يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
O you who have faith! Do not render your charities void by reproaches and affronts, like those who spend their wealth to be seen by people and have no faith in Allah and the Last Day. Their parable is that of a rock covered with soil: a downpour strikes it, leaving it bare. They have no power over anything of what they have earned, and Allah does not guide the faithless lot.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:264
[Pooya/Ali Commentary 2:264] Imam Ali ibna abi Talib says that he who has wealth but does not show off, or he who has the power to avenge but forgives, or he who gives good counsel even to his enemy, or he who spends in the way of Allah with no strings attached, without making it known, is the true hero. Aqa Mahdi Puya says: To attach strings to charity, or to make it known, or to reproach the overly solicitous seeker of help, is an exercise in futility and renders the charity useless. While giving Zakat and sadqa, one positively lays claim to the act of goodness done in obedience to Allah, but salat is an act of devotion which implies self-denial; the devotee is engrossed in the greatness of the absolute. Sublime was the devotee, Ali ibna abi Talib, who performed these two different acts at the same time - prayed as well as spent in the way of Allah, and, therefore, was declared to be the wali of the faithful along with Allah and His messenger, in verse 55 of al Ma-idah. We are barren like rocks. To be fertile and of benefit to ourselves and to others, we must cover ourselves with the moist earth of ihsan (giving more than what one deserves). If we cause harm or injury, it is as if the fertile soil was washed off, leaving us once again barren.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:264-265
ایک اور مثال
”یود احدکم ان تکون لہ الجنة۔۔۔۔۔۔۔“ انسا ن کو روز قیامت اعمال صالح کی سخت ضرورت ہوگی نیز ریاکاری ، احسان جتلانا اور کسی کو تکلیف پہنچانا انفاق اور عمل صالح کو ضائع کر دیتا ہے یہ مطالب واضح کر نے کے لئے زیر آیت میں ایک عمدہ مثال بیان کی گئی ہے ۔ یہ ایسے شخص کی مثال ہے جس کا سر سبز وشاداب باغ ہو اس میں کھجوروں اور انگور جیسے طرح طرح کے پھل دار درخت ہوں ،درختوں کے نیچے پا نی بہتا رہتا ہواور آبیاری کی احتیا ج نہ ہو۔وہ شخص بوڑھا ہو چکا ۔ اس کی اولا ابھی کمزور وناتواں ہو اور ان کی زندگی کا دار ومدار اسی باغ پر ہو ۔اب اگر یہ باغ اجڑ جا ئے تو وہ اور اس کی اولا داسے آبا د نہیں کرسکتے ۔اگر اچانک آتش با رآندھی کے گولے اس باغ پر بر سنے لگیں اور اسے جلاکر خا کستر کردیں تو اس وقت وہ بوڑھاشخص جوجوانی کی توانائیاں کھو چکا ہے اور کسی اور ذریعے سے اپنے اخراجا ت بھی پور ے نہیں کرسکتاتو اس کی حالت کیا ہوگی اور کیسی حسرت وغم کی کیفیت سے دوچار ہوگا ۔جو لوگ نیک عمل بجالاتے ہیں اور پھر ریا کاری ،احسان دھرنے اور اذیت دینے سے اسے ضائع کردیتے ہیں اسی شخص کی طرح ہیں جس نے محنت سے باغ تیار کیا ہواور جب پھل حاصل کرنے کی ضرورت ہو تواس کے کا م کانتیجہ بالکل برباد ہو جا ئے اور اس کے پا س حسرت واندوہ کے علاوہ کوئی چیز باقی نہ جا ئے ۔ ”کذٰلک یبین اللہ لکم الاٰیٰت لعلکم تتفکرون “۔ تمام بد بختیوں کا سر چشمہ یہ ہے کہ غوروفکر سے کام نہ لیا جائے اس ضمن میں خصوصا ایسے کا م ہیں جوبےوقوف لوگ کرتے ہیں مثلا احسان جتلانا ، جن کا فائدہ بہت کم اور نقصان بڑی تیزی سے اور بہت زیا دہ ہوتا ہے اس لیے آیت کے آخر میں اللہ تعالی لوگوں کو غور فکر کر نے کی دعوت دیتا ہے اورفرماتا ہے:اس طرح خداتمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کر تاہے کہ شاید تم غوروفکرکرو۔ چنداہم نکات ”واصابہ الکبر لہ ذریةضعفاء“یعنی باغ کا مالک بوڑھا ہو چکاہے اور اس کے بچے ابھی کمزور وناتواں ہیں ۔اس جملے سے معلوم ہو تا ہے کہ راہ خدا میں بخشش کرنا اور ضرورت مندوں کی مدد کر نا خرمے کے باغ کی طرح ہے جس کے پھلو ں سے انسان خود بھی بہر ہ مند ہو تاہے اور اس کی اولا د بھی جب کہ ریاکاری ،احسان دھرنااور ایذ ارسانی خود انسان کی اپنی محرومیت کا سبب منتی ہیں اور اس کی آئندہ نسلیں بھی اس سے محرومیت کا شکار ہوتی ہیں حالانکہ انہیں تو اس کے نیک اعمال اور ثمرات کافائدہ پہنچنا چاہیئے تھا یہ بات اس امر کی بھی دلیل ہے کہ آئندہ نسلیں گذشتہ نسلوں کے اعمال نیک کے نتائج میں حصہ دار ہو تی ہیں ۔عام طور پر ایسا ہی ہو تا ہے کیو نکہ آباوٴاجداد اپنے نیک کاموں کی وجہ سے لوگوں کے افکا رمیں جو ایک محبو بیت اور اعتما د پیدا کر لیتے ہیں وہ ان کی کے لئے بھی ایک بہت بڑا سر ما یہ ہو تا ہے ۔ ”اعصار فیہ نار“ :یعنی ۔۔ہوا کا بگولہ جس میں آگ بھی ہو ۔ممکن ہے یہان بگولوں کی طرف اشارہ ہو جو با د سموم جلانے والی اور خشک کرنے والی ہو اہو تی ہے ۔ یا پھر اس سے وہ بگو لہ مراد ہے جو آگ کے الا وٴ سے گزرے اور عام طور پر بگولے کے راستے جو چیز آتی ہے و ہ اسے اپنے ساتھ لے اڑتا ہے تو ہو سکتا ہے وہ آگ کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پھینکے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ صا عقہ کے سا تھ پڑنے والے بگولے کی طرف اشارہ ہو جو تمام چیزوں کو خاکستر کردے ۔بہر حا ل یہ فوری اور مکمل نابودی کی طرف اشارہ ہے (۱) (۱) لغت میں اعصار کا معنی وہ بگولہ ہے جو ہو اکے چلتے وقت دومختلف سمتوں سے بنتا ہے اور عمودی شکل میں ہوتا ہے ۔اس کا ایک سر ا زمین سے لپٹا ہوتا ہے اور دوسرافضا میں ہو تا ہے ۔ ۲۶۷۔یا ایھا الذین آمنو اانفقو امن طیبات ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ولا تییموا الخبیث منہ تنفقون ولستم بآخذیہ الا ان تغمضوا فیہ واعلموآان اللہ غنی حمید ترجمہ ۲۶۷۔اے ایمان والو !پاکیزہ اموال (جو تجارت کے ذریعے )تمہا رے ہاتھ آئے ہیں اور جو ہم نے تمہا رے لئے زمین (کے خزانو ں اور معادنو ں )سے نکا لے ہیں خرچ کرو حالانکہ یہ اموال( قبو ل کر تے وقت) تم چشم پوشی کر تے ہو ئے اور نا پسندیدگی کے علاوہ قبول کر نے کو تیا ر نہیں ہو اور جا ن لو کہ خدا بڑا بے نیا ز اور لا ئق تعریف ہے ۔ شان نزول امام صادق علیہ السلا م سے منقو ل ہے کہ یہ ایک گروہ کے با رے میں نا زل ہو ئی جس نے زما نہ جاہلیت میں سود کے طور پر دولت جمع کر رکھی تھی اور ا س میں سے راہ خدا میں خرچ کرتا تھا ۔خدا تعالی نے انہیں اس کا م سے روکا او ر انہیں حکم دیاکہ وہ پاک او رحلال مال خرچ کریں ۔ تفسیر مجمع البیان میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد میں حضرت علی علیہ السلا م ایک روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : یہ آیت ایسے لوگوں کے با رے میں نازل ہو ئی ہے جو خرچ کرتے وقت خشک،کم مادہ ااور غیر مرغوب کھجوریں ،اچھی کھجوروں میں ملاکر دیتے تھے ۔اس میں انہیں حکم ہو اکہ اس کا م سے اجتنا ب کریں ۔ دونو ں شان نزول ایک دوسرے سے کوئی اختلاف نہیں رکھتیں ۔ممکن ہے یہ آیت دونو ں گروہوں کے با رے میں نازل ہو ئی ہو یعنی ایک معنوی پاکیزگی کی طرف اور دوسری ظاہری اور عام مرغوبیت کے بارے میں ہو۔ لیکن خیال رہے کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۵ کے مطابق جن لوگوںنے زمانہ جاہلیت میںسود خوری کوجا ری رکھنے سے اجتناب کیا مگر گذشتہ مال ان پر حرام نہیں ہوا تھا یعنی یہ قانون گذشتہ اموال کے لئے نہ تھا اور حقیقت میں ان اموال سے مشابہ تھا جو ناپسندیدہ طریقے سے حاصل کئے گئے ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:264-265
راہ خدا میں خرچ کرنے کے اسباب و نتائج
ان دو آیات میں پہلے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ اہل ایمان کو نہیں چاہیے کہ وہ راہ خدا میں خرچ کیے گئے سرمائے کو احسان جتلا کر اور آزار پہنچا کر ضائع کردیں ۔ اس کے لیے دو عمدہ مثالوں کے ذریعہ دونوں طرح کے انفاق کی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے ۔ ایک وہ خرچ ہے جس میں احسان جتلانا ، آزار پہنچانا ،ریا کاری اور خود نمائی کی آمیزش ہے اور دوسرا وہ کہ جس کا سر چشمہ خلوص اور انسانی ہمدردی کے جذبات ہیں ۔ پہلی مثال : سخت پتھر کی ہے جس پر مٹی کی باریک سی تہ جمی ہو ، اس میں بیج ڈال دیا جائے ، اس پر کھلی ہوا چلے اور سورج چمکے ، پھر اس پر موٹے موٹے قطرات کی بارش خوب برسے ۔مسلم ہے کہ ایسی بارش مٹی کی پتلی سی تہ کو دھو ڈالے گی اور بیج کو بہا لے جائے گی سخت پتھر جس میں پانی اور بیج نہیں ڈالا جاسکتا اس پر سبز ہ کیسے اگ سکتا ہے اس کی سختی ظاہر ہوجائے گی یہ سب اس لیے نہیں ہوا کہ سورج کی حدت کھلی ہو اور مذکورہ بارش کوئی برا اثر رکھتی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیج کے لئے جوجگہ منتخب کی گئی وہ مناسب نہیں تھی۔ ظاہری طور پر صحیح تھی اندرونی طورپر ناقابل نفوذتھی اس پر صرف مٹی کی پتلی سی تہ جمی ہوئی تھی جب کہ سبزے اور درخت کی جڑوں کے لئے گہری مٹی درکا رہے تاکہ پودوں کو اس ذریعے سے غذا بھی پہنچتی رہے ۔ قرآن نے ریاکاری ، احسان جتلانے اور آزارپہنچانے کے لیے کیے گئے خرچ کو جس کا سرچشمہ۔سخت اور قساوت رکھنے والے دل ہیں ،مٹی کی اس نازک تہ سے تشبیپہ دی ہے جس نے سخت پتھرکے بالائی حصہ کو چھپا رکھاہے اور جس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا یا جا سکتا ہو بلکہ وہ باغبان اور کسان کی محنت ضائع کردے۔ (۱) دوسری مثال : ایک سرسبزشاداب باغ کی ہے جو بلند اور زرخیز زمین میں ہے اس پر آزاد ہوا چلے اور وافردھوپ پڑتی ہے ۔موسلا دھار اور نفع بخش بارش ا س پر برسے اورجب موسلا دھار بارش نہ برسے تب بھی شبنم اور پھوا ر کے ذریعہ اس کی زمین ایسی زرخیز ہے کہ شبنم اور پھوار بھی اس کے درختوں کے ثمر آور ہونے کے لئے کافی ہے ۔چونکہ وہ بلندی پر ہے اس لئے کھلی ہوا اور دھوپ سے خوب بہرہ مند ہو تا ہے۔ اس کا خوب صورت منظرہردیکھنے والے کی آنکھ کے لئے پرکشش ہے یہ سیلا ب کے خطرے سے بھی خالی ہے جولوگ اپنا مال خدا کی خوشنودی اوراپنے قلب وروح میں ایما ن ویقین کو استوار کر نے کے لئے خرچ کر تے ہیں وہ ا س با غ کی طرح ہیںجو پر برکت ۔