هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ فَسَوَّىٰهُنَّ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
It is He who created for you all that is in the earth, then He turned to the heaven and fashioned it into seven heavens, and He has knowledge of all things.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:21-29
1. God points out how faith can be developed to attain perfection by continuous timely prayers and which is sure to lead to salvation, reminding of His Obligation, remembrance of which will keep you ever obedient to Him, without attaching like affection to others. 2. To eliminate misgivings of mind. He, in proof of His being your creator, reminds you of what and where you were before it. And once he brought you, after giving you time limit in this world to gain your Eternal Grade, he will again raise you alive to send you to respective grade of Paradise or Hell. If you persist still, then He challenges you to bring a like chapter of the Qur’an failing which you stand to condemnation of Hell. Hence, do not doubt, but with proofs adduced, submit to His Existence, howsoever trifling the proofs appear to you. Be not of those dissenters whose purpose is merely to fan dissension under the devil’s leading to perdition.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:28-29
زندگی ایک اسرار آمیز نعمت ہے
مندر جہ بالا دو آیا ت میں قر آن نے نعمات الہی کے ایک سلسلے اورتعجب انگیز خلقت کا ذکر کے انسان کوپروردگار اور اس کی عظمت کی طرف متوجہ کر دیا ہے اور خدا شناسی کے سلسلے میں جو دلائل گذشتہ آیات (۲۱و۲۲)میں بیان کئے گئے ہیں ان کی تکمیل کر رہاہے ۔ قرآن یہاں وجودخداکے اثبات کو ایسے نکتے سے شروع کر رہا ہے جس کاکو ئی انکار نہیں کرسکتااور وہ ہے زندگی کا پر اسرار مسٴلہ ۔ پہلے کہتا ہے تم خداکا کس طرح انکار کرتے ہو حالا نکہ تم بے روح جسم تھے اس نے تمہیںزندہ کیا اور تمہارے بد ن پر زندگی کا لباس پہنایا(کیف تکفرون بااللہ وکنتم امواتاََفاحیاکم)۔ قرآن ہم سب کو یاددہانی کرواتا ہے کہ اس سے پہلے تم پتھروں،لکڑیوں اور بے جا ن موجودات کی طرح مردہ تھے اور نسیم زندگی کاتمہارے کو چے سے گذر نہ تھا لیکن اب تم نعمت حیات وہستی کے مالک ہو ۔تمہیں اعضاء حواس اور ادراک کے کارخا نہ عطا کئے گئے ہیں۔ یہ وجود حیات تمہیںکس نے عطا کیاہے کیا یہ سب کچھ خود تم نے اپنے آپ کو دیا ہے ۔واضح ہے کہ ہر مصنف مزاج انسان بغیر کسی ترددکے اعتراف کر تا ہے کہ یہ نعمت خود اس کی اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ ایک مبداء اعالم وقادر کی طرف سے اسے ملی ہے جو زندگی کے تمام رموزاور پیچیدہ قوانین سے واقف تھا ، انہیں منظم کرنے کی قدرت رکھتا تھا یہاںیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیوںحیات وہستی بخشنے والے خداکاانکاکرتے ہیں۔ آج کے زمانے میںتمام علماء ومحققین پر یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے پاس اس دنیا میں حیات وہستی سے زیادہ پیچیدہ کو ئی مسٴلہ نہیں ہے کیونکہ تمام تر عجیب وغریب ترقی کے باوجودجو طبعی علوم فنون کے سلسلے میں انسان کو نصیب ہوئی ہے ابھی تک حیات کا معمہ حل نہیں ہوسکا۔