أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ
Have you not regarded the elite of the Israelites after Moses, when they said to their prophet, ‘Appoint for us a king that we may fight in the way of Allah.’ He said, ‘May it not be that you will not fight if fighting were prescribed for you?’ They said, ‘Why should we not fight in the way of Allah, when we have been expelled from our homes and [separated from] our children?’ So when fighting was prescribed for them, they turned back except a few of them, and Allah knows well the wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:246
[Pooya/Ali Commentary 2:246] After Musa several prophets were sent to maintain his law (Tawrat), but as time passed, people started neglecting the law and took to idolatry. Ultimately a time came when the Jews had no prophet to guide them. In those days their enemies from the tribe of Jalut had captured all the land on the Mediterranean including Egypt and Palestine. They killed 440 princes and noblemen of Bani Israil and enslaved them. The Bani Israil prayed to Allah for a prophet. Allah appointed Samuel as their prophet. They asked Samuel to choose a king for them. Samuel warned them about what the kings would do, but they refused to listen to him. They said: "No, we will have a king over us; then we shall be like other nations, with a king to govern us, to lead us out to war and fight our battles." (1 Samuel 8: 19 and 20). Samuel again warned them that they might not fight even if fighting was ordained for them. And when fighting was ordained for them, they turned back, except for a few of them. In this verse fighting for the emancipation of the people from the tyranny of the oppressors has been described as fighting in the way of Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:246-252
کیا مختلف مذاہب اختلاف کا سبب ہیں ؟
بعض مغربی مصنفین ادیان و مذاہب پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انسانوں میں تفرقہ اور نفاق کا باعث ہیں اور مذاہب کی راہ میں بہت زیادہ انسانی خون بہایا گیا ہے تاریخ میں بہت سی مذہبی جنگوں کے تزکرہ موجود ہیں اس کے ذریعے وہ مذاہب کی مذمت کرنا چاہتے ہیں اور اسے جنگ و جدال کا موجب قرار دیتے ہیں اسکے مقابلہ مین یہ امور قابل توجہ ہیں اولاً ۔جیسا کہ مندرجہ بالا آیت نشاندہی کتی ہے کہ حقیقت میں سچّے پیرو کاروں اور حقیقی مذاہب کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا بلکہ اختلاف تو پیروان مذہب اور مخالفین مذہب کے درمیان تھا اور یہ جو مختلف مذاہب کے پیرو کاروں میں جنگ و جدال دکھائی دیتا ہے وہ انکی مذہبی تعلیمات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اسکی وجہ مذاہب میں تحریف ،ناروا تعصبات اور آسمانی مذاہب میں خرافات کی آمیزش ہے ثانیاً۔ آج جبکہ بیشتر انسانی معاشروں میں سے مذہب (یا کم از کم اسکی تاثیر ) ختم ہو چکی ہے تو پھر جنگوں میں وحشت ناک ترین صورت میں وسعت کیوں آگئی ہے آج یہ وحشتناک جنگیں دنیا کے وسیع علاقوں میں جاری و ساری ہیں کیا اسکا الزانم بھی مذہب کو دیا جاے ٴ گاپھر یہ تسلیم کر لیا جاے گا کہ انسانوں کا ایکگروہ سرکش نفس ان جنگوں کا حقیقی سر چشمہ ہے ہاں البتہ یہ لوگکبھی مذہب کا بھیس بدل لیتے ہیں کبھی سیاسی و اقتصادی کمکاتب کا لباس پہن لیتے ہیں اور کبھی کسی اور سانچے میں ڈھل کر سامنے آجاتے ہیں اس لئے قسور مذہب کا نہیں ہے یہ سر کش لوگ ہیں جو اصل مجرم ہیں جو حیلے بہانوں سے جنگون کی آگ بھڑکاتے رہتے ہیں ثالثاً۔ آسمانی مذاہب بالخصوص اسلام نسل پرستی اور قوم پرستی کے مخالف ہیں اس لیے انہوں نے بہت سی نسلی ،جغرافیائی اور قبائلی سرحدوں کو ختم کر دیا ہے اور جن جنگوں کا سر چشمہ یہ امور تھے وہ فطرتاً ختم ہو گئی ہیں یوں جنگوں کا ایک حصہ انسانی زندگی کے مذہب کے زیر اثر آنے کے باعث تاریخ سے حذف ہو گیا ہے علاوہ ازیں صلھ سلامتی ،اچھے اخلاق و اوصاف تمام ٓاسمانی مذا ہب کی توجہ کا مرکز ہیں اور مختلف قوموں میں دشمنیوں اور نفرتوں کو کم کرنے میں میں مذاہب کی اس تعلیم نے گہرا اثر مرتب کیا ہے رابعاً۔مذاہب اسٓسمانی کا ایک ہیغام محروم اور ستم رسیدہ طبقات کی آزادی تھا اسلئے انبیاء اور انکے پیرو کاروں نے جو جنگیں ستمگروں ،ظالموں ، نمرودوں ،اور فرعونوں سے لڑیں وہ در اصل انسانوں کی وٴزادی کے لئے جہاد کا مرتبہ رکھتی ہیں اور یہ مزاہب کے لئے کسی عیب یا نقص کا موجب نہیں بلکہ انکی قوّت و طاقت کا نقطہ ہے ایک طرف مشرکین عرب اور مکہ کے سود خواروں اور دوسری طرف کسریٰ و قیصر سے پیغمبر اکرم کی جنگ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی ۲۵۴۔یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اٴَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناکُمْ مِنْ قَبْلِ اٴَنْ یَاٴْتِیَ یَوْمٌ لا بَیْعٌ فیہِ وَ لا خُلَّةٌ وَ لا شَفاعَةٌ وَ الْکافِرُونَ ہُمُ الظَّالِمُون ترجمہَ ۲۵۴۔اے ایمان والو!جو کچھ ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ وہ دن ااے ٴ جس میں نہ خرید و فروخت ہو سکتی ہے (کہ تم اپنے لئے سعادت اور سزا سے نجات خرید سکو)اور نہ دوستی (اور عام رفاقتیں وہاں سود بخش ہونگی )اور نہ ہی شفاعت ( کیونکہ تم شفاعت کے لائق نہ ہونگے )اور کافر تو ظالم ہیں ( وہ اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور معاشرہ پر بھی )
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:246-252
تابوت کیا ہے
