وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
As Abraham raised the foundations of the House with Ishmael, [they prayed]: ‘Our Lord, accept it from us! Indeed You are the All-hearing, the All-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:127
[Pooya/Ali Commentary 2:127] When Ibrahim and Ismail raised the foundations of the holy Kabah, they prayed to Allah to accept their service, make them both Muslims (submissive to Allah), and also make their descendants Muslims, and raise up in them a messenger who would recite to them Allah's revelation, teach them the book and the wisdom and purify them. This prayer shows that there had always been some men and women in the progeny of Ibrahim who were true Muslims, through whom the divine light of Muhammad and Ali passed till it reached Abdul Muttalib. Then his two sons Abdullah and Abu Talib carried it separately. Abdullah transferred it to Muhammad. and Abu Talib transferred it to Ali, the vicegerent and the successor of the Holy Prophet the first of the twelve Imams the divinely commissioned rightly guided guides for mankind. "I and Ali are from one and the same light", said the Holy Prophet The word ummat does not always means a community or a nation. In verse 120 of al Nahl it refers to a single individual. This prayer also shows how difficult it is to be a true Muslim. Even a distinguished prophet of Allah like Ibrahim makes a request to Allah to let him remain a Muslim.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:127-129
حضرت ابراہیم کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تعبیر نو
قرآن کی مختلف آیات، احادیث اور تواریخ اسلامی سے واضح ہوتاہے کہ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم سے پہلے بلکہ حضرت آدم کے زمانے میں موجود تھا کیونکہ سورہ ابراہیم کی آیہ ۳۷ میں حضرت ابراہیم جیسے عظیم پیغمبر کی زبانی یوں آیاہے: رَبَّنَا إِنِّی اٴَسْکَنتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم پروردگارا! میں اپنی ذریت میں سے (بعض کو) اس بے آب و گیاہ داری میں تیرے محترم گھرکے پاس بسارہاہوں۔ یہ آیات واضح طور پر گواہی دیتی ہے کہ جب حضرت ابراہیم اپنے شیرخوار بیٹے اسماعیل اور اپنی زوجہ کے ساتھ سرزمین مکہ میں آئے تو خانہ کعبہ کے آثار موجود تھے۔ سورہ آل عمران کی آیہ ۹۶ میں بھی ہے: إِنَّ اٴَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبَارَکًا۔ پہلا گھر جو عبادت خدا کی خاطر انسانوں کے لئے بنایا گیا وہ سرزمین مکہ میں تھا۔ یہ مسلم ہے کہ عبادت خدا اور مرکز عبادت کی بنیاد حضرت ابراہیم کے زمانے سے نہیں پڑی بلکہ حضرت آدم کے زمانے سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ اتفاقا زیر بحث آیت کی تعبیر بھی اسی معنی کو تقویت دیتی ہے۔ فرمایا: یاد کرو اس وقت کو جب ابراہیم اور اسماعیل (جب اسماعیل کچھ بڑے ہوگئے تو) خانہ کعبہ کی بنیادوں کو اونچا کررہے تھے اور کہتے تھے پروردگار! ہم سے قبول فرماتو سننے والا اور جاننے والا ہے ( و اذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت و اسماعیل ربنا تقبل منا ط انک انت السمیع العلیم)۔ آیت کا یہ انداز بتاتاہے کہ خانہ کعبہ کی بنیادیں موجود تھیں اور ابراہیم اور اسمعیل اس کے ستون بلند کررہے تھے۔ نہج البلاغہ کے مشہور خطبہ قاصعہ میں بھی ہے الا ترون ان اللہ سبحانہ اختبر الاولین من لدن ادم الی الاخرین من ھذا العالم باحجار فجعلھا بیتہ الحرام ثم امرادم و ولدان یثنو اعطافھم نحوہ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ خدانے آدم سے لے کر آج تک کچھ پتھروں کے ذریعے امتحان لی (و ہ پتھرکہ) جنہیں اپنا محترم گھر قرار دیا پھر آدم کو حکم دیا کہ گرد طواف کریں۔