إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
Indeed Safa and Marwah are among Allah’s sacraments. So whoever makes hajj to the House, or performs the ‘umrah, there is no sin upon him to circuit between them. Should anyone do good of his own accord, then Allah is indeed appreciative, all-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:158
[Pooya/Ali Commentary 2:158] Safa and Marwa are two clusters of rocks between which the pilgrims run back and forth during hajj. They are the scene of Hajirah's running to and fro in search of water, after being left alone with Ismail in the blistering heat and wilderness of Makka. Please see the commentary of verses 125 and 126 of this surah. Before the Holy Prophet had purified and perfected the rituals of hajj, Usaf, an idol, was kept on Safa, and Nu-allah, another idol, was kept on Marwah, therefore, people did not like to go to these rocks. Through this verse, the said stigma has been removed and running between the two rocks has been made an obligatory function of the hajj. Sha-a-irillah means signs of Allah, which remind a person of Allah or a representative of Allah - a prophet or an imam, whose remembrance itself would be an act of virtue or devotion to Allah. It is in this sense that the followers of Muhammad and Ali Muhammad give respect to alams, tazias, zarihs, associated with the holy Imams. Allah is grateful {shakir) means appreciation of good deeds and liberal rewarding in return.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:158
تطوع کسے کہتے ہیں
لغت میں تطوع کا معنی ہے اطاعت قبول کرنا اور احکام ماننا۔ عرف فقہاء میں تطوع مستحب اعمال کو کہاجاتاہے اسی بناء پر اکثر مفسرین اسے مستحب حج، عمرہ یا طواف اور ہر قسم کے نیک مستحب عمل کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ یعنی جو شخص فرمان خدا کے تحت نیک عمل انجام دے تو خدا تعالی اس کے کام سے آگاہ ہے اور اس کے بدلے میں اسے ضرور جزادے گا۔ احتمال ہے کہ یہ لفظ گذشتہ جملوں کی تکمیل اور تاکید ہو اور تطوع سے مراد ہو وہاں اطاعت کرنا جہاں انسان کے لئے مشکل ہو۔ اس بناء پر اس جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو حج یا عمرہ واجب میں صفا و مروہ کی سعی اس کی پوری زحمت کے ساتھ انجام دیں اور عربوں کے جاہلانہ اعمال کی وجہ سے پیدا شدہ باطنی میلان کے برخلاف اپنا حج مکمل کریں تو خداانہیں ضرور جزادے گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:158
صفا و مروہ کے کچھ اسرار و رموز
یہ صحیح ہے کہ عظیم لوگوں کی زندگی کے حالات پڑھنا اور سننا انسان کو کمال کی طرف لے جاتاہے لیکن اس سے زیادہ صحیح، زیادہ عمیق اور گہرا طریقہ بھی موجود ہے اور وہ ہے ان مقامات کا مشاہدہ کرنا اور دیکھنا جہاں مردان خدا نے راہ خدا میں قیام کیا اور وہ مراکز جہاں ایسے واقعات عملا رونما ہوئے۔ یہ مقامات و مراکز بذات خود زندہ اور جاندار تاریخ کی کتابیں تو خاموش اور بے جان ہیں۔ ایسے مقاما ت پر انسان کے لئے زمانی فاصلے سمٹ جاتے ہیں اور وہ خود کو اصل واقعہ میں شریک محسوس کرتاہے اور اسے یوں لگتاہے کہ وہ واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہاہے۔ ایسے مشاہدات کا تربیتی اثر گفتگو اور مطالعہ کتب سے کہیں بڑھ کرہے ۔ یہ مقام احساس ہے منزل ادراک نہیں۔ یہ مرحلہ تصدیق ہے مقام تصور نہیں اور یہ عینیت ہے ذہنیت نہیں ۔ دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عظیم پیغمبروں میں سے بہت کم ایسے ہیں جو حضرت ابراہیم کی طرح جہاد کے مختلف میدانوں اور شدید آزمائشوں سے گزرے ہوں یہاں تک کہ قرآن نے ان کے بارے میں فرمایا: إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلاَءُ الْمُبِینُ یقینا یہ بہت واضح اور عظیم امتحان اور آزمائش ہے۔ (الصفت۔۱۰۶) یہی مبارزات اور سخت آزمائشیں تھیں کہ جنہوں نے حضرت ابراہیم کی ایسے تربیت و پرورش کی کہ (امامت) کا تاج افتخار ان کے سر پر رکھاگیا۔ مراسم حج در حقیقت حضرت ابراہیم کے مبارزات کے میدانوں،توحید، بندگی، فداکاری اور اخلاص کی منازل کی دلوں پر پوری منظر کشی کرتے ہیں۔ ان مناسک کی ادائیگی کے وقت اگر مسلمان ان کی روح اور اسرار سے واقف ہوں اور ان کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دیں تو یہ تربیت کی ایک بڑی درس گاہ اور خداشناسی ، پیغمبر شناسی اور انسان شناسی کا ایک مکمل دورہ ہے۔ اب ہم حضرت ابراہیم کے واقعے اور صفا و مروہ کے تاریخی پہلوؤں کی طرف لوٹتے ہیں۔ ابراہیم بڑھاپے کی منزل کو جا پہنچے تھے مگر ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ انہوں نے خداسے اولاد کی درخواست کی۔ عالم پیری ہی میں ان کی کنیز ہاجرہ کے بطن سے انہیں فرزند عطا ہوا جس کا نام انہوں نے اسماعیل رکھا۔ آپ کی پہلی بیوی سارہ کو یہ پسند نہ تھا کہ ان کے علاوہ کسی خاتون کے بطن سے ابراہیم کو فرزند ملے۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ وہ ماں بیٹے کو مکہ میں جاکر ٹھہرائیں جو اس وقت ایک بے آب و گیاہ بیابان تھا۔ ابراہیم نے حکم خدا کی اطاعت کی اور انہیں سرزمین مکہ میں لے گئے جو ایسی خشک اور بے آب و گیاہ تھی کہ وہاں کسی پرندے کا بھی نام و نشان نہ تھا۔ جب ابراہیم انہیں چھوڑ کر تنہا واپس ہولئے توان کی اہلیت رونے لگیں کہ ایک عورت اور ایک شیر خوار بچہ اس بے آب و گیاہ بیابان میں کیا کریں گے اس خاتون کے گرم آنسو اور ادھر بچے کا نالہ وزاری۔ اس منظر نے ابراہیم کا دل ہلا کے رکھ دیا۔ انہوں نے بارگاہ الہی میں ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا۔ خداوندا! میں تیرے حکم پر اپنی بیوی اور بچے کو اس جلادینے والے بے آب و گیاہ بیابان میں تنہا چھوڑ رہاہوں، تا کہ تیرا نام بلند اور تیرا گھر آباد ہو۔ یہ کہہ کہ غم و اندوہ اور شدید محبت کے عالم میں الوداع ہوئے۔ زیادہ وقت نہیں گزراتھا کہ ماں کے پاس آب و غذا کا جو توشہ ختم ہوگیا اور اس کی چھاتی کا دودھ بھی خشک ہوگیا۔ شیرخوار بچے کی بے تابی اور تضرع و زاری نے ماں کو ایسا مضطرب کردیا کہ وہ اپنی پیاس بھول گئی۔ وہ پانی کی تلاش میں اٹھ کھڑی ہوئی پہلے کو ہ صفا کے قریب گئی تو پانی کا کوئی نام و نشان نظر نہ آیا۔ سراب کی چمک نے اسے کوہ مروہ کی طرف کھینچا تو وہ اس کی طرف دوڑی لیکن وہاں بھی پانی نہ ملا۔ وہاں ویسی چمک صفا پر دکھائی دی تو پلٹ کرآئی۔ زندگی کی بقاء اور موت سے مقابلے کے لئے اس نے ایسے سات چکر لگائے ۔ آخر شیرخوار بچہ زندگی کی آخری سانسیں لینے لگا کہ اچانک اس کے پاؤں کے پاس انتہائی تعجب خیز طریقے سے زمزم کا چشمہ ابلنے لگا۔ ماں اور بچے نے پانی پیا اور موت جو یقینی ہوگئی تھی اس سے بچ نکلے۔ زمزم کا پانی گویا آب حیات تھا۔ ہر طرف سے پرندے اس چشمے کی طرف آنے لگے۔ قافلوں نے پرندوں کی پرواز دیکھی تو اپنے رخ اس طرف موڑدیے اور ظاہرا ایک چھوٹے سے خاندان کی فداکاری کے صلے میں ایک عظیم مرکز وجود میں آگیا۔ آج خانہ خدا کے پاس اس خاتون اور اس کے فرزند اسماعیل کا مسکن ہے۔ ہر سال تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد اطراف عالم سے آتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ اس مسکن کو جسے مقام اسماعیل کہتے ہیں اپنے طواف میں شامل کریں گویا اس خاتون اور اس کے بیٹے کے مدفن کو کعبہ کا جزئی سمجھیں۔ صفا و مروہ کی سعی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کا نام زندہ کرنے اور عظمت، استقلال اور آبادی کے لئے شیرخوار بچے تک کو جان کی بازی لگا دینا چاہئیے ۔ صفا و مروہ کی سعی میں یہ سبق بھی پنہاں ہے کہ نا امیدیوں کے بعد بھی کئی امیدیں ہیں اسماعیل کی والدہ جناب ہاجرہ نے وہاں پانی کی تلاش جاری رکھی جہاں وہ دکھائی نہ دیتاتھا تو خدانے بھی ایسے راستے سے انہیں سیراب کیا جس کا تصور نہیں ہوسکتا۔ صفا ومروہ ہم سے کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب ہمارے اوپر بت نصب تھے لیکن آج پیغمبر اسلام کی مسلسل کوششوں اور جد و جہد سے شب و روز ہمارے پہلو میںلا الہ الا اللہ کی صدا گو رنج رہی ہے۔ صفا و مروہ کی پہاڑیاں حق رکھتی ہیں کہ وہ فخر کریں کہ ہم پیغمبر اسلام کی تبلیغات کی پہلی منزل ہیں۔ جب مکہ شرک کی تاریکی میں ڈوبا ہواتھا تو آفتاب ہدایت یہیں سے طلوع ہوا۔ اے صفا و مروہ کی سعی کرنے والو تمہارے دل میں یہ بات رہے کہ اگر آج ہزاروں افراد اس پہاڑی کے قریب پیغمبر کی دعوت پرلبیک کہہ رہیے ہیں تو ایک وقت وہ بھی تھا کہ نبی اکرم اس پہاڑی کے اوپرکھڑے ہو کر لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دے رہے تھے اور کوئی قبول نہیں کرتا تھا۔ تم بھی حق کی راہ میں قدم اٹھاؤ اور اگر ان لوگوں کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملے جن سے مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے تو مایوس نہ ہوجاؤ اور اپنے کام کو اسی طرح جاری رکھو۔ صفا ومروہ کی سعی ہمیں درس دیتی ہے کہ توحید کے اس مرکز اور آئین کی قدر و منزلت پہچانو کہ کتنوں نے اپنے آپ کو موت سے ہم کنار کرکے آج اس مرکز توحید کو تمہارے لئے محفوظ رکھا۔ اسی لئے خداوند عالم نے سب زائرین خانہ کعبہ پر واجب قرار دیا کہ مخصوص لباس اور مخصوص وضع قطع کے ساتھ جوہر قسم کے امتیاز اور تشخص سے پاک ہو سات مرتبہ ان امور کی تجدید کے لئے ان دو پہاڑیوں کے در میان چلیں ۔ جو لوگ کبر و غرور کی وجہ سے عام لوگوں کے گزرنے کی جگہ پر ایک قدم اٹھانے کو تیار نہیں اور جو سڑکوں پر تیز رفتاری سے چلنا پسند نہیں کرتے وہی فرمان خدا کی اطاعت کے لئے کبھی آہستہ اور کبھی تیزی سے دوڑتے ہیں روایات کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں کے بارے میں دیے گئے احکامات متکبرین کو بیدار کرنے کے لئے ہیں۔ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بہما ولغت میں حج کا معنی قصد بیان کیاگیاہے لیکن قرآن اور احادیث میں اس کا مفہوم وہ مخصوص اعمال اور مناسک ہیں جو مسلمان مکہ میں انجام دیتے ہیں۔ جب قرآن یہ بتاچکا کا صفا و مروہ دو عظیم نشانیاں ہیں ، لوگوں کی بندگی کا مرکز اور شعائر الہی ہیں۔ مزید کہتاہے: جو شخص خانہ خدا کا حج کرے یا عمرہ انجام دے اس کے لئے کوئی حرج نہیں کہ ان دو پہاڑیوں کے در میان چکر لگائے یہ عمل طواف کے لغوی معنی کے خلاف نہیں کیونکہ کسی طرح کا بھی چلنا ہو اگر انسان واپس وہیں آجائے جہاں سے ابتداء کی تھی تو یہ طواف ہے چاہے وہ حرکت دائرہ کی صورت میں ہو جیسے خانہ کعبہ کے گرد طواف یا دائرہ کی صورت میں نہ ہو جیسے صفاو مروہ کے در میان۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:158