تابوت کے لغوی معنیٰ ہے وہ صندوق جسے لکڑی سے بنایا جاے ٴ جنازہ کے صندوق کو بھی اسی لیے تابوت کہتے ہیں لیکن تابو ت مردوں سے مخصوص نہیں بلکہ ہر قسم کے لکڑی کے صندوق کے لیے مستعمل ہے بنی اسراییٴل کا تابوت یا صندوق عہد کیا تھا وہ کس کے ہاتھ سے بنا تھا اور اس میں کیا چیز یں موجود تھیں اسن سلسلے میں ہماری روایات و تفاسیر میں اس طرح عہد قدیم (تورات) میں بہت کچھ کہا گیا ہے سب سے زیادہ واضح چیز جو احادیث اہل بیت اور بعض مفسّرین مثلاً ابن عباس سے منقول یہ ہے کہ یہ تابوت وہی صندوق تھا جس میں ھضرت موسیٰ کی والدہ نے انہیں لپٹا کر دریا میں پھینکا تھا فرعون کے کارندوں نے اسے دریا میں سے پکڑ لیا حضرت موسی ٰ کو اس میں سے نکال لیا گیا اور صندوق جوں کا توں فرعون کے پاس محفوظ کر لیا گیا بعد ازاں وہ بنی اسرائیل کے ہاتھ آیا تو وہ اس عجیب صندوق کو محترم شمار کرنے لگے اور اسے متبرّک سمجھنے لگے حضرت موسیٰ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ الواح مقدسہ جن پر احکام خدا لکھے ہو ے ٴ تھے اس میں رکھ دیں نیز اپنی زرہ اور دوسری یاد گار چیزوں کو بھی اس میں اضافہ کر دیا صندوق آپ نے اپنے وصی یوشع بن نون کے سپرد کر دیا یو ں صندوق کی اہمیت بنی اسراییٴل کی نگاہ میں اور بڑھ گیی ٴ لہٰذا وہ دشمنوں سے جنگ میں اسے اپنے ہمراہ لے جاتے اور اسکا ن پر نفسیاتی طور پربہت اثر ہوتا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب تک وہ دل انگیز صندوق ان مقدس چیزوں کے سمیت انکے ساتھ رہا وہ سر بلند رہے اور آبرومندانہ زندگی بسر کرتے رہے لیکن رفتہ رفتہ انکی دینی بنیادیں کمزور پڑ گیی اور دشمن ان پر غلبہ حاصل کرتے رہے وہ صندوق بھی ان سے چھن گیا ان آیات کے مطابق حضرت اشموییٴل نے وعدہ کیا عنقریب وہ صندوق عہد ان کے قول کی سچایی ٴ کا مظہر بن کر واپس آ جاے ٴگا فیہ سکینة من ربکم و بقیّة مما ترک اٰل موسیٰ و اٰل ہٰرون اس جملہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جیسا ک ہم کہہ چکے ہیں صندوق عہد وہ ایسے تبرّکات تھے جو حوادث کے موقع پر بنی اسراییٴل کے لیے اطمینان بخش تھے اور معنوی اور نفسایتی اثرات کے حامل تھے دوسری بات یہ ہے کہ بعد ازاں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خاندان کی کچھ یادگاریں بھی اس میں رکھ دی گیی ٴ تھیں توجہ رہے کہ سکینہ سکون کے مادہ سے ہے اور تسکین و آرام کے معنی میں مستعمل ہے یہاں اس سے مراد جان و دل کا سکون اور اطمینان ہے حضرت اشموئیل نے بنی اسراییٴل کو یہ بات دل نشین کرایی ٴ کہ صندوق عہد دوبارہ انہیں مل جاے ٴگا اور جو سکیو اور اطمینان وہ کھو بیٹھے ہیں دوبارہ حاصل کر لیں گے معنوی و تاریخی کے حامل اس صندوق کی اہمیت در اصل بنی اسراییٴل کے لیے ایک پرچم اور شعار سے بڑھ کر تھی اسے دیکھ کر ان کی نظروں میں اپنی عظمت رفتہ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی حضرت اشموییٴل نے خبر دی کہ وہ صندوق لوٹ آے ٴگا فطری امر یہ کہ یہ بنی اسراییٴل کے لیے بہت بڑی بشارت تھی تحملہ الملایٴکة فرشتوں نے اسے اٹھا رکھا ہوگا فرشتے صندوق عہد کیسے لا ے ٴ ؟اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں ان میں سے زیادہ واضح تواریخ کے حوالے سے یہ ہے کہ جب صندوق عہد فلسطینیو ں کے بت پرستوں کے ہاتھ لگا اور وہ اسے اپنے بت خانے میں لے گیے ٴ اسکے بعد وہ بہت سی مصیبتوں اور ابتلاؤں کا شکار ہو گیے ٴ تو ان میں سے بعض کہنے لگے کہ یئہ سب کچھ صندوق عہد کے آچار میں سے ہے لہٰذا انہوں نے طے کر لیا کہ اسے اپنے شہر اور علاقہ سے باہر بھیج دیں گے کویی ٴ شخص اسے باہر لے جانے کو تیار نہ ہوا مجبوراً دو بیل جوتے گیے ٴ اورصندوق عہد کو باند ھ کر بیابان میں چھوڑ دیا گیا اتفاق سے یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب طالوت کو بنی اسرائیل کا فرمانروا بنایا گیا خدا کے فرشتو کو حکم دیا گیا کہ وہ ان بیلوں کو اشموئیل کے شہر کی طرف ہانک کر لے جاییٴں بنی اسرائیل نے صندوق عہد کو دیکھا تو تو اسے طالوت کے خدا کی طرف سے ماٴمور ہونے کی نشانی کے طور پر قبول کر لیا اس لیے ظاہراً تو دو بیل اسے شہر میں لاے ٴ لیکن در حقیقت یہ کام خدا کے فرشتوں کی وجہ سے انجام پزیر ہوا اسی وجہ سے صندوق اٹھا لانے کی نسبت فرشتوں کی طرف دی گیی ٴ ہے اصلی طور پر فرشتہ اور ملک قرآن حکیم اور روایات میں ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے اس مفہوم میں روحانی عقل رکھنے والے موجودات کے علاوہ اس جہان کی مخفی قوتوںکا ایک سلسہ بھی شامل ہے ان فی ذالک لا ٰیةلکم ان کنتم موٴمنین آیت کے آخر میں بنی اسراییٴل کو یاد دہانی کرایی ٴ گیی ٴ ہے کہ صندوق عہد کی تمہارے پاس واپسی تمہارے لیے ایک واضح نشانی ہے بشرطیکہ تم ایمان دار بنو حقیقت میں یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس روشنی اور نشانی کہ باوجود تم میں ایسے افراد موجود ہیں جو حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے اس واقعے کے آخر میں یہ حقیقت واضح ہو جاے ٴگی ۔فَلَمَّا فَصَلَ طالُوتُ بِالْجُنُودِ قالَ إِنَّ اللَّہَ مُبْتَلیکُمْ بِنَہَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّی وَ مَنْ لَمْ یَطْعَمْہُ فَإِنَّہُ مِنِّی إِلاَّ مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِیَدِہِ فَشَرِبُوا مِنْہُ إِلاَّ قَلیلاً مِنْہُمْ فسل کا معنی ہے علیٰحدہ ہونا اور قطع ہونا ،جنود جند کی جمع ہے جند در اصل ایسی زمین کو کہتے ہیں جو بڑے بڑے پتھروں سے بھری ہو تاہم ہر ٹکرانے والی اور آنکھوں میں کھبنے والی چیز کے لیے بھی یہ لفظ مستعمل ہے اسی لیے عموماً لشکر کی کثیر تعداد کو جند کہتے ہیں یہ بات وضاحت کی محتاج نہیں کہ ہر گروہ کی کامیابی رہبراور کمانڈر کے حکم کے مطابق فوج کے نظم و ضبط اور ایمان کی مرہون منّت ہے ۔ اگر فوج اپنے کمانڈر کی قابلیت اور حکم پر ایمان رکھتے ہوں تو اپنی ذمہ داری کی ادایٴگی میں کوتاہی نہیں کرتے طالوت جو بنی اسرائیل کو جہاد کے لیے لے جا رہے تھے ان کے لیے یہ جاننا ضروری تھا کہ انکے اہل لشکر انکے حکم کی کتنی اطاعت کرتے ہیں خصوصاً جبکہ یہ وہ لشکر تھا جس نے تردد اور بد دلی سے انکی قیادت قبول کی تھی اگر چہ وہ ظاہراً انکی رہبری کو تسلیم کر چکے تھے لیکن اس بات کا مکان تھا کہ وہ فطرتاً ابھی شک و تردد کے عالم میں ہوں لہٰذا فرمان الٰہی کے ذریعے انہیں حکم دیا گیا کہ انہیں آزمائیں اس پر طالوت نے خبر دی کہ بہت جلد ایک نہر آے گی ساتھ ہی ان سے کہہ دیا کہ وہ پیاس کا مقابلہ کریں اور تھوڑا سا پانی پییٴں تاکہ واضح ہو جاے ٴ کہ دشمن کی شمشیر آتش بار کے مقابلے میں جانے والا لشکر پیاس کو برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے یا نہیں اس واقعے کی تفصیل مین یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ اکثریت اس آزمائیش کی کٹھالی سے صحیح سالم نہ نکل سکی اس طرح طالوت کا لشکر تطہیر کے دوسرے عمل سے گزرا پہلی تطہیر وہ تھی جب انہوں نے عام لوگوں کی تیاری کے وقت کہا تھا کہ جو لوگ دل جمعی سے ساتھ نہ دے سکیں اور تکمیل مقصد تک قایٴم نہ رہ سکیں وہ میرے ساتھ نہ آئیں فلما جاوزہ ھو والذین آمنو معہ قالو لا طاقة لنا الیوم بجالوت وجنودہ یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ وہ تھوڑے سے لوگ جو پیاس کی آزمائیش پر پورے اترے وہی طالوت کے ساتھ گئے لیکن جب اس طھوٹے سے گروہ نے غور کیا کہ جلد ہی انکا دشمن کے عظیم اور طاقتور لشکر سے سامنا ہوگا تو اپنی تعداد کی کمی پر وہ بہت پریشان ہو ے ٴ یہ وہ وقت تھا جب آزمائیش کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا ”قال الذین یظنون انّہم ملاقو اللہ کم من فئة قلیلةغلبت فئة کثیرة “ ” فئة“ کا مادّہ ہے ” فئی “اسکا معنی ہے بازگشت گروہ اور تشکیل شدہ جماعت کو بھی فئة کہتے ہیں کیو نکہ وہ ایک دوسرے کی طرف پلٹ آتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں آیت کہتی ہے کہ اس وقت قیامت پرراسخ ایمان رکھنے والےباقی ساتھیوں کو بیدار اور تنبیہ کرنے لگے کہ کسی جمعیت مقدار اور تعداد پر نگاپ نہیں کرنی چاہئے بلکہ کیفیت اور جذبہ کو دیکھنا چاہئے کیونکہ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ایک کم تعداد مگر با ایمان اور عزم صمیم کھنے والی جمعیت نے حکم خدا سے اپنے سے کہیں بڑی تعداد پر غلبہ پا لیا توجہ رہے کہ ” یظنون “اس مقام پر ”یعلمون “کے معنی میں ہے یعنی جو قیامت پر یقین رکھتے ہیں نہ کہ قیامت کا گمان رکھتے ہیں کیونکہ ظن بہت سے مقامات پر یقین کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اگر اسے گمان کے معنیٰ میں بھی لیا جاے ٴ تب بھی غیر مناسب نہیں ہے کیونکہ پھر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ قیامت کا گمان (چہ جائیکہ علم و یقین ) بھی کافی ہے کہ وہ انسان کو مقاصد الٰہی کے سامنے راسخ العزم بنا دے کیونکہ زندگی میں کامیابی کا گمان رکھنے والے تمام لوگ مثلاً زراعت ،تجارت، صنعت اور سیاست سے وابستہ لوگ صرف گمان کی بنیاد پر اپنا کام پختہ ارادہ سے انجام دیتے ہیں قیامت کے دن بقاے ٴ پروردگار کا دن کیوں کہا گیا ہے اس سلسلے میں تفسیر نمونہ کی جلد اول اردو ترجمہ کے صفحہ ۱۷۹پر گفتگو کی جا چکی ہے باذن اللہ یعنی حکم خدا سے عزم صمیم رکھنے والے ایمان دار لوگوںکی بہت سے بے ایمان گروہوں اور جماعتوں پر کامیابی ایک مسلمہ امر ہے جو روحانی اور نفسیاتی عوامل سے مربوط ہے پھر بھی قرآن اسے فرمان الٰہی سے منسلک قرار دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عالم میں کسی بھی طرح کے آثار و نتائیج ہوں سب آفرینش پروردگار کی برکت سے اس کی طرف سے اور اسکے حسب فرمان ہیں ایسی ہی تعبیر قرآن میں بہت سے مواقع پر نظر آتی ہے ”واللہ مع الصابرین “ یہ جملہ عزم صمیم رکھنے والے اہل ایمان کی طرف سے دوسروں کو صبر واستقامت کی دعوت کا حرف آخر ہے یہ اہل ایمان انہیں دعوت دیتے تھے کہ خدا اہل صبر و استقامت کے ساتھ ہے ”و لمابرزوالجالوت و جنودہ“ ”برزو “کا معنی ہے ظہور یہی وجہ ہے کہ اگرکوئی آمادہٴ جنگ ہو اور میدان جنگ میں نکل آے ٴ تو اسکے عمل کو” براز“کہتے ہیں اور جب کوئی دوسرے کو جنگ کی دعوت دے تو کہتے ہیں کہ وہ مبارزہ طلبی کر رہا ہے یہ آیت کہتی کہ جب طالوت اور انکا لشکر ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں جالوتے کا طاقتور لشکر نمایاں طور پر نظر آرہا تھا تو وہ اس عظیم قوّت کے سامنے صف بستہ ہو گئے انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا ئے اپنے تئےںپروردگا کی لا متناہی قدرت کے سپرد کر دیا اور اس سے استق امت اور صبر کا تقاضا کیا ”ربّنا افرغ علینا صبراً“ ”افراغ“کا مطلب ہے کسی سیال مادے کو برتن سے ایسے گرانا کہ برتن خالی ہو جاے ٴ ،حضرت طالوت کے ہمراہی دعا کے وقت کہتے ہیں کہ خدا وندا ہم پر صبر استقامت انڈیل دے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا سے صبر ،استقامت اور پا مردی کا ٓخری درجہ طلب کر رہے ہیں جیسے کسی برتن کا سارا پانی کسی پر ڈال دیا جاے ٴ اوقر برتن خالی ہو جاے ٴ ”ثبت اقدامنا “ یعنی ہمیں ثابت قدم رکھ تاکہ ہمارے قدم اکھڑ نہ جائیں اور میدان سے بھاگ کھڑے نہ ہوں حقیقت میں پہلی دعا باطنی پہلو کی حامل ہے اور یہ دعا ظاہری پہلو رکھتی ہے اور یہ مسلّم ہے کہ ثابت قدمی صبر و استقامت کی روح کا نتیجہ ہے ”وانصرناعلیٰ القوم الکافرین “ در اصل یہ جملہ استقامت اور ثبات قدمی کا نتیجہ ہے جو گذشتہ دو جملوںمیں بیان ہو چکی ہے یعنی خدا وندا استقامت اور ثبات قدمی کے زیر سایہ ہمیںکفار پر فتح عطا فرما ”فھزموہم باذن اللہ و قتل داو ٴد جالوت “ اس آیت مین طالوت کی رہبری اور کمان میں بنی اسرائیل کی جالوت جیسے ظالم اور اسکے طاقتور لشکر سے جنگ کے آخری مرحلے کو بیان کیا گیا ہے جالوت کا لشکر آکر کار شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا خود جالوت بھی حضرت طالوت کے لشکر کے ایک شخص داو ٴد کے ہاتھوں قتل ہو گیا داو ٴ د کے ہاتھوں جالوت کے قتل کی تفصیلات گذشتہ اوراق میں بیان کی جا چکی ہے زیر نظر آیت میںیہ صراحت موجود نہیں ہے کہ یہ داوٴد وہی پیغمبر ہیں جو حضرت سلیمان کے والدِ گرامی ہیں یا کوئی اور شخص ہے لیکن اس آیت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مقام نبوّت کے حامل ہوئے آیت کا اگلا حصہ یہ ہے ”واٰتٰہ اللہ الملک والحکمة و علّمہ مما یشاء“ یعنی خدا نے اسے حکومت اور علم عطا کیا اور جو کچھ وہ چاہتا تھا اسے سکھاےا ایسی تعبیر عام طور سے انبیاء کے متعلق ہی ہوتی ہے سورہٴ آیہ ۲۰ میں حضرت داوٴد پیغمبر کے بارے میں ہے ”و شددنا ملکہ و اٰتیناہ الحکمة“ اور ہم نے اس کی حکومت کو مظبوط کردیا اور علم و دانش عطا کیا اس آیت کے ذیل میں جو احادیث منقول ہیں ان سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ وہی مشہور پیغمبر حضرت داوٴد تھے ضمناً”علمہ مما یشاء “ (جو علوم خدا چاہتا تھا اسے سکھاے ٴ )سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء و مرسلین کے علوم اور حکمتیں اس محدود مقدار کی حامل ہوتی ہیں جس کا خدا ارادہ کرتا ہے اگرچہ انکے علم و دانش کا دائیرہ بہت ہی وسیع ہوتا ہے پھر بھی وہ اس مقدار میں ہوتا جو خدا چاہتا ہے تنازع بقا کا مفروضہ ”و لولا دفع اللہ الّناس بعضھم ببعض لفسدت الارض “ اس طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ یہ آیت بنی اسرائیل کے موئمنین کی ایک جماعت ہاتھوں ظالم جالوت اور اسکی فوج کی شکست کے بعد آئی ہے ، تفسیر خود باخود واضح ہو جاتی ہے کیونکہ اگر خدا وند عالم بعض اوقات صاحب ایمان و استقامت لوگوں کے ذریعےستمگروں اور ظالموں کی سر کوبی نہ کرے تو ممکن ہے وہ تمام روے ٴ زمین قدرت حاصل کر لیں پروردگار عالم کی سنت تو یہ ہے کہ دنیا میں ارادہ و اختیار کی آزادی ہو اور لوگ خیر و شر کا راستہ اختیار کرنے میں اازاد ہوں ، لیکن جب ستمگروں کی سر کشی عمومی تباہی کا باعث بن رہی ہو تو خدا اپنے بندوں میں سے کسی ایک گروہ کی مدد کرتا ہے جو راہ سر کشی کو روک دیتے ہیں اور یہ پروردگارعالم کا اپنے بندوں پر ایک لطف و کرم ہے اس جملے کی نظیر سورہ ٴ حج آیت ۴۰ میں موجود ہے ارشاد ہوتا ہے : ” و لولا دفع اللہ الّناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع و بیع و صلوات ومساجد“ اگر خدا اپنے بعض بندوں کے ذریعے اپنے بعض دوسروں کو دفع نہ کرے تو گرجے،کلیسے ،یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں ویران ہو جائیں جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بعض لوگوں کے گمان کے بر خلاف ایت تنازع بقا سے کو مطلب نہیں رکھتی انکا خیال ہے کہ محل بحث آیت کہتی ہے کہ انسانوں میں ہمیشہ جنگ و جدال رہنا چاہئے اور اگر ایسا نہ ہوا تو جمود ،سستی اور فساد پوری زمین کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور نسل انسانی تنزل کا شکار ہو جاے ٴگی لیکن نزاع اور دائمی جنگ و جدل کے باعث زیادہ طاقتور باقی رہ جاتے ہیں اور کمزور پامال ہو کر ختم ہو جاتے ہیں اور یوں زیادہ صلاحیت رکھنے والا منتخب ہو جاتا ہے جسے انتخاب اصلح کہتے ہیں لیکن یہ تفسیر اس صورت میں ہی ممکن ہے ہم آیت کو اس کے ماقبل سے بلکل منقطع کر دیں اور اسکی مشابہ سورہ ٴ حج کی آیت سے بھی صرف نظر کر لیں لیکن اگر ان پر توجہ رکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ظالم اور سرکش لوگوں سے جنگ کے بارے میں ہے اور ان میں اصولی طور پر جنگ کو مقدس و محترم قرار نہیں دیا گیا علاوہ ازیں تنازع بقا کے نام سے جو کچھ کہا جاتا ہے اور جو ڈارون کے چیزوں کے تکامل و ارتقاء کے چار یادگار اصولوں میں شمار ہوتا ہے وہ کوئی مسلمہ علمی قانون نہیں ہے بلکہ ایک باطل شدہ مفروضہ ہے یہاں تک کہ تکامل انواع کہ حامی بھی دنیا میں تکامل بقاء کے قانون کا ہر گز سہارا نہیں لیتے اور جانوروں کے تکامل کو طبیعت اور خلقت کے قانون سے مربوط سمجھتے ہیں (مزید وضاحت کے لئے آخرین فریضہ ہائے تکامل “کا مطالعہ فرمائیں ) انتمام چیزوں سے قطع نظر اگر تنازع بقاء کے مفروضے کی کوئی علمی بنیاد تسلیم کر لی جاے ٴ تب بھی اس سے صرف جانوروں کی زندگی سلسلے میں استفادہ کیا جاسکتا ہے لیکن اسے انسانی زندگی کی بنیاد ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ انسانی تکامل و ارتقاء تعاون بقاء کے ذریعے ہے نہ کہ تناذع بقاء کے زیر سایہ اس طرح واضح ہوتا ہے کہ تنازع بقاء کے مفروضے میں نوع انسانی کو بھی شامل کرنا ایک طرح کی استعماریاور سامراجی طرز فکر ہے سرمایہ داری کہ بعض حامی اپنی خونی جنگوں اور نفرت انگیز حکومتوں کی توجیح اس طرز فکر سے کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جنگ و جدل کو ایک فطری تقاضے اور انسانی معاشروں کی ترقی کے زینے کے طور پر متعارف کرائیں اور اپنے جرائم کوایک علمی لبادہ اڑھادیں لہٰذا جن لوگوں نے ان کے انسان دشمن افکار کے زیر اثر زیر بحث آیت کو انکی فکر پر منطبق کیا وہ یقینی طور پر قرآنی تعلیمات سے بہت دور چلے گئے کیو نکہ قرآن صراحت سے کہتا ہے : ”یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِی السِّلْمِ کَافَّةً“(بقرہ آیت۸۰۲) اے ایمان والو !سب کے سب صلح سلامتی میں داخل ہو جاو ٴ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : ”ولٰکن اللہ ذو فضل علیٰ العالمین “ خدا عالمین پر لطف و رحمت کی نظر رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ روئے زمین فساد و بربادی کے پھیلنے اور لوگوں کو اس کی لپیٹ میں آنے سے روکتا ہے ”تلک اٰیات اللہ نتلو ھا علیک بالحق و انّک لمن المرسلین “ ہر آیت میں بنی اسرائیل کے بارے بیان کئے گئے متعدد واقعات کی طرف اشارہ موجود ہے ان میں سے ہر واقعہ پروردگار کی قدرت و عظمت کی نشانی ہے اور یہ واقعات خرافات اور ہر افسانوی رنگ سے پاک ہو کر پیغمبر اسلام پر نازل ہوے ٴ اور یہ بذات خود پیغمبر اکرم کی سچّائی اور نبوت پر اک علامت ہے و انک لمن المرسلین ۲۵۳۔ تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنا بَعْضَہُمْ عَلی بَعْضٍ مِنْہُمْ مَنْ کَلَّمَ اللَّہُ وَ رَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجاتٍ وَ آتَیْنا عیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّناتِ وَ اٴَیَّدْناہُ بِرُوحِ الْقُدُسِ وَ لَوْ شاء َ اللَّہُ مَا اقْتَتَلَ الَّذینَ مِنْ بَعْدِہِمْ مِنْ بَعْدِ ما جاء َتْہُمُ الْبَیِّناتُ وَ لکِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْہُمْ مَنْ آمَنَ وَ مِنْہُمْ مَنْ کَفَرَ وَ لَوْ شاء َ اللَّہُ مَا اقْتَتَلُوا وَ لکِنَّ اللَّہَ یَفْعَلُ ما یُریدُ ترجمہ ۲۵۳۔ان بعض رسولوں کوب ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے بعض نے خدا سے (براہ راست) گفتگو کی ہے اور بعض کو برتر درجات عطا کئے ہیں اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے واضح نشانیاں دی ہیں اور انکی تائید ہم نے روح القدس کے ذریعے کی ( لیکن کسی پیغمبر کے مقام کی فضیلت سے امّتو کا اختلاف ختم نہ ہوا )اگر خدا چاہتا ان پیغمبروں کے بعد آنے والے لوگ واضھ نشانیاں آجانے کے بعد ایک دوسرے سے جنگ و جدال نہ کرتے ( لیکن خدا لوگوں کو مجبور نہیئں کیا کرتا اور انہیں راہ سعادت اختیار کرنے کے لیے آزاد رہنے دیتا ہے )مگر ان امّتوں نے آپس میں اختلاف کیا بعض ایمان لے آے ٴ اور بعض کافر ہو گئے( اور جنگ و جدال اور اختلاف کے در پے ہو گئے )پھر بھی اگر خدا چاہتا تو وہ آپس میں جنگ نہ کرتے لیکن خدا جو چاہتا ہے اھکمت کی بناء پر انجام دیتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:246-252
پیغمبران خدا کی عظمت اور بلند مقام کی طرف اشارہ ہے
تِلْک اشارہٴ بعید کے لئے ہے لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کبھی کسی شخص یا چیز کے احترام کے لئے اس کی حیثیت اور مقام کو مد نظر رکھتے ہو ے ٴ اشارہ ٴ بعید استعمال کیاجاتا ہے یہاں بھی ”رسل“سے پہلے ”تلک “پیغمبران خدا کی عظمت اور بلند مقام کی طرف اشارہ ہے ”رسل“ سے مراد یہاں تمام پیغمبران اور مرسلین ہیں یا وہ پیغمبر مراد ہیں جنکا ذکر اسی سورہ کی گذشتہ آیات میں آچکا ہے یا جنکے واقعات کی طرف اشارہ ہو چکا ہے مچلاً ابراہیم ،موسیٰ عیسیٰ ،داوٴد اور اشموئیل یہ بھی ممنک ہے کہ اس سے مراد وہ تمام رسول جنکے نام قرآن میں اس آیت کے نزول سے پہلے آچکے تھے اس سلسلے سے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن زیادہ تر یہی معلوم ہوتا کہ اس سے تمام پیغمبرمراد ہیں کیونکہ اصطلاحی طور پر لفظ ”الرّسل “ جمع محلی باللام ہے جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے لہٰذا سب رسولوں کے لئے ہے ”فَضَّلْنا بَعْضَہُمْ عَلی بَعْضٍ “ یہ جملہ وضاحت کرتا ہے کہ اگر چہ نبوت اور رسالت کے لحاظ سے تمام پیغمبر ایک دوسرے کی مثل و نظیر ہیں لیکن مقام و منزلت میں یکسان نہیں ہیں کیو نکہ انکی ذمہ داریاں مختلف تھیں فداکار تو وہ سب تھے لیکن انکی فداکاری درجات مختلف ہیں اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ ان میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ”منہم من کلّم اللہ موسیٰ تکلیماً“ اس جملے میں پیغمبروں کے بعض فضائیل کی طرف ازارہ کرتے ہوے ٴ فرامایا گیا ہے کہ خدا نے ان سے بعض کے ساتھ گفتگو کی ہے واضحہے کہ اس سے مراد حضرت موسیٰ ہیں چونکہ وہی ایسی شخصیت ہی جو کلیم اللہ کے نام سے مشہور ہیں سور ٴ نساء آیت ۱۶۴میں انکے بارے میں ہے ”وکلّم اللہ موسیٰ تکلیماً“ یہ خذ کرنا بہت بعید ہے کہ اس سے مراد پیغمبر اسلام ہیں اور (سورہ ٴ شوریٰ آیت ۵۱کے قرینے سے )اس تکلم سے مراد وحی ہی ہے ”و رفع بعضہم درجٰت اس جملے میں بعض پیغمبروں کی درجے اور مرتبے کے اعتبار سے فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے آیت کی ابتدا میں ہیغمبروں کے درجات کے فرق کو بیان کیا گیا ہے اس بات کو سامنے رکھتے ہو ے ٴ کہا جا سکتا ہے کہ زیر نظر جملے سے مراد ایک یا کئی مخسوص افراد ہیں جنکا کامل نمونہ پیغمبر اسلام ہیں کیونکہ آپ کی زات بابرکات ایسی ہے جس کا لایا ہوا دین وائین آخری اور کامل ترین تھا جسکی رسالت کامل ترین دین ی تبلیغ کے لئے ہے اسے خود سب سے برتر ہونا چاہئے اورخصوصاً یہ کہ قرآن انکے بارے میں کہتا ہے ”و جئنا بک ھٰؤلاء شھیداً“ قیامت کے دن ہر پیغمبر اپنی امت پر گواہ ے اور تم تمام پیغمبروں پر گواہ ہو (نساء۴۱) یہ آیت بھی مذکورہ موقف کی درستی پر دلالت کرتی ہے گذشتہ جملے میں چونکہ حضرت موسیٰ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بعد کا جملہ حضرت عیسیٰ کے مقام و منزلت کی صراحت کرتا ہے ،لہٰذا بحچ کی مناسبت سے یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ جملہ بھی پیغنبر اسلام کی عظمت کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ یہ تینوں پیغمبر عالمی مذاہب کے پیشوا ہیں اور اگر پیغمبر اسلام کا ذکر ان دونوں کے درمیان آیا ہے تو یہ کوئی تعجّب کی بات نہیں ہے کیونکہ آپ ہی کا دین دیگر ادیان کے لئے حد وسط ہے اور اس میں ہر چیز اعتدال کے ساتھ موجود ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے : و کذالک جعلنا کم امّة وسطاً “ اور اس طرح ہم نے تمہیں امت وسط قرار دیا (بقرہ۱۴۳) ان تمام چیزوں کے باوجود آیت کے آئیندہ جملے نشاندہی کرتے ہیں کہ ”و رفع بعضہم درجٰت “ سے مراد بعض گذشتہ پیغمبر مثلاً حضرت ابراہیم ،حضرت نوح اور بعض دیگر ہیں کیونکہ بعد میں فرمایا گیا ہے : ”و لو شاء اللہ ما اقتتل الذین من بعدہم “ یعنی : اگر خدا چاہتا تو ان پیغمبروں کی امّتیں ان کے بعد میں آپس میں جنگ و جدال نہ کرتیں ۔ اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ جملے سابق پیغمبروں کے بارے میں ہیں ”و اٰتیناہ عیسیٰ ابن مریم البینات و ایّد ناہ بروح القدس “ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے عیسیٰ کو واضح نشانیاں دیں مثلاً نا قابل علاج بیماروں کو شفا دینا مردوں کو زندہ کرنا ، اعلیٰ مذہبی معارف اور روح القدس کے ذریعے انہیں تائید و تقویت بخشی اس بارے میں سورہ ٴ آیت ۸۷ میں بحث ہو چکی ہے کہ روح القدس سے مراد وحی الٰہی پہچانے والے جبرئیل ہیں یا کوئی مخفی معنوی قوّت جو تمام موئمنین میں مختلف درجہ پر موجود ہے ’و لو شاء اللہ ما اقتتل الذین من بعدہم من بعد ما جائتہم البیّنات یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ پیغمبروں کی عظمت ان پیرو کارو ں کے درمیان اختلاف میں رکاوٹ کا سبب نہیں بنی کیونکہ خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے تکامل و ارتقاء کے لئے ضروری ہے کہ انسان حق و فضیلت کے راستے کو اپنے ارادے سے طے کرے اگر خدا چاہتا تو اس میں کوئی رکاوٹ نہ تھی کہ انسان کو حیوانات کی طرح خاص عزائز و طبائع کے ساتھ پیدا کرتا اور انکے زیر اثر وہ انبیاء کی پیروی کرتا اور صلح صفائی سے رہتا لیکن یہ مسلم ہے کہ ان پیغمبروں کی پیروی کرنا یا صلح و آشتی سے رہنا اور جنگ و جدال سے بچنا فضیلت و فخر کا باعث نہ ہوتا کیو نکہ اس میں جبر و اکراہ کا پہلو پایا جاتا ہے ”ولٰکن اختلفوا فمنھم من اٰمن و منھم من کفر “ اس اختلاف کا سر چشمہ خود لوگ ہی تھے ورنہ انبیاء و مرسلین میں تو کوئی اختلاف نہ تھا ۔ان سب کا تو ایک ہی ہدف اور مقصد تھا ہوا یہ کہ بعض افراد انکی تعلیمات پر ایمان لے اے ٴ اور بعض افرادنے مخالفت کی اور یہ امر اختلافات کا باعث بنا ”ولو شاء اللہ ما اقتتلو اولٰکن اللہ یفعل مایرید “ دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ یہ کام خدا کے کے لئے آسان تھا کہ جبری طور پر اختلافات کو ختم کر دیتا لیکن خدا اپنے ارادے کے مطابق امور انجام دیتا ہے اور خدا کا ارداہ حکمت اور تکامل انسانی سے ہم آہنگ ہے اس نے انسان کو آزاد اور مختار قرار دیا ہے اگر چہ بعض لوگ اس آزادی سے غلط فائیدہ اٹھاتے ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:246-252
ایک عبرت خیز واقعہ
خداے بزرگ و برتر ان آےات میں ایک عبرتناک واقعہ بیان کرتا ہے اس میں بنی اسرائیل کے اک گروہ کی سر گذشت بیان کی گیی ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد وقوع پزیر ہوییٴ جہاد اور حریم دین خدا یعنی حریم انسانیت کے دفاع کا یہ تزکرہ مسلمانوں کی عبرت کے لیے ہے آیات کی تفسیر سے قبل ہم اس داستان کو بیان کرتے ہیں ایک عبرت خیز واقعہ اہل فرعون کے زیر اثر رہ کر بنی اسراییٴل کمزور و ناتواں ہو چکے تھے حضر رت موسیٰ کی دانشمندانہ رہبری کے نتیجہ میں انہیں اس افسوسناک حالت سے نجات ملی اور انہوں نے قدرت و عظمت حاصل کر لی اس پیغمبر کی بر کت سے خدا نے انہیں بہت سی نعمات سے نوازا ان نعمات میں سے ایک صندوق عہد( ۱)بھی تھا یہودی اپنے لشکر کے آگے اسے اٹھاے ٴ رکھتے تھے اس اسے یک طرح ان میں سکون قلباور رتوحانیء طاقت پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل کو یہ قدرت و عظمت حضرت موسیٰ کے بود ایک مدت تک حاصل رہی لیکن یہی کامیابیاں اور نعمتیں رفتہ رفتہ ان کے غرور و تکبّر کا باعث بن گییٴںاور وہ قانون شکنی کرنے لگے اسکے نتیجے میں انہیں فلسطینیوں کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی وہ اپنی قدرت و عظمت کھوبیٹھے اور صندوق عہد بھی گنوا بیٹھے پھر اس قدر پراکندگی اور اختلاف کا شکار ہوے ٴ کہ چھوٹے سے چھوٹے دشمن سے بھی دفاع کے قابل نہ رہے یہا ں تک کے دشمنوں نے انکے بہت سے لوگوں کو انکی سر زمین سے نکال دیا اور انکی اولاد کو غلام اور قیدی بنا لیا کیٴ برس تک یہ کیفیت رہی یہاں تک کہ خدا وند عالم نے انکی نجات اور ارشاد و ہدایت کے لیے ھضرت اشموییٴل کو پیغمبر بنا کر مبعوثفرماےا بنی اسراییٴل بھی دشمنوں کے ظلم و جور سے تنگ آ چکے تھے اور کسی پناہ گاہ کی تلاش میں تھے لہٰذا نکے گرد جمع ہو گیے اور ان سے خواہش کی کہ وہ انکے لیے کوییٴ رہبر امیر مقرر کر دیں تاکہ وہ اسکی قیادت میں ہم آواز اور ایک جان ہو کر دشمن سے جنگ کریں اور عذت رفتہ بحال ہو سکے اشموئیل انکی اندرونی کیفیات اور سست ہمّتی سے پوری طرح واقف تھے انہوں نے کہا مجھے ڈر ہے جب جہاد کا حکم آے ٴ تو تم کہیں امیر کے حکم سے رو گردانی نہ کرو اور دشمن سے مقابلے اور پہلو تہی نہ کرو وہ کہنے لگے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم امیر کے حکم سے منہ پھیر لیں اور اپنی ذمہ داری بنبھانے سے دریغ کریں حالنکہ دشمن مہیں ہمارے وطن سے نکال چکا ہے ہماری زمینوں پر قبضہ کر چکا ہے اور ہماری اولاد کو قیدی بنا کر لے گیا ہے حضرت اشموئیل نے دیکھا کہ وہ اپنی بیماری کی تشخیص کھو چکے ہیں اس پر ھجرت اشموییٴل نے بار گاہ الٰہی کا رخ کیا اور قوم کی خواہش کو اسکے حضور پیش کیا وحی ہویی ٴ میں نے طالوت کو انکی سر براہی کے لیے منتخب کیا ہے حضرت اشموئیل نے عرض کیا : خدا وندا !میں ابھی تک طالوت کو دیکھا ہے نہ پہچانتا ہوں ارشاد ہوا: ہم اسے تمہاری طرف بھیجیں گے جب وہ تمہارے پاس آے ٴ تو فوج کی کمان اسکے حوالے کر دینا اور علم جہاد اسکے ہاتھ میں دے دینا (۱)بہت جلد صندوق عہد اسکی تاریخ اور اس میں موجود چیزوں کے بارے میں بحث کریں گے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:246-252
طالوت کون تھے
طالوت ایک بلند قامت ،تنومند اور خوبصورت مرد تھے وہ مضبوط اور قوی اعصاب کے مالک تھے روحانی طور پر بھی بہت ہی زیرک اور دانشمند اور صاحب تدبّر تھے بعض لوگوں نے انکے نام طالوت کو بھی ان کے طولانی قد کا سبب قرار دیا ہے ان تمام صفات کے با وجود مشہور نہیں تھے اپنی والد کے ساتھ دریا کے کنارے ایک بستی میں رہتے تھے والد کے چوپایوں کو چراتھے اور زراعت کرتے تھے ایک دن کچھ جانور بیابان میں گم ہو گیے طالوت اپنے دوست کے ساتھ کیی دن تک انکی تلاش میں سر گرداں رہے انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ شہر صوف کے قریب پہنچ گیے انکے دوست نے کہا ہم تو اشموئیل کے شہر صوف میں آپہنچے ہیں آیے انکے پاس چلتے ہیں شاید وحی کے سایہ میں اور انکی راے ٴ کی رو شنی میں ہمیں کچھ پتہ چل سکے شہر میں داخل ہوے ٴ تو حضرت اشموئیل سے ملاقات ہو گیی جب اشموییٴل؛ اور طالوت نے ایک دوسرے کو دیکھا تو گویا دل مل گیے اشموئیل نے اسی لمحہ طالوت کو پہچان لیا وہ جان گیے کہ یہ وہی نو