وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ
Fight them until persecution is no more, and religion becomes [exclusively] for Allah. Then if they desist, there shall be no reprisal except against the wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:193
[Pooya/Ali Commentary 2:193] Fighting evil should continue until its power base is dislodged, after which it should be stopped. Fitna has been explained in verse 191 of this surah. "Din should be only for Allah" makes it clear that the purpose of fighting in the way of Allah is to remove persecution, corruption and mischief which suppress liberty and do not allow people to choose between truth and falsehood so that they may willingly believe in Allah and follow His commandments. The root of evil is in polytheism. It should be uprooted. When our living Imam returns, he will put an end to polytheism and make available true freedom for mankind. In verse 40 of al Hajj it is said that Allah repels some men by means of others to keep safe synagogues, churches and cloisters so that every man may have the freedom to remember God according to his own belief, because there is no compulsion in religion (Baqarah: 256). Only Islam, and no other religion, gives freedom to one and all to worship one true God - Allah. "And if they desist" means when the polytheists renounce false gods and idol-worshipping and come into the fold of the true faith, Islam, and believe in the one and only true God.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:193
فتنہ کا قرانی مفہوم
لفظ فتنہ اور اس کے مشتقات قرآن میں مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں ۔ ان میں سے چند یہ ہیں: ۱۔ آزمائش و امتحان ۔۔۔۔۔جیسے یہ آیت ہے احسب الناس ان یترکوآ ان یقولوا امنا و ہم لا یفتنون عنکبوت آیہ ۲ کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ کہنا کافی ہے کہ وہ ایمان لی آئے ہیں اور ان کا امتحان اور آزمائش نہیں ہوگی؟ ۲۔ فریب دہی ۔۔۔۔۔ارشاد الہی ہے: یا بنی آدم لا یفتننکم الشیطان اعراف : آیت۲۷ ای اولاد آدم شیطان تمہیں مکر و فریب نہ د ے ۳۔ بلاء اور عذاب ۔۔۔۔۔فرمان الہی ہے: و اتقوا فتنة لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصة انفال آیت ۲۵ اس عذاب سے ڈرو جو فقط ظالموں ہی کے لیے نہیں ( بلکہ ان کے لیے بھی ہے جنہوں نے خود تو ظلم نہیں کیا لیکن ظلم ہوتا رہااور وہ چب سادھے(رہے) ۴۔ شرک، بت پرستی اور مومنین کی راہ میں رکاوٹ بننا ۔۔۔۔۔۔ارشاد ہوتا ہے: وا قاتلو ہم حتی لا تکون فتنہ و یکون الدین کلہ للہ انفال آیت۳۹ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ شرک اور بت پرستی بافی نہ رہے اور دین صرف اللہ سے مخصوص ہو جا ئے ۵۔ گمراہ کرنا اور گمراہی ۔۔۔۔۔سورہ مائدہ میں ہے: و من یرد اللہ فتنتہ فلن تملک لہ من اللہ شیئا مائدہ آیت ۴۱ اور جسے خدا گمراہ کرد ے ( اور اس سے توفیق سب کرلے تو تم اس کے مقابلے میں کوئی قدرت نہیں رکھتے بعید نہیں کہ ان تمام معانی کی ایک ہی بنیاد ہو( جیسے مشترک الفاظ کی یہی صورت ہوتی ہے) اور وہ بنیاد یہ ہے کہ فتنہ کا اصل لغوی معنی ہے کہ سو نے اور چاندی کو آگ کے دباؤ کے نیچے رکھنا تا کہ خالص اور ناخالص حصہ جدا ہو جائے۔ اس لیے جہاں کہیں دباؤ اور سختی ہو یہ لفظ استعمال ہو تا ہے ۔ مثلا امتحان کے مواقع پر شدت اور مشکل در پیش ہو تی ہے جو انسان کے امتحان کا باعث بنتی ہے۔ یہی حال کفر اور مخلوق کی ہدایت کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک میں ایک قسم کاد باؤ اور شدت پائی جاتی ہے۔ ۱۹۴۔ الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنْ اعْتَدَی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ ترجمہ ۱۹۴۔حرام مہینہ حرام مہینے کے مقابلے میں ( اگر دشمن اس کا احترام نہ کریں اور تم سے لڑیں تو تم بھی مقابلہ بالمثل کا حق رکھتے ہو ) تمام حرام امور (قابل ) قصاص ہیں اور (بطور کلی) جو شخص بھی تم پر تجاوز کرے تو اس کی طرح تم بھی اس پر تعدی کر سکتے ہوا اور خدا سے ڈرتے رہنا (اور زیادتی نہ کرنا ) اور جان لو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔ تفسیر : مشرکین جانتے تھے اور پیغمبر اکرم سے سن بھی چکے تھے کہ حرمت والے مہینوں( ذی القعدہ ، ذی الحجہ، محرم اور رجب) میں اسلام کے نقط نظر سے جنگ کرنا نا جائز اور خصوصیت سے مسجد الحرام اور مکہ میں تو اور بھی زیادہ غیر درست ہے نیز پیغمبر اسلام اس حکم کا احترام کر تے ہیں اس لیے ان کی خواہش تھی کہ مسلمانوں پر انہی مہینوں میں غفلت کی حالت میں حملہ کردیں اور وہ خود ان محترم مہینوں کے احترام سے بے پرواہ تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اس کی اجازت نہیں کہ وہ مقابلہ کریں اور یوں ،ہی رہا تو وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے زیر بحث آیت نے ان کی سازش سے پردہ اٹھا دیا اور کہا کہ حرام مہینوںمیں جنگ کا جواب انہی مہینوںمیں دیا جا ئیگا حرام مہینوںمیں مسلمانوں کی طرف سے مقابلہ در حقیقت ان مہینوںکا احترام لوٹا نے کے لیے ہی ہے۔ و المحرمات قصاص واقع میں ان لوگوں کا دندان شکن جواب ہے جو حرام مہینوں میں جنگ کی اجازت دینے پر پیغمبر اکرم ﷺ پر اعتراض کر تے تھے یعنی نگاہ اسلام میں ماہ حرام کا احترام ان لوگوں کے مقابلے میں ہے جواسے محترم سمجھے لیکن جو اس کے احترام کو پامال کریں ان سے رعایت ضروری نہیں اور ان سے اس ماہ میں بھی جنگ کرنا جائز ہے ۔ اسی لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جنگ کی صورت واضح ہو جائے تو مقابلے کے لیے کھڑ ے ہو جاؤتا کہ مشرکین دوبارہ حرام مہینوں کا احترام زائل کر نے کی جرات نہ کر سکیں ۔ اس کے بعد ایک کلی اور عمومی حکم صادرفرمایا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ مقابلہ بمثل ہر مسلمان شخص کا فریضہ ہے ۔ تمام لوگوں کو اجازت دی گئی ہے کہ ظالم کے مقابلے میں کھڑ ے ہو جائیں اورجس قدر ظلم و تجاوزان پر کیا گیا ہے اتناہی اس کا جواب دیں۔ یہ کام فطرت و آفرینش کے قوانین کے مطابق ہے ۔ یہاں تک کہ بدن کے خلیے حملہ کر نے وا لے جرا ثیموں کے مقابلے میں کھڑ ے ہو جا تے ہیں اور مملکت بدن پران کے تجاوز اور حملے کا دفاع کر تے ہیں ۔ نباتات بھی اسی طبیعی اور تکوینی قانون سے استفادہ کر تے ہیں۔ وہ حوادث ، طوفان اور مختلف حملہ آوروں کے مقابلے میں استقامت دکھا تے ہیں او ان حملوں کا مقابلہ کرتے ہیں مسیحیت کہتی ہے: اگر کوئی تمہارے دائیں رخسار پرتھپٹر مار ے تو بایاں رخسار بھی اس کے سامنے کردو اور اسے دو سرے تھپڑ کے لیے تیار کرو۔ اس کے بر عکس اسلام کہتا ہے : حس قدر تم پر ظلم و تعدی ہواس کا جواب اس طرح دو اور تسلیم کا معنی موت اور مقابلے کا معنی زندگی ہے۔ یہ ہے اسلام کی منطق (البتہ یہ امر دو ستوں کو معاف کرنے کے منافی نہیں اور یہ ایک الگ بحث ہے) ۱۹۵۔و اتقوا اللہ و اعملوا ان اللہ مع المتقین اس جملہ میں دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ جواب اور دفاع تجاوز کی مقدار سے زیادہ نہ ہو کیونکہ جواب دینے میں زیادتی حریم تقوی و پرہیزگاری سے بعید ہے ترجمہ ۱۹۵۔وَاٴَنفِقُوا فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَتُلْقُوا بِاٴَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَةِ وَاٴَحْسِنُوا إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ ۱۹۵۔ اور راہ خدا میں خرچ کرو (اور خرچ نہ کرکے ) اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی کرو کہ اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتاہے۔ تفسیر جس طرح جہاد میں مخلص ، طاقتور اور تجربہ کار مردوں کی ضرورت ہے اسی طرح مال و دولت کی بھی احتیاج ہے کیونکہ جہاد میں روحانی و جسمانی آمادگی کی ضرورت ہے اور فوج کے لیے مناسب اسلحہ اور سامان جنگ کی بھی احتیاج ہے۔ یہ صحیح ہے کہ پہلے درجے کا عامل سرنوشت اور انجام جنگ کا تعین مجاہدوں اور جانبازوں ہی سے ہو تا ہے ۔ لیکن مجاہد کو وسائل کی بھی ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت تاکید کر رہی ہے کہ اس راہ میں خرچ نہ کرنا گویا اپنے تیئں ہلاکت وتباہی میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ خصوصا اس زمانے میں تو بہت سے مسلمان جذ بے اور عشق جہاد سے سرشار تھے لیکن فقیر و محتاج تھے اور اسباب جنگ مہیا کر نے کی سکت نہ رکھتے تھے جیسا کہ قرآن نقل کرتا ہے کہ وہ لوگ پیغمبر اکرم کی خدمت میں آ تے اور آپ سے درخواست کرتے تھے کہ ہماے لیے سامان جنگ مہیا فرمائیں اور ہمیں میدان جنگ بھجیں چونکہ اسباب مہیا نہ تھے لہذا وہ افسردہ اور غمگین روتی ہوئی آنکھوں سے پلٹ آتے: تولوا و اعینہم تفیض من الدمع حزنا الا یجدوا ما ینفقون آنکھوں میں اشک رواں لیے ہو ئے لوٹ جاتے اورغم زدہ ہو تے کہ ان کے پاس مال کیوں نہیں جس سے وہ اسباب جنگ مہیا کریں اور میدان جنگ میں حاضر ہوں۔ (توبہ ۔۹۲)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:193
مدینه میں جهاد کا حکم کیوں
ہم جانتے ہیں کہ جہاد ہجرت کے دوسرے سال مسلمانوںپر واجب ہوا اس سے پہلے واحب نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکہ میں ایک تو مسلمانوںکی تعداد اتنی کم تھی کہ مسلح قیام عملا خود کشی کے مترادف تھا اور دسری طرف مکہ میں دشمن بہت زیادہ طاقتور تھا لہذا مکہ کے اندر ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہ تھا۔ جب پیغمبر اکرم ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو بہت لوگ آپ پر ایمان لے آئے اور آپ نے اپنی دعوت مدینہ کے اندر اور با ہر ہر طرف پھیلائی ۔ اس طرح آپ ایک مختصر سی حکومت کے قیام اور دشمن کے مقابلے میں ضروری وسائل جمع کر نے کے قابل ہو گئے ۔ مدینہ چونکہ مکہ سے کافی دور تھا اس لیے یہ امور آسانی سے انجام پاگئے ۔ انقلاب اور آزادی پسند قوتیں دشمن سے مقابلے اور دفاع کے لیے تیار ہو گئیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:193
شرک و بت پرستی کے خلاف جهاد
اسلام لوگوں کو یہ آخری اور بلند ترین دین انتخاب کرنے کی دعوت دیتا ہے اس کے با وحود وہ عقید ے کی آزادی کو بھی محترم شمار کرتا ہے ۔ اسی لیے آسمانی کتب کی حامل قوموں کو اسلام نے کافی مہلت اور رعایت دی ہے کہ وہ مطالعہ اور غور و فکر سے دین اسلام کو قبول کریں اور اگر وہ اسے قبول نہ کریں تب بھی ان سے اسلام ایک ہم پیمان اقلیت والا معاملہ کرتا ہے اور مخصوص شرائط کے ساتھ جو پیچیدہ ہیں نہ مشکل ان سے صلح آشتی سے باہمی زندگی گذار تا ہے۔ لیکن۔۔۔شرک اور بت پرستی کوئی دین اور آئین نہیں اور نہ ہی وہ قابل احترام ہے بلکہ وہ تو ایک قسم کی بے ہودگی، کجروی اور حماقت ہے ۔ در اصل وہ ایک فکری اور اخلاقی بیماری ہے حبس کی ہر قیمت پر ریشہ کنی ضروری ہے دو سروں کی فکر و نظر کی آزادی اور احترام کے الفاظ ان کے لیے استعمال ہو تے ہیں جن کے فکر و عقیدہ کی کم از کم کوئی صحیح بنیاد تو ہو لیکن کجروی ، بے ہودگی ، گمراہی ، اور بیماری تو کوئی ایسی چیز نہیں جسے محترم سمجھا جا ئے ۔ اسی لیے اسلام حکم دیتا ہے کہ جیسے بھی ہو انسانی معاشر ے سے بت پرستی کی ریشہ کنی کی جائے چاہے اس کے لیے جنگ مول لینا پڑ ے ۔ بت خانے اور بت پرستی کے آثار صلح صفائی سے نہ مٹ سکیں تو قوت و طاقت کے بل بوتے پر انہیں ویران و منہدم کیا جانا چا ہئیے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:193
دفاعی جهاد
بعض اوقات کسی فرد یا گروہ پر جنگ ٹھونسی جاتی ہے اور اس پر تجاوز کیا جا تا ہے یا دشمن اس کی غفلت سے فائدہ اٹھا کراچانک حملہ کردیتا ایسی صورت میں حملے کا نشانہ نبنے والے فرد یا گروہ کو تمام آسمانی اور انسانی قوانین دفاع کا حق دیتے ہیں ۔ اُ سے حق پہنچتا ہے کہ ایسے ہیں جو کچھ اس سے اپنے وجود کی بقاء کے لیے بن پڑ ے کر ے اور اپنی حقاظت کے لیے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کر ے ۔ جہاد کی اس قسم کو دفاعی جہاد کہتے ہیں ۔ احد ، احزاب، موتہ، تبوک ، حنین، اور بعض دیگر اسلام جنگیں جہاد کے اسی حصے کا جزء ہیں اور یہ سب جنگیں دفاعی پہلوکی حامل ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:193
ابتدائی جهاد آزادی
خداوند عالم کے احکام اور پرواگرام نوع انسان کی سعادت ،آزادی، تکامل ، خوش بختی اور آسایش و آرام کے لیے ہیں اور اس نے اپنے انبیاء و مرسین کا یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ وہ ان احکام کو لوگوں تک پہنچائیں۔ اب اگر کوئی شخص یا گروہ ان احکام کی تبلیغ کو اپنے پست منافع سے مزاحم سمجھتے ہوئے اس کی راہ میں روڑے اٹکائے تو انہیں حق پہچنتاہے کہ وہ پہلے صلح و آشتی سے اور اگر اس سے ممکن نہ ہو تو قوت و طاقت سے اپنے دعوت کی راہ سے یہ رکاوٹیں ہٹادیں اور اپنے لیے تبلیغ کی آزادی حاصل کریں ۔ دوسر ے لفظوں میں تمام معاشروں میں لوگ یہ حق رکھتے ہیں کہ راہ حق کی طرف دعوت دینے والوں کی آواز سنیں اور ان کی دعوت قبول کرنے میں آزاد ہوں اب اگر کچھ لوگ انکا یہ جائز حق چھیننا چاہیں اور انھیں اجازت نہ دیں کہ وہ راہ حق پکارنے والوں کی پکار گوش دل سے سن سکیں اور فکری و اجتماعی قید و بند سے آزاد ہوں تو پھران پروگراموں کے طرفداروں کو حق پہچتا ہے کہ وہ حصول آزادی کے لیے ہر ذریعہ استعمال کریں ۔ یہیں سے اسلام اور دیگر آسمانی ادیان میں ابتدائی جہاد کی ضرورت واضح ہو تی ہے۔ اس طرح اگر کچھ لوگ مومنین پردباد ڈالیں کہ وہ اپنے پرانے مذہب کی طرف جائیں تو یہ دباؤ دور کر نے کے لیے بھی ہر ذریعہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