إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ
Indeed those who conceal what We have sent down of manifest proofs and guidance, after We have clarified it in the Book for mankind—they shall be cursed by Allah and cursed by the cursers,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:159
[Pooya/Ali Commentary 2:159] Those who withhold what has been revealed to them of the book, be they Jews (who knew the truth about the Holy Prophet - refer to verse 40, 75 to 79, 89 to 91, 101, 105, 109 and 124 of this surah; and the holy Kabah - Psalms 118: 22 and Matthew 21: 42) or be they the Muslim hypocrites (who know the true interpretation and application of verses - Ahzab: 33; Shura: 23; Nisa: 54 and 59; Ali Imran: 61 and 103; Tawbah: I 19; Rad: 43, Hud: 17; and Ma-idah: 3, 55, 67 in connection with the event of Ghadir Khum) are cursed by Allah and by the angels and by those who follow His right path. In verses 86 and 87 of al Nisa also the angels and the believers join Allah to curse the wicked. In verse 56 of al Ahzab, Allah and His angels bless the Holy Prophet; and Allah commands the believers to send blessings on him. Unless we join Allah and His angels to curse the enemies of the Holy Prophet, our asking Allah for sending blessings on him will be incomplete. Therefore, the followers of Muhammad and Ali Muhammad bless the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt and curse their enemies. Justice demands that we identify the devil as a devil, and curse him even if he is disguised in the garb of a Muslim like Yazid and others. Cursing and expression of dislike and disgust for any evil or evildoer is essential to remain on guard against wickedness, as has been made clear in the above-noted verse and verse 7 of al Fatihah, therefore, tabarra has been prescribed as one of the fundamentals of the religion. The Jews were most vehemently cursed by Musa for not observing all his commandments (Deut 28: 15-68).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:159-160
تواب
اس لفظ کے بارے میں ہم بتاچکے ہیں کہ یہ مبالغے کا صیغہ ہے۔ یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر انسان شیطانی وسوسوں سے فریب کھا کر توبہ توڑدے تو بھی اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں کردیاجاتا۔ چاہئیے کہ وہ پھر توبہ کرے اور خدا کی طرف پئے اور حق کو ظاہر کرے۔ کیونکہ خدا بہت زیادہ بازگشت کرنے والاہے۔ اس کی رحمت و بخشش سے کبھی مایوس نہیں ہوناچاہئیے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:159-160
پیغمبر اسلام فرماتے ہیں
حادیث اسلامی میں بھی ان علماء پر شدیدترین حملے کئے گئے ہیں جو حقائق کو چھپاتے ہیں۔ پیغمبر اسلام فرماتے ہیں: من سئل عن علم یعلمہ فکتم لجم یوم القیامہ یلجام من النار اگر کسی شخص سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ جانتاہے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آتش جہنم کی ایک لگام اس کے منہ میں دی جائے گی۔۱ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیںکہ بعض اوقات ضرورت اور لوگوں کا کسی مسئلے میں مبتلا ہونا بذات خود سوال بن جاتاہے۔ ایک اور حدیث جو امیرالمؤمنین علی سے مروی ہے بیان کی جاتی ہے۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا: من شر خلق اللہ بعد ابلیس و فرعون ابلیس اور فرعون کے بعد بدترین خلائق کون ہے۔ امام نے جواب میں فرمایا: العلماء اذ افسدوا ہم المظہرون للا باطیل الکاتمون للحقائق و فیہم قال اللہ عزوجل اولئک یلعنہم اللہ و یلعنہم اللعنون۔ وہ بگڑے ہوئے علماء ہیں جو باطل کا اظہار اور حق کا اخفاء کرتے ہیں یہ وہی لو گ ہیں جن کے متعلق خدا فرماتاہے : ان پر خدا کی لعنت اور تمام لعنت کرنے والوں کی نفرین ہوگی۔۲ ۱ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ۲ نور الثقلین ج۳ ص۱۳۹ بحوالہ احتجاج طبرسی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:159-160
مگر لعنت خدا کافی نهی
۱۶۱۔ إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَمَاتُوا وَہُمْ کُفَّارٌ اٴُوْلَئِکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ ۱۶۲۔ خَالِدِینَ فِیہَا لاَیُخَفَّفُ عَنْہُمْ الْعَذَابُ وَلاَہُمْ یُنظَرُونَ ۱۶۳۔وَإِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ لاَإِلَہَ إِلاَّ ہُوَ الرَّحْمَانُ الرَّحِیمُ ترجمہ ۱۶۱۔ جو لوگ کافر ہوجائیں اور حالت کفر ہی میں مرجائیں ان پر خدا، فرشتے اور تمام انسان لعنت کرتے ہیں۔ ۱۶۲۔ وہ ہمیشہ کے لئے زیر لعنت اور رحمت خدا سے دور رہیں گے۔ ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔ ۱۶۳۔ تمہارا خدا اور معبود اکیلا خدا ہے جس کے علاوہ کوئی معبود اور لائق پرستش نہیں کیونکہ وہی بخشنے والا اور مہربان ہے و رحمت عام اور رحمت خاص کا مالک وہی ہے)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:159-160
حقائق چھپانے والوں کی شدید مذمت
ویسے تو روئے سخن علمائے یہود کی طرف ہے لیکن اس سے آیت کاکلی اور عمومی مفہوم محدود نہیں ہوتا اور یہ سب حقائق چھپانے والوں کے لئے عام ہے۔ یہ آیت شریفہ حقائق چھپانے والوں کی شدید مذمت اور سرزنش کرتی ہے۔ ارشاد ہوتاہے: جو لوگ واضح دلائل اور ذرائع ہدایت کو چھپاتے ہیں جنہیں ہم نے کتاب الہی کے ذریعے نازل کیاہے اور جو ان لوگوں کے سامنے ہیں ان پر خدا لعنت بھیجتاہے اور خدا ہی نہیں بلکہ تمام لعنت کرنے والے انہیں لعنت کرتے ہیں (إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اٴَنزَلْنَا مِنْ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدَی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ اٴُوْلَئِکَ یَلْعَنُہُمْ اللهُ وَیَلْعَنُہُمْ اللاَّعِنُونَ)۔ یہ آیت بڑی عمدگی سے واضح کرتی ہے کہ خدا کے تمام بندے اور فرشتے اس کام سے بیزار ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حق کو چھپانا ایسا عمل ہے جو حق کے تمام طرف داروں کے غم و غصے کو ابھارتا ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کیا خیانت ہوگی کہ علماء آیات خدا کو اپنے شخصی منافع کے لئے چھپائیں اور لوگوں کو گمراہ کریں جب کہ یہ ان کے پاس خدا کی امانت ہیں۔ من بعد ما بیناہ للناس فی الکتاب اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے افراد در حقیقت زحمات انبیاء اور مردان خدا کی فداکاریوں کو برباد کرتے ہیں جو وہ آیات الہی کی نشر و اشاعت اور تبلیغ کے لئے انجام دیتے ہیں اور یہ بہت بڑا گناہ ہے جس سے صرف نظر نہیں کیاجاسکتا۔ لفظ (یلعن) آیت میں دو مرتبہ آیاہے۔ یہ فعل مضارع ہے اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے فعل مضارع میں استمرار کا معنی شامل ہے۔ اس بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ خدا اور مقام لعنت کرنے والے ہمیشہ ایسے لوگوں پر لعنت اور نفرین کرتے رہتے ہیں جو حقائق کو چھپاتے ہیں اور یہ شدیدترین سزاہے جو کسی انسان کو دی جاسکتی ہے۔ (بینات) اور (ہدی) کا ایک وسیع مفہوم ہے جس سے مراد وہ تمام روشن دلائل اور ہدایت کے وسائل ہیں جو لوگوں کی آگاہی ، بیداری اور نجات کا سبب ہیں۔ قرآن کتاب ہدایت ہے لہذا یہ کبھی لوگوں کے لئے امید اوربازگشت کا دریچہ بند نہیں کرتی۔ اس لئے بعد کی آیت میں راہ نجات اور گناہوں کی تلافی کا بھی ذکر کیاگیاہے اور اسے شدید سزا کے مقابلے میں یوں بیان کیاگیاہے: مگر وہ جو توبہ کریں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں، اپنی برائیوں کی تلافی اور اعمال کی اصلاح کریں اور جو حقائق انہوں نے چھپا رکھے تھے لوگوں کے سامنے آشکار کردیں بے شک میں ایسے لوگوں کو بخش دوں گا اور ان کے لئے اپنی اس رحمت کی تجدید کردوں گا جو ان سے منقطع کی جاچکی ہے کیونکہ میں بازگشت کنندہ اور مہربان ہوں (الا الذین تابوا و اصلحوا و بینوا فاولئک اتوب علیہم و انا التواب الرحیم)۔۳ اگر دیکھا جائے (فاولئک اتوب علیہم) کے بعد (انا التواب الرحیم)کا آنا توبہ کرنے والوں کے لئے پروردگار عالم کی انتہائی محبت اور کمال مہربانی پر دلالت کرتاہے۔ یعنی فرماتاہے: اگر وہ پلٹ آئیں تو میں بھی رحمت کی طرف پلٹ آؤں گا اور اپنی عنایات و نعمات جو ان سے منقطع کرچکاہوں پھر سے انہیں عطا کروں گا۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یوں نہیں کہتا کہ تم توبہ کرو تو میں تمہاری تو بہ قبول کرلوں گا بلکہ کہتاہے: تم توبہ کرو اور پلٹ آو تو میں بھی پلٹ آؤں گا۔ ان دونوں جملوں میں جو فرق ہے واضح ہے۔ علاوہ ازیں (و انا التواب الرحیم) کے ہر لفظ اور انداز میں اتنی مہربانی اور شفقت پائی جاتی ہے کہ یہ مفہوم کسی اور عبادت میں سماہی نہیں سکتاتھا۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ (انا)واحد متکلم کی ضمیر ہے جس کا معنی ہے (میں خود) یہ ایسے مقامات پر آتاہے جہاں کہنے والا براہ راست سننے والے سے ربط رکھتاہو۔ خصوصا اگر کوئی بزرگ ہستی یہ کہے کہ (میں خود یہ کام تمہارے لئے کروں گا) بجائے اس کے کہ وہ کہے (ہم اس طرح کریں گے ) تو اس میں بہت فرق ہے۔ پہلے انداز میں جو لطف و کرم ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ لفظ (تواب) بھی مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے بہت زیادہ پلٹ کرآنے والا۔ یہ انداز اس طرح امید کی روح انسان میں پھونک دیتاہے کہ اس کی زندگی کے آسمان سے یاس و ناامیدی کے سارے پردے ہٹ جاتے ہیں اور جب لفظ (رحیم) بھی ساتھ ہو جو پروردگار کی خصوصی رحمت کی طرف اشارہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:159-160
حق کو چھپانے کے نقصانات
وہ بات جو قدیم زمانے سے بہت مفاسد اور حق کشی کا باعث بنتی آرہی ہے اور جس کے مہلک اثرات آج تک جاری و ساری ہیں وہ ہے حق کو چھپانا۔ زیر بحث آیت اگر چہ ایک خاص واقعے کے متعلق نازل ہوئی لیکن جیسا کہ کہا جاچکاہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس کا مفہوم ان سب پر محیط ہے جو ایسا کچھ بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسی منحصر بفرد تشدید و تہدید اور مذمت زیر نظر آیت میں حق کو چھپانے والوں کے لئے آئی ہے کسی اور کے لئے نہیں آئی اور کیوں نہ ہو ، کیا ایسا نہیں کہ یہ قبیح عمل قوموں اور نسلوں کو گمراہی میں مبتلا کئے رکھتاہے جیسا کہ اظہار حق امتوں کی نجات کا باعث بن سکتاہے۔ انسان فطری طور پر حق کو چاہتاہے اور جو حق کو چھپاتے ہیں وہ در حقیقت انسانی معاشرے کو فطری کمال تک پہنچنے سے سے بازرکھتے ہیں۔ ظہور اسلام کے وقت اور اس کے بعد اگر علماء یہود و نصاری دونوں عہدوں (تورات، انجیل اور دیگر کتب مقدسہ) کی بشارتوں کو اظہار حقیقت کے طور پر افشاء کردیتے اور اس سلسلے میں وہ جو کچھ جانتے تھے لوگوں تک پہنچادیتے تو ہوسکتا تھا کہ تھوڑی سی مدت میں تینوںملتیں ایک ہی پرچم تلے جمع ہوجاتیں اور اس وحدت کی برکات حاصل کرتیں اور یہی کام پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد اہل اسلام کے بعض علماء نے انجام دیا۔ وہ حق کو چھپاتے رہے ان کی وجہ ہے ملت اختلاف کا شکار ہوئی اور اس میں شگاف پڑگئے ۔ آج تک ہم اسی کے نتیجے میں مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔ یقینا حق پوشی صرف اسی کا نام نہیں کہ آیات الہی اور علانات نبوت کو چھپایاجائے بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز چھپانا ہے جس سے لوگ حقیقت و واقعیت تک پہنچ سکتے ہیں۔ لہذا اس کا مفہوم وسیع ہے۔ یہاں تک کہ کبھی وہاں بھی حق پوشی کا اطلاق ہوتاہے جہاں بات کرنے کی ضرورت ہو اور خاموش رہاجائے۔ یہ اس مقام کے لئے ہے جہاں لوگوں کو سخت ضرورت ہو کہ انہیں حقیقت حال سے با خبر کیاجائے اور علماء اور آگاہ دانشور اس یقینی ضرورت کو پورا کرسکتے ہوں۔ خلاصہ یہ کہ لوگوں کو در پیش مسائل کے بارے میں حقائق کو مخفی رکھنا اس لئے کہ لوگ سوال کریں درست نہیں۔ تفسیر المنار کے مؤلف نے بعض لوگوں کے حوالے سے یہ جو لکھاہے کہ سوال کی خاطر حقائق کو چھپایا جاسکتا ہے درست نظر نہیں آتا۔ خصوصا یہ اس بناء پر بھی صحیح نہیں ہے کہ قرآن فقط حق کو چھپانے کے مسئلے کے بارے میں گفتگو نہیں کرتا بلکہ وہ حقائق کے بیان اور اظہار کو ضروری شمار کرتاہے۔ شاید اسی اشتباہ کی وجہ سے بعض علماء نے حقائق بیان کرنے سے منہ بندکررکھے ہیں۔ ان کا عذرہے کہ ان سے تو کسی نے سوال نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن کہتاہے: وَإِذْ اٴَخَذَ اللهُ مِیثَاقَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلاَتَکْتُمُونَہ خدانے جنہیں کتاب عطا کی ہے ان سے عہد و میثاق لیاہے کہ وہ اسے ضرور لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ (آل عمران۔۱۸۷) ُیہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بعض اوقات فرعی مسائل میں سرگرم رہنا جس سے لوگ زندگی کے حقیقی مسائل کو فراموش کر بیٹھیں یہ بھی ایک قسم کی حق پوشی ہے۔ اگرچہ حق پوشی کا معنی یہ نہیں لیکن حقائق کو مخفی رکھنے کا فلسفہ اس پربھی محیط ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:159-160
لعنت کیا چیزہے
لعن کا اصلی معنی ہے غصے سے دھتکارنا اور دور کرنا۔ اس بناء پر خدا کی لعنت کا یہ مطلب ہے کہ وہ بندوں سے اپنی وہ رحمت اور تمام عنایات و برکات دور کردے جو اس کی جانب سے انہیں پہنچتی ہیں۔ ”لاعنون“یعنی لعنت کرنے والے اس کا ایک وسیع معنی ہے۔ اس میں نہ صرف فرشتے اور مومنین شامل ہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی ہر وہ موجود جو زبان حال یا مقال سے کلام کرتاہے اس میں داخل ہے۔ اس سلسلے کی چند روایات میں تویہاں تک ہے کہ زمین و آسمان کی تمام موجودات حتی کہ دریا کی مچھلیاں بھی طالبان علم و علماء کے لئے دعائے خیر اور استغفار کرتی ہیں: و انہ یستغفر لطالب العلم من فی السماء و من فی الارض حق الحوت فی البحر۔ 1 تو جہاں وہ موجودات طالب علموں کے لئے استغفار کرتے ہیں وہاں علم کو چھپانے والوں کے لئے یقینا لعنت بھی کرتے ہیں۔ 1- اصول کافی، ج۱، باب ”ثواب العالم و المتعلم“ حدیث اول۔