لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ
There is no sin upon you in seeking your Lord’s bounty [during the hajj season]. Then when you stream out of ‘Arafat remember Allah at the Holy Mash‘ar, and remember Him as He has guided you, and earlier you were indeed among the astray.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:198
[Pooya/Ali Commentary 2:198] Fazl means bounty, the sustenance one obtains by trade and commerce. Mash-aril haram, the holy sign or monument, is the place known as muzdalifa, where the pilgrims halt for a night while returning from Arafat on the evening of the 9th Dhilhajj.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:198-199
موسم حج میں اقتصادی کارکردگی
مانہ جاہلیت میں مراسم حج بجالا نے کے موقع پر معاملہ، تجارت ، مسافروں کو لے جانا اور سامان لا نا لے جانا حرام اور گناہ سمجھا جا تا تھا ۔ مسلمان فطری طور پر منتظر تھی کہ انہیں معلوم ہو کہ زمانہ جاہلیت والے احکام جوں کے توں باقی رہیں گے یا یہ کہ اسلام ان کے بے وقعت ہو نے کا اعلان کرتا ہے۔ محل بحث آیت نے ان دنوں میں معاملہ یا تجارت کے گناہ ہو نے کو غلط قرار دے و یا ہے اور بتایا ہے کہ موسم حج میں کسی قسم کامعاملہ یا تجارت کر نے میں کوئی مانع اور حرج نہیں اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ لوگ فضل خدا سے بہرہ ور ہوں اور کوئی نفع حاصل کریں اور اپنے ہا تھوں کی کمائی سے فائدہ اٹھا ئیں ۔ اسلامی کتب اور منابع میں حج کے فلسفہ میں جہاں اس کے اخلاقی ، سیاسی اور ثقافتی پہلوں کی طرف اشارہ ہوا ہے وہاں اس کے اقتصادی فلسفہ کی طرف بھی اشارہ ہوا سے اور کہا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں سے خانہ خدا کی طرف مسلمانوں کا سفر اور وہاں عظیم اسلامی کانفراس کی تشکیل اسلامی معاشروں کی عام اقتصادی ترقی کی اساس بھی بن سکتی ہے۔ مسلمانوں کے اقتصادی ماہرین کو اچاہئیے کہ مراسم حج سے پہلے یا بعد میں مل بیٹھیں اور ہم فکر اور ہم قدم ہو کر اسلامی معاشروں میں مستحکم اقتصاد کی طرح ڈالیں اور صحیح تجارتی مبادلات کے ساتھ اس طرح کا طاقتور اقتصادی ڈھانچہ وجود میں لائیں کہ جس کے باعث دشمنوں اور غیروں سے بے نیاز ہو جائیں اس بناپر تجارتی معاملات اور مبادلات بجائے خود دشمنان اسلام کے مقابلے میں اسلامی معاشر ے کی تقویت کا ذریعہ ہیں کیونکہ کوئی بھی قوم قوی اقتصاد کے بغیر مکمل استقلال حصل نہیں کر سکتی لیکن یہ واضح ہے کہ یہ تجارتی کارگزاریاں حج کے عبادتی اور اخلاقی پہلووں کی ماتحت ہونا چاہئیں نہ کہ ان پر مقدم ۔ یہ خوش بختی ہے کہ مسلمانوں کے پاس اعمال حج سے پہلے اور بعد اس کام کے لیے کافی وقت ہوتا ہے۔ ہشام بن حکم کہتے ہیں :کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ خدا نے لوگوں کو حج کر نے اور اپنے گھر کا طواف کر نے کا حکم کیوں دیا ہے اس پر آپ نے فرمایا: خدا نے انسانوں کو پیدا کیاور انہیں ایک ایسے عمل (حج) کا حکم اطاعت دیا او ر ان کے دنیاوی فوائد کا حاصل ہے ۔ موسم حج میں مسلمان شرق و غرب سے ایک دو سرے سے ملتے ہیں تا کہ وہ آپس میں شناسائی پیدا کریں اور ہر قوم دوسر ی ا قوام کی تجارتوں اور لائے ہو ئے اقتصادی اموال سے استفادہ کرے اور نقل و حمل کرنے والے مسافر کرایہ دے کر اپنے منتقل ہونے والے ذرایع اور اسباب سے بہرہ مند ہوں اور اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ پیغمبر کے آثار و اخبار سے آشناہوں اور یہ آثار اس طرح زندہ رہیں اور فراموش نہ ہو جائیں ۔ اگر بناء یہ ہو کہ ہر قوم صرف اپنے علاقے کے متعلق گفتگو کرے تو وہ ہلاک ہو جائیں شہر ویران ہو جائیں ، فوائد اور تجارتی منافع ختم ہو جائیں اور اخبار و آثار پیغمبر نابود ہوجائیں یہ ہے حج کا فلسفہ ۔