يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
O you who have faith! Do not say Ra‘ina, but say Unzurna, and listen! And there is a painful punishment for the faithless.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:104
[Pooya/Ali Commentary 2:104] The doubters, and all those with the outlook of Bani Israil, take to twisting any word necessary to suit their purpose. Ra-ina means "listen to us", but it was turned by a little twist in accent into a word of reproach (meaning "stupid") by the Jews (also refer to verse 46 of al Nisa). Therefore the word unzurna (look upon us) was suggested which gave no room to the enemy for casting aspersion on the Holy Prophet. This verse shows how much the Jews disliked the Holy Prophet. It also prohibits use of any word bearing sinister meaning with reference to him. The Jews and the idol-worshippers did not like that khayr (good), the Quran, should be revealed to the Holy Prophet. As "the mercy unto the worlds" the Holy Prophet himself was khayr because khayr (good) is rahmah (mercy). He, the last law-giver messenger of Allah, was a descendant of prophet Ismail, the younger son of prophet Ibrahim, therefore, the Jews, who were the descendants of prophet Ishaq, the elder son of prophet Ibrahim, did not like the advent of the promised prophet in the progeny of prophet Ismail. They knew that the ministry of the Holy Prophet was genuine and Islam was the true religion of Allah, but their prejudice and envy led them astray. The same prejudice and envy created the venomous group of the hypocrites (munafiqin) who opposed the Holy Prophet in his lifetime, and, after him, persecuted, murdered and tried to destroy completely his Ahl ul Bayt. The hatred of the Israelites against the non-Israelites was reflected in the hatred of the non-Hashimites against the Hashimites. Allah chooses whom He pleases for His mercy and grace (also refer to verses 90 and 91 of this surah). Aqa Mahdi Puya says: An interesting conversation between the second caliph and Ibna Abbas, recorded by Tabari and other historians, is quoted below, which throws light on the influence of the Jewish mentality on the behaviour and mental attitude of the non-Hashimite Muslims. The second caliph said: "O son of Abbas! Do you know why your family has been deprived of Khilafat? The Quraysh did not like that prophethood (nubuwwat) and vicegerency (khilafat) be combined in the family of Hashim, lest their vanity increases. So they chose some one else, really their choice was good." Ibna Abbas said: "There is nothing unusual so far as the hatred of the Quraysh for the family of Hashim is concerned, because right from the beginning they did not like the message, nor the messenger. 'That is because they were averse to what Allah has sent down, so He shall render their deeds null and void (Muhammad: 9)'. And the apprehension about the vanity of the people who have been (thoroughly) purified, by Allah himself, from every type of uncleanness is an (unfounded) accusation. It would have been most appropriate if the Quraysh had chosen he whom Allah had chosen, and .." At this stage the caliph interrupted and said: "Behold! O son of Abbas! I have already been informed about your utterances. Beware! You may fall in my estimation." Ibna Abbas said: "Yes. If my opinions are true, they should not cause my downfall, and if they be untrue, you should remind me to put them in order." The caliph got angry and left the place. This incident, sharply defines the most vital issue which divided the Muslims into various schools of thought .
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:104-112
1. Addressing equivocally Prophets of God is seriously objected, as sincerity is needed in dealing with the true, being Divine Lights. 2. Hypocrites do not like any good to “Islam.” 3. Once you are sure of the existence of God, His Being Self-sufficient, Omnipotent, Omniscient, do not pry into the Nature of Deity. 4. Avoid Society of humans of revealed religions who are jealous of the true Islam, as also Sunnis. 5. Self praise and false hopes be avoided, what is wanted is “True Faith and its demonstration in sincere acts. (1) Prayers, fast, pilgrimage, self-sacrifice by participating in the crusade and bearing patience and patience and piety. Love of the Prophet and his Ahl al-Bayt (Divine Lights).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:104-105
یا ایھا الذین امنوا کا دقیق مفہوم
قرآن مجید میں ۸۹ مقامات پر یہ پر اعجاز اور روح پرور خطاب نظر آتاہے۔ مندرجہ بالا پہلی وہ آیات ہے جس میں اس خطاب سے عزت حاصل ہو رہی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہ تعبیر ان آیات کے ساتھ مخصوص ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور مکہ کی آیات میں اس کا نام و نشان تک نہیں ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پیغمبر اکرم کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے مسلمانوں کی حالت میں ثابت قدمی آگئی تھی، وہ ایک مستقل اور با اثر جمعیت کی صورت میں نظر آنے لگے تھے اور انہیں پراگندگی سے نجات مل گئی تھی لہذا خداوند عالم نے انہیں (یا ایھا الذین امنوا) کے خطاب سے نوازاہے۔ یہ تعبیر ضمنا ایک اور نکتے کی بھی حامل ہے اور وہ یہ کہ اب تم ایمان لے آئے ہو اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرچکے ہو اور اپنے اللہ سے اطاعت کا عہد و پیمان باندھ چکے ہو لہذا اس کے تقاضے کے مطابق اس جملے کے بعد جو حکم آرہاہے اس پر عمل کرو بہ الفاظ دیگر تمہارا ایمان تم پر لازم قرار دیتاہے کہ ان قوانین کے کاربند رہو۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ بہت سی اسلامی کتب میں جن میں اہل سنت کی کتابیں بھی شامل ہیں، پیغمبر اسلام سے یہ ایک حدیث منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: ما انزل اللہ آیہ فیہا یا ایہا الذین امنوا الا و علی راسہا و امیرہا۔ خدانے کسی مقام پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہیں کی جس میں یا ایھا الذین امنوا ہو مگر یہ کہ اس کے رئیس و امیر حضرت علی ہیں۔ ۱۰۶۔ مَا نَنسَخْ مِنْ آیَةٍ اٴَوْ نُنسِہَا نَاٴْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا اٴَوْ مِثْلِہَا اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ۱۰۷۔ اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر ترجمہ ۱۰۶۔ ہم کسی آیت کو منسوخ نہیں کرتے یا اس کے نسخ کو تاخیر نہیں ڈالتے مگر یہ کہ اس کی جگہ اس سے بہتر یا اس جیسی کوئی آیت لے آتے ہیں۔ کیاتم نہیں جانتے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ ۱۰۷۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت خدا کے لئے ہے (اور وہ حق رکھتاہے کے مطابق احکام میں ہر قسم کا تغیر و تبدل کرسکے) اور خدا کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست اور یار و مددگار نہیں (اور وہی ہے جو تمہارے تمام مصالح کا تعین کرتاہے)۔ تفسیر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:104-105
هدف از نسخ
ان آیات میں بھی مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی سازشوں اور وسوسوں سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ کبھی تو مسلمانوں سے وہ کہتے تھے دین تو یہودیوں کا دین ہے اور کبھی کہتے قبلہ تو یہودیوں ہی کا قبلہ ہے اسی لئے تو تمہارا پیغمبر ہمارے قبلہ (بیت المقدس) کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتا ہے لیکن جب قبلہ کا حکم بدل دیا گیا اور اس سورہ کی آیت ۱۴۴ کے مطابق مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اب وہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں۔ اب یہودیوں کے ہاتھ پہلے والی بات تو نہ رہی لیکن وہ نیاراگ الاپنے لگے اور کہنے لگے: اگر قبلہ اول صحیح تھا تو یہ دوسرا حکم کیاہے اور اگر دوسرا حکم صحیح ہے تو پھر تمہارے پہلے اعمال باطل ہیں۔ قرآن ان آیات میں ان کے اعتراضات کا جواب دیتاہے اور مومنین کے دلوں کو روشن کرتاہے۔۱ قرآن کہتاہے: ہم کسی حکم کو منسوخ نہیں کرتے یا اس کی تنسیخ کو تاخیر میں نہیں ڈالتے مگر اس سے بہتر یا اس جیسے کسی دوسرے حکم کو اس کی جگہ نافذ کردیتے ہیں (ما ننسخ من ایة او ننسھا نات بخیر منھا او مثلھا) اور خدا کے لئے یہ آسان ہے، کیا تم جانتے نہیں ہو کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتاہے (اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ)۔ وہ حق رکھتا ہے کہ مصالح کے مطابق اپنے احکام میں ہر قسم کا تغیر و تبدل کرے اور وہ اپنے بندوں کے مصالح سے زیادہ آگاہ اور زیادہ بصیر ہے اور کیا تم جانتے نہیں ہو کہ خدا کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست اور یار و مددگار نہیں ہے ( وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر)۔ حقیقت میں اس آیت کا پہلا جملہ احکام میں خدا کی حاکمیت اور بندوں کے تمام مصالح کی تشخیص میں اس کی قدرت کی طرف اشارہ ہے۔ ان حالات میں مومنین کو نہیں چاہئیے کہ وہ ان خود غرض لوگوں کی باتوں کی طرف کان دھریں جو نسخ احکام کے مسئلہ میں شک و تردد کرتے ہیں۔ دوسرا جملہ ان لوگوں کے لئے تنبیہ ہے جو خدا کے لئے تنبیہ ہے جو خدا کے علاوہ اپنے لئے سہارے کا انتخاب کرگیاس کیونکہ عالم میں اس کے علاوہ کوئی سہارا نہیں۔ ۱ یہ بھی احتمال ہے کہ مندرجہ بالا آیات کا تعلق قبلہ کی تبدیلی سے نہ ہو بلکہ بعض دیگر احکام اسلام کے تغیر و نسخ سے ہو جیسا کہ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں اور سید قطب نے اپنی تفسیر فی ظلال القرآن میں ذکر کیاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:104-105
دشمن کی ہاتھ بہانہ مت دو
شان نزول میں جو بات بیان کی گئی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے۔ اے ایمان والو! جب پیغمبر سے آیات قرآں سمجھنے کے لئے مہلت مانگو تو (راعنا) نہ کہو بلکہ (انظرنا) کہو (کیونکہ اس کا بھی مفہوم وہی ہے لیکن دشمن کے لئے سند نہیں بنتا، (اٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا) اور جو حکم تمہیں دیاجارہاہے اسے سنو۔ کافروں اور استہزاء کرنے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے (وَاسْمَعُوا وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ )۔ اس آیت سے واضح ہوتاہے کہ مسلمان اپنے پروگراموں میں دشمن کے ہاتھ کوئی بہانہ نہ آنے دیں یہاں تک کہ ایک چھوٹا سا جملہ غلط مقاصد میں دشمن کے لئے مقارم بحث بن سکے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہئیے۔ قرآن مخالفین کی طرف سے مومنین سے غلط فائدے اٹھانے کی روک تھام کی نصیحت کرتاہے اور چاہتاہے کہ ایک لفظ تک ایسا نہ کہیں جس کے ایسے مشترک معنی ہوں کہ دشمن جس کے دوسرے معنی کو غلط استعمال کرسکے اور مومنین کی نفسیاتی کمزوری کا باعث بنے۔ جب دامن کلام اور تعبیر سخن وسیع ہے تو کیا ضرورت پڑی ہے کہ انسان ایسے جملے استعمال کرے جو قابل تحریف ہوں اور غلط مفاد کا باعث ہوں۔ جب اسلام اتنی اجازت نہیں دیتا کہ دشمن کے ہاتھ کوئی ایسا بہانہ دیاجائے تو بڑے بڑے مسائل میں مسلمانوں کی ذمہ داری واضح ہوجاتی ہے۔ اب بھی ہم سے کبھی ایسے کام سرزد ہوجاتے ہیں جو داخلی دشمن کے لئے یا بین الاقوامی مجالس میں بری تفسیر کا سبب ہوتے ہیں اور لاوڈ سپیکر پر دشمن کے پرا پیگنڈہ کے لئے سودمند ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے کاموں سے پرہیز کریں اور بلاوجہ داخلی اور خارجی دشمنوں کے ہاتھ بہانہ نہ دیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ لفظ (راعنا) مندرجہ بالا پس منظر کے علاوہ ایک غیر مودبانہ انداز کا بھی حامل ہے کیونکہ (راعنا) مراعات کے مادہ (باب مفاعلہ) سے ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم ہماری اعانت کرو، ہم تم سے مراعات کریں چونکہ یہ غیر مودبانہ تعبیر تھی (علاوہ ازیں یہودی بھی اس سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے) قرآن نے مسلمانوں کو اس سے منع کردیا تا کہ ایک تو زیادہ مودبانہ لفظ استعمال کریں اور دوسرا دشمن کے ہاتھ بہانہ نہ دیں۔ بعد کی آیت مشرکین اور اہل کتاب کی مومنین سے کینہ پروری اور عداوت سے پردہ اٹھاتی ہے۔ فرمایا: اہل کتاب کفار اور اسی طرح مشرکین پسند نہیں کرتے کہ خدا کی طرف سے کوئی خیر و برکت تم پر نازل ہو ( مَا یَوَدُّ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ اٴَہْلِ الْکِتَابِ وَلاَالْمُشْرِکِینَ اٴَنْ یُنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِنْ خَیْرٍ مِنْ رَبِّکُمْ ) لیکن یہ تمنا آرزو سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ خداوند عالم اپنی رحمت اور خیر و برکت جس شخص سے چاہتاہے مخصوص کردیتاہے (و اللہ یختص برحمتہ من یشاء) اور خدا بخشش اور فضل عظیم کا مالک ہے (واللہ ذو الفضل العظیم)۔ بے شک دشمن اپنے شدید کینہ اور حسد کے باعث پسند نہ کرتے تھے کہ مسلمانوں پر یہ اعزاز اور عطیہ الہی دیکھیں کہ خدا کی طرف سے ایک عظیم پیغمبر ایک بہت عظیم آسمانی کتاب کے ساتھ ان کے نصیب ہو لیکن کیا کوئی فضل و رحمت خدا کوکسی پر نازل ہونے سے روک سکتاہے۔