جوان ہے جسے خدا نے ان لو گوں کی قیادت کے لیے منتخب کیا ہے طالوت نے اپنی کہانی سنایی ٴ تو اشموئیل کہنے لگے وہ چو پاے تو تو اس وقت تمہاری بستی کی راہ پر ہیں اور تمہارے باپ کے باغ کی طرف جا رہے ہیں ان کے بارے میں فکر نہ کرو ․مین تمہیں اس سے کہیں بڑے کام کی دعوت دیتا ہوں خدا نے تمہین بنی اسرائیل کی نجات کے لیے مامور کیا ہے طالوت پہلے تو اس پرو گرام پر حیران ہوے ٴ اور پھر اسے سعادت سمجھتے ہو ے ٴ قبول کر لیا اشموییٴل نے اپنی قوم سے کہا خدا نے ےالوت کو تمہاری قیادت سونپی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ تم اس کی پیروی کرو اب اپنے تئیں دشمن سے مقابلے کے لیے تیار کر لو بنی اسرائیل کے نذدیک تو حسب ونسب اور ثروت کے حوالے سے کیی خصوصیات فرمانروا کے لیے ضروری تھیں اور انمیں سے کویی چیز بھی طالوت میں دکھایی نہ دیتی تھی اس انتخاب و تقرر پر وہ بہت حیران و پریشان ہو گیے ٴ انہوں نے دیکا کہ انکے عقیدہ کے بر خلاف وہ نہ تو لاوی کی اولاد میں سے تھے جن میں سے نبی ہوتے تھے نہ یوسف اور یہودا کے خاندان سے تھے جو گذشتہ زمانے مین حکومت کرتے تھے ب؛لکہ انکا تعلّق تو بنیامین کے گمنام خاندان سے تھا اور پھر وہ مالی طور پر بھی تہی دست تھے انہوں نے اعتراض کیا وہ کیسے حکومت کر سکتا ہے جب کہ ہم اس سے زیادہ حقدار ہیں اشموییٴل سمجھتے تھے کہ وہ بہت اشتباہ کر رہے ہیں کہنے لگے : انہیں خدا نے تم پر امیر مقرر کیا ہے نیز قیادت کے لیے ان کی اہلیت اور لیاقت کی دلیل یہ ہے کہ وہ جسمانی طور پر زیادہ طاقت ور ہیں اور روحانی طاقت میں بھی سب سے بڑھ کر ہیں اس لحاظ سے وہ تم میں سب پر برتری رکھتے ہیں بنی اسراییٴل نے خدا کی طعف سے اسکے تقرر کے لیے کسی علامت یا نشانی کا مطالبہ کر دیا اس پر اشموییٴل بولے انبیا ء بنی اسراییٴل کی ہم یاد گار تابوت (صندوق عہد)جو جنگ میں تمہارے لیے اطمینان اور ولولے کا باعث تھا تمہارے پاس لوٹ آے ٴگا اور اسے تمہارے آگے چند فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ صندوق عہد انکے سامنے آگیا یہ نشانی دیکھ کر انہوں نے طالوت کی سر براہی قبول کر لی طالوت نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی طالوت نے لشکر کی قیادت کا بیڑا اٹھایا ،انہوں نے تھوڑی ہی مدّت میں امور سلظنت کی انجام دہی اور فوج کی تنظیم نو کے سلسلے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔پھر آپ نے فوج کو دشمن سے مقابلے کی دعوت دی دشمن نے انکی ہر چیز کو خطرے سے دوچار کر رکھا تھا طالوت نے تاکید کرتے ہوے ٴ کہا :میرے ساتھ وہ لوگ چلیں جسکی ساری توجہ جہاد پر مرکوز رہ سکے جنکی صھت ناقص ہو اور جو درمیان ہی میں ہی ہمّت ہار بیٹھنے والے ہوں اس جنگ میں شرکت نہ کریں بہت جلد ظاہراً ایک کثیر تعداد اور طاقتور فوج جمع ہو گئی اور وہ دشمن کی طرف چل پڑے سورج کی تپش تھی گرمی میں چلتے چلتے انہیں سخت پیاس لگ گییطالوت خدا کے حکم سے انہیں آزمانا چاہتے تھے اور انکی تطہیر بھی کرنا چاہتے تھے انہون نے کہا :جلد تمہارے راستے میں ایک نہر آے ٴگی اسکے ذریعہ خدا تمہارا امتحان لے گا جو لوگ اسمیں سے سیر ہو کر پانی پیے نگے انکا مجھ سے کو یی تعلّق نہیں البتہ جو تھوڑا سا پانی پیے نگے وہ میرے ساتھی ہیں انکی نطر نہر پر پڑی تو بہت خوش ہوے ٴ جلدی سے وہاں پہنچے اور خوب سیر ہو کر پانی پیا تھوڑے سے فوجی اپنے عہد و پیمان پر قایم رہے طالوت نے دیکھا کہ انکی فوج کی اکثریت بے ارادہ اور کمزور عہدو پیمان کی حامل ہے اور اسمیں تھوڑے سے صاحب ایان افراد موجود ہیں انہوں نے بے قاعدہ اور نا فرمان اکثریت کو چھوڑ دیا اور انہی کم تعداد صاحب ایمان کو ساتھ لیا اور شہر سے گزر کر میدان جہاد کی طرف پیش قدمی جاری رکھی طالوت ک فوج نے اپنی کم تعداد دیکھی تو پریشان اور وحشت زدہ ہویی ٴ فوجیوں نے ان سے کہا ہم میں تو اس طاقتور فوج کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں لیکن کچھ ایسے بھی تھے جنکا دل خدا کی محبّت سے معمور تھا وہ دشمن کی فوجی قوت اور کثرت اور اپنی تھوڑی تعداد پر ہراساں نہ ہو ے ٴ اور کمال شجاعت سے طالوت سے کہنے لگے آپ جو مصلحت سمجھتے ہیں حکم دیجیے ٴ ہم ہر مقام پر آپ کا ساتھ دیں گے اور انشاء اللہ کم تعداد کے باوجود دشمن سے جہاد کریں گے کیو نکہ یہ تو کیی ٴ مرتبہ ہو چکا ہے کہ کم تعداد خدا کے ارادہ اور مشیّت کے سہارے کثیر تعداد پر غالب آ یی ٴ ہے اور خدا استقامت اور پا مردی دکھانے والوں کے ساتھ ہے طالوت ان کم تعداد اہل ایمان مجاہدین کے ساتھ آمادہٴ کار زار ہو ے ٴ ان لوگوں نے درگاہ الٰہی سے شکیبایی ٴ اور کامیابی کی دعا کی جنگ کی آگ بھڑک اٹھی جالوت اپنا لشکر لے کر باہر نکلا لشکروں کے مابین مبارز طلبی ہویی ٴ اسکی با رعب پکار نے دلوں کو لرزا دیا میدان میں جانے کی جرئت کسی میں نہ رہی داوٴد ایک کم سن نو جوان تھا شاید وہ جنگ کے لیے بھی میدان میں نہ آیا تھا بلکہ اپنے جنگجو بڑے بھاییٴون اور باپ کی خدمت کے ل؛یے چلا آیا تھا لیکن چا ک و چوبند اور قوی تھا خلدخن اسکے ہاتھ میں تھی اسکے ذریعہ اسنے دو پتھر ایسے ماہرانہ انداز میں پھینکے کہ ٹھیک جالوت کی پیشانی اور سر میں پیوست ہو گیے ٴ اسکے سپاہیوں پر وحشت اور تعجّب کا عالم طاری تھا وہ انکے درمیان گرا اور مر گیا جالوت کے قتل سے اسکی فوج میں عجیب خو ف و ہراس پیدا ہو گیا جالوت کا لشکر بھاگ کھڑا ہوا اور بنی اسراییٴل کامیاب اور کامران ہو گے ٴ (۱) الم تر الی ٰ الملاء من بنی اسرائیل لغت میں ملاء اس چیز کو کہتے ہیں جس سے آنکھ بھر جاے ٴ اور دیکھنے والے کے تعجّب کو بر انگیختہ کر دے اس لیے زیادہ جمعیت کو جو ہم راے ٴ اور ہم عقیدہ ہو ملاء کہتے ہیں نیز ہر قوم و ملّت کے بزرگو ں کو بھی ملاء کہتے ہیں کیونکہ وہ ایک خاص مقام اور منزلت کے حامل ہونے کی وجہ سے دیکھنے والے کی آنکھ کو بھر دیتے ہیں جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے کہ یہ آیرت بنی اسراییٴل کی ایک بڑی جمعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے ان لو گوں نے بیک آواز اپنے پیغمبر سے امیر و رہبر کا تقاضا کیا تاکہ اسکی قیادت میں جالوت کا مقابلہ کر سکیں جسنے انکی دینی اقتصادی اور اجتماعی حیثیت کو معرض خطر مین ڈال رکھا تھا یہ واقعہ حضرت موسیٰ کے بعد رونما ہوا فی سبیل اللہ بنی اسرائیل اس دشمن کے تجاوز اور زیادتی سے نجات چاہتے تھے جس نے انہیں انکی سر زمین سے نکال دیا تھا اسکے لیے وہ آمادہٴ جنگ تھے اسکے باوجود اس پرو گرام کو فی سبیل اللہ قرار دیا گیاتھا اس واضھ ہوتا ہے کہ انسانوں کی آزادی ، طلم کی سر کوبی اور تجاوز سے نجات کے لیے مدد گار ثابت ہو سکے وہ فی سبیل اللہ میں شمار ہوتی ہے قال ھل عسیتم ان کتب علیکم القتال الا تقاتلو ا ان کے پیغمبر چونکہ انکی سستی اور کاہلی سے واقف تھے اس لیے کہنے لگے ممکن جب تمہیں جہاد کا حکم دیا جاے ٴ تو تم عمل نہ کرو قالو وما لنا الا نقاتل فی سبیل اللہ و قد اضرجنا من دیارنا و ابنایٴنا وہ کہنے لگے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم دشمن کے ساتھ جنگ سے روگردانی کریں حالنکہ اسنے ہمیں ہمارے شہر سے باہر نکال دیا ہے اور ہمارے بچوں کو ہم سے جدا کر دیا ہے r اسی طرح ان سے پیمان ِ وفاداری لیا گیا لیکن خدا کا نام اسکا فرمان اپنے وجود اور استقلال کی حفاظت کا تقاضا اور اولادکی آزادی کی خواہش کو یی ٴ چیز بھی انہیں عہد شکنی سے نہ روک سکی اس لیے قرآن نے ساتھ ہی یہ فرامایا ہے : فلماّکتب علیہم القتال تولو ّالا قلیلاًمنہم یعنی جب ان پر جہاد فرض ہوا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب لوگ روگرداں ہو گیے ٴ اور انکے قائد نے ایک قلیل سی گوفوج لیکر جنگ کے عظیم میدان میں شرکت کی واللہ علیم با الظّالمین خدا ان ظالموں کو جانتا ہے جنہوں نے اپنے آپ پر ،معاشرے پر آنے والی نسلوں پر اور اپنی اولاد پر ظلم کیا ہے انکے حسب حال سزا اب انکا نتظار کر رہی ہے و قال لہم نبیہم ان ّاللہ قد بعث لکم طالوت ملکاً اس آیت کے مطابق بنی اسراییٴل کے لشکر کی باد شاہی اور سر براہی کے لیے خدا تعالیٰ نے طالوت کو منتخب کیا تھا اور شاید بعث کا لفظ اسی طرف اشارہ ہو جو کچھ اس واقعہ کی تفسیل میں بیان کیا گیا ہے یعنی غیر متوقع صورت حال کی وجہ سے طالوت پیغمبر کی کجلس تک آ پہنچے ضمنی طور پر آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ طالوت فقط لشکر کے کمانڈر ہی نہ تھے ملک کے حکمران بھی تھے قالو ا انی یکون لہ الملک علینا و نحن احق بالملک منہ ولم یو ٴت سعة من المال بنی اسراییٴل کی طرف سے یہ پہلی عہد شکنی ہے کہ انہون کہ اپنے پیغمبر کے سامنے طالوت کے انتخاب کے بارے میں اعتراض کیا حالانکہ وہ تصریح کر چکے تھے کہ یہ چناوٴ خاد کی طرف سے ہے لیکن وہ خدا کے انتخاب پر اعراض کرنے سے بھی نہ چوکے اور کہنے لگے ہم اس سے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ عالی نسبی اور فراوان دولت تو ہمارے پاس ہے جو حکمرانی دو لازمی شرطیں ہیں جیسا کہ ہم اس واقعے کی تفصیل میں دیکھ چکے ہیں کہ طالوت بنی اسرائیل کے ایک گمنام قبیلہ سے تعّق رکھتے تھے اور مالی طور پر ایک عام زراعت پیشہ شخص سے زیادہ حیثیت نہ رکھے تھے (۱)مجمع البیان ، تفسیر الدّر المنثور ،قصص قرآن سے اقتباس کی تلخیص
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:246-252
قیادت کی شرایط
اس زمانے کے پیغمبر نے معترضین کو جو دندان شکن جواب دیا قرآن اسے یوں بیان کیا ہے :خدا نے اسے تم پر حکمرانی کی خاطر اس لیے چنا ہے کہ وہ دانایی ٴ و مرادنگی اور علم سے مالا مال ہے اور جسمانی طاقت کے لحاظ سے قوی اور صاحب قدرت ہے یعنی تم اشتباہ کا شکار ہو اور رہبری کی بنیادی شرایٴط بھولے بیٹھے ہو اس طرح قرآن نے قیادت کے لیے پیشکردہ ان کی شرایٴط کی نفی کر دی کیونکہ انکی پیش کردہ دونوں شرایٴط میں سے کویی ٴ بھی حقیقی امتیاز اور خصوصیت نہیں کہلا سکتی ااباء و اجداد کی شخصیت اور دولت و ثروت دونو اعتباری اور خارج از زات امتیازات ہیں لیکن علم و دانش اور جسمانی طاقت ذات میں داخل امتیازات اور خصوصیات ہیں رہبر اپنے عل و دانش سے معاشرہ کے لیے راہ سعادت کی نشاندہی کرتا ہے اور اسکے لیے اصول بتلاتا ہے نیز اپنی طاقت اور قوّت کے ذریعے اسکے اجرا ء کا اہتمام بھی کرتا ہے اسی لیے تو فرمایا گیا ہے ان اللہ الصطفٰہ علیکم وزادہ بسطة فی العلم والجسم بسطةجس کے معنی وسعت ہے ضمنی طور پر علم و قدرت کے ساے ٴ میں انسانی وجود کی وسعت کی طرف اشارہ یعنی علم ودانش اور فرزانگی نیز جسمانی قد رت و طاقت وجود ہستی کے اعتبار سے انسان میں وسعت پیدا کرتی ہے اور جوں جوں یہ صفات وسیع ہوتے ہیں وجود ہستی میں بھی وسعت پیدا ہو تی رہتی ہے وللہ یو ٴتی ملکہ من یشائ ممکن ہے ی جملہ رہبری کین تیسری شرط کی طرف اشارہ ہو جو یہ ہے کہ رہبر کے لیے مختلف اسباب و ذرایع کی فراہمی بھی درکار ہے کیونکہ ممکن ہے رہنر علم و دانش سے کاملاً مالامال ہو لیکن اسکا سابقہ ایسے حالات و اوقات سے ہو جو اسکے مقدس مقاصد کے لیے سازگار نہ ہو ںیہ طے شدہ بات ہے کہ ایسی رہبری واضح کامیابی حاصل نہیں کر سکتی قرآن کہتا ہے کہ حکومت ِ الٰہی جسے خدا چاہتا ہے بخش دیتا ہے یعنی اس ماحول کے لیے جو وسایٴل و ذرایع ضروری ہوںوہ اسکے لیے فراہم کر دیتا ہے وللہ واسع علیم یعنی خدا ایک لا متناہی ہستی اس کا فضل ور بخشش بھی اس کے وجود کی طرح لا متناہی ہے لیکن علیم ہے اور جانتا ہے کہ کو ن سا منسب کے بخشا جانا چاہئے و قال لہم نبیہم ان ّ آیة ملکہ ان یاتیکم التابوت یہ آیت نشاندہی کر تی ہے کہ بنی اسراییٴل ابھی تک خدا طرف سے طالوت کی ماٴموریت پر مطمئن نہیں ہو ے ٴ تھے حالانکہ انکے پیغمبر اشموییٴل تصریح کر چکے تھے کہ وہ اس کام کے لیے خدا کی طرف سے ماٴمور ہو ے ٴ ہیں انہوں نے اسکی نشانی اور دلیل کا تقاضا کیا جواب میں اشموییٴل نے کہا : طالوت کے ماٴمور من اللہ ہونے نشانی یہ ہے کہ تابو ت (صندوق عہد)تمہاری طرف آے گا یہ بات بنی اسرائیل کے لیے کافی ہونا چاہیے ٴ تھی بہر حال اب دیکھتے ہیں تابوت کیا چیز تھی