وَإِن كُنتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَّقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ
If you are on a journey and cannot find a writer, then a retained pledge [shall suffice]. And if one of you entrusts [an asset] to another, let him who is trusted deliver his trust, and let him be wary of Allah, his Lord. And do not conceal your testimony; anyone who conceals it, his heart will indeed be sinful, and Allah knows well what you do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:283
[Pooya/Ali Commentary 2:283] This verse enjoins to take collateral if a proper document of agreement cannot be written down, and the parties do not trust each other.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:283
خدا پرستی ، آگاہی ، روشن فکری اور علم و دانش
ضمنی طور پر (” و اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ “) سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا پرستی ، آگاہی ، روشن فکری اور علم و دانش میں اضافے پر تقوی اور پرہیز گاری گہرا اثر مرتب کرتی ہے اور جب انسان کا دل پاک ہوجا تا ہے تو وہ آئینہ کی طرح حقائق کو اپنے اندر منعکس کرلیتا ہے ۔ ۲۸۳۔و ان کنتم علی سفر و لم تجدو ا کاتبا فرھٰن مقبوضہ فان امن بعضکم بعضا فلیئود الذی اوتمن امانتہ ولیتق اللہ ربہ ولا تکتموا الشھاددة و من یکتمھا فانہ آثم قلبہ واللہ بما تعملون علیم ترجمہ ۲۸۳۔ اور اگر تم سفر میں ہو اور دستاویز لکھنے کے لیے کوئی کاتب میسر نہ آئے تو کچھ رہن رکھ لو اور رہن کے طور پر دی گئی چیز قرض دینے والے کے قبضے میں رہنی چاہیے اور اگر تم ایک دوسرے پر ( کامل ایمان رکھتے ہو ( تو پھر رہن کی بھی ضرورت نہیں ) اور جسے امین سمجھا گیا ہے ( اور بغیر کسی رہن کے اس نے دوسرے سے کوئی چیز لے لی ہے ) اسے چاہیے کہ امانت اور اپنا حق قرض موقع پر ) ادا کرے اور اس اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور شہادت کو نہ چھپاؤ کہ جو شخص اسے چھپائے گا اس کا دل گنہ گار ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے اللہ اس سے آگاہ اور اس کا عالم ہے ۔