وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
And when Moses prayed for water for his people, We said, ‘Strike the rock with your staff.’ Thereat twelve fountains gushed forth from it; every tribe came to know its drinking-place. ‘Eat and drink of Allah’s provision, and do not act wickedly on the earth, causing corruption.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:60
[Pooya/Ali Commentary 2:60] Exodus 17: 1 to 6 narrate that when there was no water for the people to drink Allah asked Musa to take with him some of the elders of Israil and the staff with which he had struck the Red Sea. When Musa struck the rock, water poured out of it. Twelve springs for the twelve tribes of the Bani Israil gushed out from that rock, as each tribe wanted to have a separate spring for its use. To deny the extraordinary (miraculous) events in the lives of the prophets, the Ahmadi commentator misinterprets this verse. He says that Musa was commanded to walk into the mountains where he found already flowing springs, and wrongly quotes Exodus 5:27 which, in fact, refers to some other occasion when salty water was turned sweet for the Bani Israil. This is plain mischief-making . Islam prevents man from making mischief and lays stress on peace and harmony. (see commentary for verse 4)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:60-61
1. Discontent causes Divine wrath and murdering God’s Messengers without right reason leads to hell and Divine wrath as well.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:60
بنی اسرائیل کی زندگی میں خلاف معمول واقعات
بعض لوگ جو منطق اعجاز سے واقف نہیں وہ اتنے پانی اور اتنے چشموں کے ایک پتھر سے ابلنے اور جاری ہونے کو بعید شمار کرتے ہیں حالانکہ اس قسم کے مسائل جن کا اہم تر حصہ معجزات انبیاء پر مشتمل ہے جیسا کہ ہم ا سے اپنے مقام پر بیان کر چکے ہیں ۔ کوئی امر محال یا علت و معلول کے قانون میں کوئی استثناء نہیں ہے بلکہ یہ صرف خارق عادت چیز ہے یعنی اس علت و معلول کے خلاف ہے جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ عالم ہستی اور نظام علت ومعلول کو پیدا کرنے والا اس پر حاکم ہے نہ کہ اس کا محکوم ۔ خود ہماری روز مرہ کی زندگی میں موجودہ علت و معلول کے نظام کے استثنائی واقعا ت تھو ڑ ے نہیں ہیں ۱۔ ۱ زیادہ وضاحت کے لئے کتاب ” رہبران بزرگ “ کی طرف رجوع فرمائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:60
انفجرت اور انبجست میں فرق
زیر بحث آیت میں ” انفجرت “ استعمال ہوا ہے جب کہ سورہ اعراف آیہ ۱۶ میں اس کی جگہ ” انبجست “ آیا ہے پہلے کا معنی ہے پانی کا سخت بہاؤ اور دوسرے کا معنی ہیں تھوڑا تھوڑا اور آرام سے جاری ہونا ۔، ممکن ہے دوسری آیت اس پانی کے جاری ہونے کے ابتدائی مرحلہ کی طرف اشارہ ہو تاکہ پریشانی کا سبب نہ بنے اور بنی اسرائیل اسے اپنے کنٹرول میں کر سکیں اور ” انفجرت “ اس کے آخری مرحلہ کی طرف اشارہ ہو جس سے مراد تیز بہاؤ ہے ۔ کتاب مفردات راغب میں آیا ہے کہ ” انبجاس “ وہاں بولا جاتا ہے جہاں پانی چھوٹے سے سوراخ سے نکل رہا ہو اور انفجار اس وقت کہتے ہیں جب پانی وسیع جگہ سے باہر آرہا ہو جو کچھ ہم کہ چکے ہیں یہ تعبیر اس سے پوری طرح ساز گا ر ہے ۔ ۶۱۔ و اذ قلتم یٰموسٰی ٰلن نصبر علی طعام و احد فادع لنا ربک یخرج لنا مما تنبت الارض من بقلھا و قثائھا و فومھا وعدسھا و بصلھا ط قال اتستبدلون الذی ھو ادنیٰ بالذی ھو خیر ج اھبطو مصرا فان لکم ما سالتم ط و ضربت علیھم الذلة والمسکنة وباء و بغضب من اللہ ط ذٰلک بانھم کانو ا یکفرون باٰیٰت اللہ ویقتلون النبیین بغیر الحق ذٰلک بما عصو ا و کانو یعتدون ۶۱۔ اور یاد کرو اس وقت کو جب تم نے کہا : اے موسٰی ! ہم اس کے لئے ہر گز تیار نہیں کہ ایک ہی قسم کی غذا پر اکتفا ء کریں اپنے خدا سے دعاء کرو کہ ہمارے لئے زمین سے اگنے والی سبزیوں میں سے اور ککڑی ، لہسن مسور اور پیاز اگائے ۔ موسٰی نے کہا : کیا بہتر غذا کے بدلے پست ا نتخاب کرتے ہو ( اب اگر ایسا ہی ہے تو کوشش کرو اور اس بیابان سے نکل کر ) کسی شہر میں داخل ہوجاؤ کیونکہ جو کچھ تم چاہتے ہو وہ تو وہیں ہے ۔ خدا وندے عالم نے ذلت و محتاجی ( کی مہر) ان کی پیشانی پر لگا دی اور نئے سرے سے وہ غضب پروردگار میں مبتلا ہو گئے کیونکہ وہ آیات الہی سے کفر کرتے اور انبیاء کا قتل کرتے تھے اور یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ وہ گنہگار ،سرکش اور تجاوز کرنے والے تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:60
تعثوا“اور مفسدین میں فرق
تعثوا “کا مادہ ” عثی “ ( بروزن ) مسی ہے ) جس کے معنی ہیں شدید فساد ۔ البتہ یہ لفظ زیادہ تر اخلاقی اور روحانی مفاسد کے لئے استعمال ہوتا ہے جب کہ مادہ ”عیث “ جو معنی کے طور پر اس کے مشابہ ہے زیاد ہ تر حسی مفاسد کے لئے بولا جاتا ہے ۔ لہذا ” لاتعثوا “ کے معنی بھی ” مفسدین“ کے ہیں لیکن تاکید اور زیادہ شدت کے ساتھ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ پورا جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہو کہ فساد ابتدا میں ایک چھوٹے سے نقطے سے شروع ہوتا ہے پھر اس میں وسعت اور پھیلاؤ آجاتا ہے اور اس میں شدت پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہ ٹھیک وہی چیز ہے جو لفظ ” تعثو ا “ سے معلوم ہوتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ” مفسدین“ فساد انگیز پرو گرام کے آغاز کی طرف اور ” تعثو ا“ اس کے دوام اور استمرار اور اسے وسعت دینے کی طرف اشارہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:60
ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد جن سے خدا نے
ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد جن سے خدا نے بنی اسرائیل کو نوازا تھا ۔ زیر نظر آیت میں ان عظیم نعمتوں پر ان کے کفران اور ناشکر گزاری کی حالت کو منعکس کیا گیا ہے ۔ اس میں اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ کس قسم کے ہٹ دھرم لوگ تھے ۔ شاید تاریک دنیا میں ایسی کوئی مثال نہ ملے گی کہ کچھ لوگوں پر اس طرح سے الطاف الہٰی ہو لیکن انہون نے اس طرح سے اس مقابلے میں ناشکر گزاری اور نافرمانی کی ہو ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب تم نے کہا اے موسٰی ہم سے ہر گز یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی غذا پر قناعت کرلیں ( من و سلویٰ کتنی ہی اچھی اور لذیز غذا ہو ہم مختلف قسم کی غذا چاہتے ہیں ) ( و اذ قلتم یٰموسٰی لن نصبر علی طعام واحد ) لہذا خدا سے خواہش کرو کہ وہ زمین سے جو کچھ اگایا کرتا ہے ہمارے لئے بھی اگائے سبزیوں میں سے ، ککڑی ، لہسن ، مسور اور پیاز ( فادع لنا ربک یخرج لنا مما تنبت الارض من بقلھا و قثائھا و فومھا و عدسھا وبصلھا لیکن موسٰی نے ان سے کہا : کیا تم بہتر کے بجائے پست غذا پسند کرتے ہو ( قال اتستبدلون الذی ھو ادنیٰ با الذی ھو خیر ) جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس بیابان سے نکلو اور کسی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرو کیونکہ جو کچھ تم چاہتے ہو وہ وہاں ہے ( اھبطو امصرا فان لکم ما سئالتم ) اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ خد انے ان کی پیشانی پر ذلت و فقر کی مہر لگا دی ( و ضربت علیھم الذلة و المسکنة ) اور وہ دوبارہ غضب الہٰی میں گرفتارہوگئے ( و با ؤا بغضب من اللہ )۔ یہ اس لئے ہوا کہ وہ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے تھے ( ذٰلک بانھم کانوا یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیر الحق ) یہ سب اس لئے تھا کہ وہ گناہ ، سر کشی اور تجاوز کے مرتکب ہوتے تھے ( ذٰلک بما عصوا و کانو ا یعتدون ) ۔