لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
There is no compulsion in religion: rectitude has become distinct from error. So one who disavows fake deities and has faith in Allah has held fast to the firmest handle for which there is no breaking; and Allah is all-hearing, all-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:256
[Pooya/Ali Commentary 2:256] Aqa Mahdi Puya says: This verse states a psychological fact that the submissive attitude of the mind and heart towards any sacred object cannot be obtained by force or compulsion, therefore, only a clear view of the sacred generates the spontaneous conviction to adopt the right and reject the wrong. It is not an imperative but an indicative statement. There is no room for considering this verse as having been abrogated by any other verse dealing with jihad. This verse also asserts that after the right way has become clearly distinct from error, man must reject the false gods and believe in Allah. This verse confirms that which has been said, in detail, in the commentary of verses 190 to 193 of this surah, about the false accusation by the European historians that the Holy Prophet used the sword to preach Islam. Sir Edward Dennison Ross says: "For many centuries the acquaintance which the majority of Europeans possessed of Muhammadanism was based almost entirely on distorted reports of fanatical Christians which led to the dissemination of a multitude of gross calumnies. What was good in Muhammadanism was entirely ignored, and what was not good, in the eyes of Europe, was exaggerated or misinterpreted. It must not, however, be forgotten that the central doctrine preached by Muhammad to his contemporaries in Arabia, who worshipped the stars; to the Persians who acknowledged Ormuz and Ahriman; the lndians, who worshipped idols; and the Turks, who had no particular worship, was the unity of God, and that the simplicity of his creed was probably a more potent factor in the spread of Islam than the sword of the ghazis". Even William Muir, the worst enemy of Islam, in the following passage, admits that: It is strongly corroborative of Muhammad's sincerity that the earliest converts to Islam were not only of upright character, but his own bosom friends and people of his household; intimately acquainted with his private life, who could not fail otherwise to have detected those discrepancies which ever more or less exist between the professions of the hypocritical deceiver abroad and his actions at home." Through this verse peace, love and mutual understanding have been prescribed for the Muslims. Also refer to verse 125 of Bani Israil. There is no need for compulsion in religion because verse 2 of al Dahr says: "Verily, we have shown him (man) the (right) way; (whether) he be grateful or disbelieving (ungrateful)!" Taghut (the devil) means the inordinate, the rebel, the wrongdoer, the strayer, like Shaytan. The word taghut, in this verse, implies all the devilish tendencies and activities which mislead the people. The first step towards genuine belief in Allah is the rejection of the devil. In other words hatred of the wicked (tabarra) takes precedence over the love of Allah and His chosen friends (tawalla). It is essential to clean the heart and the mind from the disturbing influence of falsehood and then expose them to the reflection of truth, otherwise conflicting impressions will create confusion and distort the beauty of the beloved. See verse 6 of al Ma-idah. Urwatil wuthqa means a strong rope - the firmest handhold. According to Imam Muhammad bin Ali al Baqir, a true faithful, in order to remain attached with Allah and enjoy genuine godliness, must seek attachment with the thoroughly purified Ahlul Bayt (Allah's chosen friends) and love them (as ordained in verse 23 of al Shura). Imam Jafar bin Muhammad