وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Who is a greater wrongdoer than those who deny access to the mosques of Allah lest His Name be celebrated therein, and try to ruin them? Such ones may not enter them, except in fear. There is disgrace for them in this world and a great punishment in the Hereafter.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:114
[Pooya/Ali Commentary 2:114] The people of Quraysh did not even allow the Holy Prophet and his companions to visit Makka in 7 Hijra for the pilgrimage. This verse is a general prophecy of the ultimate triumph of Islam and the downfall of its opponents. It also refers to the complete annihilation of the enemies of Islam, the Quraysh, after the fall of Makka. It must be noted that there is no evidence of a plan to destroy the masjids of Allah by the Quraysh of Makka. Evidently this verse refers to the plan of the hypocrites who had hatched a conspiracy to kill the Holy Prophet, when he was returning from Tabuk, and then to demolish all the masjids in Madina and other places. In true meaning, a masjid is the place where Allah is remembered and adored, therefore, all the sacred shrines of the holy Ahl ul Bayt, where only Allah, and none else, is remembered, adored and invoked, are also the masjids of Allah in a wider sense. So whoever stops people from going into these shrines and destroys them shall be disgraced in this world and shall be severely punished in the hereafter.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:114
مساجد کی ویرانی کی راہیں
مندرجہ بالا تفسیر شان نزول کے مطالعہ سے ظاہر ہوتاہے کہ اس آیت کا روئے سخن تین گروہوں یہود، نصاری اور مشرکین کی طرف ہے اگرچہ گذشتہ آیات میں زیادہ تر یہودیوں کے بارے میںبحثیں آئی ہیں اور کہیں کہیں نصاری کی طرف بھی اشارہ ہے۔قبلہ کی تبدیلی کے معاملے کے بارے میں یہودی وسوسہ ڈال کر کوشش کرتے تھے کہ مسلمان بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں تا کہ اس سلسلے میں انہیں برتری حاصل رہے اور اس طرح مسجد الحرام اور کعبہ کی رونق بھی کم ہوسکے۔1 مشرکین مکہ بھی پیغمبر اور مسلمانوں کو خانہ کعبہ کی زیارت سے روک کر عملا اس خدائی عمارت کی بربادی کی طرف قدم اٹھارہے تھے۔ عیسائی بھی بیت المقدس پر قبضہ کرکے اس میں وہ ناپسندیدہ اعمال سرانجام دیتے جن کا ذکر ابن عباس کی روایت میں آچکاہے تا کہ اسے برباد کرسکیں۔ ان تینوں گروہوں اور ایسے تمام اشخاص جو اس راہ پر قدم اٹھاتے ہیں کو مخاطب کرکے قرآن کہتاہے: اس شخص سے بڑھ کے کون ظالم ہوسکتاہے جو اللہ کی مسجدوں میں خدا کام نام لینے سے روکتے ہیں اور انہیں ویران و بر باد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ( و من اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ و سعی فی خرابھا)۔ یوں قرآن ایسی رکاوٹ کو ظلم عظیم اور یہ کام کرنے والوں کو ظالم ترین افراد قرار دیتاہے۔ اور واقعا اس سے بڑا کیا ظلم ہوسکتاہے کہ درگاہ توحید کو بر باد کرنے کی کوشش کی جائے ، لوگوں کو حق تعالی کی یاد سے روکاجائے اور معاشرے میں فساد بر پاکیا جائے۔ آیت مزید کہتی ہے: مناسب نہیں کہ یہ لوگ خوف و وحشت کے بغیر ان مکانات میں داخل ہوں (اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین) یعنی۔ دنیا کے مسلمانوں اور توحید پرستوں کو چاہیئے کہ وہ اس مضبوطی سے قیام کرےں کہ ان ستمگروں کے ہاتھ ان مقدس مقامات سے دور ہوجائیں اور ان میں سے کوئی بھی علی الاعلان بلاخوف ان مقامات مقدسہ میں داخل نہ ہوسکے۔مندرجہ بالا جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ستمگران مراکز عبادت کو اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکیں گے۔ بلکہ آخر کاران میں بلاخوف قدم بھی نہیں رکھ سکیں گے جیسا کہ مسجد الحرام کے بارے میں مشرکین مکہ کے ساتھ ہوا۔ٓآخر میں ایسے عظیم ستمگروں کے لئے دنیا و آخرت میں ہلادینے والی سزا کا ذکر کرہے۔ فرمایا: ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم ہے (لھم فی الدنیا خزی و لھم فی الاخرة عذاب عظیم) ۔ وہ لوگ جو خدا اور خدا کے بندوں میں جدائی ڈالنا چاہتے ہیں ان کا یہی انجام ہے۔ 1 ۔ تفسیر فخر رازی، آیہ مذکورہ کے ذیل میں۔۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:114
سب سے بڑا ظلم
دوسرا نکتہ جو اس آیت میں قابل توجہ ہے یہ ہے کہ خداوند عالم ان اشخاص کو ظالم ترین قرار دیتاہے اور واقعا ایسا ہے کیونکہ مساجد کی بتاہی و بربادی اور مراکز توحید سے لوگوں کو روکنے کی کوشش کا نتیجہ بے دینی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کام کا نقصان ہر دوسرے عمل سے زیادہ ہے۔ اور اس کا برا اور غلط انجام بہت دردناک ہے۔ قرآن میں دیگر مقامات پر بھی لفظ (اظلم) (یعنی ۔ زیادہ ظالم) استعمال ہواہے۔ ان تمام امور کا نتیجہ شرک ہے اور توحید نفی ہے۔ ۱۱۵۔وَلِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاٴَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ترجمہ ۱۱۵۔ مشرق و مغرب اللہ ہی کے لئے ہیں۔ جد ھر بھی رخ کرو خدا موجود ہے اور خدا بے نیاز و دانا ہے۔ شان نزول اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں مختلف روایات منقول ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں: اس آیت کا تعلق قبلہ کی تبدیلی سے ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ جب بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ مقرر ہوا تو یہودیوں نے برا منایا اور مسلمانوں پر اعتراض کیا کہ کیا قبلہ بھی بدلا جاسکتاہے۔ اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا کہ دنیا کے مشرق و مغرب کا مالک خدا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ یہ آیت مستحب نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یعنی جب انسان کسی سواری پر سوار ہو تو سواری کا رخ کچھ بھی ہو (چاہے پشت بہ قبلہ ہو) مستحب نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ کچھ اور حضرات نے جابر سے نقل کیاہے: پیغمبر اکرم نے کچھ مسلمانوں کو ایک جنگ پر بھیجا۔ رات کے وقت جب تاریکی چھاگئی تو وہ سمت قبلہ نہ پہچان سکے اور سب نے مختلف سمتوں کی طرف نماز پڑھ لی۔ طلوع آفتاب پر انہیں معلوم ہوا کہ سب نے سمت قبلہ کے بغیر نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے پیغمبر اسلام سے سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ ایسی صورت میں ان کی نماز صحیح ہے (البتہ اس حکم کی کچھ شرائط ہیں جو کتب فقہ میں درج ہیں)۔ کوئی مانع نہیں کہ جتنی شان ہائے نزول اوپر ذکر ہوئی ہیں وہ سب اس آیت کے لئے صحیح ہوں اور یہ آیت قبلہ کی تبدیلی ، سواری پر نماز نافلہ کی ادائیگی اور جب قبلہ کی پہچان نہ ہو رہی ہو تو نماز واجب کی ادائیگی کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ علاوہ ازیں کوئی آیت شان نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کے مفہوم کو حکم کلی کی صورت میں لیا جانا چاہئیے اور بسا اوقات اس سے مختلف قسم کے احکام حاصل ہوسکتے ہیں۔