اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
Allah is the wali of the faithful: He brings them out of darkness into light. As for the faithless, their awliya are the fake deities, who drive them out of light into darkness. They shall be the inmates of the Fire, and they will remain in it [forever].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:257
[Pooya/Ali Commentary 2:257] Aqa Mahdi Puya says: Wali literally means "be close to or stand immediately by" - a nearness or contact between two objects without any intermediary. It is used to refer to such closeness as exists between brothers, friends, neighbours and helpers. A master is also called wali because of his hold over his slaves - the hold brings the slave close to the master. Any one who exercises authority becomes a wali of those over whom the authority is exercised; therefore, a guardian, an administrator or a ruler is also called wali. Here, it means that Allah is the nearest authority over the faithful; and the false gods the authorities over those who disbelieve, and who push them into hell for ever. Nur means the light of the faith or the true awareness about Allah and firm conviction in His authority. Zulumat means the darkness of the disbelief in Allah or the ignorance and uncertainty about Allah. See verses 35 and 36 of Ibrahim.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:257
چند اہم نکات
ولی “کا جیسا کے بعد میں ”انما ولیکم اللہ ورسولہ ۔۔۔۔۔۔۔“والی آیت کے ذیل میں آئے گا اصل میں ” نزدیکی اور عدم جدائی “ ہے۔ اس بناء پر سر پرست کو ولی کہتے ہیں اور جو شخص تر بیت اور سر پرستی کا محتاج ہو اس کے مربی کو ولی کہا جا تا ہے۔مخلص دوستو ں اور رفقاء کے لئے بھی ولی اور اولیاء کا اطلاق ہو تا ہے لیکن واضح ہے کہ اس آیت میں پہلے معنی میں ا ستعما ل ہو ا ہے گذشتہ آیات میں کفر و ایمان ،حق وباطل اور راہ راست اور انحرافی راستے کی وضاحت کے بعد اب یہ آیت تکمیل مطلب کے لئے کہتی ہے:موٴمن وکافر ہر کسی کا رہبر اور راہنما اپنا مخصوص راستہ ہے ۔موٴمنین کا رہبر اور راہنما خدا ہے ،ان کا راستہ تاریکیوں سے جدا ہو کر نور کی طرف جا تا ہے ۔لیکن کافروں کا رہبر طاغوت ہے اور ان کی راہ موٴ منین کے برعکس نور سے ظلمت کی طرف جاتی ہے اور ان کا انجام بھی واضح ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آگ میں رہیں گے (اولٰئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون ) چند اہم نکات ۱۔نور وظلمت کی تشبیہ :ایمان اورکفر کو نور اور ظلمت سے تشبیہ دینا اس موقع کی مناسب ترین تشبیہ ہے۔نور ۔۔۔۔۔۔زندگی اور تمام برکات وآثار حیات کا منبع ہے ۔اور نور ہی سکون بخش ،مطمئن کرمے والا کرنے والا ،آگاہ کرنے والا اور نشان دہی کرنے والا ہے جب کہ ظلمت وتاریکی سکوت ،موت ،خواب ،نادانی ،گمراہی اور وحشت کی رمز ہے۔ ۲۔نور کے مقابل ظلمات کیوں:اس آیت میں اور مشابہ آیات قرآن میں لفظ ظلمت کی جمع ظلمات استعمال کیا گیا ہے اور نو ت صیغہ مفرد کے طور پر آیا ہے ۔یہ در اصل اس طرف اشارہ ہے کہ راہ حق میں کسی قسم کی کوئی پراگندگی اور انتشار نہیںبلکہ وہ الہام بخش وحدت ویگانگی ہے ۔راہ حق خط مستقیم کی طرح ہے جو دو لظوں کے درمیان کھینچا جائے تو ہمیشہ ایک ہی ہوگا اور اس میں ایک سے زیادہ کی تعداد ممکن نہیں لیکن اہل باطل اپنے باطل میں ہم آہنگ نہیں ہیں ۔ان میں ہدف اورمقصد کی وحدت نہیں ہے ان کی حالت بالکل دو نقطوں کے درمیان کھینچے جا نے والے غیر منظم خطوط کی سی ہے جن کی تعداد خط مستقیم کے دونوں طرف بے شمار ہے ۔ ۲۵۸۔الم تری الی الذین حآج ابراھیم فی ربہ ان اٰتٰہ اللہ الملک اذقال ابرٰھیم ربی الذی یحی ویمیت قال انااحی وامیت قال ابرٰھیم فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب فبھت الذین کفر واللہ لایھدی القوم الظٰلمین ترجمہ۔ ۲۵۸۔کیا دیکھتے نہیں ہو (اور اس سے آگاہ نہیں ہو)جس نے ابراہیم کے ساتھ اس کے پروردگار کے بارے میں حجت بازی کی اور کلام کیا کیونکہ خدانے اسے حکومت دیرکھی تھی (اور وہ کم ظرفی کی وجہ سے بادہ غرور سے سرمست ہو گیا تھا )جب ابراہیم نے کہا :میرا خدا وہ ہے جو زندہ کر تا اور مارتا ہے ۔اس نے کہا میں زندہ کر تا ہو ں اور مارتا ہو ۔ ( اس کے بعد اس نے مغالطہ پیدا کرنے کا حکم دیا اور دو قیدی حاضر کئے گئے ،اس نے ایک کی آزادی اور دوسرے کے قتل کا فرمان جاری کر دیا )ابراہیم نے کہا خدا آفتاب کو افق مشرق سے نکالتا ہے (اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو کہ تم ہی جان ہستی پر حکمران ہو تو )تم خورشید کو مغرب سے نکال کر دکھاوٴ(یہاں)وہ کافر مبہوت ہو گیا اور خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔ تفسیر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:257
خدا ان لوگوں کا سر پرست ہے
۲۵۷۔اللہ ولی الذین آمنوا یخرجھم من الظلمٰت الی النور و ا لذین کفروا ٓاولیا ء ھم الطاغوت یخرجو نھم من النور الی الظلمٰت اولٰئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون ترجمہ ۲۵۷۔خدا ان لوگوں کا سر پرست ہے جو ایمان لے آئے ہیں ۔انہیں وہ تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آتا ہے (لیکن )وہ لوگ جو کافر ہو گئے ہیں ان کے اولیاء اور سرپرست طاغوت (بت ،شیطان اور ظالم سر کش لوگ )ہیں جو انہیں نور سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں وہ اہل آتش ( جہنم) ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