كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
Mankind were a single community; then Allah sent the prophets as bearers of good news and warners, and He sent down with them the Book with the truth, that it may judge between the people concerning that about which they differed, and none differed in it except those who had been given it, after the manifest proofs had come to them, out of envy among themselves. Then Allah guided those who had faith to the truth of what they differed in, by His will, and Allah guides whomever He wishes to a straight path.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:213
[Pooya/Ali Commentary 2:213] Aqa Mahdi Puya says: Mankind was ignorant, closely associated with each other in waywardness and lack of knowledge, before the revelation of divine wisdom. Therefore, prophets were sent to enable people to distinguish between good and evil, right and wrong. It agrees with verse 19 of Yunus. So the purpose of the divine mission was not to bring unity among the people who differed in their religious ideologies, but to develop their aptitude for choosing the right path by pinpointing evil and evildoers. "And only those to whom the scriptures were given differed concerning it, after clear proofs had come to them, through hatred of one another", refers to the Jews and the Christians who profusely corrupted their scriptures. It also refers to the Muslims who misinterpret the verses of the Quran.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:213
راه وصول به وحدت
ابتداء میں انسان کی زندگی اور معاشرہ سادہ تھا۔ رفتہ رفتہ جب انسانوں کی تعداد بڑھنے لگی ۔ منافع کا تضاد ابھرا اور اختلافات پیدا ہونے لگے۔ یہ مقام وہ تھا کہ راہنما اور قانون کی ضرورت پیدا ہوئی۔ سب سے پہلے ضروری تھا کہ خدا کے بھیجے ہوئے نمائندے لوگوں کو دوسرے جہاں کی زندگی کی طرف متوجہ کریں جو سیر تکامل اور سفر ارتقاء کا آخری مرحلہ ہے۔ ضروری تھا کہ وہ انہیں متنبہ کریں کہ موت کے بعد ایک اور جہاں ہے جس میں لوگ اپنے کردار کی جزا و سزا سے دوچار ہوں گے انبیاء کرام اس ذریعے سے اور ثواب کی بشارت اور بدکاروں کو عذاب سے ڈرانے کے طریقے سے لوگوں کو احکام الہی کی طرف راغب کرتے تھے (فبعث اللہ النبیین مبشرین و منذرین)۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان محسوس کرتاہے کہ اسے ایسے صحیح قوانین کی ضرورت ہے جو اس کی سعادت کا سبب بنیں۔ اسی لیے خداوند الم نے انبیاء کے پاس سعادت بخش قوانین بھیجے تا کہ وہ لوگوں کے اختلافات کو ختم کریں۔ در حقیقت زیر نظر آیت ان مراحل کو بیان کرتی ہے جو انبیاء کی بعثت اور آسمانی احکام کے نزول پر منتھی ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ:۔ یہ مرحلہ ابتدائی سادہ زندگی پر مشتمل ہے جب انسان اجتماعی زندگی کا عادی نہ ہواتھا اور فطرتا تضاد اور تصادم وقوع پذیر نہ ہوتا تھا۔ قانون فطرت کے مطابق خدا کی پرستش ہوتی تھی اور اس کے آسان و سادہ فرائض اس کی بارگاہ میں انجام دیئے جاتے تھے۔ دوسرا مرحلہ:۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب انسانی زندگی اجتماعی شکل اختیار کرلیتی ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئیے تھا کیونکہ انسان تکامل و ارتقاء کے لیے پیدا کیاگیاہے اور اس تکامل کے لیے اجتماعی و معاشرتی زندگی ناگزیر ہے۔ تیسرا مرحلہ:۔ یہ تضاد و تصادم کا مرحلہ ہے اور معاشرتی زندگی میں اس سے بچا نہیں جاسکتا۔ اختلاف پیدا ہوتے ہیں اور نوع انسانی کے لیے انبیاء کے قوانین اور تعلیمات کی تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ چوتھا مرحلہ:۔ اس مرحلے میں انبیاء خدا کی طرف سے نجات بشر کے لیے مامور کئے جاتے ہیں۔ افکار اور قلوب کو آمادہ کرنے کے لیے سب سے پہلے بشارت و نذارت کا پروگرام پیش کیاجاتاہے ( یہ نیکوکاروں کو جزا کی بشارت دینے اور بدکاروں کو سزا سے ڈرانے کا پروگرام ہے) حب ذات اور خود پرستی کے زیر سایہ جب انسان نے بشارت اور نذارت کا پروگرام تسلیم کرلیا اور اس نے محسوس کرلیا کہ انبیاء کے پاس ایسی تعلیم ہے جو انسانی سرنوشت سے براہ راست مربوط ہے تو آسمانی کتب ، احکام اور قوانین نازل ہونا شروع ہوئے تا کہ تضادات اور مختلف کشمکشیں (جو فکری، اجتماعی، اخلاقی اور نظریاتی بنیادوں پر تھیں ) ختم ہوجائیں۔ ”وَمَا اخْتَلَفَ فِیہِ إِلاَّ الَّذِینَ اٴُوتُوہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَتْہُمْ الْبَیِّنَاتُ بَغْیًا “ یہ جملہ در اصل تعلیمات انبیاء کے آغاز کے بعد کے مرحلے کی طرف اشارہ کرتاہے۔ اس میں اس اعتراض کا جواب ہے کہ اگر انبیاء فکری ، اجتماعی اور عقائد کے اختلافات کے حل کے لیے آتے ہیں تو ان کے آجانے کے بعد بھی کم و بیش اختلافات کیوں باقی رہتے ہیں۔ آیت کہتی ہے کہ موجودہ اختلاف اور پہلے تضاد میں فرق ہے۔ پہلے اختلافات کا سرچشمہ جہالت، نادانی اور بے خبری تھی اور یہ وجہ بعثت انبیاء سے ختم ہوگئی۔ لیکن بعد ازاں اختلافات کی بنیاد دیگر چیزیں مثلا ”بغی“ یعنی ظلم و ستم، ہٹ دھرمی و غیرہ بن گئیں جن کی وجہ سے بعض لوگوں نے اختلافی راہ پر اپنے سفر کو جاری رکھا ”(مِنْ بَعْدِ مَا جَائَتْہُمْ الْبَیِّنَاتُ بَغْیًا بَیْنَہُم“) یہاں آکر لوگ دو مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ مومنین۔۔۔ جو ہدایت اور حق کی راہ پرچل کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اپنے اختلافات کو ختم کردیا (فہدی اللہ الذین امنوا۔۔۔۔۔۔)۔ انہوں نے بحکم خدا صراط مستقیم کو طے کرلیا۔ لیکن ۔۔۔۔ کفار۔۔۔جوں کے توں اپنے اختلافات میں باقی ہیں۔ وَاللهُ یَہْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیم “ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی مشیت نیک اعمال اور لوگوں کی پاکیزگی کے مطابق ہے یعنی جو افراد حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہیں خدا بھی انہیں راہ راست کی ہدایت کرتاہے۔ انکی روشن فکری اور راہ راست کو پالینے کی توفیق میں اضافہ کرتاہے اور انہیں انبیاء کی وساطت سے راہ نجات اور راہ راست دکھاتا ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:213
دین اور معاشرہ
مندرجہ بالا آیت سے ضمنی طور پر یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ دین اور انسانی معاشرہ دو ایسی حقیقتیں ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔ کوئی معاشرہ مذہب اور قیامت پر ایمان رکھے بغیر صحیح زندگی نہیں گزارسکتا۔ ایسے انسانی قوانین جن کا سرچشمہ ایمان نہیں وہ فقط ذاتی ذمہ داریوں کی نشاندہی تک محدود ہیں۔ وہ انسانی وجود پر گہرا اثر مرتب نہیں کرتے ۔ ایسے قوانین اختلافات اور منافع کی تضاد کو ختم نہیں کرسکتے۔ ان آخری صدیوں کی آزمائشوں میں انسانی معاشروں میں یہی حقیقت اچھی طرح ثابت ہوچکی ہے ۔ ایمان سے بے بہرہ وہ دنیا جسے اصطلاح میں متمدن کہا جاتاہے بہت سی ایسی قباحتوں اور گناہوں کی مرتکب ہورہی ہے جو تھوڑا بہت ایمان رکھنے والے گذشتہ پس ماندہ معاشروں میں دکھائی نہیں دیتے زیر نظر آیت سے ضمنا یہ بھی واضح ہوتاہے کہ حقیقی دین و مذہب کی پیدائش انسانی پیدائش کے ساتھ ساتھ نہیں ہوئی بلکہ معاشرے کے وجود کے ساتھ حقیقی دین و مذہب بھی وجود پذیر ہوا۔ ا س بنا ء پر اس میں کوئی تعجب نہیں کہ سب سے پہلے اوالعزم اور صاحب دین و شریعت پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام تھے نہ کہ حضرت آدم علیہ السلام ۲۱۴۔ اٴَمْ حَسِبْتُمْ اٴَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَاٴْتِکُمْ مَثَلُ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمْ الْبَاٴْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّی یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ مَتَی نَصْرُ اللهِ اٴَلاَإِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِیب ترجمہ ۲۱۴۔ کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم جنت میں جاؤگے اور تمہیں وہ حوادث پیش نہیں آئیں گے جو گذشتہ لوگوں کو در پیش ہوئے۔ وہی لوگ جنہیں دشواریاں اور تکلیفیں در پیش ہوئیں اور وہ ایسے دکھ درد میں مبتلا ہوئے کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ اہل ایمان کہنے لگے خدا کی مدد کہاں ہے (اور سب نے اس وقت اللہ سے مدد کا تقاضا کیا لیکن ان سے کہہ دیا گیا کہ) آگاہ رہو کہ خدا کی مدد قریب ہی ہے۔ شان نزول بعض مفسرین کہتے ہیں جنگ احزاب میں جب مسلمانوں پر ڈر اور شدید خوف غالب آیا اور وہ محاصرے میں آگئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں انہیں صبر و استقامت کی دعوت دی گئی اور نصرت و مدد کا وعدہ کیاگیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ احد میں جب مسلمان شکست کھا گئے تو عبداللہ ابن ابی نے ان سے کہا کہ کب تک اپنے آپ کو قتل کرواتے رہو گے اگر محمد پیغمبر ہو تا تو خدا اس کے اصحاب و انصار کو قید و بند اور قتل میں گرفتار نہ کرتا۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