وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
Divorced women shall wait by themselves for three periods of purity [after menses], and it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs if they believe in Allah and the Last Day; and their husbands have a greater right to restore them during this [duration], if they desire reconcilement. The wives have rights similar to the obligations upon them, in accordance with honourable norms; and men have a degree above them, and Allah is all-mighty and all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:228
[Pooya/Ali Commentary 2:228] Quru means menstrual period. The divorced woman is required to keep herself in waiting for three menstrual periods, during which the husband has to support and care for her. In the course of these three months, if it is found out that she is pregnant, then the parental propriety of the offspring is established. Above all, the door of reconciliation remains open. If there is real love between them, the husband can take the wife back before the expiry of iddat (prescribed period of waiting). Such a practical arrangement is not available in any religion except Islam. The legal rights given to women by Islam brought a revolutionary change in human society for the first time. So far woman was a wicked creature, the agent of the devil, and therefore was treated like a chattel, occupying the lowest position in the family and community. Islam gave women an honourable status, similar to men. It was a dynamic change, unknown to history, because it was never even considered, in pre-lslamic period, that women could have rights over men. "But the men are a degree above women" refers to the natural differences which separate men from women. Allah is all-wise, therefore, particularly in the case of divorce, man can initiate the course of divorce, but a woman cannot. She, no doubt, can go to a qadi to obtain separation on the ground of unbearable maltreatment and demand dissolution of marriage by surrendering her right to mahar (dowry). This provision is reasonable because it prevents women from obtaining separation on flimsy grounds. Islam gives women the right of choosing her life-partner. No one can compel her to accept any man as her husband. The matter lies entirely on her independent judgement. So she does not have the right to take the initiative for annulment of wedlock. Yet she has a recourse. She can go to a mujtahid or hakim sharah and obtain separation and then marry again whomsoever she likes.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:228
یہاں دو نکات قابل توجہ ہیں
