وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
When you divorce women and they complete their term, do not hinder them from [re]marrying their husbands, when they honourably reach mutual consent. Herewith are advised those of you who believe in Allah and the Last Day. That will be more decent and purer for you, and Allah knows and you do not know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:232
[Pooya/Ali Commentary 2:232] After the first or second Talaq, if both the husband and wife agree to be reunited, in a lawful manner, they are allowed to do so. The woman has a right to take her own decision. Her relatives or guardians are warned not to prevent her in any way from exercising her rights. Even though the period of waiting may elapse, the husband can marry the divorced wife, if the third irrevocable Talaq has not been pronounced.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:232-235
1. These again relates to maintenance of healthy society. What is wanted is “Fear of God” to force and control the inner foe, which makes a husband a tyrant and causes the wife to disobey him, resulting in the most undesirable action of “Divorce” which, if done, in good spirits, and no attempt at harassing the wife to select another mate to be made, as it contributes to his losing paradise and destruction for the woman under divorce and contemplation of seeking a better suitor is not objectionable. 2. This again pertains to maintenance of newly born babies who are to be brought up in the environments affording comfort to the extent which is possible and not at the cost of parents.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:232
ایک اور زنجیر ٹوٹ گئی
جیسا کہ گذشتہ مباحث میں گزرچکاہے ۔ زمانہ جاہلیت میں عورتیں پابندیوں اور زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں ۔ ان کے ارادے ، فکر و نظر اور میلان و رغبت کی کوئی حیثیت نہ تھی اور وہ خود سرمردوں کے ارادہ و میلان کے تابع تھیں۔ اس کیفیت کا ایک نمونہ انتخاب شوہر کا مسئلہ بھی تھا جس میں عورتوں کی خواہش و رغبت کا کوئی دخل نہ تھا۔ اس روش میں معاملہ یہاں تک جا پہنچا تھا کہ اگر عورت رسمی نکاح بھی کرلیتی اور اس کے بعد اس شوہر سے علیحدگی ہوجاتی تو نئے سرے سے اس سے وابستگی بھی ولی (یا اولیاء) کے ارادے پر موقوف تھی۔ بعض اوقات اگر میاں بیوی اپنی سابقہ ازدواجی زندگی کو برقرار رکھنا چاہتے تو ان کے اولیاء اپنے منافع کی خاطر یا خیالات و موہومات کی بناء پر اس تعلق میں حائل ہوجاتے۔ قرآن صراحت سے اس روش کو مذموم قرار دیتاہے اور کہتاہے کہ اولیاء اور دیگر افراد ہرگز ایسا کوئی حق نہیں رکھتے کیونکہ جب میاں بیوی جو شادی کے دو اصلی اور بنیادی رکن ہیں وہ ایک دوسرے سے موافقت رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ علیحدگی کے بعد پھر شادی کرلیں تو دوسروں کی مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ گذشتہ آیت میں ”بلوغ اجل“ کا معنی ہے عورت کے آخری دنوں تک پہنچنا لیکن اس آیت میں نئے سرے سے ازدواج کے قرینے سے ”بلوغ اجل“ سے مراد آخری دن کا گزرجاناہے۔ اصطلاح کے مطابق گذشتہ آیت میں غایت ”مغیا“کا جزء تھی اور یہاں ”مغیا“سے خارج ہے۔ اس بناء پر آیت سے معلوم ہوتاہے کہ شیبہ عورتیں یعنی جنہوں نے ایک دفعہ شادی کرلی ہے وہ دوبارہ شادی کے لیے اولیاء کی تائید حاصل کرنے کی بالکل محتاج نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کی مخالفت بھی بے اثر ہے لیکن کیا باکرہ لڑکیاں ولی کی اجازت کی محتاج ہیں یا نہیں، اس بارے میں آیت خاموش ہے۔ اس کی تشریح کتب فقہ میں موجود ہے۔ آیت کا آخری حصہ کہتاہے کہ احکام کا یہ سلسلہ جو تمہارے نفع کے لیے بیان ہواہے ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو کائنات کے پیدا کرنے والے اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب تک انسان خدا پرستی اختیار کرکے خود پرستی سے نجات حاصل نہ کرلے اپنے میلانات پر ہرگز کنٹرول نہیں کرسکتا اور کج روی سے بالکل نہیں بچ سکتا۔ ”ذَلِکُمْ اٴَزْکَی لَکُمْ وَاٴَطْہَرُ وَاللهُ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ“ یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ ان احکام پر عمل کرنے کا نتیجہ سوفیصد تمہارے حق میں ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتاہے کہ اطلاعات کی کمی کی وجہ سے تمہیں احکام کے فلسفہ سے واقفیت حاصل نہ ہو لیکن وہ خدا جو تمام اسرار سے آگاہ ہے اس نے یہ احکام تمہارے منافع کے تحفظ، خاندانوں کی طہارت اور پاکیزگی کے لیے جاری کیے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ خداوند عالم نے اس جملے میں ان احکام پر عمل کرنے کا نتیجہ تزکیہ بھی اور طہارت بھی قرار دیاہے”لزمی لکم و اطہر“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان احکام پر عمل کرنا ایک تو ان مختلف آلودگیوں اور ناپاکیوں کو دور کرتاہے جو غلط کاموں کے سبب خاندانوں کے دامن گیر ہوجاتی ہیں اور دوسرا اس کا حاصل یہ ہے کہ انہیں نشو و نما، تکامل اور خیر و برکت نصیب ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ تزکیہ کا اصلی لغوی معنی نمو پانا اور بڑھناہی ہے۔ ۲۳۳۔وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ اٴَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اٴَرَادَ اٴَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَی الْمَوْلُودِ لَہُ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لاَتُکَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَہَا لاَتُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِہَا وَلاَمَوْلُودٌ لَہُ بِوَلَدِہِ وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِکَ فَإِنْ اٴَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا وَإِنْ اٴَرَدْتُمْ اٴَنْ تَسْتَرْضِعُوا اٴَوْلاَدَکُمْ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ ترجمہ ۲۳۳۔مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلاتی ہیں (یہ) اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کے دور کی تکمیل کرنا چاہے اور اس (باپ) کے لیے جس کے وہاں بچہ پیدا ہواہے ضروری ہے وہ ان (ماؤں) کو (دودھ پلانے کی مدت میں) مناسب طریقے سے خوراک اور لباس دے (اگرچہ وہ طلاق لے چکی ہوں)۔ کسی شخص کی ذمہ داری اس کی قوت و طاقت سے زیادہ نہیں ہے نہ ماں بچے کو اس کے باپ سے اختلاف کی وجہ سے) ضرر پہنچانے کا حق رکھتی ہے اور نہ باپ اور اس کے وارث پر ایسا کرنا لازم ہے (کہ وہ دودھ پلانے کی مدت میں ماں کے اخراجات مہیا کرے) اور اگر وہ دونوں باہمی رضامندی اور مشورے سے بچے کا دودھ (زیادہ جلدی ) چھڑوا دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے اور اگر (طاقت نہ رکھنے یا ماں کے موافق نہ ہونے سے) اپنے بچوں کے لیے کوئی آیالے آؤتو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ بشرطیکہ ماں کا گذشتہ حق شائستہ اور مناسب طریقے سے اداکردو اور خدا سے ڈرو او جان لوکہ جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا سے دیکھنے والا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:232
اسلام طلاق کے بارے میں وضع کردہ
گذشتہ آیات کے بعد اس آیت میں اسلام طلاق کے بارے میں وضع کردہ حد بندیوں کو بیان کرتاہے تا کہ حقوق اور عورت کے احترام سے چشم پوشی نہ کی جاسکے۔ آیت کہتی ہے کہ جب تک عدت کی مدت ختم نہ ہوا اگرچہ اس کا آخری دن باقی ہو مرد کو اجازت ہے کہ وہ اپنی بیوی سے صلح کرلے اور دونوں خلوص و محبت سے زندگی بسر کرنے لگیں” فَاٴَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ“اگر حالات نامساعد ہیں تو اسے چھوڑدے”اٴَوْ سَرِّحُوہُنَّ بِمَعْرُوف“لیکن توجہ رہے کہ رجوع یا علیحدگی ہر صورت میں احسان اور نیکی ملحوظ رہے اور جذبہ انتقام سے یہ کام انجام نہیں پاناچاہئیے۔ ” وَلاَتُمْسِکُوہُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ“ یہ جملہ ”معروف“ کی تفسیر ہے، یعنی رجوع صدق و صفا اور خلوص و محبت کی بناپر ہو۔ چونکہ زمانہ جاہلیت میں طلاق اور رجوع کو انتقام لینے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ لہذا آیت قطعی لہجے میں کہتی ہے کہ عورت کو آزار و تعدی کے مقصد سے زوجیت کی قید میں نہ رکھاجائے کیونکہ ایسا کرنا اسی پر نہیں بلکہ خود تمہارے نفس پر بھی ظلم ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ بیوی پر ظلم کرنا کس طرح اپنے نفس پر ظلم کرنے کے مترادف ہے، اس کی وجوہ یہ ہوسکتی ہیں۔ ۱۔ حق کشی کی بنیاد پر کئے جانے والے رجوع میں کوئی سکون و آرام میسر نہیں آسکتا۔ ۲۔ قرآن کی نگاہ میں مرد اور عورت نظام خلقت میں ایک پیکر کے دو جزء ہیں اس بناء پر عورت پر ظلم کرنا اپنے ہی حقوق پامال کرنے کے مترادف ہے۔ ۳۔ جو شخص کسی پر ظلم کرتاہے در اصل وہ خدا کے عذاب کی طرف بڑھ رہاہوتاہے اور حقیقت میں اس طرح وہ اپنے اوپر ہی ظلم کررہاہوتاہے۔ خدا کے قوانین کا مذاق نہ اڑاؤ ”وَلاَتَتَّخِذُوا آیَاتِ اللهِ ہُزُوًا وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ وَمَا اٴَنزَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَةِ یَعِظُکُمْ بِہِ“ ”ہزو“ اور ”ہزوء“ کا معنی تمسخر کرنا ہے۔ عموما ہزاروں لوگ شرعی احکام کی خلاف ور زیاں کرتے ہوئے وجدانی دباؤ سے بچنے کے لیئے اور (اپنے خیال میں ) عذاب الہی سے فرار کے لیئے شرعی حیلے بہانے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور آیات و احکام کے ظواہر کو اپنے لیئے دستاویز بنالیتے ہیں ۔ اس روش کو قرآن آیات قرآن اور احکام الہی سے استہزاء اور تمسخر قرار دیتاہے یہ بات باعث افسوس ہے کہ بہت سے احکام کے بارے میں ایسا انحراف عموما نظر سے گزرتا رہتاہے۔ طلاق کے معاملے میں بھی اس کی مثال ملتی ہے۔ جیسا کہ بیان کیا جاچکاہے مرد کے لیے حق رجوع ازدواج اور شادی کو زیادہ سے زیادہ پائدار بنانے کے لیئے ہے لیکن بعض لوگ اس مقصد کے برعکس اقدام کرتے ہیں یعنی رجوع حق کی اجازت کو عورت سے انتقام لینے اور اسے آزار پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس طرح قانون پر عمل کرنے کے پردے میں اپنے حقیقی ظالمانہ چہرے کو چھپاتے ہیں اسی کو قرآن اور قانون کا تمسخر اڑانا کہتے ہیں۔ محل بحث آیت کہتی ہے: آیات خدا کو کھلونا نہ بناؤ اور خدا کی عظیم نعمت دین اور آسمانی کتاب کو یاد رکھو جو تمہاری سعادت کے لیے آئے ہیں۔ دین اور اس کے تمام قوانین و احکام کا سرچشمہ جہان ثابت کا نظام ہے جسے نوع انسانی کے حقیقی مصالح کی روشنی میں بنایاگیاہے اس لیے مصالح سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے بعض احکام کے ظاہری طریقوں کو اپنا کر بے روح سانچے نہ بناؤ۔ کہیں یہ طرز عمل خود تمہارے فوائد کو بھی خطرے میں ڈال دے گا اور آیات خدا کے سامنے منہ ٹیڑھا کرنے کا جرم بھی شمار نہ کرلیاجائے۔ ”وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ “ آیت کے آخر میں عورت کے حقوق کی حفاظت کے لیے احکام الہی سے غلط فائدہ اٹھانے والوں کی گرفت کی گئی ہے اور ایسے لوگوں سے کہاگیاہے کہ خدا سے ڈرو اور جان لوکہ وہ تمہارے کاموں اور اس جہان کے تمام اسرار سے آگاہ ہے، ۲۳۲۔وَإِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ اٴَجَلَہُنَّ فَلاَتَعْضُلُوہُنَّ اٴَنْ یَنکِحْنَ اٴَزْوَاجَہُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بِالْمَعْرُوفِ ذَلِکَ یُوعَظُ بِہِ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ذَلِکُمْ اٴَزْکَی لَکُمْ وَاٴَطْہَرُ وَاللهُ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ترجمہ ۲۳۲۔ اور جب عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت تمام ہوجائے تو اگر پسندیدہ طریقے اور باہمی رضا مندی سے وہ اپنے (پہلے) شوہروں سے شادی کرنا چاہیں تو انہیں اس سے نہ روکو۔ اس حکم سے تم سے بس وہ لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں ! اور اس پر عمل کرتے ہیں) جو خدا اور روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں یہ (احکام) تمہارے (خانوادوں کے) نشو و نما کے لیئے زیادہ موثر ارو آلودگیوں کو دھونے کے لیے زیادہ مفید ہیں اور خدا جانتا ہے (لیکن ) تم نہیں جانتے۔ شان نزول معقل بن یسار پیغمبر اکرم کا ایک صحابی تھا۔ اس کی ایک بہن جملاء تھی۔ عاصم بن عدی اس کی بہن کا پہلا شوہر تھا۔ وہ عاصم سے اپنی بہن کی دوبارہ شادی کی مخالفت کرتاتھا کیونکہ عاصم نے قبل ازیں اسے طلاق دے دی تھی۔ اس بناء پر آیت نازل ہوئی جس میں اس قسم کی مخالفت سے منع کیاگیاہے۔ یہ بھی کہاجاتاہے کہ جابر بن عبداللہ نے اپنی چچازادکی پہلے شوہر سے دوبارہ شادی کی مخالفت کی تھی شاید زمانہ جاہلیت میں اکثر اوقات قریبی رشتہ داروں کو یہ حق دیا جاتاتھا۔ (اس میں شک نہیں کہ ہماری فقہ میں بھائی اور چچازادکی بیٹی پر ایسا حق نہیں رکھتے لیکن مندرجہ بالا آیت جیسا کہ ذکر آئے گا ایک کلی مفہوم کی حامل ہے اور اس کے مطابق ولی یا غیر ولی کوئی شخص بھی یعنی باپ ماں چچازاد بھائی اور دوسرے لوگوں میں سے کوئی یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ ایسی شادی کی مخالفت کرے)۔