كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
Prescribed for you, when death approaches any of you and he leaves behind any property, is that he make a bequest for his parents and relatives, in an honourable manner—an obligation on the Godwary.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:180
[Pooya/Ali Commentary 2:180] What one leaves behind should be clearly defined, according to the law of inheritance as well as one's own wishes. No vagueness is allowed in Islam, because the path is that of awareness, discrimination, and knowledge. In verse 8 of al Adiyat also khayr refers to wealth, as in this verse. Khayr according to most commentators means abundant wealth or large property. Aqa Mahdi Puya says: Although the Sunni school thinks that this verse has been abrogated by verse 11 of al Nisa, but its proper study makes it clear that the distribution of wealth among the heirs is to be effected after taking the will (bequest) of the deceased into consideration. The Holy Prophet and Imam Ali had clearly, in many instances, advised those, who sought their guidance, to bequeath or not to bequeath according to the merits and circumstances of the seekers of guidance. Here the word kutiba means "laid down". It can be compulsory or optional according to the merits and circumstances of the case. To alter or to misinterpret the word of Allah is a major sin. Beware. He is hearing, knowing. The wishes of a departed being should not be altered. In case of disagreement, proper settlement, within shari-ah, should be made so as not to deprive the rightful heirs, nor let those, in whose favour the bequest has been made, suffer any undue loss.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:180-182
وصیت۔ اصلاح کا ذریعہ
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنی وصیت کو اپنی گذشتہ کو تاہیوں کے اصلاح اور ان کے ازالے کا ذریعہ قرار دے۔ یہاں تک کہ اس کے عزیز اقارب اور وابستگان میں سے اگر کچھ اس کی طرف سے سرد مہری اور بے رغبتی کا شکار تھے تو وصیت کے ذریعے ان سے اظہار محبت کرے۔ روایات میں ہے کہ ہادیان دین اپنے ان رشتہ داروں کے بارے میں خاص طور پر وصیت کرتے تھے جو ان سے سرد مہری سے پیش آتے تھے اور مال کی کچھ مقدار وصیت کے ذریعے ان کے لئے مختص کردلیتے تھے تا کہ ٹوٹے ہوئے رشتے محبت کے ذریعے پھر سے جوڑدیں۔ اسی طرح اپنے غلاموں کو آزاد کردیتے یا انہیں آزاد کرنے کی وصیت کردیتے تھے۔ ۱۸۳۔ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ ۱۸۴۔اٴَیَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا اٴَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ اٴَیَّامٍ اٴُخَرَ وَعَلَی الَّذِینَ یُطِیقُونَہُ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَہُوَ خَیْرٌ لَہُ وَاٴَنْ تَصُومُوا خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۱۸۵۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اٴُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِنْ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمْ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیضًا اٴَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ اٴَیَّامٍ اٴُخَرَ یُرِیدُ اللهُ بِکُمْ الْیُسْرَ وَلاَیُرِیدُ بِکُمْ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللهَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ترجمہ ۱۸۳۔اے ایمان والو! روزہ تمہارے لئے لکھ دیا گیاہے جیسے تم سے پہلے لوگوں کے لئے لکھا گیاتھا، تا کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ ۱۸۴۔