مفید اور بیش بہا پھل دینے والا ہو ۔ چند اہم نکات (۱)بعض اعمال نیک اعما ل کے نتائج کو ختم کر دیتے ہیں :۔”لا تبطلو اصدقٰتکم بالمن والاذٰی“(یعنی اپنے صدقات کو احسان جتلا کراور ایذارسانی سے با طل نہ کرو ۔اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے کہ کچھ اعمال نیک اعمال کے نتائج کو ختم کر دیں ۔ یہ وہی مسئلہ احباط ہے جس کی تفصیل اسی سورہ کی آیت ۲۱۷ کے ذیل میں گزر چکی ہے ۔ (۲)ریاکاری کی مشابہت :۔ وہ پتھر جس پر مٹی کی باریک سی تہ ہو اس کی ریاکارانہ عمل سے مشابہت واضح ہے ۔ ریا کار لوگ اپنے سخت اوربے ثمر باطن کو خیر خواہی اور نیکی کے چہرے سے چھپالیتے ہیں اور ایسے اعمال بجالاتے ہیں جن کی جڑیں ان کے وجود میں استوار نہیں ہیں لیکن زندگی کے واقعات وحوادث بہت جلد اس پردے کو ہٹادیتے ہیں اوران کے باطن کوآشکا ر کر دیتے ہیں ۔ (۳)انفاق کے اسباب :”ابتغاء مرضات اللہ تثبیتامن انفسھم “(یعنی جو اپنا ما ل خوشنو دی خدا اور اپنے آپ میں انسانی فضائل باقی رکھنے کے لئے خرچ کرتے ہیں )سے ظاہر ہو تا ہے کہ صحیح اور خدا کے لئے خرچ کر نے کے دو اسبا ب ہیں (۱)خوشنوی خدا (۲)روح وایمان کی تقویت اور اطمینانِ قلب اس سے واضح ہو تا ہے کہ راہ خدا میں خرچ کرنے والے در اصل وہ لو گ ہیں جو صرف خدا اور فضائل انسانی کی پرورش اور اپنی روح میں ان صفات کے اثبات واستحکا م لے لئے خرچ کرتے ہیں ۔اسی طرح وہ اس اضطراب اور دکھ کو دور کر نے کے لئے خرچ کر تے ہیں جو محروم لوگوں کو دیکھ کر احساس ذمہ د اری اور مسئولیت کے پیش نظران کے وجدان میں پیدا ہوجاتا ہے (اس بناء پر آیت میں لفظ ”من “ ”فی “کے معنی میں ہوگا )۔ (۴)خدابصیر ہے :د وسری آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے ” وللہ بماتعملون بصیر“(یعنی تم جو کچھ انجام دیتے ہوخدا اسے دیکھنے والا ہے )یہ جملہ نیک اعمال انجام دینے والوں کے لئے ہے کہ جب بھی وہ کوئی عمل خیر انجام دیں توتوجہ رکھیں کہ نیت یا عمل میں ذراسی بھی آلودگی پیدا نہ ہو کیونکہ خدا تعالی ان کے اعمال کی نگرانی کر تا ہے ۲۶۶۔ایود احدکم ان تکون لہ جنة من نخیل واعناب تجری من تحتھالانھار لہ فیھا من کل الثمرات واصابہ الکبرولہ ذریة ضعفاء فا صابھااعصار فیہ نار فاحترقت ط کذالک یبین اللہ لکم الاٰیٰت لعلکم تتفکرون ترجمہ ۲۶۶۔کیاتم میں سے کوئی یہ پسند کرے گاکہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کاباغ ہوجس کے درختوں کے نیچے نہریں جا ری ہو ں ۔اس با غ میں اس کے لئے ہر طرح کا پھل مو جو د ہو لیکن وہ بڑھاپے کو پہنچ چکا ہواور اس کی اولاد (چھوٹی اور کمزور ہو)(ایسے میں) آگ کا زبردست بگولہ اٹھے اور جلاڈالے (جو لوگ خرچ کر کے ریا کاری ،احسان جتلا نے اور ایذارسانی کے ذریعے اس عمل کو باطل دیتے ہیں ان کی حالت ایسی ہے )خدا اس طرح اپنی آیات آشکا ر کر تا ہے کہ شاید تم غوروفکر کرو (اور سوچ سمجھ کر راہ حق پا لو)۔ تفسیر (۱) ”صفوان“ جمع ہے ۔ اس کا مفر د ” صفوانہ“ ہے اس کا معنی ہے صاف وشفاف پتھر۔ ” وابل“ سخت اور موٹے قطرات والی بارش کو کہتے ہیں۔” صلد“ کا معنی بھی صاف پتھر ہے۔ضفین” ضعف“ کا تثنیہ ہے اس کا معنی ہے دوگنا اور تثنیہ ہو نے کی وجہ سے اس کا معنی چوگنا نہیں ہو جاتا مثلا جیسے زوجین ہے جو کہ دوطرف کی نشاندہی کرتا ہے( غور کیجئے )