يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ
O you who have faith! Spend out of what We have provided you before there comes a day on which there will be no bargaining, neither friendship, nor intercession. And the faithless—they are the wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:254
[Pooya/Ali Commentary 2:254] Please refer to the commentary of verses 3, 195 and 215 of this surah for spending out of what Allah gives, and verses 48 and 123 of this surah for intercession. To provide or give help in cash and kind to the needy has been identified with the "spending in the way of Allah". It is an exhortation, not a compulsion. According to your conscience you have the liberty to spend in the way of Allah "out of what He has given to you", whether you have large means or a moderate income. "Before the day comes" implies that one has to do good in this world. What you sow (in this life) you shall reap (in the life of the hereafter). "There will be no bargaining, nor any friendship nor intercession" means that wrongdoers will not be able to claim salvation in exchange of good deeds done by their ancestors or their posterity; or on account of the acts of their religious leaders as the Christians think that Jesus, by his blood, has redeemed the sins of his followers. This verse categorically denies this type of assertion and warns the people not to indulge in such a false belief. The wicked will be punished. Aqa Mahdi Puya says: To make the social life in this world egalitarian every individual should contribute to the welfare of the human society out of what Allah gives him. The overall effect of this system covers every person in the community. "The unbelievers are the unjust" implies that injustice is the root of all other wrongs. According to verse 13 of Luqman ascribing partners unto Allah is the greatest injustice.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:254-247
1. God has pointed out every good thing, e.g. faith and acts proceeding therefrom, e.g. prayers, fasts, payment of tithe, pilgrimage, etc. should be executed in a lifetime or willed, in case of arrears, so nothing will come to their aid when death angel proceeds to him to removie their souls. 2. This couplet has got mighty effects on those who keep on continuously repeating with certainty of faith and no couplets in the text can replace it. Its meaning is self-explanatory. Everyone should commit it to memory. It gives, in brief, in which Muslims, who had light of Islam, after having admitted leadership of non-authorized Khilafat, lost all rights to paradise and shall ever be in hell, whereas those who admitted true Khilafat shall be virtue of true faith, be ultimiately under intercession to get paradise.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:254
کیا خالق کابھی کوئی خالق ہے ؟
