کہ ان کی مذہبی کتب میں بھی اس کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ ۹۹-وَلَقَدْ اٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِہَا إِلاَّ الْفَاسِقُونَ ۱۰۰-َوَکُلَّمَا عَاہَدُوا عَہْدًا نَبَذَہُ فَرِیقٌ مِنْہُمْ بَلْ اٴَکْثَرُہُمْ لاَیُؤْمِنُونَ ۱۰۱۔وَلَمَّا جَائَہُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَہُمْ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ کِتَابَ اللهِ وَرَاءَ ظُہُورِہِمْ کَاٴَنَّہُمْ لاَیَعْلَمُونَ ترجمہ ۹۹۔ تیرے لئے ہم نے روشن نشانیاں بھیجیں اور سوائے فاسقین کے کوئی ان کا انکار نہیں کرسکتا۔ ۱۰۰۔ اور کیا جب بھی (یہودی) کوئی پیمان (خدا و رسول سے) باندھتے ان میں سے ایک گروہ اسے پس پشت نہیں ڈال دیتاتھا اور اس کی مخالفت نہیں کرتاتھا) اور ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔ ۱۰۱۔ اور جب بھی خدا کی طرف سے کوئی رسول ان کی طرف آیا جب کہ وہ ان نشانیوں کے مطابق بھی تھا جو ان کے پاس تھیں اور ان میں سے ایک جماعت نے جو عامل کتاب (اور عالم ) لوگوں پر مشتمل تھی خدا کی کتاب کو ایسے پس پشت ڈال دیا گو یا وہ اس سے بالکل بے خبر تھے۔ شان نزول مندرجہ بالا پہلی آیت کے سلسلے میں ابن عباس سے شان نزول منقول ہے کہ ابن صوریانے ڈھٹائی اور عناد کی بناء پر پیغمبر اسلام سے کہا: تمہاری لائی ہوئی کوئی چیز ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور خدا نے تم پر کوئی واضح نشانی نازل نہیں کی کہ ہم تمہاری اتباع کریں۔ اس پر زیر نظر آیت نازل ہوئی اور اسے صراحت سے جواب دیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ شان نزول آیات کے مفاہیم کو کبھی محدود نہیں کرسکتا اور ان کے کلیت و عمومیت میں کمی نہیں ہوتی اگر چہ ان کے آغاز کا سبب وہی ہوتاتھا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:97-98
بہانہ ساز قوم
یت کی شان نزول دیکھنے سے دوبارہ اس بہانہ ساز قوم کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جس نے پیغمبر معظم حضرت موسی کے زمانے سے لے کر آج تک یہی روش اختیار کر رکھی ہے اور ہر زمانے میں حق کے زیر بار آنے کے بجائے بہانے تلاش کئے ہیں۔ یہاں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بہانہ صرف یہ ہے کہ چونکہ جبرئیل آپ پر وحی لانے والا فرشتہ ہے جو خدا کے سخت احکام لاتاہے لہذا ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ ہم اس کے دشمن ہیں اگر میکائیل ہوتا تو کوئی حرج نہ تھا اور آسان تھا کہ ہم ایمان لے آئیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ کیا خدا کے فرشتے اپنی ڈیوٹی ادا کرنے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کیا اصولا وہ خواہش کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اپنی طرف سے کچھ کہتے ہیں؟ وہ تو قرآن کے مطابق ایسے لا یعصون اللہ ما امرھم یعنی۔ جو کچھ خدا حکم دیتاہے وہ وہی انجام دیتے ہیں۔ (تحریم ۔) ان بہانہ سازیوں کا جواب زیر نظر آیات میں اس طرح دیتاہے : ان سے کہہ دو جو شخص جبرئیل کا دشمن ہے وہ در حقیقت خدا کا دشمن ہے کیونکہ اس نے تو خدا کے حکم سے آپ کے دل پر قرآن نازل کیاہے (۔قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ الله)۔ وہ قرآن جو گذشتہ آسمانی کتب کی تصدیق کرتاہے اور ان کی نشانیوں سے ہم آہنگ ہے (مصدقا لما بین یدیہ)۔ وہی جو مومنین کے لئے ہدایت و بشارت کا سبب ہے (و ہدے و بشری للمومنین)۔ اس آیت میں در اصل اس گروہ کو تین واضح جواب دئیے گئے ہیں: ایک یہ کہ جبرئیل کوئی چیز اپنی طرف سے نہیں لاتا جو کچھ ہے (باذن اللہ) ہے۔ دوسرا یہ کہ گذشتہ کتب میں سے صداقت اور روشنی کی نشانیاں اس میں موجود ہیں کیونکہ یہ انہی نشانیوں کے مطابق ہے (مصدق لما بین یدیہ) یعنی اس کا کوئی جواز نہیں کہ تم تورات پر تو ایمان لے آؤلیکن قرآن سے کفر و اختیار کرو جو تورات کی نشانیوں کے مطابق ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان کے مضامین ہم آہنگ ہیں اور یہ بات قرآن کی سچائی کی ترجمان ہے اور یہ قرآن مومنین کے لئے ہدایت و بشارت کا سبب ہے۔ اگلی آیت مین یہی مضمون مزید تاکید و تہدید کے ساتھ بیان ہواہے۔ فرماتاہے: جو شخص خدا، فرشتوں، خدا کے پیغمبروں، جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے۔ خدا اس کا دشمن ہے کہ خدا کافروں کا دشمن ہے (مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِلَّہِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَرُسُلِہِ وَجِبْرِیلَ وَمِیکَالَ فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ لِلْکَافِرِین)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سب ایک ہی ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ان میں تشکیک و تفاوت نہیں ہے جو اللہ، فرشتے، خدا کے رسول، جبرئیل و میکائیل بلکہ کسی فرشتے کا دشمن ہے اور جوان میں تشکیک و تفاوت کا قائل ہے پر وردگار اس کا دشمن ہے۔ بہ الفاظ دیگر احکام الہی جو نوع انسانی کے لئے سودمند اور تکامل بخش ہیں خدا کی طر ف سے فرشتوں کے ذریعے پیغمبروں پر نازل ہوتے ہیں اب اگر ذمہ داریاں مختلف ہوں تو تقسیم کارکے فرق کو تضاد کار تو نہیں کہا جاسکتا۔ یہ سب ایک ہی راہ مستقیم پرہیں لہذا ان میں سے کسی ایک کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ یہودی اور دیگر منکرین قرآن یہ جان لیں کہ انہوں نے جبرئیل، دیگر ملائکہ اور پیغمبروں کی دشمنی اختیار کرکے ایک بڑے طاقت ور کی دشمنی مول لی ہے۔ قرآن کہتاہے جو ان سے دشمنی رکھے خدائے بزرگ اس کا دشمن ہے کہ بے شک خدا کافروں کا دشمن ہے۔ رہی (قلب) کی بحث۔ کہ قرآن میں اس سے کیا مراد ہے تو یہ اسی سورہ کی آیت ، کے ذیل میں آچکے ہے۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:97-103
Nothing is so frequently repeated in the Qur’an-i-Sharif as “Those who believe (in God, Prophet, and Ahl al-Bayt) and acted virtuously, i.e. prayers, fast, tithe etc. were of paradise and those who discarded (i.e. God, Prophet, and Ahl al-Bayt) were of Hell, wherein they would permanently reside (as belief is root of faith, tree and virtuous acts its fruits are branches.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:98
[Pooya/Ali Commentary 2:98] (see commentary for verse 97)