وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ
And they say, ‘Allah has taken a son.’ Immaculate is He! Rather, to Him belongs whatever there is in the heavens and the earth. All are obedient to Him,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:116
[Pooya/Ali Commentary 2:116] The Jews and the Christians metaphorically referred to the virtuous prophets of Allah, from Adam to Isa, as the sons of God, but this metaphorical usage gave opportunity to some theologians to corrupt the true religions and made the common people believe that Ezra or Jesus were sons of God. The pagans believed that the angels were the daughters of God. Therefore the use of the term "son" or "daughter" of Allah, as a doctrine or as a metaphor, has been condemned as the greatest sin (Luqman: 13). When everything in the heavens and the earth and in between them is the creation of Allah, it becomes meaningless to believe that anything, in any sense, can be equal to Him. The basic and the main doctrine of Islam is "the absolute unity" of Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:116-117
کوئی چیز کیسے عدم سے وجود میں آتی ہے
لفظ (بدیع) کا مادہ ہے (بدع) جس کا معنی ہے بغیر کسی سابقہ کے کسی چیز کا وجود میں آنا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آسمانوں اور زمین کو خدانے بغیر کسی مادے اور بغیر کسی پہلو نمونے کے وجود بخشاہے۔ اب یہ سوال ہوگا کہ کیا ایسا بھی ہوسکتاہے کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں آجائے جب کہ عدم وجود کی ضروت مندہے۔ لہذا یہ کیسے علت اور منشاء وجود ہوسکتاہے۔ کیا واقعا یہ باور کیاجاسکتاہے کہ نیستی سبب ہستی ہو۔ مسئلہ ابداع پر ماد یین کا یہ پرانا اعتراض ہے۔ اس کا جواب پیش خدمت ہے: پہلے مرحلے میں تو یہ اعترا ض خود مادہ پرستوں پر بھی وارد ہوتاہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ ان کا اعتقاد ہے کہ یہ جہان قدیم اور ازلی ہے اور کوئی چیز بھی آج تک اس میں سے کم نہیں ہوئی اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات میں کئی تغیرات آئے ہیں جن سے مادے کی یہ صورت بدلی ہے جو ہمیشہ بدلتی رہتی۔ گویا صورت بدلتی ہے نہ کہ مادہ۔ اب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ مادے کی جو موجودہ صورت ہے یقینا وہ پہلے تو نہ تھی۔ اب یہ صورت کیسے وجود میں آئی کیا عدم سے وجود میں آئی۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر عدم کیسے وجود صورت کا منشاء ہوسکتاہے۔ مثلا ایک نقاش قلم اور سیاہی سے کاغذ پر ایک بہترین منظر بناتا ہے۔ مادہ پرست کہتے ہیں کہ اس کا جوہر اور سیاہی تو پہلے سے موجود تھی۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ منظر (صورت) جو پہلے موجود نہ تھا کس طرح وجود میں آیا۔ جو جواب وہ صورت کے عدم سے پیدا ہوجانے کے متعلق دیں گے وہی جواب ہم مادہ کے سلسلے میں دیں گے دوسرے مرحلہ میں قابل توجہ امر یہ ہے کہ لفظ (سے) کی وجہ سے اشتباہ ہواہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ عالم نیستی سے ہستی میں آیاہے کا مطلب ایسے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میز لکڑی سے بنائی گئی ہے۔ جس میں میز بنانے کے لئے لکڑی کا پہلے موجود ہونا ضروری ہے تا کہ میز بن سکے جب کہ عالم نیستی سے ہستی میں آیاہے کا معنی یوں نہیں بلکہ اس کا معنی ہے کہ عالم پہلے موجود نہ تھا بعد میں وجود پذیر ہوا۔ فلسفے کی زباں میں یوں کہنا چاہئیے کہ ہر موجود ممکن (جو اپنی ذات سے وجود نہ رکھتا ہو) کو اپنی تشکیل کے لئے دو پہلو درکارہیں (ماہیت) اور ( وجود)۔ (ماہیت )ایک اعتباری معنی ہے کہ جس کی نسبت وجود و عدم کے ساتھ مساوی ہے۔ یہ الفاظ دیگر وہ قدر مشترک جو کسی چیز کے وجود اور عدم کو دیکھنے سے دستیاب ہو اس کا نام ماہیت ہے۔ مثلا یہ درخت پہلے نہیں تھا۔ اب وجود رکھتاہے۔ جو چیز وجود و عدم سے ثابت ہو وہ ماہیت ہے لہذا جب ہم کہتے ہیں کہ خدا عالم کو عدم سے وجود میں لایاہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عالم حالت عدم کے بعد حالت وجود میں آگیاہے دوسرے لفظوں میں ماہیت کو حالت عدم سے حالت وجود میں لایاگیاہے۔۱ ۱ ۔ مزید وضاحت کے لئے کتاب آفریدگار جہان کی طرف رجوع کریں۔ ۱۱۸۔ وَقَالَ الَّذِینَ لاَیَعْلَمُونَ لَوْلاَیُکَلِّمُنَا اللهُ اٴَوْ تَاٴْتِینَا آیَةٌ کَذَلِکَ قَالَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِثْلَ قَوْلِہِمْ تَشَابَہَتْ قُلُوبُہُمْ قَدْ بَیَّنَّا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ ۱۱۹۔إِنَّا اٴَرْسَلْنَاکَ بِالْحَقِّ بَشِیرًا وَنَذِیرًا وَلاَتُسْاٴَلُ عَنْ اٴَصْحَابِ الْجَحِیم ترجمہ ۱۱۸۔ بے علم افراد کہتے ہیں خدا ہم سے بات کیوں نہیں کرتا اور کوئی آیت و نشانی خود ہم پر کیوں نہیں نازل کرتا۔ ان سے پہلے بھی لوگ ایسی باتیں کرتے تھے۔ ان کے دل اور افکار ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ لیکن ہم (کافی تعداد میں اپنی) آیات اور نشانیاں (حقیقت کے متلاشی) اہل یقین کے لئے روشن اور واضح کرچکے ہیں۔ ۱۱۹۔ ہم نے تجھے حق کے ساتھ (اہل دنیا کو اچھائیوں اور برائیوں کے مقابلے میں) بشارت اور تہدید کے لئے بھیجا اور (اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد) تو اہل جہنم کی گمراہی پر جواب دہ نہیں ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:116-117
کن فیکون کی تفسیر
یہ تعبیر قرآن کی بہت سی آیات مےں آئی ہے۔ ان میں سورہ آل عمران ۴۷ اور ۵۹، سورہ انعام آیہ ۷۳، سورہ نحل آیہ ۴۰، سورہ مریم آیہ ۳۵ اور سورہ یس آیہ ۸۲ و غیرہ شامل ہیں۔ یہ جملہ خدا کے ارادہ تکوینی اور امر خلقت میں اس کی حاکمیت کے متعلق گفتگو کرتاہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ کن فیکون (ہوجا پس وہ فورا ہوجاتاہے) سے مراد یہ نہیں کہ خدا کوئی لفظی فرمان(ہوجا) کی صورت میں صادر فرماتا ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ جس وقت وہ کسی چیز کو وجود عطا فرمانے کا ارادہ کرتاہے وہ بڑی ہویا چھوٹی، پیچیدہ ہو یا سادہ، ایک اٹیم کے برابر ہو یا تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہوکسی علت کی احتیاج کے بغیر وہ ارادہ خود بخود عمل جامہ پہن لیتاہے۔ اس ارادہ اور موجود کی پیدائش کے در میان لحظے کا فاصلہ بھی نہیں ہوتا۔ اصولی طور پر کوئی زمانہ اس کے در میان نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے حرف فا (فیکون میں) جو عموما تاخیر زمانی کے لئے آتاہے البتہ ایسی تاخیر جو اتصال کی قوام ہو یہاں صرف تاخیر رتبہ کے لحاظ سے ہے (جیسا کہ فلسفہ میں ثابت ہوچکا ہے کہ معلول اپنی علت سے رتبے کے لحاظ سے تو متایخر ہے لیکن زمانے کے لحاظ سے نہیں)۔ یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہئیے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ارادہ الہی آنی الوجود ہے1 بلکہ مراد یہ ہے کہ جیسا وہ ارادہ کرے موجود اسی طرح وجود پاتاہے۔ یا مثلا۔ اگر وہ ارادہ کرے کہ بچہ شکم مادر کی جنین میں نو ماہ اور نودن میں اپنی تکمیل کے مرحلے طے کرے تو لحظہ بھر کی کمی بیشی کے بغیر یونہی انجام پذیر ہوگا اور اگر ارادہ کرے کہ تکامل کا یہ دور ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم مقدار میں پورا کرے تو یقینا ایسا ہوگا کیونکہ خلقت کے لئے انکا ارادہ علت تامہ ہے اور علت تامہ و معلول کے در میان کسی قسم کا فاصلہ نہیں ہوسکتا۔ 1 ۔یعنی ارادہ الہی سے کوئی چیز آنا فانا وجود میں آجاتی ہے۔ (مترجم)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:116-117
عدم فرزند کے دلائل
خدا کا بیٹا ہونا، بے شک ان لوگوں کے کمزور افکار کی پیداوار ہے جو تمام امور میں خدا کو اپنے محدود وجود پر قیاس کرتے ہیں۔ مختلف دلائل کی بناء پر انسان بیٹے کا محتاج ہے۔ ایک طرف تو اس کی عمر محدود ہے اور بقائے نسل کے لئے بیٹا ضروری ہے۔ دوسری طرف اس کی قدرت محدود ہے۔ خصوصا بڑھاپے اور ناتوانی کے عالم میں اسے معاون و مددگار کی ضرورت ہے جو بیٹے کے ذریعے پوری ہوسکتی ہے تیسرا یہ کہ انسانی نفسیات میں محبت و انس کی خواہش کے پیش نظر ضروری ہے کہ کوئی اس کا مونس و مددگار ہو۔ یہ مقصد بھی اولاد کے ذریعے پورا ہوجاتاہے۔ واضح ہے کہ خدا کے ہاں ان میں سے کوئی بھی بات کچھ مفہوم نہیں رکھتی کیونکہ وہ تو عالم ہستی کو پیدا کرنے والا، تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا اور ازلی و ابدی ہے۔ علاوہ ازیں جسم صاحب اولاد ہونے کالا زمہ ہے اور خدا اس سے بھی منزہ ہے۔۱ ۱۔سورہ انبیا ء آیہ ۲۶، تفسیر نمونہ میں اس ضمن میں مزید بحث کی گئی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:116-117
خدا ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتا
مندرجہ بالا آیات کی ابتداء میں یہودیوں کی بہانہ سازیوں کی مناسبت سے ایک اور گروہ کی بہانہ سازیوں کا تذکرہ کیا گیاہے۔ ظاہرا یہ مشرکین عرب ہی کے بارے میں ہے فرمایا: بے علم لوگ کہتے ہیں خدا ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتا اور کیوں آیت اور نشانی خود ہم پر نازل نہیں ہوتی ( و قال الذین لا یعلمون لولا یکلمنا اللہ او تاتینا ایة )۔ در اصل یہ لوگ جنہیں قرآن (الذین لا یعلمون) کے عنوان سے یاد کررہاہے دو غیر منطقی خواہشیں رکھتے تھے: ۱۔ خدا ہم سے براہ راست بات کیوں نہیں کرتا۔ ۲۔ کیوں آیت اور نشانی خود ہم پر نازل نہیں ہوتی۔ غرور، ہٹ دھرمی اور خود پسند ہی پر مبنی ان باتوں کے جواب میں قرآن کہتاہے: ان سے پہلے بھی لوگ اس قسم کی باتیں کرتے تھے، ان کے دل اور افکار ایک دوسرے کے مثابہ ہیں لیکن جو حقیقت کے متلاشی اور اہل یقین ہیں۔ ان کے لئے ہم نے (کافی مقدار میں) آیات اور نشانیاں واضح کی ہیں (کَذَلِکَ قَالَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِثْلَ قَوْلِہِمْ تَشَابَہَتْ قُلُوبُہُمْ قَدْ بَیَّنَّا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ )) اگر واقعا ان کا مقصد حقیقت و واقعیت کو سمجھنا ہے تو یہی آیات جو پیغبر اکرم پر ہم نے نازل کی ہیں روشن نشانی ہیں آپ کے صدق کلام کے لئے اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایک ایک شخص پربراہ راست اور مستقلا آیات نازل ہوں اور اس کا کیا مطلب ہے کہ خدا بلا واسطہ مجھ سے باتیں کرے۔ ایسی ہی گفتگو سورہ مدثر آیہ ۵۲ میں بھی ہے: بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفا منشرة ان میں سے ہر ایک یہ آرزو لئے بیٹھاہے کہ چند اوراق آیات اس پر نازل ہوں۔ کیسی نامناسب خواہش ہے؟ اس کے علاوہ کہ اس کی ضرورت نہ تھی بلکہ ان آیات کے ذریعے جو آپ پر نازل ہوئیں پیغمبر اکرم کی صداقت کا اثبات سب لوگوں پر ممکن تھا، یہ خود پسند مشرک ایک بنیادی نکتے سے بے خبر تھے اور وہ یہ کہ ہر شخص پر آیات و معجزات نازل نہیں ہوسکتے اس کے لئے خاص قسم کی شائستگی ، آمادگی کی پاکیزگی ضروری ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے کہ شہر میں بچھے ہوئے سب بجلی کے تار (قوی ہوں یا بہت ہی کمزور) یہ آرزو کریں کہ وہی بجلی جو بہت زیادہ طاقتور ہے اور جو سب سے پہلے مضبوط تاروں میں منتقل ہوئی ان کی طرف منتقل ہوجائے۔ یقینا یہ توقع انتہائی غلط اور ناروا ہوگی۔ وہ اانجینیرجس نے ان تاروں کو مختلف کاموں کی انجام دہی کے لئے تیار کیاہے ان کی صلاحیت معین کی ہے ان میں سے بعض بجلی بننے والے مقام سے بلاواسطہ منسلک ہیں اور بعض بالواسطہ۔ بعد کی آیت کاروئے سخن پیغمبر کی طرف ہے جو بتاتی ہے کہ خواہ مخواہ کی معجز ہ طلبیوں اور دیگر بہانہ سازیوں کے سلسلے میں آپ کی ذمہ داری کیاہے۔ فرمایا: ہم نے تجھے حق کے ساتھ (دنیا کے لوگوں کو) بشارت دینے اور ڈرانے کے لئے بھیجاہے (إِنَّا اٴَرْسَلْنَاکَ بِالْحَقِّ بَشِیرًا وَنَذِیرًا)۔ تمہاری ذمہ داری ہے ہمارے احکام تمام لوگوں کے سامنے بیان کرنا ان کے سامنے معجزات پیش کرنا اور عقل و منطق سے حقائق واضح کرنا۔ اس دعوت کے ذریعے نیک لوگوں کو شوق و رغبت دلاؤ اور بدکاروں کو ڈراؤ تمہارے ذمے فقط یہی ہے۔ یہ پیغام پہنچائے جانے کے بعد اگر اب ان میں سے کوئی گروہ ایمان نہ لائے تو تم اہل جہنم کی گمراہی کے ذمے دار نہیں ہو ( و لا تسئل عن اصحاب الجحیم)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:116-117
یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کی خرافات
یہودی، عیسائی اور مشرک سب یہ بیہودہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کا کوئی بیٹاہے۔ سورہ توبہ کی آیت ۳۰ میں ہے: َقَالَتْ الْیَہُودُ عُزَیْرٌ ابْنُ اللهِ وَقَالَتْ النَّصَارَی الْمَسِیحُ ابْنُ اللهِ ذَلِکَ قَوْلُہُمْ بِاٴَفْوَاہِہِمْ یُضَاہِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَہُمْ اللهُ اٴَنَّی یُؤْفَکُون یہودی کہتے ہیں عزیر خدا کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں مسیح خدا کا بیٹا ہے یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں جو گذشتہ کافروں کی گفتگو جیسی ہے۔ خدا انہیں قتل کرے، کیسے جھوٹ بولتے ہیں۔ سورہ ی یونس آیہ ۶۸ میں بھی مشرکین کے بارے میں ہے، قالوا اتخذ اللہ ولدا سبحنہ ہو الغنی وہ کہتے ہیں خدا کا بیٹا ہے وہ تو پاک و منزہ ہے۔اسی طرح قرآن کی دیگر بہت سی آیات میں بھی اس نار و انسبت کا ذکر موجود ہے۔ زیر نظر پہلی آیت اس بے ہودگی کے خلاف کہتی ہے: وہ کہتے ہیں خدا کا بیٹاہے، وہ تو ان ناروا نسبتوں سے پاک و منزہ ہے (و قالوا اتخذ ولدا سبحانہ)۔ خدا کو کیا ضرورت پڑگئی ہے کہ وہ اپنے لئے بیٹے کا انتخاب کرے۔ کیا وہ محتاج ہے، محدود ہے، اسے مدد کی ضرورت ہے یا اسے بقائے نسل کی احتیاج ہے جب کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کے لئے ہیں (بل لہ ما فی السموات و الارض) اور سب کے سب اس کے سامنے سرنگوں ہیں(کل لہ قنتون)۔ وہ نہ صرف عالم ہستی کی موجودات کا مالک ہے بلکہ تمام انسانوں اور زمین کا موجد و خالق بھی وہی ہے (بدیع السموات و الارض)۔ حتی کہ پہلے کی کسی منصوبے کے بغیر اور کسی مادہ کی احتیاج کے بغیر ہے اس نے ان سب کو تخلیق کیاہے۔ اسے بیٹے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ جب کسی چیز کے وجود کا حکم صادر فرماتاہے تو کہتاہے ہوجا اور وہ فورا ہوجاتی ہے ( و اذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون)۔