مادہ پرستوں کا مشہور اعتراض ہے کہ سب چیزوں کو تو خاد نے پیدا کیا ہے پھر خدا کو کس نے پیدا کیا ہے مندرجہ بالا بحث سے یہ مسئلہ خود بخود ہل ہو جاتا ہے کیونکہ اس بے بنیاد اعتراض کی بنیاد یہ بے بنیاد مفروضہ ہے کہ ہر کہ ہر موجود ایک پیدا کرنے والے کا محتاج ہے حالانکہ مسلماً یہ کوئی کلیہ قاعدہ نہیں ہے کیونکہ وہ موجودات جو پیدا کرنے والے کے محتاج ہیں وہ ایسے ہیں کہ جنکے وجود کا سر چشمہ انکی ذات سے خارج ہو اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ جن کی حیات اور وجود انکی ذات کا جزء نہیں یعنی جو ممکن الوجود ہیں لیکن وہ وجود جسکی ہستی اسکی ذات سے ہے یا بہتر الفاظ میں جس کی ہستی اسکا عین وجود ہے ایسی ذات کو ہیدا کرنےوالے کی کوئی احتیاج نہیں اسے کوئی حیات دینے والا نہیں وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اسکی ذات کے لئے موت کا کوئی تصور ہی نہیں کہ کہا جا سکتا کہ وہ پیدا کرنے والے کی محتاج ہے گویا وہ واجب الوجود ہے آسان تر عبارت میں کہا جا سکتا ہے کہ جو حقیقت بھی اس جہان میں وجود رکھتی ہے آخر کار اسکا کوئی منبع اور سر چشمہ ہے مثلاً اگر سوال کیا جاے کہ یہ کمرہ کیوں روشن ہے ،ہم جواب دیں گے کہ نور نے اسے روشن کیا ہے اب اگر یہ سوال ہو کہ نور کیوں روشن ہے تو ہم کہیں گے کہ نور کے لئے یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کیوں روشن کیونکہ یہ تو اسکی خاصیت ہے یہی بات موجودات عالم کی ہستی کے بارے میں بعینہثابت ہے انسان سبزہ زار اور تمام جہان خلقت وجود میں آے ٴ ہیں ہم کہیں گے کہ ان سب کو خدا نے پیدا کیا ہے اور انکی حیات خداکی طرف سے ہے لیکن اگر یہ سوال ہو کہ خدا نے کس طرح وجود پایا ہے تو ہم کہیںگے کہ ہستی اسکی عین ذات ہے اور وہ جہان ہستی کا سر چشمہ ہے (۱) القیوم ”قیوم “مبالغہ کا صیغہ ہے اسکا مادہ ”قیام“ہے اسی بناء پر اسکا معنی ہے وہ وجود جسکا قیام اپنی ذات کے ساتھ ہے اور تمام موجودات کا قیام اسکے ساتھ دوسرے لفظوں میں عالم ہستی کے تمام موجودات اسی کے بھروسے اور سہارے پر قائم ہیں واضح ہے کہ قیام کا معنی کھڑا ہونا روز مرّہ میں یہ لفظ اسی مخسوص ہیئت و کیفیت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس معنی کا خدا کے لئے کوئی مفہوم نہیں کیونکہ وہ جسم اور صفات جسمانی سے منزہ ہے اسا لئے اس سے مراد تخلیق ، تدبیر اور نگہداری کے لئے قیام کرنا ہے صرف وہی ذات ہے جس نے تمام موجودات کو پیدا کیا ہے اور اسی نے انکی نگہداری و تربیت اپنے ذمہ لے رکھی ہے وہ کبھی اس کی انجام دہی میں غفلت نہیں کرتا اور وہ ہمیشہ سے بغیر کسی وقفے کے ان امور کو انجام دینے کے لئے قیام کئے ہو ےٴ ہے اس بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ قیوم حقیقت میں تمام صفات ِفعل کی بنیاد ہے صفات فعل سے مراد وہ صفات ہیں جو کسی موجود سے خدا کے ارتباط کو بیان کرتی ہیں ، مثلاً پیدا کرنے والا ،روزی دینے والا زندہ کرنے والا ہدایت کرنے والا وغیرہ موجودات عالم کی خلقت و تدبیر کے لئے قیام کرنے میں یہ تمام امور شامل ہیں وہی جو روزی دیتا ہے جو زندہ کرتا ہے وہی ہے جو مارتا ہے وہی ہے جو ہدایت کرتا ہے اس لئے خالق، رازق اور محی وغیرہ صفات سب قیوم میں جمع ہیں لا تاخذہ سنة ولا نوم سنة “ مخصوص سستی ہے جو نیند کیابتداء میں عارض ہوتی ہےدوسرے لفظوں میں اونگھ یا نیند کے جھونکے کو سنة