وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَمَا تُقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُم مِّنۡ خَيۡرٖ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
And maintain the prayer and give the zakat. Any good that you send ahead for your own souls, you shall find it with Allah. Indeed Allah watches what you do.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:104-112
1. Addressing equivocally Prophets of God is seriously objected, as sincerity is needed in dealing with the true, being Divine Lights. 2. Hypocrites do not like any good to “Islam.” 3. Once you are sure of the existence of God, His Being Self-sufficient, Omnipotent, Omniscient, do not pry into the Nature of Deity. 4. Avoid Society of humans of revealed religions who are jealous of the true Islam, as also Sunnis. 5. Self praise and false hopes be avoided, what is wanted is “True Faith and its demonstration in sincere acts. (1) Prayers, fast, pilgrimage, self-sacrifice by participating in the crusade and bearing patience and patience and piety. Love of the Prophet and his Ahl al-Bayt (Divine Lights).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:109-110
یہودی و نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل
مندرجہ بالا آیات میں قرآن یہودیوں اور عیسائیوں کے ایک اور فضول اور نامعقول دعوی کی طرف اشارہ کرکے انہیں دندان شکن جواب دیتاہے۔ کہتاہے: وہ (یہود و نصاری) کہتے ہیں کہ یہودی و نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا (و قالوا لن یدخل الجنة الا من کان ہودا او نصری)1 قرآن دونوں گروہوں کے دعوی کا ایک ہی جگہ جواب دیتاہے۔ پہلے فرماتاہے: یہ توان کی فقط آرزو ہے (جو کبھی پوری نہ ہوگی (تلک امانیھم)۔ پھر پیغمبر کو مخالف کرکے فرماتاہے: (قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین)۔ یعنی اگر تم سچے ہو تو اپنے دعوی پر کوئی دلیل پیش کرو۔یہ حقیقت ثابت ہونے کے بعد کہ ان کے پاس ان کے دعوی کی کوئی دلیل نہیں اور ان کے لئے اختصاص جنت کا دعوی صرف خواب و خیال ہے جو ان کے سروں پر سوار ہے جنت میں داخل ہونے کا اصلی و حقیقی قانون کلی بیان کرتاہے۔ فرماتاہے: ہاں تو جو خدا کے سامنے سرتسلیم خم کرلے اور نیکوکار ہو اس کا اجر و ثواب اس کے پروردگار کے ہاں مسلم ہے (بلی من اسلم وجہہ اللہ و ہو محسن فلہ اجر عند ربہ)۔ اس لئے ایسے اشخاص کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ( و لا خوف علیھم و لا ہم یحزنون)۔ لہذا جنت، اجر و ثواب الہی اور سعادت دائمی کا حصول کسی گروہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ یہ سب کچھ ان کے لئے ہے جن میں دو شرطیں پائے جائی ہوں۔ ۱۔ اول یہ کہ وہ حکم کے سامنے تسلیم محض ہوں، ایمان و توحید ان کے دل پر سایہ فگن ہو اور احکام الہی میں کسی قسم کی تبعیض اور چون و چرا کے قائل ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ جو احکام ان کے فائدے کے ہوں وہ تو قبول کرلیں اور جو ان کے خلاف ہوں انہیں پس پشت ڈال لیں بلکہ وہ مکمل طور پر تسلیم حق ہوں۔۲۔ دوسرا یہ کہ ان کے ایمان کے آثار عمل اور کا رخیر کی انجام دہی کی صورت میں ظاہر ہوں۔ وہ سب سے نیکی کریں اور تمام پروگراموں میں نیک ہوں۔ اس بیان سے در اصل قرآن یہودیوں کی نسل پرستی اور عیسائیوں کے نامعقول تعصبات کی نفی کرتاہے اور کسی خاص گروہ میں سعادت و خوش بختی کے منحصر ہونے کو باطل قرار دیتاہے۔ نیز ضمنا ایمان اور عمل صالح کو نجات کا معیار قرار دیتاہے۔ چند اہم نکات (!) امانیھم: یہ امنیہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ایسی آرزو جس تک انسان رسائی حاصل نہ کرسکے لیکن یہاں تو اہل کتاب میں سے مدعین کی صرف ایک آرزو تھی یعنی جنت کی ان کے لئے تخصیص ۔ چونکہ یہ آرزو کئی آرزؤں کا سرچشمہ تھی اور اصطلاحا کئی شاخیں اور پتے رکھتی تھی اس لئے جمع کی صورت میں ذکر ہوئی ہے۔ (!!) اسلم وجہہ: یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں اسلام کی (وجہ) کی طرف نسبت دی گئی ہے (اپنے چہرے کو خدا کے سامنے خم کرنا)۔ یہ اس سبب سے ہے کہ کسی کے سامنے سپردگی کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ انسان پورے چہرے کے ساتھ اس کے سامنے متوجہ ہو۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ (وجہ) کا معنی ذات ہو یعنی اپنے پورے وجود کے ساتھ فرمان پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ (!!!) بے دلیل د عووں سے بے اعتنائی: مندرجہ بالا آیات میں یہ نکتہ بھی ضمنا مسلمانوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ کسی مقام پر بھی بے دلیل باتوں کے پیچھے نہ جائیں اگر کوئی بھی شخص کچھ دعوی کرے تو اس سے دلیل مانگیں اور یوں اندھی تقلید کے سامنے بند باندھ دیں تا کہ ان کے معاشرے میں منطقی فکر کی حکمرانی ہو۔ (!۔) و ھو محسن: مسئلہ تسلیم کے بعد (و ہومحسن) ارشاد فرمایا گیاہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب تک ایمان راسخ نہ ہو نیکی اپنا وسیع مفہوم نہیں پاسکتی۔ یہ جملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتاہے کہ ایسے انسان کے لئے نیکی ایک جلد گزرجانے والا فعل نہیں بلکہ وہ ان کی صفت بن چکی ہے اورنکی ذات کی گہرائی میں اتر چکی ہے۔ راہ توحید کے راہیوں کے لیے خوف و غم نہیں: اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ وہ صرف خدا سے ڈرتے ہیں اور کسی سے گھبراتے نہیں لیکن بیہودہ مشرک ہر چیز سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اس کی اور اس کی گفتگو، بدحالی، فضول رسم و رواج اور ایسی ہی بہت سی چیزیں،ہیں جن سے وہ خوفزدہ رہتے ہیں۔ ۱۱۳۔ وَقَالَتْ الْیَہُودُ لَیْسَتْ النَّصَارَی عَلَی شَیْءٍ وَقَالَتْ النَّصَارَی لَیْسَتْ الْیَہُودُ عَلَی شَیْءٍ وَہُمْ یَتْلُونَ الْکِتَابَ کَذَلِکَ قَالَ الَّذِینَ لاَیَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِہِمْ فَاللهُ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیمَا کَانُوا فِیہِ یَخْتَلِفُونَ ترجمہ ۱۱۳۔ یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں کی (خدا کی ہاں) کوئی حیثیت و وقعت نہیں اور عیسائی (بھی) کہتے ہیں کہ یہودیوں کی کوئی حیثیت نہیں (اور وہ باطل پر ہیں) حالانکہ دونوں گروہ خدا کی کتاب پڑھتے ہیں (اور انہیں ایسے تعصبات اور کینوںسے علیحدہ رہنا چاہیے)۔ نادان (اور مشرک )لوگ بھی ان کی سی باتیں کرتے ہیں۔ خداوند عالم قیامت کے دن ان کے اختلاف کا فیصلہ کرے گا۔ شان نزول بعض مفسرین نے ابن عباس سے یوں نقل کیاہے: جب نجران کے عیسائیوں کا ایک گروہ رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا تو علماء یہود کا ایک گروہ بھی وہاں موجود تھا۔ عیسائیوں اور ان کے در میان آنحضرت کے سامنے ہی جھگڑا شروع ہوگیا۔ رافع بن حرملہ جو ایک یہودی تھا اس نے عیسائیوں کی طرف منہ کرکے کہا: تمہارے دین کی کوئی اساس نہیں ہے نیز اس نے حضرت عیسی کی نبوت اور انجیل کا انکار کیا۔ نجران کے عیسائیوں میں سے ایک شخص نے بعینہ یہی جملہ اس کے جواب میں کہا: کہنے لگا: یہودیوں کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں اور اس نے حضرت موسی کی نبوت اور ان کی کتاب تورات کا انکار کیا۔ اسی اثناء میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور دونوں گروہوں کو ان کی غلط اور نادرست گفتگو پر ملامت کی 1 اگر چہ لفظ (قالوا) بصورت واحد ہے لیکن معلوم ہے کہ دو گروہوں کی حالت بیان کی گئی ہے جن میں سے ہر ایک کا دعوی الگ ہے ۔ یہودی کہتے ہیں جنت ہمارے لئے مخصوص ہے اور عیسائی کہتے ہیں ہمارے لئے مخصوص ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:109-110
ہٹ دھرم حاسد
بہت سے اہل کتاب ایسے تھے کہ صرف اس پر بس نہ کرتے تھے کہ خود دین اسلام قبول نہ کریں بلکہ انہیں اصرار تھا کہ مومنین بھی اپنے ایمان سے پلٹ آئیں اور اس سبب حسد کے سوا کچھ نہ تھا۔ قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیات میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ فرمایا: بہت سے اہل کتاب حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ تمہیں اسلام پر ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف پلٹادیں حالانکہ ان پر حق مکمل طور پر واضح ہوچکا ہے (وهو کثیر من اھل الکتاب لو یرد و نکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا من عندا انفسہم من بعد ما تبین لھم الحق)۔اس مقام پر قرآن مجید مسلمانوں کو حکم دیتاہے کہ ایسے کجر و اور تباہ کن تقاضوں کے مقابلے میں تم انہیں معاف کر دو اور ان سے درگذر کرو یہاں تک کہ خدا خود اپنا فرمان بھیجے کیونکہ خدا ہرچیز پرقدرت رکھتاہے (فاعفوا وا صفحوا حتی یاتی اللہ بامرہ ان اللہ علی کل شی قدیر)۔ حقیقت میں مسلمانوں کو ایک تکنیکی حکم دیاگیاہے کہ ان مخصوص حالات میں عفو و گذر کے ہتھیارسے استفادہ کریں اور اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح میں لگے رہیں اور فرمان خدا کا انتظار کرتے رہیں۔ بہت سے مفسرین کے بقول یہاں فرمان خدا سے مراد فرمان جہاد ہے جو اس وقت تک نازل نہیں ہواتھا ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ لوگ ابھی ہر پہلو سے اس کے لئے تیارنہ ہوں۔ اسی لئے تو بہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ یہ آیت جہاد کی آیات کی وجہ سے منسوخ ہوگئی۔ جن کی طرف بعد میں اشارہ ہوگا۔لیکن اسے نسخ قرار دینا شاید صحیح نہ ہو کیونکہ نسخ کا معنی ہے کہ ظاہرا تھوڑی مدت کے لئے کوئی حکم جاری ہوتاہے اور شریعت قرار پاتاہے۔ لیکن باطنا موقت ہوتاہے جب کہ یہاں آیت میں عفو و در گذر کا حکم ایک محدود شکل میں آیاہےوہ اس زمانے تک محدود ہے جب تک جہاد کے متعلق فرمان الہی نہیں آیا۔ بعد کی آیت جس میں مومنین کو دو اہم اصلاحی احکام دیئے گئے ہیں، ایک نماز جو انسان اور خدا کے در میان مضبوط ربط پیدا کرتی ہے اور دوسرا زکوة جو معاشرے کے افراد کے لئے ایک دوسرے سے وابستگی کی رمز ہے اور یہ دونوں امور دشمن پر کامیابی کے لئے ضروری ہیں۔ فرمایا: نماز قائم کرو اور زکوة ادا کرو اور ان دو ذرائع سے اپنی روح اور جسم کو طاقت بخشو ( و اقیموا الصلوة و اتوا الزکوة)۔مزید فرمایا: یہ خیال نہ کرو کہ جو نیکی کا تم کرتے ہو اور جو مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہو وہ ختم ہوجاتا ہیں۔ نہیں ایسا بلکہ جو نیکیاں تم آگے بھیجتے ہو انہیں خدا کے ہاں (دار آخرت میں) موجود پاوگے (و ما تقد ہوا الا نفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ)۔ خدا تمہارے تمام اعمال کو دیکھتا ہے (ان اللہ بما تعملون بصیر) وہ پورے طور پر جانتا ہے کہ کون سا عمل تم نے خدا کے لئے انجام دیاہے اور کون سا اس کے غیر کے لیے۔ چند اہم نکات (!) (فاعفوا) اور (اصفحوا) : اصفحو کا مادہ (صفح) ہے اس کا معنی ہے دامن کوہ ، تلوار کا عرض اور رخسار اور یہ لفظ عموما پھیرنے اور صرف نظر کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتاہے۔ لفظ: (فاعفوا) کے قرینے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ روگردانی، غصہ اور بے اعتنائی کے لئے نہیں بلکہ بزرگانہ در گزر کے طور پرہے۔ یہ دو تعبیریں ضمنا نشاندہی کرتی ہیں کہ مسلمان اس وقت بھی اس قدر قدرت و طاقت رکھتے تھے کہ عفو و گزر نہ کرتے اور دشمن کو ضروری سزا دیتے لیکن خدا وندتعالی نے ان کو پہلے عفو و در گزر کا حکم دیاہے تا کہ وہ ہر لحاظ سے تیاری کرلیں یا اس لئے کہ دشمن اگر قابل اصلاح ہیں تو ان کی اصلاح ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں دشمن کے مقابلے میں شروع میں کبھی خشونت اور سخت گیری نہیں ہونی چاہئیے۔ بلکہ یہ اخلاق اسلامی کا ضروری حصہ ہے کہ پہلے عفو در گزر سے کام لیاجائے اگر وہ موثر نہ ہو تو پھر سختی کو بروئے کار لایاجائے۔ (!!) ان اللہ علی کل شیء قدیر کا جملہ: ہوسکتا ہے یہ جملہ اس مقام پر اس طرف اشارہ ہو کہ خدا ایسا کرسکتاہے کہ غیر عادی طریقوں سے تمہیں ان پر کامیابی دیدے لیکن انسانی زندگی کا مزاج اور عالم آفرینش کی طبیعت مقتضی ہیں کہ ہر کام تدریجا اور مقدمات فراہم ہونے پر انجام پذیر ہو۔ (!!!) حسد من عند انفسہم کا مفہوم : (یعنی اس کا سبب وہ حسد ہے جو ان کی اپنی طرح سے ہے) ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ بعض اوقات حسد کا مقصد تو ذاتی غرض ہوتی ہے لیکن اسے دین کا رنگ دے دیاجاتاہے یہاں جو حسد ہے اس میں تو یہ پہلو بھی نہیں بلکہ فقط ذاتی غرض پرمبنی ہے۔۱ ۱۱۱۔ وَقَالُوا لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ کَانَ ہُودًا اٴَوْ نَصَارَی تِلْکَ اٴَمَانِیُّہُمْ قُلْ ہَاتُوا بُرْہَانَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِین ۱۱۲۔بَلَی مَنْ اٴَسْلَمَ وَجْہَہُ لِلَّہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہُ اٴَجْرُہُ عِنْدَ رَبِّہِ وَلاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَہُمْ یَحْزَنُونَ ترجمہ ۱۱۱۔ وہ کہتے ہیں یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ یہ تو صرف ان کی تمنا ہے کہیے کہ اگر سچے ہو تو (اس دعوی پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ ۱۱۲۔ جی ہاں! جو بھی خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرلے اور نیکوکار ہو تو اس کا اجر اس کے پروردگار کے پاس مسلم ہے۔ ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے (لہذا جنت اور سعادت کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہے)۔ ۱ تفسیر المنار ،زیر بحث آیہ کے ذیل میں۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:110
[Pooya/Ali Commentary 2:110] Our good as well as bad deeds run before us into the court of Allah for His judgement. The influence of our deeds begins to operate as soon as they are committed. It is an effective warning to remain alert and careful at every step of our life in this world.