إِذۡ تَبَرَّأَ ٱلَّذِينَ ٱتُّبِعُواْ مِنَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَ وَتَقَطَّعَتۡ بِهِمُ ٱلۡأَسۡبَابُ
When those who were followed will disown the followers, and they will sight the punishment while all their means of recourse will be cut off,
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:164-167
For not having spent what they amassed, in the name of God, and the resulting benefit going to others or penalty of its misuse by others shall be laid down on their heads. 1. God, in proof of His Solitary Monarchy of Heavens and Earth gives various other instances where in natural forces, as per scientists are involved. He claims creation of all such forces to self, e.g. of Heavenly Bodies, causing day and night, movements of trade, winds and other seasonal and cyclonic storms, causation of rain from clouds whereby food for maintenance is provided, with Buoyancy of liquid, keeping the ship floating with merchandise etc, its outcome of an Architect of the highest inconceivable degree. 2. He then enforces attachment to self and the Immaculates, through whim His Existence was realized by humans, else they would not ever have succeeded in locating His attributes and designs. It is clear the scientists, having failed to locate and thus began to deny His very Existence, whereas others, feeling jealous of miracles, granted to immaculates started deriding His Prophets and abrogating like powers to self to win public administration at cost of their rights. So God states, when on the Day of Judgment will they see for themselves, these counterfeit leaders carry no weight with God, will feel sorry and like to come back to kick them up, when it will be too late. In fact, God has made compulsory their love as a compensation for having guided them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:165-167
شرک و بت پرستی کی سخت مذمت کی گئی تھی۔
شرک کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انسان خدا کے علاوہ کسی کو قانون ساز سمجھ لے اور نظام تشریع اور حلال و حرام اس کے اختیار میں قرار دیدے۔ محل بحث آیات میں ایسے عمل کو شیطانی فعل قرار دیاگیاہے۔ پہلے ارشاد ہوتاہے: اے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال اور پاکیزہ ہے اسے کھاؤ (یا ایہا الناس کلو مما فی الارض حللا طیبا)۔ اور شیطان کے نقوش قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا واضح دشمن ہے (و لا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ مختلف غذاؤں سے فائدہ اٹھانے سے مربوط آیات قرآن میں کئی مقام پر ہیں اور عموما ان میں دو قیود کا ذکر ہے حلال اور طیب۔ حلال وہ ہے جس سے روکا نہ گیا ہو اور طیب ان چیزوں کو کہتے ہیں جو پاک و پاکیزہ اور انسان کی طبع سلیم کے مطابق ہوں۔ طیب کے مد مقابل خبیث ہے جس سے مزاج انسانی نفرت کرتاہے۔ خطوات جمع ہے خطوہ (بر وزن (قربہ) کی ۔ اس کا معنی ہے قدم۔ خطوات الشیطان سے مراد وہ قدم ہیں جو شیطان اپنے مقصد تک پہنچنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اٹھاتاہے۔ (لا تتبعوا خطوات الشیطان) قرآن میں پانچ مقامات پر دکھائی دیتاہے۔ دو مقامات پرغذا اور خدائی رزق سے استفادہ کرنے کے ضمن میں ہے۔ در اصل انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ حلال نعمتوں کو بے محل استعمال نہ کریں اور نعمات الہی کو خدا کی اطاعت و بندگی کا ذریعہ قراردیں نہ کہ طغیان سرکشی اور فساد کا۔ شیطان کے نقوش پاکی پیروی حقیقت میں وہی بات ہے جو دیگر آیات میں حلال غذاؤں سے استفادہ کرنے کہ حکم کے بعد ذکر ہوئی ہے۔ مثلا کُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللهِ وَلاَتَعْثَوْا فِی الْاٴَرْضِ مُفْسِدِینَ رزق الہی میں سے کھاؤ پیو مگر زمین میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو۔ (بقرہ۔۶۰) ایک اور مقام پر ارشاد ہے: کلوا من طیبت ما رزقنکم و لا تطغوا فیہ وہ پاکیزہ رزق جو ہم نے تمہیں عطا کیاہے اس میں سے کھاؤ مگر اس میں طغیان و سرکشی نہ کرو۔ (طہ۔۸۱) خلاصہ یہ کہ یہ عطیات اور اسباب اطاعت کے لئے تقویت بخش ہونے چاہئیں گناہ کا ذریعہ نہیں۔ ”انہ لکم عدو مبین“قرآن حکیم میں دس سے زیادہ مرتبہ شیطان کے ذکر کے ساتھ آیاہے۔ یہ اس لئے ہے تا کہ انسان اس واضح دشمن کے مقابلے میں اپنی تمام قوتیں اور صلاحیتیں یکجا کرے۔ شیطان جس کا مقصد انسان کی بدبختی اور شقاوت کے سوا کچھ نہیں اگلی آیت اس کی انسان سے شدیدترین دشمنی کو بیان کرتی ہے۔ فرمایا: وہ صرف تمہیں طرح طرح کی برائیوں اور قباحتوں کا حکم دیتاہے (انما یامرکم بالسوء و الفحشا) نیز تمہیں آمادہ کرتاہے کہ خدا پر افتراء باند ھو اور جو چیز تم نہیں جانتے ہو اس کی خدا کی طرف نسبت دو (و ان تقولوا علی اللہ مالا تعلمون)۔ ان آیات سے ظاہر ہوا کہ شیطان کے پروگراموں کا خلاصہ یہی تین امور ہیں۔ برائیاں، قباحتیں اور ذات پروردگار سے بے بنیاد باتیں منسوب کرنا۔ (فحشا) کا مادہ ہے (فحش) جس کا مطلب ہر وہ چیز ہے جو حد اعتدال سے خارج ہوکر فاحش کی شکل اختیار کرلے اس لحاظ سے تمام منکرات اور واضح قباحتیں اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ یہ جو آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ عفت و پاکدامنی کے منافی افعال کے لئے استعمال ہوتاہے یا ان گناہوں پر بولاجاتاہے جو حد شرعی رکھتے ہیں تو یہ لفظ کے کلی مفہوم کے بعض واضح مصادیق ہیں۔ ان تقولوا علی اللہ ما لا تعلمون۔ ممکن ہے یہ ان حلال غذاؤں کی طرف اشارہ ہو جنہیں زمانہ جاہلیت کے عربوں نے حرام قرار دے رکھا تھا اور اس کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے بلکہ بعض بزرگ مفسرین کے بقول اس طرز فکر کی رسومات تازہ مسلمانوں کے بعض گروہوں میں بھی باقی رہ گئی تھیں۱ خدا کی طرف شریک شبیہ کی نسبت دینا اس آیت کا زیادہ وسیع معنی ہے اور یہ بھی آیت کے مفاہیم میں شامل ہے بہرحال یہ جملہ اس طر ف اشارہ ہے کہ ایسے امور کا مطلب علم کے بغیر بات کرناہے اور وہ بھی خدا کے مقابلے میں جب کہ یہ کام کسی منطق اور عقل و خرد کی روسے صحیح نہیں۔ اگر لوگ اصولی طور پر اس بات کے پابند ہوں کہ وہ وہی بات کریں گے جس کا کوئی قطعی اور یقینی مدرک ہے تو انسانی معاشرے سے بہت سی بدبختیاں اور تکالیف دور ہوسکتی ہیں در حقیقت خدائی مذاہب میں جو خرافات شامل ہوگئے ہیں وہ اسی طرح بے منطق افراد کے ذریعے ہوئے ہیں۔ بگڑے ہوئے اعتقادات اور اعمال اسی بنیادکو اہمیت نہ دینے کے وجہ سے ہیں لہذا خطوات شیطان کی مستقل عنوان کے تحت مندرجہ بالا آیت میں برائیوں اور قباحتوں کے ساتھ اس عمل کا بھی ذکر کیاگیاہے۔ ۱ تفسیر المیزان، ج۱ ص۴۲۵
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:165-167
بیزاری پیشوایان
پہلے کی دو آیات میں وجود خدا اور اس کی توحید و یگانگت کو نظام خلقت اور اس کی ہم آہنگی کے دلائل سے ثابت کیاگیاہے۔ اسی وجہ سے محل بحث آیات میں روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے ان واضح اور قطعی براہین سے چشم پوشی کی، شرک و بت پرستی اختیار کی اور متعدد خدا قرار دے لئے۔ یہ گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے خشک لکڑی کے زوال پذیر معبودوں کے سامنے سر تعظیم خم کیاہے ان سے ایسا عشق کرتے ہیں جیسا عشق صرف خدا تعالی کے لائق ہے جو تمام کمالات کا منبع و مرکز ہے اور تمام نعمات بخشنے والا ہے۔ ارشاد ہوتاہے: بعض لوگ اپنے لئے خدا کے علاوہ معبود انتخاب کرتے ہیں (و من الناس من یتخذ من دون اللہ اندادا)۱ انہوں نے نہ صرف بتوں کو اپنا معبود قرار دے لیاتھا بلکہ ان کے اس طرح عاشق ہوگئے تھے جیسے خدا سے محبت کی جاتی ہے (یحبونہم کحب اللہ)۔