کہتے ہیں نوم “کا معنی ہے نیند یعنی وہ حالت جب انسان کے کچھ حواس ظبیعی عوامل کے ذریعے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں لا تاخذہ سنة ولا نوم در اصل خدا کے قیوم ہونے کی تاکید کرتا ہے کیونکہ عالم ہستی کے لئے کامل و مطلق قیام کا تقاضا ہے کہ اک لمحہ بھر کی غفلت نہ ہو یعنی حکو مت مطلقہ اور عالم ہستی کے کے امور کی تدبیر کے لئے خدا تعالیٰ لمحہ بھر کی غفلت نہیں کرتا لہٰذا ہر وہ چیز جو خدا کی اصل ”قیومیت “کے ساتھ سازگار و مناسب نہیں اسکی خود بخود اللہ کی بارگاہ سے نفی ہو جاتی ہے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اونگھ کا ذکر آیت میں نیند سے پہلے کیوں ہے جبکہ قوی چیز کا ذکر پہلے ہونا چاہئے تھا پھر ضعیف کا اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ فطری ترتیب ہے پہلے اونگھ کی حالت پیدا ہوتی ہے اس کے بعد گہری نیند کا مرحلہ آتا ہے یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کا فیض اور لطف دائمی ہے اور یہ اک لمحہ کے لئے بھی اسکے وجود سے منقطع نہیں ہوتا وہ بندوں کی طرح نہیں ہے کہ نیند یا دیگر عوامل کے زیر اثر دوسروں سے غافل ہو جاےٴ لا تاخذہ “(یعنی اسے نہیں پکڑ سکتی ) یہ بھی ایک جاذب نظر اور مو ثر تعبیر ہے اس سے انسان پر نیند کے تسلط کی کیفیت مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہےگویا نیند ایک طاقتور پنجے کی مانند ہے جو انسان کو مضبوطی سے جکڑ لیتا ہے اور اسیر کر لیتا ہے بیداری کے بر عکس نیند کے عالم میں قوی ترین انسانوں کی جو حالت ہوتی ہے اس احساس کیا جا سکتا ہے خدا کی مالکیت مطلقہ لہ مافی السمٰوات وما فی الارض “ آسمانوں ، زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے اس کی ملکیت کے بغیر امور عالم کی تدبیرلئے قیام ممکن نہیں اس لئے خدا کی قیومیت کا ذکر کرنے بعد اس حقیقت کی تصریح کی گئی ہے کہ تمام عالم اس کا ملک خاص ہے عالم ہستی میں جو بھی تصرف ہو اسی کی طرف سے ہے اس بناء پر کچھ انسان کے اختیار میں ہے اور جن چیزوں سے وہ استفادہ کرتا ہے وہ اسکی حقیقی ملکیت نہیں ہے انسان ان چیزوں سے مالک حقیقی کی معین کردہ شرائط کے تحط ایک محدود کے لئے حق تصرف رکھتا ہے اس وجہ سے عوام مالک کی ذمہ داری ہے کہ مالک حقیقی کی طرف سے جو شرائط معین ہوے ہیں ان کا پورا لحاظ رکھے اگر ایسا نہ کرے تو اس کی ملکیت باطل ہو جاتی ہے اور تصرف جائز نہیں رہتا ملک خدا میں تصرفات کی شرائط وہی ہین جو قوانین اسلامی کے ذریعے لوگوں تک پہنچی ہیں بناء کہے واضح ہے کہ اس مفہوم کی طرف توجہ کرنا حقیقت میں ایک اہم تربیتی عامل ہے کیو نکہ اگر انسان میں یہ عقیدہ پیدا ہو جاے ٴ کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ در اصل اسکا نہیں ہے بلکہ چند روز کے لئے اسے عاریتاً ملا ہے تو حقیقتاً یہ عقیدہ اسے دوسروں کے حقوق میں تجاوز استشمار ذخیرہ اندوزی ، حرص ،طمع اور بخل سے باز رکھے گا کیونکہ ممکن ہے شدید دنیا پرستی کی وجہ سے یہچیزیں انسان میں پیدا ہو جائیں یہ عقیدہ انسان کی یہ تربیت کرتا ہے کہ وہ اپنے شرعی حقوق پر راضی رہے من ذاالذی یشفع عندہ الا بازنہ “ اصطلاحی طور پر یہ جملہ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی شخص بھی خدا کے حکم کے بغیر اس کی بار گاہ میں سفارش و شفاعت نہیں کر سکتا یہ جملہ در حقیقت تمام موجودات عالم ہستی پر خدا کی قیومیت