al Sadiq has said that the firmest handhold means having complete faith (trust) in Allah. The Holy Prophet has declared that every faithful must hold fast the rope of Allah, Ali, because he, who remains attached with Ali, will never go astray. Ali is the ideal of the true faith in Allah. The true mode and manner of the faith is perfectly integrated in the divinely commissioned successors to the Holy Prophet - Ali and the holy Imams of the Ahlul Bayt, therefore, tawalla (love of Allah and Muhammad and Ali Muhammad) has been prescribed as one of the articles of the furu ud din. Aqa Mahdi Puya says: It is clearly indicated that faith consists of two fundamental factors: (1) The negation of what is against the legislative will of Allah - tabarra. (2) Belief in Allah and whatever He wills and commands - tawalla. Be averse to the wicked and be good to the virtuous. Be with the flowers as a flower and be far away from the thorns.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:256
مذہب جبری نہیں ہو سکتا
رشد“ لغت میں راستہ پانے اور واقع تک پہنچنے کے معنی میںہے ۔اس کے بر عکس ”غی “ حقیقت سے انحراف اور واقع کے دور ہونے کے معنی میں ہے ۔دین مذہب کا تعلق چونکہ لوگوں کی فکر اور روح سے ہے اوراس کی اساس وبنیا د ایمان ویقین پر استوار ہے لہٰذا منطق واستدلال کے علاوہ اس کے لئے کوئی دوسرا راستہ صحیح نہیں ۔ جیسا کہ آیت کی شان نزول سے معلوم ہوتا ہے بعض افراد پیغمبر اکرم سے چاہتے تھے کہ آ پ بھی جابر حکمرانو ں کی طرح طاقت اور زور سے لوگوں کے عقائدتبدیل کرنے کے لئے عملی اقدام کریں ۔مندرجہ بالاآیت نے اس پر صراحت سے جواب دیا کہ دین وآئین ایسی چیز نہیں کہ جس کی جبری تبلیغ کی جائے ۔ یہ آیت ان لوگو ں کا دندان شکن جواب ہے جو اسلام کوزبردستی اورجبری پہلوکا حامل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ا س کی ترقی فوج اور تلوار کی مر ہون منت ہے ۔ جب اسلام باپ کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے بیٹے کو مذہبی عقیدہ زبردستی بدلنے پر مجبور کرے تو دوسروں کی ذمہ داری اس سے واضح ہو جاتی ہے ۔اگر عقیدہ بدلنے کے لئے جبر ممکن اور جائز ہوتا تو ضرور ی تھا کہ سب سے پہلے باپ کو بیٹے کے بارے میں اجازت دی جاتی جبکہ اسے یہ حق نہیں دیا گیا۔ مذہب جبری نہیں ہو سکتا اصولی طور پر اسلام یا کوئی مذہب حق دو وجوہ کی بناء پر جبر واکراہ کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ۱۔ ان تمام واضح دلائل منطقی استدلال اور آشکار معجزات کے ہوتے ہوئے اس بات کی ضرورت ہی نہیں کہ جبر واکراہ کا راستہ اختیار کیا جائے ۔ جبر و اکراہ تو وہ اختیار کرتے ہیں جومنطق سے عاری ہو تے ہیں نہ کہ اسلام جیسا دین جو واضح اور قوی استدلالات کا حامل ہے ۔ ۲۔اصولی طور پر دین جس کی بنیا د قلبی اعتقادات کاایک سلسلہ ہے ممکن ہی نہیں کہ جبری ہو ۔زور، طاقت ، تلوار اور فوجی قوت ہمارے جسمی اعمال وحرکات پر تو اثر اند از ہو سکتے ہیں لیکن ہما رے افکار وعقائد کو تو نہیں بدل سکتے جو کچھ کہا گیا ہے کلیسا کی زہریلی تبلیغ کا واضح جواب ہے کیو نکہ قر آن کے ان الفاظ”لااکراہ فی الدین “سے بڑھ کر اس سلسلے کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ البتہ یہ لوگ اسلامی جنگوں کو غلط رنگ دینے کے درپے رہتے ہیںجب کہ ان اسلامی جنگوں کے مطالعے سے پو ری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ ان میں سے بعض تو دفاعی تھیں اور بعض ابتدائی جہاد کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ان میں کشور کشائی اورلوگوں کو دین اسلام کے لئے مجبو ر کر نے کا کو ئی پہلو نہ تھا۔ان کا مقصدغلط اور ظالمانہ نظام کو تہ و بالاکرنا تھا تاکہ لوگو ں کو آزدانہ طور پر مذہب اور اجتماعی زندگی کے مطالعے کو موقع فراہم کیا جا ئے ۔تاریخ شاہد ہے کہ مسلما ن جب کسی شہر کو فتح کرتے تو دوسرے مذہب کے پیروں کارو ں کو مسلمانوں کی طرح آزادی دیتے تھے اور جزیہ کے طور پر جو ٹیکس ان سے وصول کیا جاتا وہ در اصل امن وامان بر قرار رکھنے والی قو توں کے اخراجات کی تکمیل کے لئے ہو تا تھاکیونکہ کے اسلام میں غیر مسلموں کی جان و مال ا ور عزت وناموس محفوظ تھی ۔یہا ں تک کے وہ اپنی مذ ہبی رسوم بھی آزادانہ بجا لاتے تھے ۔ وہ سب لو گ جو تاریخ اسلام سے واقف ہیں اس حقیقت کو جانتے ہیں ۔