خدا شاکر ہے کا مفہوم
ضمنا اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئیے کہ شاکر کا لفظ پروردگار کے لئے لطیف تعبیر ہے جو خدا کی طرف سے انسان کے نیک اعمال کے انتہائی احترام کی مظہر ہے اور جب خدا بندوں کے اعمال کے پیش نظر شکرگزار ہوتاہے تو اس سے بندوں کی ایک دوسرے کے بارے میں اور خدا کے بارے میں ذمہ داری کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔ ۱۵۹۔إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اٴَنزَلْنَا مِنْ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدَی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ اٴُوْلَئِکَ یَلْعَنُہُمْ اللهُ وَیَلْعَنُہُمْ اللاَّعِنُونَ ۱۶۰۔ إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا وَاٴَصْلَحُوا وَبَیَّنُوا فَاٴُوْلَئِکَ اٴَتُوبُ عَلَیْہِمْ وَاٴَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ترجمہ ۱۵۹۔ جو لوگ ان واضح دلائل اور ذرائع ہدایت کو چھپاتے ہیں جنہیں ہم نے نازل کیا جب کہ ان لوگوں کے لئے ہم نے کتاب میں بیان کردیاہے، ان پر خدا لعنت کرتاہے اور سب لعنت کرنے والے ان پر لعنت بھیجتے ہیں اور نفرین کرتے ہیں۔ ۱۶۰۔ مگر وہ جو توبہ کرتے ہیں اور لوٹ آتے ہیں اپنے برے اعمال کی اصلاح کرکے نیک اعمال انجام دیتے ہیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے آشکار کرتے ہیں تو میں ان کی توبہ قبول کرتاہوں کہ میں تواب و رحیم ہوں۔ شان نزول جلال الدین سیوطی نے اسباب النزول میں ابن عباس سے نقل کیاہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ افراد جن میں معاذ بن جبل، سعد بن معاذ اور خارجہ بن زید شامل تھے نے علماء یہود سے تورات کے چند مطالب کے متعلق سوالات کئے جو پیغمبر کے ظہور سے مربوط تھے۔ انہوں نے اصل واقعے کو چھپایا اور وضاحت کرنے سے احتراز کیا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔۱ ۱- لباب النقول فی اسباب النزول ص ۲۲
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:158
جاہلوں کے اعمال تمہارے مثبت اعمال میں حائل نہ ہوں
مخصوص نفسیاتی حالات میں یہ آیت نازل ہوئی، جن کا ذکر کیا جاچکاہے پہلے تو مسلمانوں کو خبر دی گئی کہ صفا و مروہ خدا کے شعائر اور نشانیوں میں سے ہیں (ان الصفا و المروة من شعائر اللہ)۔ اس مقدمہ اور تمہید کے بعد نتیجہ یوں بیان فرمایا گیاہے: جو لوگ خانہ خدا کا حج یا عمرہ بجالائیں ان کیلئے کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دو پہاڑیوں کے در میان طواف اور سعی کریں (فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بہما)مشرکین نے غلط طور پر ان خدائی شعائر کو جو بتوں سے آلودہ کر ر کھاہے ان سے ان دو مقدس مقامات کی اہمیت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ آیت کے آخر میں فرمایاگیاہے: جو لوگ اطاعت خدا کے لئے نیک کام انجام دیں تو خدا بھی شاکر و علیم ہے (و من تطوع خیر فان اللہ شاکر علیم) اللہ تعالی اطاعت اور نیک کاموں کی انجام دہی کے بدلے اچھے عوض کے ذریعے بندوں کے اعمال کی قدردانی کرتاہے اور شکر یہ ادا کرتاہے اور ان کی نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون لوگ بتوں سے وابستگی رکھتے ہیں اور کون ان سے بیزار ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:158
