وَعَلَّمَ ءَادَمَ ٱلۡأَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَى ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِـُٔونِي بِأَسۡمَآءِ هَـٰٓؤُلَآءِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
And He taught Adam the Names, all of them; then presented them to the angels and said, ‘Tell me the names of these, if you are truthful.’
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:30-33
( ۲ )سات آسمان
لفظ”سما“لغت میں ”اوپر“کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور ایک جامع مفہوم جس کے مختلف مصادیق ہیں لہذاہم دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ قرآن میں گوناگوں موقعوں پر صرف ہوا ہے (۱) کبھی زمین کے پڑوس میں ”اوپر “والی جہت پر بولا جاتا ہے جیسے کہ ارشاد ہے : الم ترکیف ضرب اللہ مثلاََکلمة طیبةکشجرةطیبة اصلھا ثابت وفرعھا فی السمائ کیا تو نے دیکھانہیںکہ خد اوندعالم نے پاک گفتگوکوکس طرح ایک ایسے پاکیزہ درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں مضبوط وثابت ہے اور شاخیں آسمان میں ہیں ۔ ( ابراہیم ۔۲۴) (اا) کبھی لفظ”سماء “سطح زمین سے بہت دور (بادلو ںکی جگہ )کے لئے بولاجاتا ہے ۔جیسے کہ فرمایا: ونزلنامن السمآء مآء مبرکا ہم آسمان سے برکتوں والاپانی ناز ل کر تے ہیں (ق۔۹) (ااا) کبھی اطراف زمین کی ہوا ئے متراکم کی جلد کو آسمان کہا جاتا ہے ۔جیسا کہ ارشاد ہے : وجعلناالسماء سقفا محفوضا ہم نے آسمان کو محکم ومضبوط چھت قرار دیاہے (انبیاء ۳۲) یہ اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی فضا جو چھت کی طرح ہمارے سروں پر بر قرار ہے وہ اتنی مضبو ط ہے کہ کرہ ٴ ارض کو آسمانی پتھروں کے گرنے سے محفوظ رکھتی ہے ۔یہ پتھر جو مسلسل شب وروز کششِ زمین کے مرکزمیں آتے ہیں اور اس کی طرف کھچے آتے ہیں اگر ہوائے متراکم کی جلدنہ ہوتوہمیشہ ان خطرناک پتھروںکی زدمیںرہیںلیکن اس جلدکاوجود اس بات کاسبب بنتاہے کہ یہ پتھر فضائے زمین ہی میں جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں ۔ اور کبھی اوپر کے کروں کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتاہے : ثم استوی الی السماء وھی دخان پھروہ آسمان کی طرف متوجہ ہو اجب کہ وہ دھواں اوربخارات تھے پہلی گیس سے کرات کو پیدا کیا ۔(فصلت ،اا)(حم سجدہ) اب ا صل بات کی طرف لوٹے ہیں کہ سات آسمانوں سے کیا مراد ہے ۔اس سلسلے میںمفسرین اور علماء اسلام کے گوناگوں بیانات اور مختلف تفاسیر ہیں۔ (۱) بعض سات آسمانوںسے وہی سبع سیارات (سات ستارے (یعنی عطارد،زہرہ ،مریخ ،مشتری ،زحل ،چاند اور سورج ) مراد لے تے ہیں ۔علماء ہئیت قدیم کے نزدیک چاند اور سورج بھی سیارات میںداخل تھے۔(۱) (2)بعض علماء نے نظام شمسی کے دس کرات (نو سیارے مشہور ہیں ایک اورسیارہ بھی ہے جو مریخ اور مشتری کے درمیان تھا لیکن وہ منتشر ہوگیا اس کا کچھ حصہ اسی طرح اسی مدار زمیں محو گر دش ہے)کو دو حصوں تقسیم کیا ہے ایک گروہ وہ ہے جو مدار زمین میں گردش کر ر ہے ہیں(جن میں عطارد اور زہرہ شامل ہیں )اور ایک گروہ مدار زمین سے باہر اور اس کے اوپر کی طرف ہے ۔شاید اسی تفسیر سے یہی باہر کے سات سیارے مراد ہیں۔ (ب)بعض کا نظریہ ہے کہ اس سے مراد زمین کے گرد ہو ائے متراکم کے طبقات ہیں اوروہ مختلف تہیں جو ایک دوسرے کے ا و پر ہیں ۔ (ج)بعض کہتے ہیں یہاں سات کا عدد تعدادی عدد(عدد مخصوص )کے معنی میں نہیں بلکہ عدد تکثیری ہے جس کے معنیٰ ہیں زیادہ اور تعداد فراواں ،کلام عرب اور خود قرآن میںکئی جگہ اس کی نظیریں موجودہیں مثلاََ سورہ لقمان آیت ۲۷میں ہے : ولوان ما فی الارض من شجرةاقلام والبحر یمدہ من بعدہ سبعةابحر ما نفدت کلمت اللہ اگر زمین کے درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائیں اور سات سمندر مزید مل جائیں تو بھی کلمات خدا کو لکھا نہیں جاسکتا ۔ بالکل واضح ہے کہ سات آیت میں سات سے مراد عدد مخصوص سات نہیں بلکہ اگر ہزار سمندر بھی سیاہی بن جائیں تو اس سے خدا کے لاماتناہی علم کو نہیں لکھا جاسکتا ۔اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ سات آسمانوں سے متعدد آسمان اور عالم بالاکے بہت سے کرات مراد ہیں اوراس سے کو ئی عدد مخصوص مراد نہیں ۔ (د) جو بات زیادہ صحیح دکھا ئی دیتی ہے وہ یہ کہ”سمو ات سبع “سے مرادآسمان ہی ہے جواس کے حقیقی معنی ہیں ۔مختلف آیات ِقرآن میں اس عبارت کاتکرار ظاہر کرتا ہے کہ سات کاعدد یہاں کثرت کے معنی میں نہیں بلکہ کسی خاص عدد کی طرف اشارہ ہے البتہ آیات ِ قرآن سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ تمام کرات ،ثوابت اور سیارات جو ہم دیکھ رہے ہیں پہلے آسمان کا جزء ہیں اور چھ عالم اس کے علاوہ موجود ہیں جو ہماری نگاہ اور آج کے علمی آلات کی دسترس سے باہر ہیں اور مجموعی طور پرسات آسمانوں سے سات عالم تشکیل پذیر ہیں قرآن اس گفتگوکا شاہدہے : وزیناالسماء الدنیابمصابیح ہم نے نچلے آسمان کو ستاروںکے چراغوں سے سجایا۔(فصلت ،۱۲) دوسری جگہ پر یوں ہے۔ انا زیناالسماء الدنیابزینة ن الکواکب یقناََ ہم نے نچلے آسما ن کو ستاروںسے زینت بخشی(الصفت ۔۶) ان آیات سے واضح ہو تا ہے کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں ۔جسے ستاروں کی دنیا کہتے ہیں سب آسمان اول ہے اسکے علاوہ چھ آسمان اور موجود ہیں جن کی جزئیات کے متعلق ہمیں کوئی اطلاع نہیں ۔ یہ جو کچھ ہم نے کہاہے کہ چھ اور آسمان ہیں جو ہمارے لئے مجہول ہیں اور ممکن ہے کہ آئند ہ علوم ان سے پر دہ اٹھائیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے ناقص علوم جتنے آ گے بڑھتے ہیں خلقت کے نئے عجائبات تک دسترس حاصل کر تے ہیں مثلاََ علم ہیئت ابھی وہاں تک پہنچا ہے جہاں سے آگے ٹیلی سکوپ telescope) )دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا ۔ بڑی بڑی رصد گاہو ں کے انکشافات ایک عرب نوری سال کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں اور سائنس دان معترف ہیں کہ یہ تو آغاز عالم ہے اختتام نہیں لہذا اس میں کیا مانع ہے کہ آئندہ علم ہیئت کی ترقی سے مزید آسمان ،کہکشاںئیں اور دوسرے عوالم کا انکشاف ہوجائے ۔بہتر ہے کہ گفتگودنیا کی بہت بڑی رصد گا ہ سے سنی جائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:30-33
انسان زمین میں خدا کا نمائندہ
گذشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ خدا نے زمین کی تمام نعمتیں انسان کے لئے پیدا کی ہیں اور ان آیات میں رسمی طور پر انسان کی رہبری اور خلا فت کی تشریع کی گئی ہے اور اس روحانی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ان تمام احسانات کے لائق تھا ان آیات میں آدم ( پہلے انسان ) کی خلقت کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،اور آیات کے اس سلسلہ میں جو آیہ ۳۰ سے شروع ہو کر ۳۹ تک پہنچتا ہے تین بنیادی مسائل کو بیان کیا گیا ہے ؛ (۱) پروردگار عالم کا فرشتوں کو زمین میں انسان کی خلافت و سرپرستی کے بارے میں خبر دینا اور وہ گفتگو جو فرشتوں نے اس سلسلے میں خدا سے کی ۔ (۲)پہلے انسان کے لئے فرشتوں کو خضوع و تعظیم کا حکم جس کا ذکر مختلف مناسبات سے قرآن کی مختلف آیات میں کیا گیا ہے ۔ (۳) بہشت میں آدم کی کیفیت اور رہنے کی تشریع ، وہ حوادث جو جنت سے ان کے نکلنے کا سبب بنے ، آدم کا توبہ کرنا اور پھر آدم اور اولاد آدم کا زمین میں آکر آباد ہونا ۔ زیر بحث آیات ان میں سے پہلی منزل کی بات کرتی ہیں ۔ خدا کی خواہش یہ تھی کہ روئے زمین پر ایک ایسا موجود خلق فرمائے جو اس کا نمائندہ ہو، اس کی صفات صفات خداوندی کاپرتو ہوں اور اس کا مرتبہ و مقام فرشتوںسے بالا تر ہو ،۔ خدا کی خو اہش اور ارادہ یہ تھا کہ ساری زمین اور اس کی نعمتیں ، تمام قوتیں سب خزانے ، تمام کانیں اور سارے وسائل بھی اس کے سپرد کردیئے جائیں ۔ ضروری ہے کہ ایسا شخص عقل وشعور ، ادراک کے وافر حصے استعداد کا حامل ہو جس کی بناء پر موجودات ارضی کی رہبری اور پیشوائی کا منصب سنبھال سکے۔ یہ وجہ ہے کہ پہلی آیت کہتی ہے یاد کریں اس وقت کو جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں روئے زمین پر جانشین مقرر کرنے والا ہوں ( واذ قال ربک للملٰکة انی جاعل فی الارض خلیفة )۔ ”خلیفة کے معنی ہیں جانشین ۔ لیکن یہاں اس سے کس کا جانشین مراد ہے اور کس چیز میں جانشین ہے ، مفسرین نے اس کی مختلف تفسیریں کی ہیں : بعض کہتے ہیں انسان یا اور موجودات کا جانشین جو زمین میں پہلے زندگی گذارتے تھے ۔ بعض نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ انسان کی دوسری نسلیں ایک دوسرے کا جانشین ہوں گی ۔ لیکن انصاف یہ ہے جسے بہت سے محققین نے بھی قبول کیا ہے کہ اس سے مراد خلافت الہی اور زمین میں خدا کی نمائندگی ہے کیونکہ اس کے بعد فرشتوں کا سوال اور ان کا کہنا کہ ممکن ہے نسل آدم مبداء فساد و خونریزی ہو جب کہ ہم تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اسی معنی سے مناسبت رکھتا ہے کیونکہ زمیں میں خداکی نمائندگی ان کاموں کے ساتھ سازگار نہیں ۔ اسی طرح آدم کو ”اسماء“ کی تعلیم دینا جس کی تفصیل بعد میں آئے گی اس دعوے پر ایک او رواضح قرینہ ہے اور آدم کے سامنے سجدہ بھی اسی مقصد کا شاہد ہے۔ بہر حال خد ا چاہتا تھا کہ ایسے وجود کو پیدا کرے جو عالم وجود کا گلدستہ ہو اور خلافت الہی کے مقام کی اہلیت رکھتا ہو اور زمین میں اللہ کا نمائندہ ہو ۔ ان آیات کی تفسیر میں ایک حدیث جو امام صادق سے مروی ہے وہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فرشتے مقام آدم پہچاننے کے بعد سمجھ گئے کہ آدم اور ان کی اولاد زیادہ حقدار ہیں کہ وہ روئے زمین میں خلفاء الہی ہوں اور مخلوق پر ان کی حجت ہوں ۔۱ زیر بحث آیت مزید بیان کرتی ہے کہ فرشتوں نے حقیقت کا ادراک کرنے کے لئے نہ کہ اعتراض کی غرض سے عرض کیا : کیا زمین میں اسے (جانشین ) قرار دے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا (قالو اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء) جبکہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں ، تیری تسبیح و حمد کرتے ہیں اور جس چیز کی تیری ذات لائق نہیں اس سے تجھے پاک سمجھتے ہیں ( ونحن نسبح بحمدک ونقدس لک )۔ مگر یہاں خدا نے انہیں سربستہ و مجمل جواب دیا جس کی وضاحت کے بعد کے مراحل میں آشکار ہوئی فرمایا : میں ایسی چیزوں کو جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے ( قال انی اعلم مالا تعلمون )۔ جیسے کہ ان کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے سمجھ گئے تھے کہ یہ انسان سربراہی نہیں بلکہ فساد کرے گا ، خون بہائے گا اور خرابیاں کرے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آخر وہ کس طرح سمجھے تھے۔ بعض کہتے ہیں خدا نے انسان کے آئندہ حالات بطور اجمال انہیں بتائے تھے جب کہ بعض کا احتمال ہے کہ ملائکہ اس مطلب کو لفظ فی الارض (زمین میں ) سے سمجھ گئے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے انسان مٹی سے پیدا ہوگا اور مادہ اپنی محدودیت کی وجہ سے طبعا مرکز نزاع و تزاحم ہے کیونکہ محدود مادی زمانہ انسانوں کی طبعیت کو سیر و سیراب نہیں کرسکتا جو زیادہ کی طلب رکھتی ہے یہاں تک کہ اگر ساری دنیا ایک فرد کو دے دی جائے تو ممکن ہے وہ پھر بھی سیر نہ ہو اگر کافی احساس ذمہ داری نہ ہو تو یہ کیفیت فساد اور خونریزی کا سبب بنتی ہے۔ بعض دوسر ے مفسرین معتقد ہیں کہ فرشتوں کی پیشین گوئی اس وجہ سے تھی ک آدم روئے زمین کی پہلی مخلوق نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی دیگر مخلوقات تھیں جنہوں نے نزاع ، جھگڑا اور خونریزی کی تھی ۔ان سے پہلے کی مخلوق کی بری فائل نسل آدم کے بارے میں فرشتوں کی بد گمانی کا باعث بنی۔ یہ تین تفاسیر ایک دوسرے سے کچھ ز یاد ہ اختلاف نہیں رکھتیں یعنی ممکن ہے یہ تمام امور فرشتوں کی اس توجہ کا سبب بنے ہوں اور در اصل یہ ایک حقیقت بھی تھی جسے انہوں نے بیان کیا تھا یہ وجہ ہے کہ خدا نے جواب میں کہیں بھی اس کا انکار نہیں کیا بلکہ اس حقیقت کے ساتھ ساتھ ایسی مزید حقیقتیں انسان اوراس کے مقام کے بارے میں موجود ہیں جن سے فرشتے آگاہ نہیں تھے ۔فرشتے سمھتے تھے اگر مقصد عبودیت اوربندگی ہے تو ہم اس کے مصداق کامل ہیں ہمیشہ عبادت میں ڈوبے رہتے ہیں لہٰذاسب سے زیادہ ہم خلافت کے لائق ہیں لیکن وہ اس سے بے خبر تھے کہ ان کے وجود میں شہوت و غضب اور قسم قسم کی خواہشات موجود نہیں جب کہ انسان کو میلانات و شہوات نے گھیر رکھا ہے اور شیطان ہر طرف سے اسے وسوسے ڈالتا رہتا ہے لہذا ان کی عبادت انسان کی عبادت سے بہت زیادہ تفاوت رکھتی ہے ۔ کہاں اطاعت اور فرمانبرداری ایک طوفان زدہ کی اور کہاں عبادت ان ساحل نشینوں کی جو مطمئن ، خالی ہاتھ اور سبک بار ہیں ۔ انہیں کب معلوم تھا کہ آدم کی نسل سے محمد ، ابراہیم ،نوح ، موسیٰ اور عیسی ٰ علیھم السلام جیسے انبیاء اور ائمہ اہل بیت جیسے امام اور صالح بندے اور جانباز شہید مرد اور عورتیں عرصہ وجود میں قدم رکھیں گے جو پروانہ وار اپنے آپ کو خدا کی راہ میںپیش کریں گے ۔ ایسے افراد جن کے غور و فکر کی ایک گھڑی فرشتون کی سالہا سال کی عبادت کے برابر ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ فرشتوں نے اپنی صفات کے بارے میں تین چیزوں کا سہارا لیا تسبیح ، حمد اور تقدیس ۔ اس میں شک نہیں کہ تسبیح اور حمد کے معنی ہیں خدا کو ہر قسم کے نقس سے پاک اور ہر قسم کے کمال کا اہل سمجھنا لیکن کہ تقدیس سے کیا مقصود ہے۔ بعض نے تقدیس کے معنی ” پروردگار کو ہر قسم کے نقصان سے پاک شمار کرنا “ بیان کئے ہیں جو کہ در اصل تسبیح کے معنی کی تاکید ہے ۔ لیکن بعض معتقد ہیں کہ تقدیس مادہ ” قدس “ سے ہے جس کے معنی ہیں روئے زمین کو فاسد اور مفسد لوگوں سے پاک کرنا یا اپنے آپ کو ہر قسم کی بری اور مزموم صفات سے پاک کرنا اور جسم وجان کو خدا کے لئے پاک کرنا لفظ” لک “کو جملہ”نقدس لک “ میں اس مقصود کے لئے شاہد قرار دیتے ہیں کیونکہ فرشتوں نے یہ نہیں کہا کہ ”نقدسک “ یعنی ہم تجھے پاک سمجھیں گے بلکہ انہوں نے کہا ”نقدس لک “ یعنی تیرے لئے معاشرے کو پاک کریں گے ۔ در حقیقت وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ہدف اور غرض ، اطاعت اور بندگی ہے تو ہم فرمانبردار ہیں اور اگر عبادت ہے تو ہم ہر وقت اس میں مشغول ہیں اور اگر اپنے آپ کو پاک رکھنا یا صفحہ ارضی کو پاک رکھنا ہے تو ہم ایسا کریں گے جب کہ یہ مادی انسان خود بھی فاسد ہے اور روئے زمین کو بھی فاسد کردے گا ۔ حقائق کو تفصیل سے ان کے سامنے واضح کرنے کے لئے خدا وندے عالم نے ان کی آزمائش کے لئے اقدام کیا تاکہ وہ خود اعتراف کریں کہ ان کے اور اولاد آدم کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے ۔ ۱معانی الاخبار بحوالہ المیزان ، جلد ۱ ، ص ۱۲۱ ۔ اس حدیث سے اگرچہ زیادہ تر انبیاء اور ائمہ کا مقام ظاہر ہوتا ہے لیکن معلوم ہے کہ یہ انہی میں منحصر نہیں وہ تو اس موضوع کے اتم و اکمل مصداق ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:30-33
فرشتے امتحان کے سانچے میں
پروردگار کے لطف و کرم سے آدم حقائق عالم کے ادراک کی کافی استعداد رکھتے تھے خدا نے ان کی اس استعداد کو فعلیت کے درجہ تک پہنچایا اور قرآن کے ارشاد کے مطابق آدم کو تمام اسماء ( عالم وجود کے حقائق و اسرار ) کی تعلیم دی ( وعلم اٰدم الاسماء کلھا )۔ مفسرین نے اگر چہ --”علم اسماء “کی تفسیر میں قسم قسم کے بیانات دیئے ہیں لیکن مسلم ہے کہ آدم کو کلمات و اسماء کی تعلیم بغیر معنی کے نہیں دی تھی کیونکہ یہ کوئی قابل فخر بات نہیں بلکہ مقصد یہ تھاکہ ان اسماء کے معنی و مفاہیم اور جن چیزوں کے وہ نام تھے ان سب کی تعلیم ہو ۔ البتہ جہان خلقت اور عالم ہستی کے مختلف موجودات کے اسماء وخواص سے مربوط علوم سے باخبر وآگاہ کیا جانا حضرت آدم کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا ۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق سے اس آیت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا : الارضین والجبال والشعاب والاودیہ ثم نظر الی بساط تحتہ فقال وھذا ابساط مماعلمہ۔ اسماء سے مراد زمینیں ، پہاڑ ،درے ،وادیاں (غرض یہ کہ تمام موجودات )تھے اس کے بعد امام نے اس فرش کی طرف نگاہ کی جو آپ کے نیچے بچھا ہو تھا اور فر ما یا یہا ں تک کہ یہ فرش بھی ان امو ر میں سے ہے کہ خد انے جن کی آدم کو تعلیم دی (۱) اس سے ظاہر ہو کہ علم اسما ء علم لغت کے مشابہ نہ تھا بلکہ اس کا تعلق فلسفہ ،اسرار اور کیفیا ت وخو اص کا تھا ۔خداوند عالم نے آدم کو اس علم کی تعلیم دی تاکہ وہ اپنی سیر تکامل میں اس جہان کی مادی اور روحانی نعمتوں سے بہرہ ور ہو سکیں ۔اسی طرح چیزوں کے نام رکھنے کی استعداد بھی انہیں دی تاکہ و ہ چیزوں کے نام رکھ سکیں اور ضرورت کے وقت ان کا نام لے کر انہیں بلا سکیں یا منگوا سکیں اور یہ ضروری نہ ہو کہ اس کے لئے ویسی چیز دکھا نی پڑے ۔یہ خود ایک بہت بڑ ی نعمت ہے ۔اس مو ضو ع کی اہمیت ہم اس وقت سمجھتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ انسان کے پاس اس وقت جو کچھ ہے کتاب اور لکھنے کی وجہ سے ہے اور گذ رے ہوئے لوگو ں کے سب علمی ذخائر ان کی تحریروں میں جمع ہیں اور یہ سب کچھ چیزوں کے نام رکھنے کے اور ان کے خواص کی وجہ سے ہے و ر نہ کبھی بھی ممکن نہ تھا کہ ہم گذشتہ لوگو ں کے علوم آنے والوں تک منتقل کر سکتے ۔ پھر خداوند عالم نے فرشتوں سے فرمایا ۔