۱ مختصر یہ کہ آیات قرآن اور روایات تاریخ کی اس مشہور بات کی تائید کرتی ہیں کہ خانہ کعبہ پہلے پہل حضرت آدم علیہ السلام کے ہاتھوں بنا۔ پھر طوفان نوح میں گرگیا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل کے ہاتھوں اس کی تعمیر نو ہوئی۔۲ حضرت ابراہیم کی کچھ مزید دعائیں زیر نظر دیگردو آیات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل خدا سے پانچ اہم در خواستیں کرتے ہیں۔ یہ التجائیں جو خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت کی گئیں اس قدر فکر انگیز اور معنوی و مادی زندگی کی ضروریات کی جامع ہیں کہ انسان کو خدا کے ان دو عظیم پیغمبروں کی روحانی عظمت سے آشنا کردیتی ہیں۔ پہلے عرض کرتے ہیں: پروردگارا! ہمیں ہماری ساری زندگی میں اپنے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والا قرار دے (ربنا و اجعلنا مسلمین لک)۔ پھر تقاضا کرتے ہیں: ہماری اولاد میں سے بھی ایک مسلمان امت قرار دے جو تیرے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والی ہو( وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اٴُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ )۔ پھر درخواست کرتے ہیں: اپنی پرستش و عبادت کی را ہ میں دکھا اور ہمیں اس سے آگاہ فرما (وَاٴَرِنَا مَنَاسِکَنَا)۔ پھر تقاضا کرتے ہیں: ہماری اولاد میں سے بھی ایک مسلمان امت قرار دے جو تیرے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والی ہو ( وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ اٴَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحیم)۔ اس کے بعد دعا کرتے ہیں:پروردگارا! انہی میں سے ایک رسول ان میں مبعوث فرما (ربنَا وَابْعَثْ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْہُم) تا کہ وہ تیری آیات ان کے سامنے پڑھے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے ( یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُہُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیہِ)۔ یقینا تو توانا اور حکیم ہے اور ان تمام کاموں کی قدرت رکھتاہے (إِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ)۔ ۱ یعنی اسے اپنی تو جہات کا مرکز قرار دیں۔ (مترجم) ۲ المنار کے مؤلف نے اس بات سے انکار کیاہے ۔ اس کے نزدیک خانہ کعبہ کے بانی حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل ہی ہیں حالانکہ یہ بات نہ فقط یہ کر روایات و تاریخ سے میل نہیں کھاتی بلکہ خود آیات قرآن سے بھی موافقت نہیں رکھتی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:127-129
تعلیم مقدم ہے یا تربیت
یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن میں چار مقامات پر انبیاء کی غرض بعثت کا ذکر کرتے ہوئے تعلیم و تربیت کا ذکر آیاہے۔ ان میں سے تین مقامات پر تربیت تعلیم سے مقدم ہے ۱ اور صرف ایک جگہ (زیر بحث آیت میں) تعلیم کا ذکر تربیت پر مقدم ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عموما جب تک تعلیم نہ ہو تربیت نہیں ہوتی۔ اس بناء پر جہاں تعلیم تربیت سے مقدم ہے وہاں تو اس کی وضع طبیعی کی طرف اشارہ ہے لیکن زیادہ تر مقامات جہاں تربیت مقدم ہے گویا اس طرف اشارہ ہے کہ غرض و مقصد تربیت ہے اور باقی سب مقدمات ہیں۔ ۱ بقرہ آیہ ۱۵۱، آل عمران آیہ ۱۶۴ ، جمعہ آیہ ۲۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:127-129
پیغمبر انہی میں سے ہو
مندرجہ بالا آیت میں لفظ (منہم) اس طرف اشارہ کرتاہے کہ انواع انسانی کے رہبر اور مربی کے لئے ضروری ہے کہ اسی کی نوع و جنس سے ہو۔ انہی صفات اور بشری طبائع کا حامل ہو تا کہ وہ عملی پہلوؤں سے ان کے لئے بہترین نمونہ بن سکے کیونکہ واضح ہے کہ اگر ان کے نوع و جنس سے نہ ہو تو نہ وہ ان کی ضروریات ، تکالیف مشکلات اور انسانوں کے مختلف مسائل کو سمجھ پائے گا اور نہ ہی انسان اسے اپنے لئے نمونہ بنا سکیں گے۔ ۱۳۰۔ وَمَنْ یَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاہِیمَ إِلاَّ مَنْ سَفِہَ نَفْسَہُ وَلَقَدْ اصْطَفَیْنَاہُ فِی الدُّنْیَا وَإِنَّہُ فِی الْآخِرَةِ لَمِنْ الصَّالِحِینَ ۱۳۱۔ إِذْ قَالَ لَہُ رَبُّہُ اٴَسْلِمْ قَالَ اٴَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ ۱۳۲۔ وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبُ یَابَنِیَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفَی لَکُمْ الدِّینَ فَلاَتَمُوتُنَّ إِلاَّ وَاٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ترجمہ ۱۳۰۔ نادان و بیوقوف لوگوں کے سوا کون شخص (اس پاکیزگی اور روشنی کے با وجود) دین ابراہیم سے روگردانی کردے گا۔ اس دنیا میں ہم نے انہیں منتخب کیاہے اور دوسرے جہان میں بھی وہ صالحین میں سے ہیں۔ ۱۳۱۔ (یاد کرو وہ وقت) جب ان کے پروردگار نے ان سے کہا اسلام لے آؤ (اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرو تو اانہوںنے پروردگار کے فرمان کو دل و جان سے قبول کرلیا اور) کہا میں عالمین کے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرتاہوں۔ ۱۳۲۔ ابراہیم اور یعقوب نے (اپنی عمر کے آخری اوقات میں) اپنے بیٹوں کو اس دین کی وصیت کی (اور ہر ایک نے اپنے فرزندوں سے کہا) اے میرے بیٹو! خدانے اس آئین پاک کو تمہارے لئے منتخب کیاہے اور تم دین اسلام کے علاوہ کسی پر نہ مرنا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:127-129
انبیاء کی غرض بعثت
مندرجہ بالا آیات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے پیغمبر اسلام کے ظہور کی دعا کے ساتھ ان کی بعثت کے تین مقاصد بیان کئے ہیں:۔ پہلا مقصد لوگوں کے سامنے آیات خدا کی تلاوت ہے۔ یہ در اصل ان آیات کے ذریعے لوگوں کو بیدار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ آیات عمدہ، جاذب نظر اور دلوں کو بھانے والی ہیں اور وحی کی صورت میں قلب پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں۔ تلاوت کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبران آیات کے ذریعے خوابیدہ نفوس کو بیدار کرے۔ آیت میں لفظ (یتلو) استعمال ہواہے جس کا مادہ تلاوت سے ہے۔ اس کا لغوی معنی ہے پے در پے لانا۔ جب عبارتوں کو ایک دوسرے کے بعد اور صحیح نظم و ترتیب سے پڑھیں تو عرب اسے تلاوت کہتے ہیں۔ لہذا منظم و پے در پے تلاوت در اصل تعلیم و تربیت کے لئے مقدمہ و تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔ ۲۔ دوسرا مقصد تعلیم کتاب و حکمت شمار کیاگیاہے کیونکہ علم و آگاہی کے بغیر تربیت ممکن نہیں تربیت در اصل تیسرا مرحلہ ہے۔ کتاب و حکمت میں اس لحاظ سے فرق ہوسکتا ہے کہ کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہوا در حکمت سے مراد وہ علوم، اسرا و علل اور مقاصد احکام ہوں جن کی پیغمبر کی طرف سے تعلیم دی جاتی ہے۔ ۳۔ تیسرا مقصد تزکیہ بیان کیا گیاہے۔ تزکیہ کا معنی لغت میں نشو و نما بھی بیان کیاگیاہے۔ یہ نکتہ خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ انسانی علوم محدود ہیں اور ان میں بھی ہزاروں ابہام اور خطائیں موجود ہیں۔ انسان جو کچھ جانتا ہے اس کی صحت کا کامل یقین نہیں کیاجاسکتا کیونکہ اس سے پیشتر اپنے علوم کی غلطیاں دیکھ چکاہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اس ضرورت کا احساس ہوتاہے کہ پیغمبران خدا صحیح علوم جو ہر قسم کی غلطی سے مبرا ہو مبداء وحی سے حاصل کرکے لوگوں کے در میان تشریف لائیں تا کہ لوگوں کی غلطیوں کا ازالہ کریں اور جو باتیں انہیں معلوم نہیں ان کی انہیں تعلیم دیں اور جو کچھ وہ جانتے ہیں اس کے بارے میں انہیں اطمینان دلائیں۔ دوسری بات جس کا ذکر یہاں ضروری ہے یہ ہے کہ ہماری نصف شخصیت کی تشکیل عقل و خرد سے ہوتی ہے اور نصف شخصیت طبائع، میلانات اور خواہشات سے بنتی ہے۔ اس لئے ہمیں جتنی تعلیم کی ضرورت ہے اتنی ہی تربیت کی احتیاج ہے ہماری عقل و خرد کو بھی تکامل و ترقی کی ضرورت ہے اور ہمارے باطنی طبائع کو بھی صحیح تربیت و پرورش کے لئے رہبری کی ضرورت ہے۔ اسی لئے تو پیغمبر معلم بھی ہیں اور مربی بھی۔ تعلیم دینا بھی انہی کا کام ہے اور تربیت کرنا بھی۔