وَإِذْ قُلْتُمْ يَامُوسَى لَن نَّصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ
And when you said, ‘O Moses, ‘We will not put up with one kind of food. So invoke your Lord for us, so that He may bring forth for us of that which the earth grows—its greens and cucumbers, its garlic, lentils, and onions.’ He said, ‘Do you seek to replace what is superior with that which is inferior? Go down to any town and you will indeed get what you ask for!’ So they were struck with abasement and poverty, and they earned Allah’s wrath. That, because they would deny the signs of Allah and kill the prophets unjustly. That, because they would disobey and commit transgressions.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:61
[Pooya/Ali Commentary 2:61] One sin leads to another. Disobedience at a lower level gradually makes man bold and he begins to exceed the limits until he finally finds himself engulfed into the deep waters of sinfulness, disconnecting all his links with the grace and mercy of the Lord. This is how the Bani Israil became the murderers of the prophets of Allah because they all came with one message: "There is no god save Allah." And you say "If we had been alive in our father's time, we should never have taken part with them in the murder of the prophets." (Matthew 23: 30) "I send you therefore prophets, sages, and teachers; some of them you will kill and crucify, others you will flog in your synagogues and hound from city to city. And so, on you will fall the guilt of all the innocent blood spilt on the ground, from innocent Abel to Zechariah son of Berachiah, whom you murdered between the sanctuary and the altar." (Matthew 23: 34 and 35) Exactly in the same manner, the Muslims neglected the commands of the Holy Prophet about his Ahl ul Bayt. First they ignored the high status of the Ahl ul Bayt and then deprived them of their rights; ultimately they killed the holy Imams one by one. So, those who hear or write or read the accounts of the sufferings of the holy Imams caused by the people, with whom they feel closely associated in one way or the other, and quietly ignore their heinous crimes without expressing dislike, disgust and contempt, should be held responsible for those crimes as if they themselves have committed them. Particularly in the case of Imam Husayn, such persons will stand in the row of the actual murderers on the day of judgement. Covetous for the material products of the earth, dissatisfied with the heavenly (spiritual) aspects of life, a better nourishment, the Bani Israil fell into abasement and humiliation, because they exchanged that which was better for that which was worse. To know the behaviour of the Bani Israil, please refer to Numbers 11: 1 to 27 . (see commentary for verse 4)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:61
ایک کلی اصول اور عمومی قانون
