يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
O you who have faith! Be wary of Allah and abandon [all claims to] what remains of usury, should you be faithful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:278
[Pooya/Ali Commentary 2:278] Historically, this verse instructs the faithful to stop taking usury on what they have already put into that system, once they have clearly seen its wickedness and satanic touch.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:278-280
قرآن مجید کا طریقہ ہے
قرآن مجید کا طریقہ ہے کہ جزوی احکا م اور اسلامی پروگرام بیان کرنے کے بعد بہت سے مواقع پرآخر کا رکلی ،عمومی اور جامع اصول بیان کرتاہے تاکہ احکام کی مزید تاکید ہوجائے اور وہ پوری طرح فکر اورروح کی گہرائیوں میں اتر جائیں لہٰذااس آیت میں لوگوں کوقیامت اور بدکا روں کے اعمال کے عذاب کی طرف توجہ دلاتے ہو ئے بیدار کیا گیا ہے ۔مقصد یہ ہے کہ وہ متوجہ رہیں کہ ایک ایسا دن آنے والا ہے کہ انسان کے تمام اعمال بغیر کسی کمی بیشی کے اسے لوٹا دیئے جا ئیں گے اور و ہ تما م چیزیں جو عالم ہستی کے د فتر ضبط وثبت میں محفوظ ہیں، ایک ہی مقام پر اسے دے دی جائیں گی یہ وہ مقام ہوگا جہاں وہ ان اعمال کے برے نتائج سے خوف زدہ ہوگا لیکن یہ تو جو کچھ بویا تھا اس کا حاصل ہو گا او رکسی کی طرف اس پر کوئی ظلم نہ ہوگا بلکہ یہ تو خود انسان ہے جو اپنے اوپر ظلم وستم روا رکھتاہے ۔وھم لا یظلمون ضمنایہ آیت دوسرے جہان میں انسانی اعمال مجسم ہونے پر ایک اور شاہد ہے ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ تفسیر درمنثور میں کئی طریقو ں سے منقول ہے کہ یہ پیغمبر اسلام پر نازل ہونے والی آخری آیت ہے اس مضمو ن کی طرف توجہ کی جائے تو یہ بات بعید بھی نظر نہیں آتی ۔سورہ بقرہ اگر چہ پیغمبر اکرم پر نازل ہونے والی آخری سورت نہیں ہے تاہم یہ با ت پہلی بات سے کوئی اختلاف نہیں رکھتی کیونکہ ہمیںمعلوم ہے بعض اوقات بعد میں نازل ہونے وا لی آیات حکم رسول سے پہلی سورتوںمیں شامل کر لی گئی ہیں ۔