وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إِلَّا أَمَانِيَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ
And among them are the illiterate who know nothing of the Book except hearsay, and they only make conjectures.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:78
[Pooya/Ali Commentary 2:78] The crafty scholars, among the Jews, kept the knowledge of the scriptures exclusively to themselves and told only lies in front of the illiterates in order to exert and maintain power over those of them who did not know the books. It is a warning to mankind in general that the illiterate, as opposed to the scheming scholar, is the innocent victim of priest-class falsehood and tyranny. Barring the common people from access to means of gaining knowledge, the clever set successfully maintains exclusive control and power, deliberately keeping others deprived, and in darkness. Aqa Mahdi Puya says: The word ummi generally means one who can neither write nor read. Here it is used for those Jews who could neither read nor write. In many places the Quran addresses the Arabs as ummies. With reference to the use of ummi for the Holy Prophet, commentators say that it is either because the Holy Prophet could neither write nor read, or because he was one of the Arabs, or because he was the inhabitant of the city of Makka known as the Ummul-Qura. Ummi can also be derived from the word umm-the mother. Ummi means the person who remains the same in his native endowments as was born, without receiving any education or training from any (outside) source. The Holy Prophet did not receive knowledge or education from any mortal but by Allah Himself. He was born with divinely endowed .wisdom and remained the same, without letting any worldly agency influence his self, tutored and perfected by Allah Himself. Allah has revealed to you the book and the wisdom and taught you what you did not know. Great has been the grace of Allah on you. (NISA: 113) Please refer to verse 12 of Ya Sin, verses 1 to 4 of al Rahman and verses 4 and 5 of al Najm. It is He who raised among the ummies a messenger from amongst them, who recites His signs to them, reforms them and teaches them the book and the wisdom (JUMU-AH: 2), so it is absurd to believe that Allah had sent an illiterate to teach the book and the wisdom to the illiterates. Imam Jafar bin Muhammad al Sadiq has said that the conscience of every human being tells him not to follow blindly any one who pretends to be a guide without having the necessary merits, therefore, he cannot wholly blame others for being ignorant of the divine guidance because of the trickery of the false guides he chooses to follow.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:78-79
عوام کو لوٹنے کی یہودی سازش
گذشتہ آیات کے بعد محل بحث آیات یہودیوں کو واضح گروہوں میں تقسیم کرتی ہیں ۔ عوام اور حیلہ ساز علماء ( البتہ ان میں سے کچھ علماء ایسے بھی تھے جو ایمان لے آئے اور انہوں نے حق کو قبول کرلیا اور مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوگئے ) ۔ قرآن کہتا ہے :ان میں سے ایک گروہ میں سے ایسے افراد ہیں جو علم نہیں رکھتے اور کتاب خدا میں سے چند ایک خیالات اور آرزوئیں اخذ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتے اور انہوں نے صرف اپنے ظن و گمان سے وابستگی اختیار کرلی ہے ( و منھم امیون لا یعلمون الکتاب الا امانی و ان ھم الا یظنون) ۔ امیون ”امی “ کی جمع ہے ۔ یہاں یہ لفظ ان پڑھ اور لا علم کے معنی میں استعمال ہوا یعنی جس حالت میں شکم مادر سے پیدا ہوا اسی طرح رہ گیا اور کسی استاد کے مدرسے کو نہیں دیکھا ۔ ہو سکتا ہے یہ لفظ اس طرف اشارہ کر رہا ہو کہ کچھ مائیں جاہلانہ محبت اور الفت کی وجہ سے اپنی اولاد کو جدا نہیں کرتیں تھیں اور اسے مدرسہ جانے کی اجازت نہیں دیتی تھیں لہذا وہ لوگ بے علم رہ جاتے تھے1 امانی ” امنیہ “کی جمع ہے جس کے معنی ” آرزو “ ہے ممکن ہے یہاں ان موہوم خیالات اور امتیازات کی طرف اشارہ ہو یہودی اپنے بارے میں جن کے قائل تھے ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کہا کرتے تھے ہم خدا کی اولاد اور اس کے خاص دوست ہیں ۔نحن ابنٰؤا اللہ و احباؤہ ( مائدہ ۔ ۱۸ اور یہ بھی کہ کہا کرتے تھے کہ چند دن کے سوا جہنم کی آگ ہم تک ہرگز نہیں پہنچے گی ( بعد کی آیات میں یہودیوں کی اس گفتگو پر بحث ہوگی)۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ” امانی “ سے مقصود وہ تحریف شدہ آ یات ہو ں جو علماء یہود عوام کے ہاتھوں میں دے دیتے تھے اور شاید جملہ ” لا یعلمون الکتاب “ اس مفہوم کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ۔ بہر حال اس آیت کا آخری حصہ ان ھم الا یظنون ، اس بات کی دلیل ہے کہ اساس و اصول دین اور مکتب ِ وحی کو پہچاننے کے لئے ظن و گمان کی پیروی صحیح کام نہیں بلکہ لائق سرزنش ہے چاہیئے کہ ہر شخص اس سلسلے میں تحقیق کے ساتھ کافی قدم اٹھائے ،علمائے یہود کا ایک اور گروہ تھا جو اپنے فائدے کے لئے حقائق میں تحریف کردیتا تھا جیسا کہ قرآن بعد کی آیت میں کہتا ہے :افسوس ہے ان لوگوں پر جو کچھ مطالب اپنے ہاتھ سے لکھ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ خدا کے طرف سے ہیں ( فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ) اور ان کی غرض یہ ہے کہ اس کا م سے تھوڑی سی قیمت وصول کریں ( لیشتروا بہ ثمنا قلیلا ) افسوس ہے ان پر اس سے جو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں ( فویل لھم مما کتبت ایدیھم ) اور افسوس ہے ان پر اس سے جسے وہ خیانتوں کے ذریعہ کماتے ہیں ( وویل لھم مما یکسبون ) اس آیت کے آخر ی الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے وسیلہ بھی ناپاک اختیار کیا اور اس سے نتیجہ بھی غلط حاصل کرتے تھے بہ الفاظ دیگر جب کام حرام ہے تو کمائی حرام ہوگی : ان اللہ اذا حرم شیئا حرم ثمنہ یقینا جب اللہ نے کوئی چیز حرام قرار دی ہے تو اس کا مول بھی حرام کیا ہے ۔ بعض مفسرین نے زیر بحث آیت کے ضمن میں حضرت صادق سے ایک حدیث نقل کی ہے جو قابل غور نکات کی حامل ہے ۔حدیث اس طرح ہے : ایک شخص نے امام صادق کی خدمت میں عرض کیا : یہودی عوام جب اپنے علماء کے بغیر اپنی آسمانی کتاب کے متعلق کوئی اطلاع نہ رکھتے تھے پھر علماء کی تقلید اور ان کے قول کو قبول کرنے پر خدا ان کی مذمت کیوں کرتا ہے اور کیا یہودی عوام اور ہمارے عوام میں جو اپنے علماء کی تقلید کرتے ہیں کوئی فرق ہے ؟ امام نے فرمایا : ہمارے عوام اور یہود ی عوام کے درمیان ایک لحاظ سے فرق ہے اور ایک لحاظ سے مساوات جس لحاظ سے دونوں مساوی ہیں اس جہت سے خدا نے ہمارے عوام کی بھی اسی طرح مذمت کی ہے ۔ رہی وہ جہت جس میں وہ ان سے مختلف ہیں وہ یہ کہ یہودی عوام اپنے علماء کی حالت سے آشنا تھے وہ جانتے تھے کہ ان کے علماء جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ،حرام اور رشوت کھاتے ہیں اور احکام الہٰی میں تغیر و تبدل کرتے ہیں ۔ اپنی فطرت سے وہ یہ حقیقت جانتے تھے کہ ایسے لوگ فاسق ہیں اور یہ جائز نہیں کہ خدا اور اس کے احکام کے بارے میں ان کی باتیں قبول کی جائیںاور یہ بھی جانتے تھے کہ انبیاء و مرسلین کے بارے میں ان کی شہادت قبول کرنا مناسب نہیں ۔ اسی بنا ء پر خدا نے ان کی مذمت کی ہے ۔ اسی طرح اگر ہمارے عوام بھی اپنے علماء سے ظاہر بہ ظاہر فسق و فجور اور سخت تعصب دیکھیں اور انہیں دنیا و مال دنیا حرام پر حریص ہوتا دیکھیں پھر بھی جو شخص ان کی پیروی کرے وہ یہود یوں کی طرح ہے خدا وند عالم نے فاسق علماء کی پیروی کی وجہ سے ان کی مذمت کی ہے ۔ فا ما من کان من الفقھا صائنا َ لنفسہ حافظا لدینہ مخالفا علی ھواہ مطیعا َ لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ۔ باقی رہے وہ علماء و فقہاء جو اپنی روح کی پاکیزگی کی حفاظت کریں اپنے دین کی نگہداری کریں ، ہوا وہوس کے مخالف ہوں اور اپنے مولا و آقا کے فرمان کے مطیع ہوں عوام کو چاہیئے کہ ان کی تقلید کریں 2 واضح ہے کہ حدیث احکام میں اندھی تقلید کی طرف اشارہ نہیں کرتی ہے بلکہ اس کا مقصود یہ ہے کہ عوام علماء کی رہنمائی میں علم و یقین کے حصول کے لئے پیروی کریں کیونکہ یہ حدیث پیغمبر کی پہچان کے ضمن میں ہے جو مسلما اصول دین میں سے ہے اس میں اندھی تقلید جائز نہیں ۔ ۸۰۔ وقالو لن تمسنا النار الا ایاماََ معدوداة ط قل اتخذ تم عند اللہ عہدا فلن یخلف اللہ عھدہ ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون ۸۱۔ بلی ٰ من کسب سیئة و احاطت بہ خطیئتہ فاو لئک اصحٰب النارھم فیھا خٰلدو ن ۸۲۔ و الذین اٰمنو ا و عملوا الصالحٰت اولٰئک اصحٰب الجنة ج ھم فیھا خٰلدون ترجمہ ۸۰ ۔ اور انہوں نے کہا : چند دن کے سوا آتش جہنم ہم تک نہیں پہنچے گی ۔ کہیئے کیا تم نے خدا سے عہد وپیمان لیا ہوا ہے کہ خدا اپنے پیمان کی ہرگز خلاف ور زی نہیں کرے گا یا پھر تم خدا کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ۔ ۸۱۔ ہاں جو لوگ گناہ کمائیں اور گناہ کے اثرات ان کے سارے جسم پر محیط ہوں وہ اہل جہنم ہیں اورہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔ ۸۲۔ وہ لوگ جو ایمان لاچکے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں وہ اہل جنت ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔ 1 ۔ ” امی “ کے معنی جلد ۴ ( تفسیر نمونہ ) میں سورہ اعراف آیہ ۱۵۷ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ زیر بحث آئے ہیں ۔ 2 - وسائل الشیعہ ، ج ۱۸ ص ۱۹۴ کتاب القضاء ، باب ۱۰ ( اور تفسیر صافی ، زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