بنی اسرائیل سے مربو ط ابحاث میں دراصل قرآن ایک کلی اصول اور عمومی قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قدرو قیمت حقیقت وواقعیت کی ہے نہ کہ ظاہر یت کہ ۔خداوند عالم کی بارگاہ میں ایمان خالص اور عمل صالح قابل قبول ہے جولوگ ایمان لے آئے ہیں (مسلمان )اسی طرح یہودی ، عیسائی اور صائبین حضرت یحیٰ،حضرت نوح حضرت ابراہیم کے پیرو کا ر )جو بھی خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لے آئیں اور نیک عمل انجام دیں ان کا اجر وعوض پرور دگار کے پاس مسلم ہے (ان الذین آمنوا والذین ھادوا والنصٰر والصٰبئین من آمن بااللہ والیوم الآخر وعمل صالحا فلھم اجرھم عند ربھم ) لہذا انہیں آئندہ کا خوف ہے نہ گزشتہ کا غم (ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ) یہ آیت تقریبااسی عبارت کے ساتھ سورہ مائدہ کی آیہ ۶۹ میںآئی ہے ا ور کافی فرق کے ساتھ سورہ حج آیہ ۱۷ میں اس مفہوم کا ذکر ہوا ہے ۔سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت کے بعد کی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ یہودی وعیسائی اتراتے تھے کہ ہمارا دین دیگر ادیان سے بہتر ہے اور وہ جنت کو بلا شرکت غیراپنے لئے مخصوص سمجھتے تھے اورشاید یہی فخر مسلمانوں کی ایک جماعت میں بھی تھا ۔زیر بحث آیت کہتی ہے کہ ظاہری ایمان (اسلام )عمل صالح کے بغیر چاہے مسلمانوں کا ہو یایہود ونصاری یاکسی اور دین کے پیروکاروں کا کوئی قدر وقیمت نہیں رکھتا ۔خدااور قیامت کے دن کی بڑی عدالت پر حقیقت ااورخالص ایمان جو نیکی اور عمل صالح کے ساتھ ہو وہی خدا کی بارگاہ میں قدروقیمت کا حامل ہے ۔صرف یہی پروگرام جزااور اطمینان کاباعث ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:61
کیا نت نئی چیز کی خواہش انسانی مزاج کا خاصہ نہیں
اس میں شک نہیں کہ نت نئی چیز کی خواہش انسان کی زندگی کے لوازمات اور خصوصیات میں سے ہے یہ بات انسانی زندگی کا حصہ ہے وہا ں ا یک قسم کی غذا سے اکتاجاتا ہے لہذا یہ کوئی غلط نہیں پھر آخر بنی اسرائیل کیوں تنو ع کی درخواست پر لائق سر زنش قرار پائے اس سوال کا جواب ایک نکتے کے ذکر سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ انسانی زندگی میںکھانا ،سونا ،شہوت اورطرح طرح کی لذتیں بنیادی چیز نہیں ہیںایسے اوقات بھی آتے ہیں کہ ان امو ر کی طرف توجہ انسان کو اس کی اصل غرض اور اولین مقصد سے دور کر دیتی ہے جو در اصل ایمان ، پاکیزگی ، تقوی اور اصلاح ذات ہے یہ وہ مقام ہے جہا ں پر انسان ان تمام چیزوں کو ٹھوکر مار دیتا ہے ۔نت نئی چیز کی خواہش در حقیقت کل کے اور آج کے استعمار گر وں کا ایک بہت بڑا جال ہے اورخصوصا آج کے زمانے میں اس تنوع طلبی سے استفادہ کیا جارتا ہے اورانسان کو قسم قسم کی غذاوٴں ،لباس ،سواری اورمکان کی خواہش کا اسیر بنا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بالکل بھو ل جاتا ہے اور ان چیزوں کی قید کا طوق اپنی گردن میں ڈال لیتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:61
کیامن وسلوی ٰہر غذاسے بہتر وبر تر تھا
اس میں شک نہیں مختلف سبز یوں کی غذا جس کا بنی اسرائیل حضرت موسی ٰ سے تقاضا کرتے تھے انتہائی قیمتی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زندگی کو صرف ایک پہلو سے نہیں دیکھنا چاہیئے کیا یہ درست ہے کہ ا نسا ن مختلف قسم کی غذاوٴں کو حا صل کر نے کے لئے اپنے آپ کو قیدی بنالے ۔جب کہ ایک قول کے مطابق ”من “ایک پہا ڑ ی شہد ہے یا شہد کی طرح کی ایک طاقت بخش اور مفید میٹھی چیز ہے یہ ایک مفید ترین اور طاقت سے بھر پور غذا ہے ۔اس میں تازہ گوشت میں موجو د پروٹین کے اجزا ء بھی ایک خاص پرندے سلویٰ کی صورت میں موجود تھے بلکہ وہ کئی جہت سے عام طور پر موجود پروٹین کے اجزاء سے بہترتھے کیو نکہ” من“کا ہضم ہونا بہت آسا ن ہے جب کہ سلویٰ کے ہضم کے لئے معدے کو تھکا دینے والی فعالیت کی ضرورت ہے۔ ۱ اس ضمن میں متوجہ رہنا چاہیئے کہ لفظ ”فوم “جو بنی ا سرائیل کے تقاضوںمیں سے ہے بعض نے اس کے معنی گندم اور بعض نے لہسن بیان کئے ہیں البتہ ا ن میںسے ہر ایک خصوصی امتیا ز رکھتا تھا لیکن بعض کا نظریہ ہے کہ گندم زیادہ صحیح ہے کیونکہ بعید ہے کہ انہوںنے ایسی غذا طلب کی ہو جس میں گندم نہ ہو ۔ 2 ۱قرآن بر فراز قرون واعصار ، ص۱۱۲ ۲تفسیر قرطبی ،زیر بحث ،آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:61
ذلت کی مہر بنی اسرائیل کی پیشانی پر