اگر سچ کہتے ہوتو ان اشیاء اورموجودات کے نام بتاوٴجنہیں دیکھ رہے ہو اور ان کے اسرار وکیفیات کو بیان کرو (ثم عرضھم علی الملائکةفقال انبئو نی باسماء ھوٴلاء ان کنتم صدقین )لیکن فرشتے جو اتنا علم نہ رکھتے تھے اس امتحا ن میں رہ گئے ؛لہذا جواب میں کہنے لگے خداوندا!تو منزہ ہے تونے ہمیں جو تعلیم دی ہے ہم ا س کے علاوہ کچھ نہیں جانتے (قالو اسبحنک لاعلم لناالاما علمتنا ) توخود ہی علیم وحکیم ہے (انک انت العلیم الحکیم ) ۔اگر ہم نے اس سلسلے میں سوال کیا ہے تو یہ، ہماری نا آگاہی کی بناء پر تھا ہم نے یہ مطلب نہیں پڑھاتھااور آدم کی اس عجیب استعداداور قدرت سے بے خبر تھے جو ہمارے مقابلے میں اسکا بہت بڑا امتیاز ہے۔بے شک وہ تیری خلافت وجانشینی کی اہلیت رکھتا ہے جہان ہستی کی سر زمین اس کے وجود کے بغیر نا قص تھی۔ اب آدم کی باری آ ئی کہ ملائکہ کے سامنے موجودات کا نام لیں اور ان کے اسرار بیان کریں۔ خدا وندے عالم نے فرمایا : اے آدم !فرشتوں کو ان موجودات کے ناموں سے آگاہ کرو ( قال یا آدم انبئھم باسمائھم قال الم اقل لکم انی اعلم غیب السماوات والارض واعلم ماتبدون وماکنتم تکتمون ) اس مقام پر ملائکہ نے اس انسان کی وسیع معلومات اور فراواں حکمت ودانائی کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور ان پر واضح ہوگیا کہ صرف یہی زمین پر خلافت کی اہلیت رکھتا ہے۔ جملہ ”ماکنتم تکتمون “ ( جو کچھ تم اپنے اندر چھپائے ہوئے ہو ) اس بات کی نشاندہی ہے کہ فرشتوں نے جو کچھ ظاہر کیا تھا اس کے علاوہ کچھ دل میں چھپائے ہوئے تھے ۔ بعض کہتے ہیں یہ ابلیس کے غرور و تکبر کی طرف اشارہ ہے جو ان دنوں ملائکہ کی صف میں رہتا رہتا تھا لہذا وہ بھی ساتھ ہی مخاطب تھا ۔اس نے دل میں پختہ ارادہ کر رکھا تھا کہ وہ آدم کے سامنے ہر گز نہیں جھکے گا ۔ یہ بھی احتمال ہے فرشتے در حقیقت اپنے آپ کو روئے زمین پر خلافت الہی کے لئے ہرکس وناکس سے زیادہ اہل سمجھتے تھے اگرچہ اس مطلب کی طرف اشارہ تو کرچکے تھے لیکن صراحت سے یہ بیان نہ کیا تھا۔ (۱) مجمع البیان ،زیر نظر آیات کے ضمن میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:30-33
(۳)عظمت کا ئنات
پالو مار کی رصدگاہ نے جہانِ بالا کی اس طرح تو صیف کی ہے : ”جب تک پالو مار کی رصد گاہ کی دور بین نہیں بنی تھی دنیا کی وسعت جو ہمیںنظر آتی تھی پانچ سو نوری سال سے زیادہ نہیں تھی لیکن اب اس دوربین نے ہماری دنیا کی وسعت ایک عرب نوری سال تک پہنچا دی ہے اس کے نتیجے میں کئی ملین نئی کہکشاؤں کا انکشاف ہوا ہے جن میں سے بعض ہم سے ایک عرب نوری سال کے فاصلہ پرواقع ہیں لیکن ایک عرب نوری سال کے فاصلہ کے بعد ایک عظیم مہیب اور تاریک فضا نظر آتی ہے جس کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی یعنی روشنی وہاں سے عبور نہیں کرسکتی کہ رصدگاہ کی دوربین کے صفحہ عکاسی کو متاثر کرے لیکن بلاشک اس مہیب و تاریک فضا میں کئی سو ملین کہکشائیں موجود ہیں لیکن ہماری دنیا ان کہکشاؤں کی کشش سے محفوظ ہے۔ یہ عظیم دنیا جو نظر آرہی ہے جس میں کئی سو ملین کہکشائیں موجود ہیں ایک عظیم تر جہان کا چھوٹا سا ذرہٴ بے مقدار ہے اور ابھی ہم یقین سے نہیں کہ سکتے کہ اس دوسری دنیا کے اوپر بھی کوئی اور دنیا ہے “(۱) اس گفتگو سے واضح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ دنیائے علم آسمانوں کے بارے میں اپنی حیرت انگیز ترقی کے باوجود اپنے انکشافات کو آغاز جہاں سمجھتی ہے نہ کہ اس کا اختتام بلکہ ایک عظیم جہان کے مقابلے میں اسے ایک چھوٹا سا ذرہ خیال کرتی ہے۔ ۳۰۔ واذ قال ربک للملائکة انی جاعل فی الار خلیفة ط قا لوااتجعل فیھا ویفسد فیھا ویسفک الدماء ج ونحن نسبح بحمدک و نقدس لک ط قال انی اعلم مالا تعلمون ۳۱ ۔وعلم آدم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملائکة فقالا انبئونی باسماء ھٰولاء ان کنتم صٰدقین قالو ا سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا ط انک انت العلیم الحکیم ۳۳۔ قال یاٰدم انبئھم باسمائھم ج فلما انبائھم باسمائھم قال الم اقل لکم انی اعلم غیب السماوات والارض واعلم ما تبدو ن وماکنتم تکتمون ترجمہ ۳۰۔جب آپ کے پروردگار نے فرشتو ں سے کہا کہ میں روئے زمین پرایک جانشین اور حاکم مقرر کر نے لگا ہوں تو فرشتوں نے کہا (پروردگارا ) کیا ایسے شخص کو مقرر کرے گا جو زمین پر فساد اور خونریزی کرے گا ( کیوں آدم سے پہلے زمین کے دوسرے موجودات جو عالم وجود میں آچکے ہیں ان کی طبیعت اور مزاج جہان مادہ کے حکم کا پابند ہے لہذا وہ فساد اور خونریزی کے گناہ ہی میں مبتلا تھے لیکن خلقت انسان کا مقصد اگر عبادت ہے تو ) ہم تیری تسبیح اور حمد بجالا تے ہیں ( اس پر پروردگار عالم نے فرمایا : میں حق کو جانتا ہوں تم نہیں جانتے ۔ ۳۱۔ پھر علم اسماء ( علم اسرار خلقت اور موجودات کے نام رکھنے کا علم )سب کا سب آدم کو سکھایا پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا : اگر سچ کہتے ہو تو بتاؤ ان کے نام کیا ہیں ۔ ۳۲۔ فرشتوں نے کہا تو پاک و منزہ ہے جو تو نے ہمیں تعلیم دی ہے ہم اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تو حکیم ودانا ہے ۔ ۳۳۔ فرمایا : اے آدم -انہیں ان ( موجودات ) کے ناموں اور اسرار ) سے آگاہ کردے جب اس نے انہیں آگاہ کردیا تو خدا نے فرمایا : میں نہ کہتا تھا کہ میں آسمان اور زمین کا غیب جانتا ہوں اور تم جن چیزوں کو ظاہر کرتے اور چھپاتے ہو انہیں بھی جانتا ہوں ۔ (۱)مجلہ فضا ”شمارہ فروردین ۲۳۵۱ہجریشمسی
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:30-39
1. God clearly states, “Appointment of His Representatives on Earth is absolutely reserved for Him,” which allured angels to put forth their claim, and which is refuted by God on their being not capable, in spite of being immaculate, (this proves superiority of Divine Messengers, i.e. Prophets over them). Marginal notes should be studied very carefully to realize the entire issue of Adam’s loss of Paradise and regain thereof. 2. This paragraph (clause and couplets) are the essence of the text. Humans, as progeny of Adam, is subject to evil influence of the Devil (created as a test) who is enemy of humans, as on their account, he (devil) was cursed and sent out of heaven and by virtue of his prayers he got amends to swerve misgivings, which, when people forget “Divine warnings” Zikrullah overrule him but on recollection they should plead on intercessory prayers unto God by undoing sins and rectifying self and directing self to God by following Divine Guides who are Immaculate, in preference to pretenders to guidance, who are neither Immaculate, nor bear knowledge of Divine Text as revealed to the Prophet and his revered immaculate family (peace be upon them). (They are Divine Lights, having come from Heaven with Divine knowledge.)