۱۔ جس طرح رجوع کرنے اور عورت کو روک کھنے میں ”معروف“ کی شرط ہے۔ یعنی رجوع اور روکے رکھنا صلح و صفائی اور خلوص و محبت کی بنیاد پر ہو اسی طرح جدائی بھی”احسان“ کے ساتھ مقید ہے۔ یعنی علیحدگی اور جدائی ہر طرح کے ناپسندیدہ امر سے پاک ہو مثلا انتقام، غیض، غضب اور کینہ سے مبرا ہو اور کہاجاسکتاہے کہ آیت کا یہ حصہ احسان ہی کی وضاحت کے لیے ہے۔ ”اَیَحِلُّ لَکُمْ اٴَنْ تَاٴْخُذُوا مِمَّا آتَیْتُمُوہُنَّ شَیْئًا “ ۲۔ ”الطلاق مرتان“ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ دو یا تین طلا قیں ایک ہی مجلس میں انجام نہیں پاسکتیں اور چاہئیے کہ وہ متعدد مواقع پر واقع ہوں۔ خصوصا جب تعدد طلاق کا مقصد یہ ہے کہ رجوع کا زیادہ موقع مل سکے اور شاید پہلی کشکمش کے بعد صلح و صفائی برقرار ہوجائے اور اگر پہلی مرتبہ صلح و آشتی نہ ہو سکے تو شاید دوسری مرتبہ ہوجائے۔ لیکن ایک ہی موقع پرمتعدد طلاقوں سے یہ راستہ بالکل مسدود ہوجاتاہے اور میاں بیوی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں اور اس طرح تعدد طلاق عملی طور پربے اثر ہوکر رہ جاتاہے۔ مکتب تشیع میں یہ مسئلہ متفق علیہ ہے لیکن اہل سنت کے در میان اس سلسلے میں اختلاف نظر ہے۔ البتہ زیادہ تر کا عقیدہ یہی ہے کہ تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں دی جاسکتی ہیں۔ تفسیر المنار کے مولف مسند احمد ابن حنبل اور صحیح مسلم (جیسی اہل سنت کی بنیادی کتب) سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم کے زمانے سے لے کر حضرت عمر کی خلافت کے دو سال تک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں اور یہ مسئلہ سب اصحاب پیغمبر کے نزدیک متفق علیہ تھا لیکن اس وقت خلیفہ دوم نے حکم دیا کہ ایک ہی مجلس میں تیں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:228
قروء“ سے کیا مراد ہے
”قروء کا واحد”قرء“ یہ لفظ ”ماہواری کی عادت “ اور اس سے پاک ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اگرچہ بہت سی روایات میں تصریح کی گئی ہے کہ ”ثلاثہ قروء“ عدت کی حد ہے اور اس کا مفہوم ہے عورت کا خون حیض سے تین مرتبہ پاک ہونا، ان روایات سے قطع نظر خود اس آیت کا یہ مفہوم دو طرح سے معلوم ہوتاہے۔ ۱۔ ”قروء“ کی دو جمع ہیں ”قرء“ اور ”اقراء“ وہ قرء جس کی جمع قروء ہے پاک ہونے کے معنی میں ہے اور جس کی جمع ”اقراء ہے اس کا مطلب ہے ”حیض“ اس لیے زیر بحث آیت میں چونکہ ”قرو“ آیاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں مراد عورت کے پاک ہونے کے دن ہیں نہ کہ حیض کے ایام۔ ۲۔ لغت میں ”قرو“ کا اصلی معنی ”طہر“ اور بہ معنی پاکی سے ہی زیادہ مناسبت رکھتاہے کیونکہ یہی وہ موقع ہے جب خون رحم میں جمع ہوجاتاہے جب کہ عادت کے دنوں میں تو پراگندہ ہوکر باہر نکل آتاہے۔ عدت۔ صلح اور بازگشت کا ذریعہ ہے بعض اوقات مختلف عوامل کی وجہ سے نفسیاتی طور پر حالات ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ ایک معمولی سا اختلاف اور چھوٹی سی وجہ نزاع جذبہ انتقام بن کربھڑک اٹھتی ہے اور عقل و وجدان کی روشنی بجھ جاتی ہے۔ گھریلو جدائیاں زیادہ تر ایسے ہی حالات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اکثر ایسا ہوتاہے کہ اس کشمکش کے تھوڑی مدت بعد ہی عور ت اور مرد اپنے کیئے پر پشیمان ہوجاتے ہیں خصوصا جب وہ گھریلو نظام کی ابتری اور گوناگون پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں تو مذامت محسوس کرتے ہیں ۔ ایسے ہی موقع کے لیے زیر بحث آیت کہتی ہے کہ عورت کو ایک مدت تک عدت میں رہنا چاہیے اور صبر کرنا چاہئیے تا کہ یہ تیز لہریں گزرجائیں اور نزاع و کش مکش کے سیاہ بادل ان کی زندگی کے فلک سے چھٹ جائیں۔ اس سلسلے میں وہ حکم خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے جو اسلام نے زمانہ عدت میں عورت کو گھرسے باہر جانے پرپابندی کی صورت میں دیاہے۔ ایسے میں جذبہ فکر برانگیختہ ہوتاہے اور یہ جذبہ شوہر سے عورت کے روابط کی درستی اور اصلاح میں بہت مؤثر ثابت ہوتاہے اسی لیئے سورہ طلاق کی پہلی آیت میں ہے۔ ”لا تخرجوہن من بیوتہن لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا“ انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالوتمہیں کیامعلوم کہ شاید خدا کوئی کشائش پیدا کردے اور ان میں صلح ہوجائے۔ طلاق سے پہلے کی زندگی کی گرمئی جذبات اور شیریں لمحات کی یاد اس بات کے لیے کافی ہے کہ دلوں میں خلوص و محبت لوٹ آئے اور کمزور پڑجانے والا دائرہ محبت قوی ہوجائے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:228
عدت ۔ حفاظت نسل کا ذریعہ ہے
عدت کا ایک اور فلسفہ یہ ہے کہ اگر عورت حاملہ ہے تو یہ کیفیت واضح ہوجائے۔ یہ درست ہے کہ ایک مرتبہ ماہواری دیکھنے ہی سے عموما عورت کے حاملہ نہ ہونے کا یقین ہوجاتاہے لیکن بعض اوقات دیکھاگیاہے کہ حاملہ ہونے کے با وجود ابتدائے حمل میں عورتوں کو خون حیض آنے لگتاہے۔ اس لیے اس معاملے کی پوری وضاحت کے لیے حکم دیاگیاہے کہ عورت تین مرتبہ ماہواری دیکھے اور پاک ہوجائے تا کہ حتمی طور پر پہلے شوہر ہے اس کا حاملہ نہ ہونا واضح ہوجائے اور پھر وہ نئے سرے سے کہیں شادی کرسکے۔ ”و لا یحل لہن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامہن“ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ عدت کے دنوں کی ابتداء اور انتہا کس طرح معلوم کی جائے ۔ اسلام نے اس معاملے میں خود عورت کی بات کو مستند قراردیاہے۔ اس لیے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں امام صادق -فرماتے ہیں: ”قد فوض اللہ الی النساء ثلاثة اشیاء الحیض و الظہر و الحمل“ یعنی تین باتیں عورت پر چھوڑ دی گئی ہیں ایک ماہواری دوسرا پاکیزگی تیسرا حمل یہ بات مندرجہ بالا آیت سے بھی ظاہر ہوتی ہے جس میںفرمایاگیا ہے کہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ اس حق سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے خلاف واقعہ بات کہے یعنی عورت کی بات سند اور قابل قبول ہے۔ ”ان یکتمن ما خلق اللہ“۔یہ جملہ دو مفاہیم دیتاہے ایک بچے کے حمل کو چھپانا اور دوسرا ماہواری کی عادت کو پوشیدہ رکھنا یعنی اگر عورت ہے حاملہ ہ تو اسے اپنا حمل چھپاتے ہوئے عدت کی مدت کم کرنے کے لیے یہ دعوی نہیں کرنا چاہئیے کہ وہ ماہواری کے ایام میں ہے (کیونکہ حاملہ عورت کی عدت تو وضع حمل ہی ہے) اور اس طرح پاک ہونے یا ماہواری کی عادت میں ہونے کے بارے میں بھی غلط بیانی سے کام نہیں لینا چاہئیے۔ ”و بعولتہن احق بردہن فی ذلک ان ارادوا اصلاحا“ جب عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہوتو شوہر کورجوع کرنے کا حق ہے تا کہ اگر وہ چاہے تو بلا تکلف اپنی بیوی کے ساتھ اپنی زندگی جاری رکھ سکتا ہے البتہ آیت نے (”ان ارادوا اصلاحا“) کی قید لگائی ہے اور اس سے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ حکم یک طرفہ نہ ہو۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ مرد آزادانہ بلا شرط حق رجوع رکھتا ہو اور چاہے زمانہ جاہلیت کی طرح اپنی طاقت سے غلط فائدہ اٹھاتارہے اور عورت پرسختی اور تکلیف روا رکھے لہذا یہ حق اسے اس صورت میں ہے کہ وہ واقعا اپنے طرز و طریقے سے پشیمان ہو اور وہ واقعا اپنی زندگی کانئے سرے سے آغاز چاہتا ہو تب وہ اصطلاح کے مطابق رجوع کا حق رکھتاہے، مقصد یہ ہے کہ وہ عورت کو ضرر، دکھ اور تکلیف نہ پہنچانا چاہتاہو۔ ضمنی طور پر یہ بھی ملحوظ نظر رہنا چاہیے کہ آیت کے آخر میں جو مسئلہ رجوع بیان ہوا ہے آیت کے شروع میں بیان ہونے والے حکم عدت ہی سے مربوط ہے اگرچہ ابتداء میں یہ ایک کلی حکم نظر آتاہے۔ اس لیے آیت صرف طلاق رجعی کے بارے میں سمجھی جائے گی اور اس کے علاوہ طلاق کے کسی طریقے کے بارے میں یہ خاموشی ہے لہذا یہ امر اس بات کے منافی نہیں کہ عدت اور مدت انتظار کے بارے میں جو کچھ یہاں بیان کیاگیاہے طلاق کی کچھ اقسام اس سے مختلف بھی میں۔ ”و لہن مثل الذین علیہن بالمعروف و للرجال علیہن درجة“ گذشتہ مسائل کے بعد یہ جملہ عورت اور مرد کے باہمی احترام کے بارے میں ہے جسے طلاق اور عدت کے مسئلے سے بالاتر قراردیاگیاہے اس میں شخصی اور اجتماعی حقوق کی طرف راہنمائی ہے۔ فرمایاگیاہے کہ جیسے مرد کے حقوق وضع کئے گئے ہیں تا کہ عورت ان حقوق کا احترام کرے اسی طرح عورت کے مختلف حقوق بھی مرد کے ذمہ ہیں جن کی ادائیگی کا وہ ذمہ دار ہے۔ ”بالمعروف“کا لفظ اس سلسلہ آیات میں بارہ مرتبہ آیاہے یہ سب اس لیے ہے کہ کوئی اپنے حقوق سے غلط فائدہ نہ اٹھائے۔ عورت اور مرد دونوں کو مصلحت اندیش ہونا چاہئیے اور باہمی حقوق مناسب طریقے سے ادا کرنے چاہئیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:228
حقوق و فرائض
قرآن یہاں پر ایک بنیادی بات بیان کررہاہے اور وہ یہ کہ ہر فرض اور ذمہ داری کے پہلو میں ایک حق بھی ہے یعنی ذمہ داری اور فرض کبھی حق سے جدا نہیں ہوتے۔ مثلا ماں باپ پر اولاد کے بارے میں کچھ فرائض اور ذمہ داریاں عائد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اولاد کے ذمے ان کے کچھ حقوق بھی ہوں گے۔ اس طرح قاضی کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدل و انصاف کو عام کرنے کی کوشش کرے، اس کے بدلے قاضی کے لئے بہت سے حقوق بھی مقرر کئے گئے ہیں۔ اس طرح انبیاء اور امتوں کا معاملہ بھی ہے زیر نظر آیت میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیاہے کہ جیسے عورتوں کے فرائض اور ذمہ داریاں ہیں اس طرح ان کے لیئے کچھ حقوق بھی مقرر کیئے گئے ہیں ان حقوق و فرائض میں مساوات کی وجہ سے ان میں ”عدالت کا اجر لو “ عملی صورت اختیار کرسکتاہے۔ اسی طرح اگر کسی کے لیے کوئی حق مقرر کیاگیاہے اس کے مقابلے میں اس پر فرائض بھی عائد کیئے گئے ہوں گے لہذا کوئی ایسا شخص میسر نہیں آسکتا کہ اس کا کوئی حق ہو اور اس کے کند ھے پر کوئی فرض اور ذمہ داری نہ ہو۔ ”و للرجال علیہن درجة و اللہ عزیز حکیم“ یہ جملہ گذشتہ قانون کی تکمیل کرتاہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ گذشتہ جملے میں عورت کے بارے میں قانون عدالت مرد کی طرح جاری ہے لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ مرد اور عورت تمام فرائض اور ذمہ داریوں میں اور پھر ان کے پس منظر میں تمام حقوق میں سوفیصد برابر اور ہم دوش ہوں۔ عورت اور مرد کی جسمانی و روحانی قوت و استعداد میں جو وسیع فرق ہے اسے مد نظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے چونکہ عورت کے ذمہ ماں کا حساس فریضہ اور معاشرے کے لیے آبرومند نسلوں کی پرورش ہے لہذا اس میں احساسات و جذبات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ عورت میں احساسات کی اسی برتری کے پیش نظر ضروری ہے کہ بعض اجتماعی فرائض جن میں زیادہ فکری اور نظری قوت درکارہے ان میں مرد بلند مرتبہ کے حامل ہوں۔ کیونکہ ان امور کو جذبات سے بالاتر ہونا چاہئیے۔ حکومت قضاوت گھریلو معاملات کی سرپرستی ایسے امور ہی کی مثالیں ہیں۔ البتہ ان امور کی وجہ سے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ بعض خواتین اپنے علم و تقوی کے سبب کسی مرحلے میں بہت سے مردوں سے بلند تر ہوں۔ اگر اس پروگرام پر عمل نہ کیاجائے یعنی ہم تمام حقوق اور حالات کی بارے میں ایک ہی قسم کا حکم لاگو کرنے لگیں تویہ ”الرجال قوامون علی النساء“کے کلی قانون کی بھی خلاف ورزی ہوگی عدالت کے اس حکم کو ”و لہن مثل الذین علیہن“کے بھی خلاف ہوگا کیونکہ ہر شخص کو اپنا حق ملنا چاہئیے“ کا مفہوم یہ ہے کہ عورت اور مرد میں سے ہر ایک اپنی مخصوص استعداد، صلاحیتوں، غرائز اور ساخت کے مطابق اپنی ذمہ داری انجام دے ۔ جو کام مرد سے نہیں ہوسکتے عورت اس کی مدد کرے اور جو کام عورت سے نہیں ہوسکتے مرد اس کی مدد کے لیے اٹھ کھڑاہو۔ قانون نظم کا تقاضا ہے کہ احساسات و نرم مزاجی کے حامل افراد زیادہ فکر و نظر رکھنے والے افراد کی سرپرستی میں ہوں لہذا گھرکی سرپرستی مرد کے ذمے ہے اور عورت کے ذمے ہے کہ گھر کا نظام چلانے میں اس کی معاون ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:228
عورت اور اس کے حقوق کی تاریخ
پوری تاریخ انسانی میں عورت ایک عجیب دردناک داستان رکھتی ہے۔ عورت کی یہ داستان آج انسانی سوسائٹی کی شناخت کی اہم ترین بحث شمار ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر عورت کی زندگی کو دو۱ادوار میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔ پہلا دور: ۔ ما قبل تاریخ کاہے جس کے متعلق آج ہمارے پاس کوئی صحیح اطلاع نہیں کہ اس زمانے میں عورت کے حالات کیا تھے ہوسکتاہے کہ اس دور میں عورت زیادہ تر طبیعی اور فطری حقوق سے بہرہ ور ہو۔ دوسرا دور:۔ آغاز تاریخ سے شروع ہوتاہے اس دور کے بعض معاشروں میں عورت تمام اقتصادی، سیاسی اور اجتماعی حقوق میں ایک غیر مستقل شخصیت کے حوالے سے پہچانی جاتی تھی۔ یہی کیفیت بعض ممالک میں آخری صدیوں تک جاری رہی۔ عورت کے بارے میں یہ طرز فکر فرانس کے قانون مدنی جسے ترقی یافتہ کہاجاتاہے تک میں نظرآتاہے۔ نمونے کے طور پر شوہر اور بیوی کے مالی روابط کے سلسلے میں بعض ضوابط کی طرف اشارہ کیاجاتاہے: آرٹیکل نمبر ۲۱۵ اور ۲۱۷ ظاہر ہوتاہے کہ شوہر دار عورت اپنے شوہر کی اجازت اور دستخط کے بغیر کوئی مالی امور انجام نہیں دے سکتی اور اس کا ہر قسم کا لین دین شوہر کی اجازت کا محتاج ہے۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ شوہر اپنے اختیار سے غلط فائدہ نہ اٹھائے اور کسی معقول سبب کے بغیر اجازت دینے سے انکار نہ کرے۔ آرٹیکل نمبر ۱۲۴۳ کے مطابق شوہر حق رکھتا ہے کہ وہ اکیلا مال میں جو عورت اور مرد کے در میان مشترک ہے جیسا چاہے تصرف کرے اور اس میں عورت کے اجازت کی بھی ضرورت نہیں البتہ جو کام انتظام و اہتمام کی حدود سے خارج ہے اس میں عورت کی موافقت ضروری ہے۔ ۱ وہ سرزمین جہاں سے اسلام کا آغاز ہوا یعنی حجاز میں بھی پیغمبر اسلام کے ظہور سے پہلے عورت کے ساتھ ایک محکوم اور غیر مستقل انسان کا سا سلوک رواتھاان کا طرز عمل نیم وحشی انسانوں کا ساتھا کیونکہ عورت سے رسوا کن مقاصد حاصل کیے جاتے تھے۔ عورت اس ماحول میں اس قدر بے ارادہ و بے اختیار تھی کہ بعض اوقات اپنے شوہر کے اخراجات کے لیے کرائے پر پیش کی جاتی تھی۔ تمدن سے محرومیت اورفقر و فاقہ کی ابتدا ء نے انہیں عجیب و غریب سختی اور خشونت میں مبتلا کررکھا تھا جس کے زیر اثر وہ عورت کو زندہ گار ٹرنے کے مشہور جرم کا ارتکاب کرتے تھے۔ ۱ حقوق زن در اسلام و اروپا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:228
عورت کی زندگی میں نیا مرحلہ
ظہور اسلام اور اس کی مخصوص تعلیمات کے ساتھ عورت کی زندگی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی جو پہلے دومرا حل سے بہت مختلف تھا۔ یہ وہ دور تھا جس میں عورت مستقل اور تمام انفرادی، اجتماعی اور انسانی حقوق سے بہرہ ور ہوئی۔ عورت کے بارے میں اسلام کی بنیادی تعلیمات وہی ہیں جن کا تذکرہ زیر بحث آیات میں ہے۔ ”و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف“۔ یعنی عورت کے معاشرے میں جس قدر فرائض اہم ہیں اسی قدر قابل توجہ حقوق کی بھی مالک ہے۔ اسلام عورت کو مرد کی طرح کامل انسانی روح اور ارادہ و اختیار کی حامل سمجھتاہے اور اسے سیر تکامل اور ارتقاء کے عامل میں دیکھتا ہے جو کہ مقصد خلقت ہے اسی لیے اسلام دونوں کو ایک ہی صف میں قرار دیتاہے اور دونوں کو یا ایھا الناس“میں مخاطب کرتاہے۔ اسلام نے دونوں کے لیے تربیتی، اخلاقی اور عملی پروگرام لازمی قرار دیے ہیں۔ ارشاد الہی ہے: ”و من عمل صالحا من ذکر اور انثی و ہو مومن فاولئک یدخلون الجنة“ یعنی جو بھی مرد یا عورت عمل صالح بجالائے وہ مومن ہے اور ایسے ہی لوگ جنت میں جائیں گے۔ (مومن۔ ۴۰) ایسی سعادتیں ہر دو اصناف حاصل کرسکتی ہیں۔ قرآن حکیم کہتاہے: ”مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاةً طَیِّبَةً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اٴَجْرَہُمْ بِاٴَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُون“ مرد اور عورت میں سے جو بھی نیک کام کرے گا اور وہ ایمان دار بھی ہوگا تو ہم اسے پاک و پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہوں گے اس کا اچھے سے اچھا اجر و ثواب عطاکریں گے۔ (نحل ۔۹۷) یہ آیات صراحت کرتی ہیں کہ مرد اور عورت میں سے ہر ایک اسلام کے پروگراموں پر عمل درآمد کے ذریعے معنوی اور مادی تکامل کی منزل پالیتاہے اور ایک طیب و پاکیزہ زندگی میں قدم رکھتاہے۔ جو کہ آرام و سکون کی منزل ہے۔ اسلام عورت کو مرد کی طرح مکمل طور پر آزاد سمجھتاہے۔ ارشاد الہی ہے: ”کل نفس بما کسبت رہینة“ ہر کوئی اپنے اعمال کے بدلے رہن ہے۔ (مدثر ۳۸) ”مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ اٴَسَاءَ فَعَلَیْہَا“ جو بھی اچھا کام کرے تو یہ اس کے اپنے فائدے میں ہے اور جو برا کام کرے وہ بھی اس کا نیتجہ خو د بھگتے گا۔ (جاثیہ ۔ ۱۵) یہ آیا ت بلا تفریق مرد اور عورت سب کے لیئے ہیں۔ اسی لیے سزاؤں کے بارے میں ایک آیت میں ہے۔ ”الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ“ زانیہ اور زانی میں سے ہر ایک کو سوسو کوڑے مارو۔ (نور۔۲) ایسی دیگر آیا ت میں بھی دونوں کے لیے ایک جیسے گناہ پر ایک جیسی سزا کا حکم سنایاگیاہے۔ ارادہ و اختیار سے استقلال پیدا ہوتاہے ۔ یہی استقلال اسلام اقتصادی حقوق میں لاتاہے۔ اسلام بغیر کسی رکاؤٹ کے ہر قسم کے مالی رابطے عورت کے لیے روا جانتاہے اور عورت کو اس کی در آمد اور سرمائے کا مالک شمار کرتاہے سورہ نساء میں ہے۔ ”لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ“ مرد جو کمائیں وہ ان کا حصہ ہے اور عورتیں جو کمائیں وہ ان کا حصہ ہے۔ (نساء ۔ ۳۲) لغت میں اکتساب کا کسب کے برعکس ہے۔ اکتساب کا نتیجہ کسب کرنے اور حاصل کرنے والے سے تعلق رکھتاہے ۱ اسی طرح قانون کلی ہے کہ: ”الناس مسلطون علی اموالہم“ یعنی۔ تمام لوگ اپنے مال پر مسلط ہیں۔ اس قانون کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتاہے کہ کس طرح اسلام عورت کے اقتصادی استقلال کا احترام کرتاہے اور عور ت و مرد میں اس نے کوئی فرق نہیں رکھا۔ خلاصہ یہ کہ اسلام کی نظر میں عورت معاشرے کا ایک بنیادی رکن ہے اور اسے ایک بے ارادہ، محکوم اور قیم و نگران کا محتاج وجود ہرگز نہیں سمجھنا چاہئیے۔ ۱ مفردات راغب دیکھئے، البتہ یہ مفہوم ان مواقع پر ہے جہاں کسب اور اکتساب ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:228
مساوات کے مفہوم میں اشتباہ نہ ہو
اسلام نے مساوات کی طرف خاص توجہ دی ہے اور ہمیں بھی متوجہ ہونا چاہئیے لیکن خیال رہے کہ بعض لوگ بے سوچے سمجھے جذبات کی رومیں بہہ کر افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں اور مرد اور عورت کے روحانی و جسمانی فرق اور اُن کی ذمہ داریوں کے اختلاف تک سے انکار کر بیٹھتے ہیں۔ ہم جس چیز کا چاہے انکار کریں تا ہم اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے کہ ان دو صنفوں میں جسمانی و روحانی طور پر بہت فرق ہے ۔ مختلف کتب میں اس کی تفصیلات موجود ہیں اور یہاں ہمیں اس کی تکرار کی ضرورت نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ عورت وجود انسانی کی پیدائش کا ظرف ہے۔ نونہالوں کا رشد اسی کے دامن میں انجام پاتاہے۔ جیسے وہ جسمانی طور پر آنے والی نسلوں کی پیدائش ، تربیت اور پرورش کے لیے پیدا کی گئی ہے اسی طرح روحانی طور پر بھی اسے عواطف، احساسات اور جذبا ت کا زیادہ حصہ دیاگیاہے۔ ان وسیع اختلافات کی موجودگی میں کیا یہ کہاجاسکتاہے کہ مرد اور عورت کو تمام حالات میں ہم قدم ہونا چاہئیے اور تمام کاموں میںانہیں سوفیصد مساوی ہونا چاہئیے۔ کیا عدالت اور مساوات کے حامیوں کو معاشرے کے تقاضوں کے حوالے سے بات کرنا چاہیے؟ کیایہ عدالت نہیں کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری ادا کرے اور اپنے وجود کی نعمتوں اور خوبیوں سے بہرہ مند ہو؟ اس لیے ، کیا عورت کا ایسے کاموں میں دخیل ہونا جو اس کی روح اور جسم سے مناسبت نہیں رکھتے، خلاف عدالت نہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ہم دیکھتے، ہیں کہ اسلام جو عدالت کا ہی طرفدار ہے مرد کو کئی ایک اجتماعی کاموں میں سختی یا زیادہ دقت نظر کی ضرورت ہے مثلا گھرکے معاملات کی سرپرستی و غیرہ میں مقدم رکھتاہے اور معاونت و کمک کا مقام عورت کے سپرد کردیتاہے ایک گھر اور ایک معاشرے کو منتظم کی ضرورت ہے اور نظم و ضبط کا آخری مرحلہ ایک ہی شخص تک انجام پذیر ہونا چاہیے ورنہ کشمکش اور ہرج و مرج پیدا ہوگا۔ اگر تمام تعصبات سے بے نیاز ہوکر غور کیاجائے تو یہ واضح ہوگا کہ مرد کی ساخت کے پیش نظر ضروری ہے کہ گھرکی سرپرستی اس کے ذمے رکھی جائے اور عورت اس کی معاون ہو۔ اگر چہ کچھ لوگ ان حقائق سے چشم پوشی اختیار کرنے پر مصر ہیں۔ آج کی دنیا میں بھی بلکہ ان اقوام میں بھی جو عورتوں کا مکمل آزادی و مساوات دینے کا دعوی کرتے ہیں، خارجی حالات زندگی نشاندہی کرتے ہیں کہ عملی طور پر وہی بات ہے جو ہم بیان کرچکے ہیں اگر چہ باتوں میں اس کے برخلاف کہتے ہیں۔ ۲۲۹۔الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ اٴَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَیَحِلُّ لَکُمْ اٴَنْ تَاٴْخُذُوا مِمَّا آتَیْتُمُوہُنَّ شَیْئًا إِلاَّ اٴَنْ یَخَافَا اٴَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ اٴَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللهِ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیمَا افْتَدَتْ بِہِ تِلْکَ حُدُودُ اللهِ فَلاَتَعْتَدُوہَا وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الظَّالِمُون ترجمہ ۲۲۹ طلاق (جس میں رجوع ہے) دو ۲ مرتبہ ہے (اور ہر مرتبہ ) مناسب طریقے سے اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھے (اور صلح کرلے) یا نیکی کے ساتھ اسے چھوڑدے (اور اس سے الگ ہوجائے) اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ انہیں جو چیزدی ہے وہ اُن سے واپس لو۔ مگر یہ کہ دونوں (میاں بیوی) اس سے ڈریں کہ وہ حدود الہی کی پاسداری نہیں کرسکیں گے اگر انہیں خوف ہے کہ وہ حدود الہی کا لحاظ نہ کرسکیں گے تو پھر ان کے لیے کوئی حرج نہیں کہ عورت فدیہ اور عوض دے دے (اور طلاق لے لے) یہ حدود اور خدائی سرحدیں ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو شخص ان سے تجاوز کرے وہ ظالم ہے۔ تفسیر گذشتہ آیت کی تفسیر میں کہاجاچکاہے کہ عدت اور رجوع کا قانون خاندانوں کی اصلاح اور جدائی کو روکنے کے لیئے ہے لیکن اسلام لانے والے نئے مسلمان اس سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے اور بیوی کو تکلیف اور سختی پہنچانے کے لیئے پے در پے طلاق دیتے اور عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلیتے ۔ اس طرح وہ عورت پرسختی کرتے اور اُسے مصیبت میں مبتلا رکھتے۔ زیر بحث آیت اس غیر انسانی فعل کو روکتی ہے۔ ارشاد ہے کہ دو مرتبہ تک طلاق اور رجوع صحیح ہے لیکن اگر تیسری مرتبہ طلاق انجام پذیر ہوئی تو پھر رجوع کا حق نہیں ہے۔ اور آخری طلاق ہے۔ البتہ ”الطلاق مرتان“سے مراد ہے وہ طلاق جس میں رجوع ممکن ہے اور جس کے بارے میں ”امساک بمعروف“صادق آتاہے جو دوسے زیادہ نہیں اور تیسری طلاق میں رجوع نہیں ہے جیسا کہ آیت گواہی دیتی ہے۔ ”امساک“کا معنی ہے۔ روکے رکھنا اور ”تسریع“کا معنی ہے چھوڑدینا ۔ جب کشمکش ، طلاق اور پھر صلح اور رجوع کی نوبت دو مرتبہ ہو گزرے تو پھر مرد کو چاہئیے کہ معاملے کو ایک طرف کرے۔