لیکن جو لوگ خدا پر ایمان لاچکے ہیں وہ اللہ سے زیادہ محبت رکھتے ہیں (و الذین امنوا اشد حبا للہ)کیونکہ وہ فکر و نظر اور علم و دانش کے حامل ہیں اور وہ اس کی ذات پاک کو ہرگز نہیں چھوڑتے جو تمام کمالات کا منبع و محزن ہے وہ اس کے اور اس کے پیچھے نہیں جاتے۔ ان کے نزدیک خدا کی محبت، عشق اور لگاؤکے مقابلے میں ہر چیز بے قیمت، ناچیز اور حقیر ہے وہ غیر خدا کو اس محبت کے بالکل لائق نہیں سمجھتے مگر یہ کہ یہ محبت اس کے لئے اور اسی کی راہ میں ہو لہذا وہ عشق کے بحر بیکراں میں اس طرح غوطہ زن ہیں کہ بقول حضرت علی: فہبنی صبرت علی ہذا بک فکیف اصبر علی فواتک پس فرض کیا کہ تیرے عذاب پر صبر کرلوں گا مگر تیرا فراق و جدائی کیسے برداشت کروں گا۔2 اصولی طور پر حقیقی عشق و محبت ہمیشہ کسی کمال سے ہوتاہے ۔ انسان کبھی عدم اور ناقص کا عاشق نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ وجود اور کمال کی جستجو میں رہتاہے۔ اس لئے وہ ذات جس کا وجود اور کمال سب سے برتر، وسیع اور بے انتہائے عشق ومحبت کے لئے سب سے زیادہ سزاوار ہے۔ خلاصہ یہ کہ جیسے مندرجہ بالا آیت کہتی ہے صاحبان ایمان کی خدا سے محبت، عشق اور وابستگی بت پرستوں کی اپنے خیالی معبووں کی نسبت زیادہ حقیقی، گہری اور شدید ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ جس نے حقیقت کو پالیا ہے اور اس سے محبت کی ہے وہ ہرگز اس کے برابر نہیں ہوسکتا جو خرافات و تخیلات میں گرفتار ہو۔ مومنین کے عشق کا سرچشمہ عقل، علم اور معرفت ہے اور کفار کے عشق کی بنیاد جہالت ، خرافات اور خواب و خیال ہے۔ اسی لئے پہلی قسم کی محبت کبھی متزلزل نہیں ہوسکتی لیکن مشرکین کے عشق میں ثبات، وام نہیں۔ لہذا آیت کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا گیاہے ، یہ ظالم جب عذاب خدا کو دیکھیں گے اور جان لیں گے کہ تمام قدرتیں خدا کے ہاتھ میں ہیں اور وہی عذاب شدید کا مالک ہے اس وقت اپنے اعمال کی پستی و حقارت اور اپنے کرتو توں کے برے انجام کی طرف متوجہ ہوں گے اور اعتراف و اقرار کریں گے کہ ہم کجرو اور منحرف لوگ تھے (و لو یری الذین ظلموا اذ یرون العذاب ان القوة للہ جمیعا و ان اللہ شدید العذاب)3 بہرحال اس وقت جہالت، غرور اور غفلت کا پردہ ان کی آنکھوں سے ا’ٹھ جائے گا اور وہ اپنے اشتباہ اور غلطی کو جان لیں گے لیکن چونکہ ان کے لئے کو ئی پناہ گاہ اور سہارا نہ ہوگا لہذا سخت بے چارگی میں وہ بے اختیار اپنے معبودوں اور رہبروں کے دامن تھامنے کو لپکیں گے مگر اس وقت ان کے گمراہ رہبران کو پیچھے دھکیل دیں گے اور وہ اپنے پیرو کاروں سے اظہار بیزاری کریں گے (إِذْ تَبَرَّاٴَ الَّذِینَ اتُّبِعُوا مِنْ الَّذِینَ اتَّبَعُوا ) اسی حالت میں وہ اپنی آنکھوں سے عذاب الہی دیکھیں گے اور ان کے باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں گے ( وَرَاٴَوْا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمْ الْاٴَسْبَابُ)۔ واضح ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد پتھر اور لکڑی کے بت نہیں بلکہ وہ جابر و قاہر انسان اور شیاطین ہیں کہ مشرکین اپنے تئیں دست بستہ جن کے اختیار میں دے چکے ہیں لیکن وہ بھی اپنے پیروکاروں کا دھتکار دیں گے۔ ایسے میں جب یہ گمراہ پیروکار اپنے معبودوں کی یہ کھلی بے وفائی دیکھیں گے تو اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے کہیں گے: کاش ہم دنیا میں پلٹ جائیں تو ان سے بیزاری اختیار کریں گے جیسے وہ آج ہم سے بیزار ہیں(و قال الذین اتبعوا لو ان لنا کرة فسبرا منہم کما تبراء و امنا )۔ لیکن اب کیا فائدہ معاملہ تو ختم ہوچکاہے ۔ اب دنیا کی طرف پلٹنا ممکن نہیں رہا۔ ایسی ہی گفتگو سورہ زخرف آیہ ۳۸ میں ہے: حتی اذا جاء ناقال یالیت بینی و بینک بعد المشرقین فبئس القرین قیامت کے دن جب وہ ہماری بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو گمراہ کرنے والے رہبر سے کہیں گے: اے کاش تیرے میرے در میان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا۔ آیت کے آخر میں فرماتاہے: ہاں اسی طرح ان کے اعمال ان سب کے لئے سبب حسرت و یاس بناکر پیش کرے گا (کذلک یریہم اللہ اعمالہم حسرات علیہم) اور وہ کبھی جہنم کی آگ سے نہیں نکلیں گے (و ما ہو بخارجین من النار)۔ واقعا وہ حسرت و یاس میں گرفتار ہونے کے علاوہ کیا کرسکتے ہیں۔ ان اموال پر حسرت جو انہوں نے جمع کئے اور فائدہ دوسروں نے اٹھایا، ان بے پناہ وسائل پر حسرت جو نجات و کامیابی کیلئے ان کے ہاھ میں تھے مگر انہوں نے ضائع کردیے اور ان معبووں کی عبادت پر حسرت خدائے قادر و متعال کی عبادت کے مقابلے میں جن کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی لیکن یہ حسرت کس کام کی کیونکہ اب نہ عمل کا موقع ہوگا اور نہ یہ کمی کو پورا کرسکے گی بلکہ وہ تو سزا اور اعمال کا نتیجہ و ثمرہ دیکھنے کا وقت ہوگا۔ ۱۶۸۔ یَااٴَیُّہَا النَّاسُ کُلُوا مِمَّا فِی الْاٴَرْضِ حَلاَلًا طَیِّبًا وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبِینٌ ۱۶۹۔إِنَّمَا یَاٴْمُرُکُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَاٴَنْ تَقُولُوا عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ترجمہ ۱۶۸۔اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال اور پاکیزہ ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے نشان پاکی پیروی نہ کرو بلکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ ۱۶۹۔ وہ تمہیں فقط برائیوں اور انحرافات کا حکم دیتاہے۔ نیز (کہتاہے کہ ) جن امور کو تم نہیں جانتے انہیں خدا کی طرف منسوب کردو۔ شان نزول ابن عباس سے منقول ہے کہ عرب کے بعض قبیلوں مثلا ثقیف، خزاعہ و غیرہ نے بعض زرعی اجناس اور جانوروں کو بغیر کسی دلیل کے اپنے اوپر حرام قرار دے رکھا تھا (یہاں تک کہ ان کی تحریم کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے) اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں انہیں اس ناروا عمل سے روکا گیاہے۔ ۱- انداد (جمع ہے(ند) کی جس کا معنی ہے (مثل) لیکن بعض اہل لغت کے بقول اس مثل کوند کہتے ہیں جو دوسری چیز سے جو ہری و اصلی شباہت رکھتی ہو جبکہ مثل کا مفہوم عمومی ہے۔ لہذا آیت کا معنی یوں ہوگا کہ مشرکین کا اعتقاد تھا کہ بت جو بر ذات میں خدا سے شباہت رکھتے ہیں یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ جہالت و نادانی کی وجہ سے ان کے لئے خدائی صفات کے قائل تھے۔ 2- دعائی کمیل میں سے۔ 3- بعض مفسرین نے لفظ (لو) کو تمنائی سمجھاہے لیکن بہت سے اسے شرطیہ سمجھتے ہیں اس صورت میں اس کی جزا محذوف ہوگی اور جملہ یوں ہوگا۔ ”لراوا سوء فعلہم و سوء عاقبتہم“۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:166
[Pooya/Ali Commentary 2:166] In the next life the followers of misguidance will recognise their false leaders, the usurpers, and will wish to be given another chance to experience this life with true light, "the genuine leaders," but there will be no escape from the fire. Allah will show them their actions, done pursuant to their judgements, to prove that as promised justice has been done to them. Aqa Mahdi Puya says: This verse makes clear that every individual, in the next life, will be conscious of his deeds in this life. The continuity of the human memory and consciousness, after death, indicated in this verse, dismisses the idea of transmigration of soul. The Ahmadi interpretation of fire as intense feelings of regret and deprivation, instead of physical suffering, is to belittle the gravity of the divine punishment from which the transgressors shall never come out.