اور مالکیت مطلقہ کے مفہوم کی تکمیل کرتا ہے یعنی اگر کچھ لوگ بارگاہ الٰہی میں شفاعت کرتے نظر آتے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ کسی چیز کے مالک ہیں اور وہ تاثیر میں استقلال رکھتے ہیں بلکہ یہ مقام شفاعت بھی انہیں خدا نے عطا کیا ہے ان کی شفاعت کیونکہ حکمخدا سے ہے اس لئے یہ خود خدا کی قیومیت اور مالکیت پر ایک دلیل ہے (۱)مزید وضاحت کے لئے کتاب جستجوے ٴ خدا کی طرف رجوع فرمائیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:254
فضیلت ایه الکرسی
”اللَّہُ لا إِلہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوم“ یعنی وہ زات جع یگانہاور تنہا ہے اور تمام صفات کمال کی جامع ہے وہی عالم ہستی کو پیدا کرنے والی ہے لہٰذا عالم وجود میں کوئی اسکے علاوہ پرستش کے لائق نہیں ہے لا الہ الا اللہ اس ارشاد میں قرآن خلاّق عالم کی وحدت و یگانگی کو جو اسلام کی بنیاد ہے بیان کرتا ہے لیکن جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے لفظ ”اللہ“ میں بھی یہ حقیقت پوشیدہ ہے اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ لا الہ الا اللہ اس حقیہقت کی تاکید ہے حیّ“کا معنی ہے زندہ اور یہ لفظ ہر صفت مشبہ کی طرح دوام و ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے خدا کی حیات حقیقی کیونکہ اسکی حیات عین ذات ہے نہ کہ عارضی یا کسی دوسرے سے لی ہوئی سورہ ٴ فرقان آیہ ۵۸میں ہے ”و توکّل علیٰ الحیّ الذی لا یموت “ایک یہ پہلو ہے اور دوسرا حیات یہ ہے کہ حیات کامل وہ زندگی ہے جس میں موت کا تصور نہ ہو اس لئے حقیقی حیات اسی کی ہے جو ازل تا باد قائم و دائم ہے رہی انسان کی زندگی خصوصاً اس جہان میں جہاں موت بھی ہے ،یہ حقیہقی حیات نہیں ہو سکتی اسی لئے سورہ ٴ عنکبوت کی آیت ۶۴میں ہماری نظر سے یہ عبارت گذرتی ہے وما ھٰذہ الحیاة الدّنیا الاّ لھو و لعب و ان الدار الآخرہ لھی الحیوان “ اس جہان کی زندگی لھو و لعب کے سوا کچھ نہیں ہے ( ایک لحاظ سے )حقیقی زندگی تو دار آخرت کی زندگی ہے ان دو وجوہ کی بناء پر حقیقی زندگی خدا ہی کے لئے مخصوص ہے خدا کے زندہ ہونے کا مفہوم عام طور پر موجود زندہ اس چیز کو کہتے ہیں جو نمو ، تغزیہ ، تولید مثل ،جذب و دفع اور کبھی کبھی حس و حرکت رکھتی ہو لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ رہے کہ ممکن ہے کوتاہ نظر افراد خدا کے بارے میں بھی ایسی ہی حیات سمجھتے ہوں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ میں ایسی کوئی صفت موجود نہیں یہی قیاس انسان کو خدا شناسی کے بارے میں اشتباہ میں مبتلاء کر دیتا ہے کیونکہ وہ خدا کی صفات کو اپنی صفات پر قیاس کرنے لگتا ہے حیاے اپنے وسیع اور واقعی معنی کے لحاظ سے علم و قدرت سے عبارت ہے لہٰذا جو وجود لا متناہی علم وقدرت کا حامل ہے وہ حیات کامل رکھتا ہے خدا کی حیات اسکے علم وقدرت کا مجموعہ ہے اور در حقیقت علم و قدرت ہی کے ذریعے موجود زندہ اور غیر زندہ میں امتیاز کیا جا سکتا ہے رہا نمو ،حرکت تغذیہ، تولید مثلاور حرکت تو یہ ناق ص اور محدود موجودات کے آثار ہیں اور یہ آثار نقائص پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ غزا ،تولید مثل اور حرکت در اصل کسی نہ کسی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہوتی ہے لیکن وہ ذات جس میں کوئی قص اور کمی نہیں اس میں یہ امور نہیں پاے ٴ جاتے -