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:31
[Pooya/Ali Commentary 2:31] NAMES Angels are obedient beings. There is no "becoming" (change) in the angelic sphere. Each of them has a fixed status to carry out a particular function. Man, on the other hand, made of matter, endowed with vast potentialities and scope for progress and development, is more fit to reflect or to react to the various aspects of the higher will. The potentiality of matter reveals itself in many forms, but it is only through the organism of man that its highly refined potentiality develops into intellect, reason and contemplation, the essential requirements for wisdom and knowledge. According to verse 75 of Sad, Allah has created Adam with His two hands, matter and spirit, which gives man the distinctive power of expression, termed as biyan by the Quran. This expressive power is related to His vicegerency, because the vicegerent, as the representative of the principal, gives expression to His will and command. The higher the ability of recepiency and the reflective power, the greater will be the scope and canvas of representation. It is on this basis that all the messengers and prophets of Allah will be standing under the standard of the Holy Prophet, which will be in the hand of Ali, on the day of resurrection. The names Adam learned from Allah were not in the knowledge of the angels, because these names did not refer to the phenomena known to them. The hum of aradahum does not refer to the "names" but to the "named", and as a plural term cannot be used for Allah, therefore, it cancels the possibility of interpreting these names as the names of Allah. When reference is made in Arabic to several objects of inanimate nature, a singular feminine pronoun is used, but when the objects are conscious beings, a plural masculine pronoun is used, as done here through aradahum, to point out the "named ones". If the object referred to is inanimate, the singular feminine pronoun, tilka or hadhihi should have been used. Here the personal demonstrative pronoun refers to the conscious beings of a superior-most status, knowledge of whose names entitled Adam to the vicegerency of Allah. Thus the existence of the beings of the highest status has been established. Due to the affinity between Adam and these highest beings (alin), he was capable to function as the medium of their manifestation. Verse 4 of al Tin says that the status of man, in the order of creation, is the highest in excellence. The alin, the highest beings, referred to in this verse, are the most perfect and the most blessed human beings, for whose manifestation in the arc of ascent, Adam was chosen. Till then the names of the highest beings along with the insight and vision of their realities, their latent qualities and inherent endowments were unknown to the angels. (see commentary for verse 4)(see commentary for verse 2)