ذلت کی مہر بنی اسرائیل کی پیشانی پر کیوں ثبت کی گئی مندر جہ بالا آیت سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ دو لحاظ سے ذلت وخواری میں گرفتا ر ہوئے ۔ایک تو ہے ان کاکفر اختیار کرنا ۔ احکام خدا کی خلاف ورزی کرنا اور توحید سے شر ک کی طرف منحرف ہونا اور دوسرا یہ کہ وہ حق والوں اور خدا کے بھیجے ہوئے نمائند وں کو قتل کرتے تھے یہ سنگدلی ،قساوت اورقوانین الٰہی بلکہ نوع انسانی میں موجود تمام قوانین سے بے ا عتنائی د لیل ہے جب کہ آج بھی یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس وہ قوانین وضاحت کے ساتھ موجود ہیں ۔ یہی ان کی ذلت اور بدبختی کا سبب ہے ۔ 1 یہودیو ں کی سرنوشت اور ان کی زلت آمیز زندگی کے بارے میں اورہ آل عمران آیہ۱۱۲کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کریں گے 2 ۶۲۔ان الذین آمنوا والذین ھادو اوالنصٰر والصٰبئین من آمن بااللہ والیوم الآ خر وعمل صالحا فلھم اجرھم عند ربھم ولاخوف علیھم ولا ھم یحزنون ترجمہ جو ایمان لائے ہیں (مسلمان)اوریہود نصاری اور صائبین (حضرت یحی ،حضرت نوح یا حضرت ابراہیم کے پیرو کا ر )جو بھی خدا اور آخرت کے دن پرایمان لائے اور عمل صالح بجالائے ان کی جزا واجر ان کے پرور دگار کے ہاں مسلم ہے اور ان کے لئے آئند ہ یاگزشتہ کسی قسم کا خوف وغم نہیں ہے اور ہر دن کے پیروکا ر جو اپنے عہد میں اپنی ذمہ د اریا ں ادا کرتے ہیں ان کے لئے اجر ہے ۔ 1 - اس وقت جب کہ ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں لبنان کی اسلامی سرزمین یہودیو ں کی ووحشت انگیزیوں اور برباد کن مظالم کی ضد میں ہے ،ہزاروں عورتیں ، بچے ،بوڑھے اور جوان یہا ں تک کہ ہسپتالوں بیما ر درد انگیز طریقے سے جا م شہادت نوسش کرچکے ہیں اوران کی لاشیں زمین پر پڑیں ہیں البتہ اس سنگدلی کاکفارہ انہیں عنقریب اسی دنیا میں ادا کرنا پڑے گا 2- تفسیر نمونہ ، ج ۳۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:61
یہاں مصری سے کون سی جگہ مراد ہے
بعض مفسرین کا نظریہ ہے لفظ مصر اس آیت میں اپنے کلی مفہوم کی طرف اشارہ ہے یعنی تم ا س و قت بیابان میں ایک خودسازی کے اور آزمائشی پروگرام میں شریک تھے ۔یہا ں قسم قسم کی غذائیں نہیں ہیں لہذا شہروں میں جاوٴ ،وہا ں چلو پھرو وہا ں ہر چیز موجو د ہے لیکن یہ خود سازی اور اصلاحی پروگرام وہا ں نہیں ہے ۔وہ اس کی دلیل پیش کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے کبھی شہر مصر کی طرف جا نے کا تقاضا کیااور نہ کبھی اس کی طرف واپش گئے ۔ ۱ بعض دوسر ے مفسرین نے بھی یہی تفسیر کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ تمہارا اس بیا بان میں رہنا اور ا س ایک قسم کی غذا سے استفادہ کرنا تمہا ری کمزوری ،ناتوانی اور زبوں حالی کی وجہ سے ہے ۔تم طاقتور بنو ،دشمنو ں کے ساتھ جنگ کرو ،شام کے شہر اور سر زمین مقدس ان سے چھین لوتاکہ تمہیں تمام چیز یں میسر آسکیں ۲ اس آیت کی تیسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ مراد وہی ملک مصر ہے یعنی اگر تم ایک قسم کی غذا سے اس بیا با ن میں تم فائد ہ اٹھاتے ہو تو اس کے بدلے تمہا رے پاس ایمان ہے اور تم خود آزاد اورمختار ہو اور اگر یہ چیزیں نہیں چاہتے تو پلٹ جا وٴ اور دوبارہ فرعونیوں یا ان جیسے لوگوں کے غلام اور قیدی بن جاوٴتاکہ ان کے دستر خوان سے بچی ہو ئی قسم قسم کی غذ ائیں کھا سکو تم شکم سیری اور کھا نے کے پیچھے لگے ہوئے ہو یہ نہیں سوچتے کہ اس وقت تم غلام اور قیدی تھے اورآج آزاد اور سر بلند ہو۔اب اگر حقیقت میں تم کچھ چیزوں سے محروم بھی ہو تو یہ آزادی کی قیمت ہے جو ادا کررہے ہو ۳ لیکن اس سلسلے میں پہلی تفسیرہی سب سے زیادہ مناسب ہے ۔اس دلیل کی بناء پر جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ۱ علاوہ ازیں لفظ ”مصر “کی تنوین اس کے نکرہ ہو نے کی دلیل ہے لہذا اس دسے شہر مصر مراد نہیں ہو سکتا ۲ تفسیر المنار ،آیہ مذکورہ کے ذیل میں ۔ ۳ تفسیر فی ضلال