صفا و مروہ
صفا و مروہ مکہ کی دو چھوٹی سی پہاڑیوں کے نام ہیں۔ مسجد الحرام کی توسیع کے باعث آج کل یہ مسجد کے مشرقی حصے میں حجر الاسود اور مقام ابراہیم کی سمت میں واقع ہیں۔ یہ دونوں پہاڑیاں ایک دوسرے سے تقریبا ۴۲۰ میڑ کے فاصلے پرہیں۔ اس وقت یہ فاصلہ ایک چھتے ہوئے بڑے ہال کی شکل میں ہے اور حجاج کرام اس چھت کے نیچے سعی کرتے ہیں۔ صفا پہاڑی کی بلندی پندرہ میڑہے۔اور مرواکی بلندی آٹھ میٹر ہے۔ صفا اور مردہ اس وقت دو پہاڑیوں کے نام ہیں (اصطلاح میں علم کو کہتے ہیں) لیکن لغت میں صفا کا معنی ہے مضبوط اور صاف پتھر، جس میں مٹی، ریت اور سنگریزے نہ ہوں۔ اور مردہ کا معنی ہے مضبوط اور درشت پتھر۔ شعائر جمع ہے شعیرہ کی جس کا معنی علامت اور نشانی ہے ۔ شعائر اللہ وہ علامات ہیں جو انسان کو خدا کی یاد دلائیں اور کسی مقدس چیز کو نظروں میں نئے سرے سے اجاگر کردیں۔ اعتمر، عمرہ کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے کسی عمارت کے وہ اضافی حصے جو اس کے ساتھ ملائے جائیں تو اس کی تکمیل کا سبب بنیں، لیکن اصطلاح شریعت میں عمرہ ان مخصوص اعمال کو کہاجاتاہے جو حج کے موقع پراضافے کے طور پر اور کبھی جداگانہ طور پر عمرہ مفردہ کے نام پرانجام دیئے جاتے ہیں۔ عمرہ کئی ایک پہلوؤں سے حج سے مشابہت رکھتاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:158
ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال سامنے آتاہے کہ فقہ اسلامی کے نقطہ نظر سے صفا و مروہ کے در میان سعی کرنا واجب ہے چاہے حج کے اعمال بجالانا ہوں یا عمرہ کے ۔ لیکن (لا جناح) کے لفظ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ صفا و مروہ کے در میان سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں اور یہ وجوب پردلالت نہیں کرتا۔ اس سوال کا جواب ان روایات سے واضح طور پر مل جاتاہے جو شان نزول کے ضمن میں بیان کی جاچکی ہیں۔ مسلمان یہ گمان کرتے تھے کہ ان دو پہاڑیوں پر ایک عرصہ تک اساف اور نائلہ بت گڑے رہے ہیں اور کفار سعی کرتے وقت انہیں مس کرتے تھے لہذا یہ اس قابل نہیں کہ مسلمان ان کے در میان سعی کریں۔ اس آیت میں ان سے کہا گیاہے کہ کوئی حرج نہیں تم سعی کرو چونکہ یہ پہاڑیاں شعائر اللہ میں سے ہیں۔ لا جناح ۱ در اصل اس کراہت اور ناپسندیدگی کو واضح طور پر دور کرنے کے لئے آیاہے تا کہ اس کی اصل شرعی حیثیت واضح کرے ، علاوہ ازیں قرآن میں بہت سے واجب احکام اس انداز سے بیان ہوئے ہیں۔ مثلا نماز مسافر کے بارے میں ہے: وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلاَةِ اگر سفر میں ہوتو کوئی حرج نہیں کہ نماز قصر کرلو۔ (نساء ۔ ۱۰۱) حالانکہ یہ واضح ہے کہ مسافر پر نماز قصر واجب ہے نہ یہ کہ قصر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ قاعدة لفظ (لا جناح) ان مواقع پر بولاجاتاہے جہاں سننے والے کا ذہن پہلے سے اس چیز کے بارے میں پریشان ہو اور وہ منفی احساسات رکھتاہو لہذا قرآن کی یہ روش بعض واجب احکام بیان کرنے کے بارے میں بھی ہے۔ امام باقر نے بھی ایک حدیث میں اس روش کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو کتاب من لا یحضر میں منقول ہے۔ ۱- (جناح، کا اصل معنی ہے ایک طرف میلان، چونکہ گناہ انسان کو حق سے منحرف اور باطل کی طرف مائل کردیتاہے اسی لئے اسے جناح کہاجاتاہے