أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
Have you not regarded those who left their homes in thousands, apprehensive of death, whereupon Allah said to them, ‘Die,’ then He revived them? Indeed Allah is gracious to mankind, but most people do not give thanks.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:243
[Pooya/Ali Commentary 2:243] The historical reference here is to the children of Israil, who ran away from their homes in thousands out of fear of the plague, thinking that their timely flight would save them from death. On account of their lack of faith in Allah, death caught up with them under His command. Their bodies turned into dust. Only their bones were lying scattered on the ground. Inspired by Allah, their prophet Ezikiel prayed for them by reciting a particular name, after which, Allah brought them to life again, showing that Allah does what He wills. There is no escape from the will of the Lord. In the opinion of Ahmadi commentators, no miracle (bringing the dead out of the living and the living out of the dead) took place; it is only a metaphorical description. The materialistic tendency to deny any event beyond the natural course known to man can be justified only if man can claim knowledge of all the factors functioning in the working of the universe. It is a wise saying that the more a man knows, he realises how less he knows. There is no reason at all for any sensible and intelligent person to deny things which are decidedly beyond the acknowledged limitedness of human experience, observation and conceivability, yet the modern commentators deny the omnipotence of Allah and the supernatural forces functioning in the universe, on which all religions are based. Allah is the master of His will. He does what He wills. Every faithful believer must rely on Allah and should not fear death. Fear of bodily death in this life leads to moral and spiritual death. His life belongs to Allah. He should live it as desired by Him and surrender it to His command.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:243-248
1. This is an example when people, after death, before reckoning day will be enlivened. And prophets said what occurred in case of Moses shall also similarly occur in case of my disciples. 2. Advancing a loan, in the name of God, without stipulating of time, of its return, carries reward 18 times of the original premium. 3. In this is pointed out, Divine Prerogative of selecting Divine Lights depends not on worldly wealth, but on Martial Spirit and Divine knowledge, both being “Divine Gifts.” A singular case, during the Prophet’s regime was to be fouond in Ali in whose favour, he repeated. His single stroke of Battle of Khandak was superior to prayers of Menand Spirits until the Day of Judgment and Ali is thegate of the City of Knowledge. 4. This is the same box in which Moses, on his birth, was placed by hismother and set afloat, which was later picked up by Pharaoh. Moses, before his demise, had placed his arms, coats of arms in it Saul, among the tribe of Benjamin, who was higher than any of the people from his shoulders and upwards. David son of Jessu, a Benthelmite of the tribe of Judah, appointed to succeed Saul was destined to be the ancestor of a line of kings and the progenitor of the promised Messiah David Slew Goliath of Goth, the champion of Philistines and was appointed Saul’s armour-bearer. When Saul (Talut) marched with his army, he addressed them verily God desires to test you with a river.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:243
ایک درس عبرت