یہ مسٴلہ اس قدر اسرار آمیز ہے کہ لاکھو ں علماء افکار اور کوششیں اب تک اس مسٴلے کے ادراک سے عاجز ہوچکی ہیں ۔ہوسکتا ہے کہ انتھک کوششوں کے سائے میں آئندہ تدریجاََانسان رموز حیات سے آگاہ ہوسکے۔ لیکن مسٴلہ یہ ہے کہ کیاکوئی شخص اس معاملے کو جو بہت گہرے غوروفکر کا نتیجہ ہے ،اسرارانگیز ہے اور بہت زیادہ علم وقدرت کا محتاج ہے بے شعور طبیعت کی طرف نسبت دے سکتا ہے ،وہ طبیعت جو خود حیات وزندگی سے عاری ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہم کہتے ہیں کہ اس جہان طبیعت میں حیات وزندگی کا ظہو ر وجو دخدا کے اثبات کی سب سے بڑی سند ہے اور اس مو ضوع پربہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ قرآن اوپر والی آیت میں خصوصیت کے ساتھ اسی مسٴلے کاسہارا لیتا ہے ہم سر دست اسی مختصر اشارے سے گذرجاتے ہیں ۔قرآن اس نعمت کی یاد دہانی کے بعد ایک واضح دلیل پیش کرتا ہے اور وہ ہے مسٴلہٴ موت ،قرآن کہتا ہے :پھر خدا تمہیں مارے گا(ثم یحییکم ) ا نسان دیکھتاہے کہ اس کے اعزاء واقربااور دوست و احباب یکے بعد دیگرے مرتے رہتے ہیں اور ان کا بے جان جسم مٹی کے نیچے دفن ہوجاتا ہے ۔یہ مقام بھی غوروفکر کا ہے کہ آخر کس نے ان سے وجود کو چھین لیا ہے اگر ان کی زندگی اپنی طرف سے تھی توہمیشہ رہتی یہ جو لے لی گئی ہے اس کی دلیل ہے کہ کسی دوسرے نے انہیںد ی تھی ۔ زندگی پیدا کرنے والا وہی موت پیدا کرنے والا ہے چنانچہ سورہ ملک کی آیت ۲میں ہے : الذین خلق الموت والحیٰوة لیبکوکم احسن عملاََ خداوہ ہے جس نے موت وحیات کو پیدا کیاتاکہ تمہیںحسن عمل کے میدان میں آزمائے ۔ قرآن نے وجود خدا پر ان دو و اضح دلیلوں کو پیش کیا ہے دوسرے مسائل کے لئے روح انسانی کو آمادہ کیا ہے اور بحث سے مسٴلہ معاداور موت کے بعد زندگی کو بیان کیا ہے ۔پھر کہتا ہے :اس کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا (ثم یحییکم )۔البتہ موت کے بعد یہ زندگی کسی طرح تعجب خیز نہیں کیونکہ پہلے بھی انسان اسی طرح تھا پہلی دلیل (یعنی بے جان کو زندگی عطا کرنا)کی طرف متوجہ ہونے کے بعد دوسری مرتبہ اجزاء بدن کے منتشر ہونے کے بعد زندگی ملنے کے مسٴلے کو قبو ل کر نامشکل نہیں بلکہ پہلی دفعہ کی نسبت آسان ہے اگر چہ جس ذات کی قدرت لامتناہی ہو اس کے لئے تسہیل ومشکل کو ئی مفہوم نہیں رکھتا)۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں انسانوں کی زندگی میں شک اور تردد تھا حالانکہ پہلی زندگی جو بے جان مو جو دات سے صورت پذیر ہو ئی ہے اسے جانتے ہیں ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن آغاز سے اختتام تک دفتر حیات کو انسان کے سامنے کھولتاہے اورایک مختصرسے بیان میں زندگی کی ابتداء وانتہا ا ورمسٴلہ معاد وقیامت کی اس کے سامنے تصویر کشی کرتا ہے ۔ اس آیت کے آخر میں کہتاہے :پھر اس کی طرف تمہاری باز گشت ہوگی (ثم الیہ ترجعون )۔خداکی طرف رجوع کرنے کے معنی وہی خدا کی نعمتو ںکی طرف رجوع کرناہیں یعنی قیامت اور دوبارہ قبروں سے اٹھنے والے دن کی نعمتوں کی طرف رجوع کروگے ۔اسکی شاہد سورہ انعام کی آیت ۳۶ہے جہاں فرماتاہے ۔ والموتی یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون خدامردو ں کو قبروں سے اٹھائے گا اوراسی کی طرف ان کی بازگشت ہوگی ۔ ممکن ہے خداکی طرف رجوع کرنے سے مقصود کو ئی ایسی حقیقت ہو جو اس سے زیادہ دقیق وباریک ہواور وہ یہ کہ تما م مو جودات نے اپنا سفر نقطہٴ عدم جو نقطہٴ صفر ہے سے شروع کیاہے اور تمام موجودات سیرتکامل میں ہیں اور لامتناہی کیطر ف بڑھ رہے ہیں جوذات پروردگار ہے لہذا مرنے سے سیر تکامل کا سلسلہ معطل نہیں ہوتا اوردوسری مرتبہ قیامت میں زندگی کی زیادہ بلند سطح کی طرف یہ تکامل جاری وساری رہے گی۔ نعمت حیات اور مسئلہ مبداء و معاد کے ذکر کے بعد خدا ایک وسیع نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے :خدا وہ ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے تمہارے لئے پیدا کیا ہے (ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا ) اس تربیت سے انسانوں کی وجودی قدروقیمت اور زمین کے تمام موجودارت پر ان کی سرداری کو مشخص کیا گیا ہے۔اسی سے ہم سمجھتے ہیں کہ خدا نے انسان کو بہت بڑے قیمتی اور عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے ۔ تمام چیزوں کو تو اس کے لئے پیدا کیا ہے ۔اب اسے کس لئے پیدا کیا ہے۔انسان اس صحن عالم میں عالی ترین وجود ہے اور صحن عالم میں سب سے زیادہ قدر وقیمت رکھتا ہے۔ صرف یہی آیت نہیں جس مین انسان بلند ترین مقام کے بیان کیا گیا ہے بلکہ قرآن میں بہت سی ایسی آیات ملتی ہیں جو انسان کا تعارف تمامتر مو جودات کا مقصود ہ اصلی کی حیثیت سے کراتی ہیں جیسا کہ سورہ جاثیہ کی آیہ ۱۳ میں آیا ہے : وسخرلکم ما فی السمٰوات وما فی الارض جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو تمہارے لئے مسخر قرار دیا ہے۔ دوسری جگہ اس سے زیادہ تفصیل بیان ہوئی ہے : وسخرلکم الفلک و سخر لکم الانھار (۱) وسخر لکم اللیل والنھار (۲)وسخر البحر (۳)و سخر الشمس والقمر (۴) کشتیوں کو تمہارے لئے مسخر کیا گیا اور دریاؤں کو تمہارے لئے مسخر کیا دن اور رات کو تمہارے لئے مسخر کیا اور سمندروں کو مسخر کیا اور آفتاب و ماہتاب کو بھی تمہارا فرماں بردار اور خدمت گذار قرار دیا ۔(۵) دوبارہ توحید کے دلائل کی طرف لوٹتے ہوئے کہتا ہے :پھر خدا وند عالم آسمانوںن کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں سات آسمانون کی صورت میں مرتب کیا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے (ثم استوی الی السماء فسواھن سبع سمٰوٰت و ھو بکل شیء علیم)۔ لفظ” استوی “مادہ “استواء“سے لیا گیا ہے لغت میں اس کے معنی ہیں احاطہٴ کامل ، تسلط اور خلقت وتدبیر پر مکمل قدرت۔لفظ”ثم“جملہ ” ثم استوی الی السماء “ میں ضروری نہیں کہ تاخیر زمانی کے معنی میں ہو بلکہ ہوسکتا ہے اس کے معنی تاخیر بیان اور حقائق کو ایک دوسرئے کے بعد لانا ہو ۔ (۱)ابراہیم ، آیہ ۳۲ (۲)و ۴ ، ابراہیم ، آیہ ۳۳ (۳) نحل ، آیہ ۱۴ اس سلسلہ میں زیادہ تر بحث اسی تفسیر میں سورہ رعد آیہ ۲ اور سورہ ابراہیم آیات ۳۲ اور۳۳،میں کی گئی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:28-29
(۱) تناسخ ا ور ارواح کا پلٹ آنا