۱۔ فاذا افضتم من عرفات قرآن مجید آیت کے اس حصہ مےں یہ حکم دیتا ہے کہ ان ذمہ درایوں اوراعمال کی انجام دہی کے بعد جو عرفات میں انجام دیئے جا تے ہیں مشعر الحرام کی طرف کوچ کریں جو مکہ سے تقریبا اڑھائی فرسخ کے فاصلے پر منی اور عرفات کے در میان واقع ہے اور وہاں جاکر ذکر و یاد خدا میں مشغول ہو جائیں۔ و اذکروہ کما ہدا کم و اس حصے میں قرآن متوجہ کرتا ہے کہ پروردگار کی ہدایت کے شکرا نے کے طور پر مشعر الحرام میں اس کی یاد میں رہو ایسی یاد جو اس ہدایت کے مطابق ہے جو خدا کی طرف سے ہے( اس بنا پر ہو سکتا ہے کہ لفظ کما یہاں لما یا مثل کے معنی میں ہو)۔ اس زمانے میں مسلمان اس عظیم نعمت یعنی ہدایت کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھ سکتے تھے کیونکہ ان کا فاصلہ اس دور سے زیادہ نہ تھا ۔ جب جزیرة العرب ہر طرف سے گمراہی میں گھرا ہوا تھا ۔ ان کے سامنے تھا کہ خداوند عالم نے کس طرح انہیں اس پاک دین کی برکت سے ان تمام بدبختیوں ، گمراہیوں اور سرگردانیوں سے نجات دی ہے ( و ان کنتم من قبلہ لمن الظالین) ۱۔ حدیث کا عربی متن یہ ہے۔ فقلت لہ ما العلة التی لا جلہا کلف اللہ الباد الحج و الطواف بالبیت؟ فقال فجعل فیہ الاجتماع من الشرق و الغرب لیتعارفوا و لینزع کل قوم من التجارات من بلد الی بلد و لینتفع بذلک المکاری و الجمال و لو کان کل قوم انما یتکلمون علی بلادہم و ما فیہا ہلکوا و خربت البلاد و سقطت الجلب و الارباح وسائل ج ۸ کتاب الحج ابواب وجوب الحج باب حدیث۱۸
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:198-199
عرفات کو عرفات کیوں کہتے ہیں
ہم کہہ چکے ہیں کہ عرفات مکہ سے چار فرسخ کے فاصلے پر ایک وسیع و عریض بیابان ہے۔ وہاں حاجی حضرات نویں ذی الحجہ کو زوال آفتاب سے لے کر غروب تک ٹھہر تے ہیں۔ اس سرزمین کانام عرفات کیوںہے۔ اس بار ے میں بہت سے پہلومذ کور ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب خدا کی وحی کا قاصد جبرئیل حضرت ابراہیم کو مناسک حج کی نشاند ہی کروارہا تھا تو حضرت ابراہیم کہتے (عرفت) عرفت یعنی میں نے پہچان لیا ۔ لیکن بعید نہیں کہ یا نام رکھنا ایک اور حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہو اور وہ یہ کہ یہ سرزمین جہاں سے مراحل حج شروع ہوتے ہیں معرفت پروردگار اور اس کی پاک ذات کو پہچا ننے کے لیے بہت آمادہ اور تیار ما حول مہیا کر تی ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ وہ روحانی اور معنوی جذ بہ جو انسان میں اس سرزمین میں داخل ہو تے وقت پیدا ہوتا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ سب ایک ہی صورت میں ، سب ایک انداز میں ، سب بیابان نشیں ، شہر کی شورغل سے دور ، مادی دنیا کے ہاوٴ ہو س سے پرے ، زرق و برق دنیا سے او جھل ایک آزاد اور گناہ سے پاک فضا میں آسمان کے سائے تلے اس جگہ جہاں فرشتہ وحی کے چھو تے رہے جہاں سے جبرئیل کا زمزمہ ، ابراہیم خلیل اللہ کی مردانہ وار پکار پیغمبر اسلام ﷺ اور صدر اول کے مجاہدین کی حیات بخش صدا کی بھنبھناہٹ آج بھی سنائی دیتی ہے ۔ وہ مقام جہاں انسان نہ صرف یہ کہ عرفان پروردگار کے نشہ میں سر مست ہو جا تا ہے اور کچھ لمحوں کے لیے ساری مخلوق کی تسبیح کے سرورسے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ بلکہ اپنے وجود کے اندر اپنی کھوئی ذات کو جس کی تلاش میں تھا پالیتاہے اور اپنی ذات کا عارف ہوجاتاہے اس مقام پروہ جان لیتا ہے کہ وہ وہ شخص نہیں جو رات دن تلاش معاش میں حریصانہ کوہ و صحرا کی وسعتوں کو اپنے قدموں سے ماپتا رہتا تھا اور جو کچھ ملتا تھا اس سے سیراب نہ ہوتا تھا یہاں وہ جان لیتا ہے کہ ایک اور گوہر اس کی روح کے اندر چھپا ہوا ہے جو در اصل اس کے وجود کی حقیقت ہے۔ جی ہاں اس سرزمین کوعرفات کہتے ہیں۔ کس قدر عمدہ اور مناسب نام ہے۔