چند گنے چنے دن (روزہ رکھو) اور تم میں سے جو لوگ بیمار ہوں یا مسافر ہوں وہ ان کی بجائے دوسرے دنوں میں (روزوں کی) گنتی پوری کرلیں اور جولوگ یہ کام انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتے (مثلا دائمی مریض اور بوڑھے مرد و عورتیں ) ضروری ہے کہ وہ کفارہ ادا کریں اور مسکین کو کھانا کھلائیں اور جو لوگ کار خیر بجالائیں تو وہ ان کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ ۱۸۵۔ (وہ چند گنے چنے دن) ماہ رمضان کے ہیں، اس میں قرآن نازل ہوا جس میں لوگوں کے لئے راہنمائی اور ہدایت کی نشانیاں ہیں اور جو حق و باطل کے در میان فرق کرنے دالاہے۔ پس جو شخص ماہ رمضان میں حضر میں ہو وہ روزہ رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ دوسرے دنوں میں بجالائے ۔ خدا تمہارے لئے راحت و آرام چاہتاہے ، زحمت و تکلیف نہیں، تم یہ دن پورے کرو اور خدا کی اس لئے بزرگی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت کی ہے ۔ ہوسکتاہے تم شکرگزار ہوجاؤ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:180-182
واجب اور مستحب وصیت
وصیت ذاتی طور پر مستحب ہے لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کیاگیاہے ممکن ہے بعض اوقات وجوب کی شکل اختیار کرلے مثلا کسی نے واجب حقوق اللہ (زکوة و خمس و غیرہ) کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہویا لوگوں کی کچھ امانتیں اس کے پاس پڑی ہوں اور عدم وصیت کی صورت میں احتمال ہو کہ ان کا حق ضائع ہوجائے گا اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک شخص کا معاشرے میں ایسا مقام ہے کہ اگر وہ وصیت نہ کرے تو ممکن ہے نا قابل تلافی نقصان ہو اور صحیح اجتماعی یا دینی نظام میں سخت نقصان و ضرر کا اندیشہ ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں وصیت کرنا واجب ہوجائیگا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:180-182
زندگی میں وصیت کو بدلا جاسکتاہے
قوانین اسلام کی روسے وصیت کرنے والا اپنی پہلے سے کی گئی وصیت کا پابند نہیں بلکہ اپنی زندگی میں وہ اسے بدل بھی سکتاہے ۔ وہ وصیت کی مقدار اور کیفیت اور اپنے وصی کے سلسلے میں نظر ثانی کرسکتاہے کیونکہ ممکن ہے وقت گزرنے کے ساتھ اس بارے میں مصلحتیں بدل گئی ہوں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:180-182
شائستہ اور مناسب وصیتیں
گذشتہ آیات میں مجرمین کے بارے میں بعض مسائل بیان کرنے کے بعد ان آیات میں ایک لازمی حکم کے طور پر مالی معاملات میں وصیت کے کچھ احکام بیان کئے گئے ہیں۔ فرمایا: تم پر لکھ دیاگیاہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت قریب آجائے تو اپنے مال و منال کے سلسلے میں والدین اور رشتہ داروں کے بارے میں مناسب اور شائستہ وصیت کرے (کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیران الوصیة للوالدین و الاقربین بالمعروف)۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا: یہ پرہیزگاروں کے ذمے ایک حق ہے(حقا علی المتقین)۔ جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جا چکاہے ”کتب علیکم“ ظاہرا وجوب پر دلالت کرتاہے۔ اس لئے وصیت کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ بعض اوقات کہاجاتاہے کہ اگر چہ قوانین اسلام کی روسے وصیت ایک عمل مستحب ہے لیکن چونکہ ایسا مستحب ہے جس کی تائید بہت زیادہ ہے لہذا۔” کتب علیکم“کے جملہ سے اس کا حکم بیان کیاگیاہے اس لئے آیت کے آخر میں ”حقا علی المتقین“ آیاہے اگر یہ وجوبی حکم ہوتا تو فرمایا جاتا ”حقا علی المومنین“۔ کچھ دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت میراث کے احکام نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔ اس وقت اموال کے بارے میں وصیت کرنا واجب تھا۔ تا کہ ورثہ میں اختلاف و نزاع نہ ہو لیکن آیات میراث نازل ہونے کے بعد یہ وجوب منسوخ ہوکر ایک مستحبی حکم کی صورت میں باقی رہ گیا۔ حدیث جو تفسیر عیاشی میں اس آیت کی ذیل میں آئی ہے اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ آیت کا یہ حکم ضرورت کے ان مواقع کے لئے ہو جہاں وصیت کرنا ضروری ہے۔ لیکن ان تمام تفاسیر میں پہلی تفسیر حق و حقیقت کے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہاں مال کی جگہ لفظ خیرا استعمال کیاگیاہے ۔ فرمایا کہ اگر کوئی اچھی چیز اپنے ترکے میں چھوڑے تو وصیت کرے۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام کی نظر میں وہ دولت و ثروت جو شرعی طریقے سے حاصل کی جائے اور معاشرے کے فائدے کے لئے اچھی راہ پر صرف کی جائے خیر و برکت ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے غلط افکار پر خط بطلان کھینچتی ہے جو مال و دولت ہی کو بری چیز سمجھتے ہیں۔ اسلام ان کجرو زاہدوں سے بیزار ہے جو روح اسلام کو نہیں سمجھ سکے اور وہ زہد کو فقر و فاقہ کا دوسرا نام سمجھے ہوئے ہیں اور ان کے افکار اسلامی معاشرے میں جمود اور ذخیرہ اندوزوں کے سر اٹھا نے کا سبب بنتے ہیں۔ ضمنی طور پر یہ تعبیر اس ثروت و دولت کے مشروع اور جائز ہونے کی طرف لطیف اشارہ ہے جس کے بارے میں وصیت کا حکم دیاگیاہے ورنہ انسان کا چھوڑا ہوا غیر مشروع ناجائز مال تو خیر نہیں بلکہ شر ہی شر ہے۔ بعض روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ وہ اموال کافی تعداد میں ہوں ورنہ مختصر مال تو وصیت کا محتاج نہیں۔ دوسرے لفظوں میں مختصر مال تو کوئی ایسی چیز نہیں کہ انسان چاہے کہ اس کا تیسرا حصہ وصیت کے ذریعے الگ کردیاجائے۔۱ ضمنا ” اذا حضر احدکم الموت“(جب تم میں سے کسی کے پاس موت آ پہنچے) وصیت کے لئے فرصت کے آخری لمحات کو بیان کرتاہے اگر تاخیر ہوجائے تو موقع جاتارہے گا ورنہ کوئی مضائقہ نہیں کہ انسان پہلے سے احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا وصیت نامہ تیار کرے بلکہ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ عمل انتہائی مستحسن ہے۔ یہ انتہائی کوتاہ فکری ہے کہ انسان خیالی کرے کہ وصیت کرنا فال بدہے اور اپنی موت کو سامنے لانے کے مترادف ہے بلکہ وصیت تو ایک دور اندیشی اور ناقابل انکار حقیقت کی پہچان ہے اور اگر یہ طول عمر کا سبب نہ بنے تو عمر میں کمی کا تو ہرگز سبب نہیں ہے۔ زیر نظر آیت میں وصیت کو ”بالمعروف“ سے مقید کرنا اس طرف اشارہ ہے کہ وصیت ہر لحاظ سے عقل مندانہ ہو، لیکن معروف کا معنی ہے عقل و خرد کی پہچانی ہوئی (عرف عقلا)۔ جس شخص کے لئے وصیت کی جارہی ہو اس کے لئے مقدار رکے لحاظ سے اور دیگر جہات سے ایسی ہو کہ عقلا اسے مدبرانہ سمجھیں نہ یہ کہ وہ تفریق اور نزاع کا باعث بن جائے۔ جب وصیت تمام مذکورہ صفات کی جامع ہو تو وہ ہر لحاظ سے محترم اور مقدس ہوگی اور اس میں کسی طرح کا تغیر و تبدل حرام ہے۔ اسی لئے بعد والی آیت میں فرمایا گیاہے: جو کوئی وصیت سننے کے بعد اس میں تبدیلی کرے اس کا گناہ تبدیلی کرنے والے کے سر ہے (فمن بدلہ بعد ما سمعہ فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ) اور اگر ان کا گمان ہے کہ خدا ان کی سازشوں اور مخفی کارروائیوں سے بے خبر ہے تو وہ سخت اشتباہ میں ہیں کیونکہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ (ان اللہ سمیع علیم)۔ ممکن ہے یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ وصی (وہ شخص جووصیت کرنے والے کی موت کے بعد وصیتوں پر عملدر آمد کے لئے ذمے دارہے) کی خلاف ورزی کبھی وصیت کرنے والے کے اجر و ثواب کو ختم نہیں کرسکتی۔ وہ اپنا اجر پاچکا ہے ۔ گناہ کا طوق فقط وصی کی گردن کے لئے ہے جس نے وصیت کی مقدار ، کیفیت یا اصلی وصیت میں تبدیلی کی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مقصدیہ ہو کہ اگر وصی کی خلاف ورزی کی وجہ سے میت کا مال ایسے افراد کودے دیاجائے جو اس کے مستحق نہیں اور وہ اس سے بے خبر بھی ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ گناہ صرف وصی کو ہوگا جس نے دانستہ طور پر یہ غلط کام انجام دیاہے۔ توجہ رہے کہ یہ دونوں تفاسیر ایک دوسرے سے متضاد نہیں اور ممکن ہے آیت ان دونوں مفاہیم کے لئے ہو۔ اب یہ حکم اسلامی واضح ہوگیا کہ وصیتوں میں ہر طرح کا تغیر و تبدل جس صورت میں ہو اور جس قدر ہو گناہ ہے۔ لیکن ہر قانون میں کچھ استثنائی پہلو ہوتے ہیں۔ لہذا زیر نظر آخری آیت میں فرمایاگیاہے: جب وصی کو وصیت کرنے والے میں انحراف اور کجروی کا اندیشہ ہو، یہ انحراف چاہے بے خبری سے ہو یا جان بوجھ کر آگاہی کے با وصف ہو اور وہ اس کی اصلاح کرے تو وہ گنہ گار نہ ہوگا اور وصیت کی تبدیلی کا قانون اس پر لا گونہ ہوگا۔ خدا بخشنے والا مہربان ہے (فمن خاف من قوص جنفا او اثما فاصلح بینہم فلا اثم علیہ ان اللہ غفور رحیم)۔ اس بناء پر استثناء صرف ان مواقع کے لئے ہے جہاں وصیت شائستہ و مناسب نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وصی تغیر کا حق رکھتاہے۔ اگر وصیت کرنے والا زندہ ہے تو اپنا نقطہ نظر اس کے گوش گزار کرے تا کہ وہ خود تبدیلی کردے اور اگر وہ مرگیا ہو تو خود یہ تبدیلی کرے اور تبدیلی کا یہ اختیار مندرجہ ذیل مواقع کے لئے منحصر ہے۔ ۱۔ اگر وصیت کل ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ ہو کیونکہ رسول اکرم اور اہل بیت سے بہت سی روایات میں منقول ہے کہ انسان ایک تہائی تک کے مال کی وصیت کرنے کا مجاز ہے اور اس سے زیادہ ممنوع ہے۔ ہمارے فقہا نے بھی فقہی کتب میں یہی فتوی دیاہے۔2 اس بناء پر جن ناواقف لوگوں کا یہ معمول ہے کہ وہ تمام اموال وصیت کے ذریعے تقسیم کردیتے ہیں کسی طرح بھی قوانین اسلام کے روسے صحیح نہیں اور وصی پر لازم ہے کہ وہ اس کی اصلاح کرے اور ایک تہائی سے زیادہ اس طرح سے تقسیم نہ کرے۔ ۲۔ اگر وصیت ظلم، گناہ اور غلط کام سے متعلق ہو۔ مثلا کوئی وصیت کرے کہ اس کے مال کا کچھ حصہ مراکز فساد کو وسیع کرنے میں صرف کیاجائے اور اسی طرح اگر وہ وصیت کسی ترک واجب کا سبب بنے۔ ۳۔ اگر وصیت پر عمل درآمد، نزاع، فساد اور خون ریزی کا سبب ہو تو یہاں حاکم شرع کے حکم سے اصلاح ہوسکتی ہے۔ جنف (بروزن کنف) کا معنی ہے حق سے انحراف اور باطل کے طرف میلان۔ یہ وصیت کرنے والے کے جاہلانہ انحرافات اور کجرویوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور ”اثم“ گناہ عمد کی طرف اشارہ ہے۔ جملہ ”ان اللہ غفور رحیم“ جو اس آیت کے آخر میں آیاہے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر وصی وصیت کرنے والے کے غلط کام کی اصلاح کے لئے اقدام کرے اور راہ حق کو کھول دے تو خدا اس کی خطاسے صرف نظر کرے گا۔ ۱ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۱۵۹ 2- وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۲۶۱ (کتاب احکام الوصایا، باب ۱۰
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:180-182
و صیت کا فلسفہ
قانون میراث سے صرف کچھ معین رشتے دار بہرہ مند ہوتے ہیں جب کہ ممکن ہے خاندان کے اور افراد یا بعض اوقات قریبی دوست احباب مالی امداد کی سخت احتیاج رکھتے ہوں اسی طرح ورثہ میں سے بھی کبھی وراثت کا حصہ کی ضروریات کی کفالت نہیں کرسکتا لہذا قانون اسلام کی جامعیت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ یہ خلا پر نہ ہو، اسی لئے اس نے قانون میراث کے ساتھ ساتھ قانون وصیت بھی رکھاہے اور مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے مال کے تیسرے حصے کے متعلق اپنے بعد کے لئے کوئی مستحکم پروگرام بنائیں اور اسے اپنے مقصد میں صرف کریں۔ علاوہ ازیں بعض اوقا ت انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کوئی اچھا کام انجام دے۔ لیکن وہ اپنی زندگی میں اپنی مالی ضروریات کے پیش نظر ایسا نہیں کرپاتا تو عقلی منطق واجب قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے ان اموال سے جن کے حصول کے لئے اس نے زحمت اٹھائی ہے کار خیر کے انجام دینے سے بالکل محروم نہ ہو۔ ان سب امور کی وجہ سے اسلام میں قانون وصیت رکھا گیاہے اور اس کی اس حد تک تاکید کی گئی ہے کہ اسے ایک وجوبی اور ضروری حکم کی حد تک پہنچا دیاگیاہے اور ”حقا علی المتقین“ کے جملے سے اس کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ وصیت صرف مندرجہ بالا امور میں منحصر نہیں بلکہ انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنے قرض اور ان امانتوں کے متعلق جو اسے سپرد کی گئی ہیں اور دیگر امور کے بارے میں اپنی وصیت کو واضح طور پر بیان کرے۔ اس طرح سے کہ حقوق الناس اور حقوق اللہ میں سے اس کی کوئی ذمہ داری مبہم نہ رہ جائے۔ روایات اسلامی میں وصیت کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک روایت میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے آپ نے فرمایا: ما ینبغی لامرء مسلم ان یبیت لیلة الا وصیتہ تحت راسہ کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ رات سوئے مگر اس کا وصیت نامہ اس کے سرکے نیچے نہ ہو۔۱ سرکے نیچے ہونا، یہاں تاکید کے لئے ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وصیت نامہ تیار رکھنا چاہئیے۔ ایک اور روایت میں ہے: من مات بغیر وصیة مات میتتہ جاہلیة جو شخص بغیر وصیت کے مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا۔۲ ۱ وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۵۲ ۲ وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۵۲
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:180-182
وصیت میں عدالت
مندرجہ بالا آیت میں وصیت میں تعدی و تجاوز نہ کرنے کا حکم آپ نے ملاحظہ کیا۔ اس سلسلے میں اسلامی روایات میں بھی ظلم و جور اور ضرر نہ پہنچانے کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے۔ ان روایات کے اجتماعی مطالعے سے ظاہر ہوتاہے کہ جیسے وصیت کرنے کی بہت اہمیت ہے اسی طرح وصیت میںظلم روا رکھنا بہت برا عمل ہے اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر کا ارشاد ہے: من عدل فی وصیة کان کمن تصدق بہا فی حیاتہ و من جار فی وصیتہ لقی اللہ عزوجل یوم القیامة و ہو عنہ معرض۔ جو شخص اپنی وصیت میں عدل کرے وہ ایسے ہے جیسے اس نے اپنی زندگی میں یہ مال راہ خدا میں صدقہ کردیا ہو اور جو اپنی وصیت میں ظلم و تعدی کرے قیامت کے دن پروردگار کی طرف سے نگاہ لطف و کرم اس سے اٹھالی جائے گی۱ وصیت میں ظلم و جور اور ضرر رسانی یہ ہے کہ انسان اپنے ترکے کے تیسرے حصے سے زیادہ وصیت کرے اور ورثہ کو ان کے جائز حق سے محروم کردے یا بلا وجہ محبت و دشمنی کی بناء پر ایک کو دوسرے پرترجیح دے۔ اسی لئے اگر ورثہ زیادہ ضرورتمند ہوں تو حکم دیا گیاہے کہ تیسرے حصے کی بھی وصیت نہ کی جائے اور ایسے مقام پر وصیت میں چوتھے یا پانچویں حصے تک کمی کی جاسکتی ہے۔۲ وصیت میں عدالت کے بارے میں اسلام کے پیشواؤں نے اپنے ارشادات میں اس حد تک تاکید کی ہے کہ ایک حدیث میں ہے: انصار میں سے ایک شخص فوت ہوگیا اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے باقی رہ گئے لیکن وہ مرتے وقت سارا مال راہ خدا میں صرف کرگیا یہاں تک کہ کچھ باقی نہ رکھا۔ پیغمبر اسلام اس واقعے سے آگاہ ہوئے تو فرمایا: اس شخص سے تم نے کیا سلوک کیا۔ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے (اس کی نماز جنازہ پڑھ کر) اسے دفن کردیاہے۔ آپ نے فرمایا: مجھے پہلے معلوم ہوجاتا تو میں اجازت نہ دیتا کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیاجائے کیونکہ اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ دیے ہیں تا کہ وہ گدائی کرتے پھریں۔ ۳ 1 وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۵۹ ۲ وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۶۰ ۳ سفینة البحار، ج۲، ص۶۵۹، مادہ وصیت