قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ
An honourable reply [in response to the needy] and forgiving [their annoyance] is better than a charity followed by affront. Allah is all-sufficient, most forbearing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:263
[Pooya/Ali Commentary 2:263] Qawlun ma-ruf - kind speech and forgiveness, refers to forbearance if the seeker of help makes unreasonable demands. Spending in the way of Allah is a means of purification. If it causes injury, it will add impurity. If you are a lover of the forbearing, you will imitate His attribute. On no account must you show any sign of anger or irritation at the poor man's importunity. It is mentioned in the Minhajus Sadiqin that when Imam Ali ibna abi Talib asked Prophet Khizr to say something good, Khizr said: "To give in the way of Allah to please Allah is the best charity." "Do you know that which is better than this?" Ali asked him. "No", Khizr replied. Ali said: "The self-respect of the poor, who depends on Allah, is better than the charity the wealthy give to the needy." Khizr observed that Ali's opinion should be written in gold. Spending in the way of Allah is a social commitment, which generates love among the people and promotes brotherhood.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:263
یہ آیت در حقیقت گذشتہ
یہ آیت در حقیقت گذشتہ بحث کی تکمیل کرتی ہے ۔ جو لوگ حاجت مندوں سے اچھی بات اور خوش کن گفتگو کرتے ہیں اور سخت لب و لہجے میں ان کے اصرار کے باوجود عفو در گزر سے کام لیتے ہیں وہ ان سے بہتر ہیں جو کچھ دینے کے بعد لوگوں کو اذیت اور تکلیف پہنچاتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:263
یہ آیت اشخاص کی اجتماعی قدر وقیمت
یہ آیت اشخاص کی اجتماعی قدر وقیمت اور وقعت و حیثیت کے بارے میں اسلام کی منطق واضح کرتی ہے ۔ جو لوگ انسانیت کے سرمائے کی حفاظت کی کوشش کرتے ہیں --،حاجت مندوں سے اچھی گفتگو کرتے ہیں ، کبھی ان کی ضروری راہنمائی بھی کرتے ہیں اور انکے راز کبھی فاش نہیں کرتے وہ ان کے مقابلے میں اسلام کی نظر میں برتر و بالا ہیں جو خود پرست ہیں ، کوتاہ نظر ہیں ، تھوڑی سی مدد کرکے عزت دار اور آبرو مند لوگوں کو زبان کے ہزار چرکے لگاتے ہیں اور ان کی شخصیت مجروح کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں ایسے افراد درحقیقت جتنا فائدہ پہنچاتے ہیں اس سے زیادہ نقصان دہ اور مضر ہیںاور اگر کچھ سرمایہ دیتے ہیں تو بہت بڑا سرمایہ برباد کر دیتے ہیں ۔ جو کچھ اوپر کہا جا چکا ہے اس سے واضح ہوتا ہے ” قول معروف “ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے ۔ ہر قسم کی اچھی بات دلجوئی اور رہنمائی اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔ ” مغفرة “ کا مفہوم ہے ، حاجت مندوں کی سختی کے جواب میں عفو و در گزر کرنا کیونکہ مصائب و آلام کے ہجوم کی وجہ سے کبھی ان کا پیمانہ صبر لبریز بھی ہوجاتا ہے اور بعض اوقات وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سخت باتیں کر جاتے ہیں یہ لوگ در اصل اپنا حق غصب کرنے والے ظالم معاشرے سے اس طرح انتقام لینا چاہتے ہیں اور معاشرے اورصاحبا ن استطاعت ان کی محرومیت کی جو کم از کم تلافی کرسکتے ہیں ۔یہ ہے کہ ان کی باتیں تحمل سے سنیں کیونکہ یہ ان کے اندر کی لگی ہوئی آگ کی چنگاریاں ہیں ۔انہیں نرمی اور محبت سے خاموش کرنا چاہیے ۔واضح ہے کہ ان کی سختی کو برداشت کرنا ، ان کی سخت نکتہ چینی پر درگزر کرنا اور ان کے دکھ درد کی گرہوں کو ڈھیلا کرنا ایک اسلامی حکم ہے اور یہ ہدایت اسلامی حکم کی اہمیت کو مزید روشن کردیتی ہے ۔ بعض نے یہاں ” مغفرة “ کو اس کے اصلی معنی میں لیا ہے ۔اس کا اصل معنی ہے ”پردہ پوشی “ اس مفہوم میں اس لفط کو حاجت مندوں کے اسرار کی پردہ پوشی کی طرف اشارہ سمجھا گیا ہے لیکن جو کچھ ہم نے کہا ہے یہ تفسیر اس سے تضاد یا اختلاف نہیں رکھتی کیونکہ ” مغفرة “ اپنے وسیع مفہوم میں عفو و در گزر بھی ہے اور حاجت مندوں کے راز وں کی پردہ پوشی بھی ہے ۔ تفسیر نور الثقلین میں پیغمبر اسلام کی ایک حدیث یوں منقول ہے ۔ ” اذا سئل السائل فلا تقطعوا علیہ مساء لتہ حتی یفرغ منھا ثم ردوا علیہ بوقار و لین اما یبذل یسیر اورد جمیل فانہ قد یاتکم من لیس بانس ولا جان ینظرونکم کیف صنیعکم فیما خولکم اللہ تعالی “ اس حدیث میں پیغمبر اکرم نے خرچ کے آداب کے ایک پہلو کو واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے : جب کوئی حاجت مند تم سے کوئی چیز مانگے تو جب تک وہ اپنا تمام مقصد بیان نہ کرے اس کی بات قطع نہ کرو ۔ اس کے بعد اسے وقار و ادب اور نرمی سے جواب دو ۔ جو چیز تمہارے بس میں ہے اسے دے دو یا پھر شائستہ اور خوبصورت طریقہ سے اسے واپس کردو ۔ کیونکہ ممکن ہے سوال کرنے والا کوئی فرشتہ ہو جو تمہاری آزمائش پر مامور ہو تاکہ وہ دیکھے کہ خدا نے جو نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کے پیش نظر تم عمل کس طرح کرتے ہو ۔ (۱) (۱)نورالثقلین ج ۱ ۔ص۳۲۸
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:263
” و اللہ غنی حلیم “
چھوٹے چھوٹے جملے جو عموما آیات کے آخر میں آتے ہیں اور جن میں خدا کی بعض صفات بیان کی گئی ہوتی ہیں آیت کے مضمون سے یقینا مربوط ہوتے ہیں ۔ اس نکتے کی طرف توجہ رکھتے ہوئے ” واللہ غنی حلیم “( یعنی خدابے نیاز اور بردبار ہے ) کے جملے سے مراد یہ ہے کہ انسان چونکہ طبعی طور پر سرکش ہے اور کسی مقام و مرتبہ اور ثروت و دولت تک پہنچ جانے کے بعد ااپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگتا ہے اور یہ حالت بعض اوقات اس کی طرف سے فقراء اور مساکین سے گرمی اور بد زبانی کا باعث بن جاتی ہے ۔ لہذا فرمایا گیا ہے کہ غنی باالذات صرف خدا ہے ۔ حقیقت میں وہی ہے جو تمام چیزوں سے بے نیاز ہے اور انسان کی بے نیازی تو سراب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی لہذا مقام اور دولت کی وجہ سے اسے فقراء سے بے اعتنائی نہیں برتنا چاہئے ۔ علاوہ از ایں خدا لوگوں کی ناشکری کے مقابلے میں بردبار ہے لہذا صاحب ایمان افراد کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ جملہ میں اس طرف اشارہ ہو کہ خدا تمہارے انفاق اور خرچ کرنے سے بے نیاز ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو تمہارے ہی فائدہ میں ہے ۔ اس لیے تمہارا کسی پر احسان نہیں ہے ۔ علاوہ از ایں وہ تمہاری سخت روی اور درشتی کے مقابے میں بردبار ہے اور سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا تاکہ تم بیدار ہوکر اپنی اصلاح کرلو۔ ۲۶۴یا ایھا الذین آمنوا لا تبطلوا صدقٰتکم بالمن و الاٰذی کا الذی ینفق رئا ء الناس ولا یو من با للہ و الیوم الاٰخر ط فمثلہ کمثل صفوان علیہ تراب فاصابہ وابل فترکہ صلدا ط لا یقدرون علی شیء مما کسبواط واللہ لا یھدی القوم الکافرین ۲۶۵۔ و مثل الذین ینفقون اموالھم ابتغاء مرضات اللہ و تثبیتا من انفسھم کمثل جنة بربوة اصابھا وابل فاٰتت اکلھا ضعفین فان لم یصبھا وابل فطل واللہ بما تعملون بصیر ترجمہ ۲۶۴۔ اے ایمان والوں ! اپنی بخششوں کو احسان جتانے اور آزار پہنچانے سے اس شخص کی طرح باطل نہ کرو جو دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے ، خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا( اور اس کا کام) پتھر کے ٹکڑے کی طرح ہے جس پر مٹی ( کی باریک تہ ) ہو اور اس میں بیج ڈالے جائیں اور خوب بارش اس پر برسے ( اور ساری مٹی اور بیج بہا لے جائے ) اور اسے ( مٹی اور بیج سے )خالی کردے ۔ ایسے لوگ جو کام بجالاتے ہیں اس سے کوئی چیز حاصل نہیں کرسکتے اور خدا کافرقوم کو ہدایت نہیںکرتا ۔ ۲۶۵۔اور ان لوگوں کا ( کام ) جو اپنا مال خدا کی خشنودی اور اپنی روح ( میں ملکات انسانی ) باقی رکھنے کے لیے خرچ کرتے ہیں اس باغ کی طرح ہے جو بلند جگہ پر ہو ، اس پر تیز بارش برسے اور وہ کھلی ہوا اور نور آفتاب سے خوب بہرہ ور ہو ) اور اپنا پھل دو گنا دے اور اگر اس پر سخت بارش نہ برسے اور اس پر پھوار اور شبنم پڑے لہذا وہ ہمیشہ سر سبز ، شاداب اور ترو تازہ رہے)اور تم جو کچھ انجام دیتے ہو خدا اس سے بینا ہے ۔