حتی کہ وہ عیسائی جنہیوں نے اسلام کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں انہو نے اس با ت کا اعتراف کیا ہے مثلا کتاب تمد ن اسلام وعرب میں ہے : مسلما نو ں کا دوسرے لوگوں سے سلوک اس قدر محبت بھرا اور نرم تھا کہ ان کے سردارو ں نے انہیں اپنی مذہبی تقریبا ت تک منعقد کرنے کی اجاززت دے رکھی تھی۔ کئی ایک تواریخ میں ہے کہ عیسائیوں کا ایک گروہ جو بعض سوالات اور تحقیقات کے لئے پیغمبر اکرم کی خدمت میں پہنچا تھا اس نے اپنی مذہبی عباد ت مد ینہ کی مسجد نبوی میں آزادانہ انجام دی۔ اسلام میں فوجی طاقت کے استعمال کے مواقع اصولی طور اسلام صرف تین مواقع پر فوجی طاقت کو ذریعہ قرار دیتا ہے ۱۔شرک اور بت پرستی کی بیخ کنی کے لئے :شرک اور بت پرستی کے آثار محو کرنے کے لئے اسلام فوجی طاقت ا ستعمال میں لاتا ہے کیونکہ بت پرستی اسلام کی نظر میںکوئی دین آئین نہیں ہے بلکہ کجروی بیماری اور بے ہودہ چیز ہے اور اس کی ہرگز اجازت نہیں دینا چاہیئے کہ لوگ سو فیصد غلط اور بےہودہ راستے پر چلتے ہیں بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جانا چاہیئے ۔لہذا اسلام نے بت پرستو ں کو تبلیغ کے ذریعے راہ توحید کی طرف دعوت دی لیکن جہا ں انہوں نے مقابلے کا راستہ اختیا ر کیا اسلام نے طاقت اسعتمال کی ،ان کے بت خانہ توڑے گئے اور بت اوربت پرستی کے تمام آثار مٹا دیئے گئے تاکہ اس روحانی اور فکری بیماری کی مکمل ریشہ کنی کی جاسکے۔ مشرکین سے قتال کرنے کی آیات اسی مفہو م کی حامل ہیں سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۳میں ہے ”وقاتلوھم حتی لاتکون فتنة“ مشرکین سے جنگ جاری رکھو یہا ں تک کے شرک کا فتنہ معاشرے سے ختم ہو جائے۔ ا س بناء پر محل بحث اور اس قسم کی آیا ت میں کو ئی تضاد نہیں کہ جس کی بنیا د پر نسخ کا ذکر ضروری ۔ ۲۔اسل م کے خلاف حملے کی تیاری کر نے والو ں سے:جو لوگ مسلمانوں کی نابودی کے لئے ان پر حملے کی سازش کررہے ہو ں وہا ں دفاعی جہاد اور فوجی قوت کرنے کا حکم دیا گیا ہے پیغمبر اسلام کے زمانے کی اسلامی جنگیںشاید زیادہ اسی قسم کی تھیں ۔مثال کے طور پر احد ،احزاب ، حنین ، موتہ اور تبوک کے غزوات کے نام لئے جاسکتے ہیں ۳۔تبلیغ کی آازادی حاصل کرنے کے لئے :ہر دین حق رکھتا ہے کہ منطقی طریقوں سے اس کا آزادانہ تعا رف کردیا جا سکے ۔اگر کچھ لوگ اس میں ما نع ہوں اور رکا وٹ پیدا کریں تو یہ حق طاقت کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ” فمن یکفر بالطا غوت ویوٴمن بااللہ فقد استمسک بالعر وة الوثقی“ ”طاغو ت “ صیغہ مبالغہ ہے اسکا مادہ ہے ”طغیان “اس کا معنی ہے حد سے تجاوز کرنا اور زیادتی کرنا ۔ہر وہ چیزجو حد سے تجاوز کا ذریعہ بنے اسے طاغوت کہا جاتا ہے ۔اسی بناء پر شیطان ،بت ، جارح اور ظالم و متکبر حاکم کو طا غوت کہا جا تا ہے ۔حتی کے پر وردگارکے علاوہ ہر معبود اور ہر راستہ جو غیر حق تک پہنچائے اس پر طا غوت کا اطلاق ہوتا ہے یہ لفظ مفرد اور جمع دونو ں معانی میں استعما ل ہوتا ہے ۔ آیت کے اس حصے میں قرآن کہتا ہے :قرآن جو شخص طاغوت سے کفر کرے اور اس سے منہ پھیر لے اور خداپر ایما ن لے آئے اس نے گویا مضبوط کڑے پر ہاتھ ڈالا ہے جو کبھی ٹوٹ نے والا نہیں ۔ عروة الوثقی اس آلے کو کہتے ہیں جو در وازہ کی پشت پر نصب کر تے ہیں اوردروازہ کھو لتے یا بند کرتے وقت اس پر ہا تھ ڈالتے ہیں ۔ طاغوت سے یہا ں کیا مراد ہے ۔اس بارے میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں بعض نے بت کہا ہے بعض نے شیطا ن مراد لیا ہے ، بعض نے کاہنو ں کو طاغو ت قرار دیا ہے اور بعض نے جادو گر مراد لئے ہیں ۔لیکن یوں معلو م ہو تا ہے کہ یہا ں اس سے وسیع تر مفہو م مرا د ہے یعنی ہر سر کش ، ٹیڑھے اور غلط مذہب اور راستے کو یہ لفظ اپنے اندر سمو ئے ہو ئے ہے ۔ در حقیقت یہ حصہ آیت کے سابقہ حصوں کے لئے ایک دلیل ہے۔دین مذ ہب جبرواکراہ کا محتاج نہیں کیونکہ دین خدا کی طرف دعوت دیتا ہے جو ہر خیروبر کت کا منبع ہے جب کہ دوسرے لوگ تباہی ،انحراف اور فساد کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔بہر حال خدا پر ایمان لانا ایسا ہی ہے جیسے کسی محکم کڑے پر ہاتھ ڈالنا کہ جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہ ہو ۔ آیت کے آخرمیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیاہے کہ کفر وایما ن کا ایسا مسئلہ نہیں جو دکھا ئی دینے سے حل ہو جائے کیونکہ خدا سب کی باتو ں کو سنتا ہے چاہے آشکارہوں یابند کمروں اور مخفی اجلاسوں میں اس طرح وہ لوگوں کے دلوں میں چھپی ہو ئی چیزوںاور لوگو ں کے ضمیروں کی حالت سے آگاہ ہے۔ یہ جملہ در اصل حقیقی ایمان لانے والوں کے لئے تشویق اور منافقین کے لئے تہدید اور دھمکی ہے ۔