آیت در اصل سب لوگو ں کے لیے ایک درس عبرت بیان کرتی ہے تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ذمہ داریوں سے فرار اور بہانہ سازیوں کے زریعے وہ مامون ہو سکتے ہیں وہ یہ خیال نہ کریں کہ قدرت پروردگار بلکہ طبیعی و مادی قانین جو دنیا پر حاکم ہیں ان سے وہ زیادہ طاقتور ہیں اگر وہ دشمنوں سے جنگ کرنے سے پہلو تہی کریں اور جہاد سے فرار حاصل کریں ، جبکہ یہ خود انہی کی سر بلندی کا ذریعہ ہے پھر بھی ممکن ہے خدا وند عالم انہیں کسی اور دشمن کے سامنے کر دے چاہے وہ ایسا چھو ٹا دشمن ہو جو آنکھوں سے دیکھا بھی نہ جاسکے دوربین سے دیکھے جانے والے یہ چھوٹے دشمن جنہیں جراثیم کہتے ہیں انہی سے طاعون یا کویی اور وبا پھیل سکتی ہے جو اتنی تیز ی اور برق رفتاری سے انہیں مار ڈالتی ہے کہ کویی خطرناک دشمن بھی میدان جنگ میں ان سے ایسا سلوک نہیں کر سکتا پھر بھی لوگ کیوں عبرت حاصل نہیں کر تے اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار کرتے ہیں ۲۔یہ تاریخ ہے یا تمثیل :جو داستان یہاں بیان کی گیی ہے کیا یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جسکی طرف قران نے سر بستہ طور پر اشارہ کیا ہے جبکہ روایات میں اسکی تفصیل آئی ہے یا اسے ایک تمثیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور عقلی حقائق کی حسی طور پر تصویر کشی کی گیی ہے مذکورہ واقعے میں کیی ٴایک غیر معمولی پہلو ہین اور بعض مفسرین کے لیے مشکل تھا کہ اسکو جوں کا توں گوارا کر لیں لہٰذا انہوں نے اسکے وقوع پذیر ہونے سے انکار کر دیا ہے انکے نذدیک یہ واقعہ بطور تمثیل ذکر ہوا ہے جس میں ایک ایسے گروہ کا تذکرہ ہے جو دشمن سے مقابلے میں سستی کرتا ہے اور نتیجتاً شکست کھا جاتا ہے پھر عبرت حاصل کرتے ہوے بیدار ہو جاتا ہے قیام اور مقابلہ پھر سے شروع کرتا ہے اور آخر کار کامیاب ہو جاتا ہے اس تفسیر کے مطابق ِ موتو کا لفظ سستی اور تساہل کے نتیجے میں شلست کھانے سے کنایہ ہے اور ۔”احیاھم “(یعنی خدانے انہیں زندہ کیا ) ان کی آگاہی اور بیداری کے بعد کامیابی کی طرف اشارہ ہے اس تفسیر کے مطابق اس سلسلے میں وارد ہونے والی روایات جعلی ہیں اور اسرائیلیات میں سے ہیں لیکن یہ کہنا پڑے گا کہ سستی اور بیداری کے نتیجے میں شکست و کامیابی کا معاملہ جازب نظر تو ہے لیکن اسکا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ظاہر آیت ایک تاریخی واقعے کا بیان ہے نہ کہ ایک تمثیل کا ذکر آیت میں گذشتہ لوگوں کے گروہ کی حالت بیان کی گیی ہے یہ لوگ ایک وحشت ناک حادثے کے نتیجے میں مر گیے تھے دا وند عالم نے انہیں پھر سے زندہ کیا کوئی واقعہ غیر عادی یا غیر معمولی ہونے کی وجہ سے توجیہ و تاویل کے قابل سمجھا جاے ٴ تو پھر انبیاء کے تمام معجزات سے یہی سلوک کیا جاے ٴ خلاصہ یہ کہ اگر ایسی توجیہات اور تفاسیر کو قرآن کی طرف گھسیٹا جانے لگا تو انبیاء کے معجزات کے علاوہ قرآن کے بہت سے تاریخی مباحث کا انکار کرنا پڑے گا اور انہیں تمثیل یا سمبالک ((symbolikقرار دینا پڑے گا مثلاً ہابیل اور قابیل کی سر گذشت کو عدالت و حق کی جستجو اور قساوت و سنگدلی کے مقابلے کی مثال سمجھنا پڑے گا اور اس صورت میں قران کے تمام تاریخی مباحث اپنی قدرو قیمت کھو دیں گے علاوہ از ایں اس تعبیر سے یہ نہیں ہو سکتا کہ اس آیت کی تفسیر میں وارد ہونے والی تمام روایات سے چشم پوشی کر لی جاے ٴ کیو نکہ ان میں بعض تو معتبر اسناد سے منقول ہیں اور انہیں جعلی اور اسرائیلیات قرار نہیں دیا جا سکتا ۳۔رجعت کی طرف اشارہ :اس آیت میں ایک اور نکتے کی طرف بھی توجہ کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اس ظاہر ہتا ہے کہ رجعت کا امکان ہے گذشتہ لوگوں کی تاریخ میں ایسے بہت سے افراد ہیں جو مرنے کے بعد دوبارہ اس دنیا میں پلٹ آے ٴ ،جیسے بنی اسرائیل کی وہ جماعت جس کی طرف زیت بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ آیٴندہ کسی دور میں ایسے واقعے کااعادہ ہوا تو اس میں کیا مضائقہ ہے مشہور شیعہ عالم شیخ صدوق نے اسی آیت سے رجعت کے امکان کے مسئلہ پر استدلال کیا ہے ،وہ کہتے کہ ہمارے عقائد میں سے ایک عقیدہ رجعت ہے البتہ رجعت کا تناسخ سے کوئی تعلّق نہیں ہے اس مسئلہ کی تفسیل اپنے مقام پر آے گی ۲۴۴۔وَ قاتِلُوا فی سَبیلِ اللَّہِ وَ اعْلَمُوا اٴَنَّ اللَّہَ سَمیعٌ عَلیم ۲۴۵۔مَنْ ذَا الَّذی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضاعِفَہُ لَہُ اٴَضْعافاً کَثیرَةً وَ اللَّہُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُطُ وَ إِلَیْہِ تُرْجَعُون ترجمہ ۲۴۴۔اور راہ خدا میں جنگ کرو اور جان لو کہ خدا سننے والا جاننے والا ہے ۲۴۵۔کون ہے جو خدا کو قرض حسنہ دے (اور اس نے جو مال دیا ہے اس میں سے خرچ کرے )تاکہ خدا اس کے لیے کییٴ گنا کردے اور خدا (بندوں کی روزی کو ) محدود اور وسیع کرتا ہے( اور خرچ کرنے سے روزی میں کمی نہیں ہوتی)اور اس کی طرف لوٹ جاوٴگے ( اور اپنا بدلہ اور جزا پا لوگے )