اوپر والی آیت ان میں سے ہے جو عقیدہ تناسخ کی صریحا نفی کرتی ہیں کیونکہ تناسخ کا عقیدہ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ انسان مرنے کے بعد دوسری دفعہ اسی زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے البتہ ہوتا یہ ہے کہ اس کی روح دوسرے جسم اور دوسرے نطفے میں حلول کرکے نئے سرے سے اسی دنیا میں زندگی کا آگاز کرتی ہے اور ممکن ہے اسی سلسلہ کا بارہا تکرار ہو ۔اس جہان میں اس مکرر زندگی کو تناسخ یا عود ارواح کہتے ہیں ۔ مندرجہ بالا آیت صراحت سے بیان کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک سے زیادہ زندگی نہیں ہے معلوم ہے کہ یہ حیات وہی معاد و قیامت کی حیات ہے ۔بہ الفاظ دیگر آیت کہتی ہے کہ مجموعی طور پر تمہاری دو زندگیاں اور دو اموات تھیں اور ہیں پہلے مردہ تھے ( بے جان عالم موجودات میں تھے ) خدا وندے عالم نے تمہیں زندہ کیا پھر وہ مارے گا اور دو بارہ زندہ کرے گا ۔ اگر تناسخ صحیح ہوتا تو انسان کی حیات اور موت کی تعداد دودو سے زیادہ ہوتی یہی مضمون قرآن کی اور متعدد آیات میں بھی نظر آتا ہے جن کی طرف اپنی اپنی جگہ اشارہ ہوگا۔(۱) اس بنا ء پر تناسخ کا عقیدہ جسے عود ارواح بھی کہا جاتا ہے قرآن کی نظر میں باطل اور بے اساس ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس روشن عقلی دلیلیں بھی موجود ہیں جو اس عقیدہ کی نفی کرتی ہیں جن سے یہ ایک قسم کا دقیانوسی اور قانون تکامل کی رجعت قہقری کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے ۔ اس کے متعلق اس کی اپنی جگہ گفتگو کی گئی ہے(۲) اس نکتے کا ذکر کرنابھی ضروری ہے کہ شاید بعض لوگ مندرجہ بالاآیت کوبرزخ کی زندگی کی طرف اشارہ قرار دیں حالانکہ آیت اس پرکسی طرح دلالت نہیں کرتی صرف اتنا کہتی ہے کہ پہلے تم بے جا ن جسم تھے خداوندعالم نے تمہیں پیدا کیادوبارہ وہ تمہیں مارے گا جو اشارہ ہے اس دنیا کی زندگی کے اختتام کی طرف پھر تمہیں زندہ کرے گا (یہ حیات آخرت کی طرف اشارہ ہے ) اور اسی کی طرف تم اپنی سیر تکامل جاری رکھوگے۔ (۱) موضوع رجعت کی وجہ سے اس مسٴلے پر کو ئی اعتر ا ض نہیں ہو سکتا رجعت اول تو ایک مخصوص طبقہ کے لئے ہے اس میں عمومیت نہیں ہے جب کہ زیر نظرآیت ایک حکم کلی بیان کررہی ہے پھر نتائج میں اجسام اور ان کے اجزاء الگ الگ ہوتے ہیں جب کہ رجعت میں ایسا نہیں ہے ۔ (۲) کتاب ”عود ارواح و ارتباط ارواح“کیطرف رجوع فرمائیں
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:29
[Pooya/Ali Commentary 2:29] In Arabic language, according to Lisanul kitab, sab-a is used (in addition to denote number seven) to say seven or more, several or many. Therefore, the seven heavens mentioned in this verse may mean a large number of heavens. What we see above is sama. Raghib Isphani says that every sama is a heaven in relation to what is beneath it. In verse 12 of al Talaq it is mentioned that there are as many earths as the heavens. Aqa Mahdi Puya says: According to this verse and verses 9 to 12 of Ha Mim and verses 27 to 32 of Nazi-at the development of the earth and its resources had taken place before the arrangement and organisation of the heavens. Verses 30 to 33 of Anbiya say that the heavens and the earth were an integrated mass, but had been separated by splitting. The creation of the heavens and the earth was simultaneous, but the development of earth took place before the grouping of the heavens. Verse 30 describes another development after the arrival of Adam. (see commentary for verse 4)(see commentary for verse 2)