يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
O you who have faith! Take recourse in patience and prayer; indeed Allah is with the patient.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:153
[Pooya/Ali Commentary 2:153] Refer to the commentary of verse 45 of this surah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:153-163
1. God has described the process to adopt Divine help by “fasts and prayers” as it is appreciated by Him, if it is sincerely carried out. 2. He then describes what His test of “faithful creatures” consists of: (1) It will involve in (1) incurring fear, patiently remembering Him, (2) undergoing pangs of hunger patient, (3) sacrificing property (as Job and “life”) and, (5) and children (as Imam Hussain) patient simply to incur Divine will, the success will result making your guidance steadfast winning Divine Mercy, i.e. Paradise. 3. He then stipulates: Moving from Safa to Marwa seven times as a part of an obligatory function in Umra of Hajj leading to worldly eternal prosperity. 4. Then God deprecates curse on those who hide his commands revealed unto humans through His Messengers and text. Such people who die without penance are permanently cursed by angels and humans too, besides incurring Divine Curse and nothing but Hell (permanent) is their abode. 5. Finally, He again reiterates, there is no other God to save them from Hell or grant them Paradise and so unless and until, they accept His guidance directed through His Prophet and Family (Immaculate) they are bound to be condemned to Hell with all their prayers and virtuous deeds.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:153-154
برزخ کی زندگی اور روح کی بقاء
س آیت سے انسان کی حیات برزخ (موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کی زندگی) کا بھی واضح ثبوت ملتاہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جواب ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن نے روح کی بقاء اور برزخ کی زندگی کے متعلق کوئی گفتگو نہیں کی۔ اس موضوع کی مزید تشریح، شہدا کی حیات جاوداں، خدا کے ہاں اس کا بدلہ اور راہ خدا میں قتل ہونے والوں کا عظیم مرتبہ تفسیر نمونہ جلد سوم (سورہ آل عمران آیہ ۱۶۹ کے ذیل) میں پڑھیئے گا۔ ۱۵۵۔ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنْ الْاٴَمْوَالِ وَالْاٴَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرْ الصَّابِرِینَ ۵۶ا ۔ الَّذِینَ إِذَا اٴَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ ۱۵۷۔اٴُوْلَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ وَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُہْتَدُونَ ترجمہ ۱۵۵۔ یقینا ہم تم سب کی خوف، بھوک، مالی و جانی نقصان اور پھلوں کی کمی جیسے امور سے آزمائش کریں گے اور صبر واستقامت دکھانے والوں کو بشارت دیجئے۔ ۱۵۶۔ وہ جنہیں جب کوئی مصیبت آپہنچے تو کہتے ہیں ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ جائیں گے۔ ۱۵۷۔ یہ وہی لوگ ہیں کہ الطاف و رحمت الہی جن کے شامل حال ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:153-154
مکتب شہید پرور
مسئلہ شہادت کی زیر نظر آیت اور قرآن کی دیگر آیات کے ذریعے اسلام نے ایک نہایت اہم اور تازہ عامل کے لئے میدان تیار کیاہے ۔ یہ وہ عامل ہے جس سے حق کے لئے باطل کے مقابلے میں جنگ کی سکت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ ایسا عامل ہے جس کی کار کردگی ہر قسم کے ہتھیار سے بڑھ کرہے اور یہ ہر چیز سے زیادہ اثر انگیز ہے۔ یہ عامل ہر دور کے خطرناک ترین اور وحشت ناک ترین ہتھیاروں کو شکست سے دوچار کردیتاہے ۔ یہی حقیقت ہم نے اپنی آنکھوں سے اپنے ملک ایران میں انقلاب اسلامی کی پوری تاریخ میں بڑی وضاحت سے دیکھی ہے کہ عشق شہادت ہر قسم کے ظاہری اسباب کی کمی کے باوجود مجاہدین اسلام کی کامیابی کا عامل بنا۔ اگر ہم تاریخ اسلام اور ہمیشہ رہنے والے انقلابات میں اسلامی جہاد اور مجاہدین کے ایثار و قربانی کی تفصیلات پر غور کریں جنہوں نے اپنے پورے وجود سے اس دین پاک کی سربلندی کے لئے جانفشانی دکھائی ہے، تو ہمیں نظر آئے گا کہ ان تمام کامیابیوں کی ایک اہم وجہ اسلام کا یہ عظیم درس ہے کہ راہ خدا اور طریق حق و عدالت میں شہادت کا معنی فنا، نابودی اور مرنا نہیں بلکہ اس کا مطلب ہمیشہ کی زندگی اور ابدی افتخار و اعزاز ہے۔ جن مجاہدین نے اس مکتب عظیم سے ایسا درس یاد کیاہے ان کا مقابلہ کبھی عام جنگجوؤں سے نہیں کیاجاسکتا۔ عام سپاہی اپنی جان کی حفاظت کی فکر میں رہتاہے لیکن حقیقی مجاہد کا منشا ء اپنے مکتب کی حفاظت ہوتاہے اور وہ پروانہ دار جان دیتا، قربان ہوتا اور فخر کرتاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:153-154
شہداء کی ابدی زندگی
شہداء کی زندگی کیسی ہے، اس بارے میں مفسرین کے در میان اختلاف ہے۔ اس میں اختلاف یہ ہے کہ شہداء ایک طرح کی برزخی اور روحانی زندگی رکھتے ہیں کیونکہ ان کا جسم تو عموما منتشر ہوجاتاہے۔ امام صادق کے ارشاد کے مطابق ان کی زندگی ایک مثالی جسم کے ساتھ ہے (وہ بدن جو عام مادے سے ماوراء ہے لیکن اس بدن کے مشابہ ہے جس کی تفصیل سورہ مومنون کی آیہ ۱۰۰ کے ذیل میں آئے گی جس میں فرمایا گیاہے: و من وراعھم برزخ الی یوم یبعثون)۔۱ بعض مفسرین اسے شہداء کے ساتھ مخصوص ایک غیبی زندگی قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس زندگی کی کیفیت اور انداز کا زیادہ علم نہیں رکھتے۔ کچھ مفسرین اس مقام پر حیات کو ہدایت اور موت کو جہالت کے معنی میں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آیت کا معنی ہے کہ جو شخص راہ خدا میں قتل ہوجائے اسے گمراہ نہ کہو بلکہ وہ ہدایت یافتہ ہے۔ بعض شہداء کی دائمی زندگی کا مفہوم یہ قرار دیتے ہیں کہ ان کا نام اور مقصد زندہ رہے گا۔ جو تفسیر ہم بیان کرچکے ہیں اس کی طرف نظر کرنے سے واضح ہوجاتاہے کہ ان میں سے کوئی احتمال بھی قابل قبول نہیں نہ اس کی ضرورت ہے کہ مجازی معنی میں آیت کی تفسیر کی جائے اور نہ برزخ کی زندگی کو شہداء سے مخصوص قرار دینے کی ضرورت ہے بلکہ شہداء ایک خاص قسم کی برزخی اور روحانی زندگی کے حامل ہیں انہیں رحمت پروردگار کی قربت کا امتیاز حاصل ہے اور وہ طرح طرح کی نعمات سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ ۱ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۵۹، سورہ مومنون آیہ ۱۰۰ کے ذیل میں۔