أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا
As for the boat, it belonged to some poor people who work on the sea. I wanted to make it defective, for behind them was a king seizing every ship usurpingly.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:79
[Pooya/Ali Commentary 18:79] (see commentary for verse 60)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:79-82
۶۔وہ خزانہ کیا تھا؟
۶۔وہ خزانہ کیا تھا؟ اس داستان کے بارے میں ایک سوال اور بھی ہے اور وہ یہ کہ وہ خزانہ آخر کیا تھا جسے موسی(ع) کے عالم دوست پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے اور آخر اس باایمان شخص یعنی یتیموں کے باپ نے یہ خزانہ کیوں چھپادیا تھا؟ بعض نے کہا ہے کہ وہ خزانہ مادی پہلو رکھتا تھا ۔ بہت سی شیعہ سنّی روایات کے مطابق وہ ایک تختی تھی جس پر حکمت آمیز کلمات نقش تھے ۔ اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ وہ حکمت آمیز کلمات کیا تھے ۔ کتاب کافی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: یہ سونے چاندی کا خزانہ نہیں تھا ۔ یہ تو صرف ایک تختی تھی جس پر یہ چار جملے ثبت تھے: لا الٰہ الا الله، من ایقن بالموت لم یضحک، و من ایقن بالحساب لم یفرح قلبہ، و من ایقن بالقدر لم یخش الا الله الله کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ جو موت پر یقین رکھتا ہے وہ (بے ہو دہ) نہیں ہنستا ۔ اور جسے الله کی طرف سے حساب کا یقین ہے(اور اسے جوابدہی کی فکر ہے) وہ خوش نہیں رہتا ۔ اور جسے تقدیر الٰہی کا یقین ہے وہ الله کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ۔(2) لیکن کچھ اور روایات میں آیا ہے کہ وہ سونے کی تختی تھی ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ روایات ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ پہلی روایات کا مقصد یہ ہے کہ وہ در ہم و دینار کا ڈھیر نہ تھا کیونکہ”خزانہ“ سے یہی مفہوم ذہن میں آتا ہے ۔ بالفرض اگر ہم لفظ”کنز“کا ظاہری مفہوم یعنی زر وسیم کا ذخیرہ مراد لیںپھر بھی اس میں کو ئی اشکال نہیں ۔کیو نکہ ایسا خزانہ اور ذخیرہ ممنوع ہے کہ جو ایسے بہت زیادہ گراں قیمت مال پر مشتمل ہو جو طویل مدت کے لیے جمع رکھا جائے جبکہ معاشرے کو اس کی بہت ضرورت ہو لیکن اگر مال کی حفاظت کے لیے، وہ مال جو معاملہ کی گردش میں ہے، ایک دن یا چند دن زیر زمین دفن کردیا جائے(گزشتہ زمانے میں بے امنی کی وجہ سے اس کا معمول تھا یہاں تک کہ لوگوں ایک رات کے لیے بھی اپنے اموال دفن کردیتے تھے)اور بعد ازاں اس کا ملک کسی حادثے کی بناء پر دنیا سے چل بسے تو ایسا خزانہ ہرگز قابل اعتراض نہیں ہے ۔ 1۔تفسیر المیزان میں در المنشور اور دیگر کتب کے حوالے سے یہ روایت درج کی گئی ہے ۔ 2۔ نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۸۷-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:79-82
۲۔ خضر(ع)۔ کون تھے؟
۲۔ خضر(ع)۔ کون تھے؟ جیسا کے ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت خضر کا نام صراحت کے ساتھ قرآن میں نہیں لیا گیا اور حضرت موسیٰ(ع) کے دوست اور استاد کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: عبداً من عبادنا اٰتیناہ رحمة من عندنا و علمناہ من لدنا علماً ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ جسے ہم نے اپنی رحمت عطا کی اور جسے ہم نے اپنے علم سے نوازا ۔ اس تعارف میں ان کے مقامِ عبودیت کا تذکرہ ہے اور ان کے خاص علم کو واضح کیا گیا ہے لہٰذا ہم نے بھی عالم کے طور پر ان کا زیادہ ذکر کیا ہے ۔ لیکن متعدد روایات میں اس عالم کا نام ”خضر“بتایا گیا ہے ۔بعض روایات سے معلوم ہے کہ ان کا اصلی نام ”بلیا ابن ملکان“ تھا اور ”خضر“ ان کا لقب ہے کیونکہ وہ جہاں کہیں قدم رکھتے ان کے قدموں کی بدولت زمین سر سبز ہوجاتی تھی ۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس عالم کا نام ”الیاس“ ہے ۔ یہیں سے یہ تصور پیدا ہوا کہ ہوسکتا ہے ”الیاس“ اور ”خضر“ ایک ہی شخص کے دونام ہوں لیکن مشہور و معروف مفسرین اور راویوں نے پہلی بات ہی بیان کی ہے ۔ واضح ہے کہ یہ بات کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی کہ اس شخص کا نام کیا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ایک عالمِ ربانی تھے اور پروردگار کی خاص رحمت ان کے شاملِ حال تھی ۔ وہ باطن اور نظامِ تکوینی پر مامور تھے اور کچھ اسرار سے آگاہ تھے اور ایک لحاظ سے موسیٰ(ع) بن عمران کے معلم تھے اگر چہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کئی لحاظ سے ان پر مقدم تھے ۔ یہ کہ وہ پیغمبر تھے یا نہیں ۔ اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں ۔ اصول کافی جلد اوّل میں متعدد روایات ہیں کہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ پیغمبر نہیں تھے بلکہ وہ ”ذوالقرنین“ اور ”آصف ابن برخیا“ کی طرح ایک عالم تھے ۔1) جبکہ کچھ اور روایات ایسی بھی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مقامِ بنوت کے حامل تھے اور زیرِ نظر روایات میں بھی بعض تعبیرت ظاہری مفہوم بھی یہی ہے ۔ کیونکہ ایک موقع پر وہ کہتے ہیں:میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیا ۔ ایک اور مقام پر کہتے ہیں:ہم چاہتے تھے کہ ایسا ہو ۔ نیز بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک لمبی عمر کے حامل تھے ۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے ۔ وہ یہ کہ کیا اس عالمِ بزرگوار کا واقعہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں میں بھی ہے؟ سوال کا جواب یہ ہے:اگر کتب سے مرا کتب عہدین (تورات و انجیل)ہیں، تو ان میں تو نہیں ہے لیکن بعض یہوی علماء کی کتابیں کہ جو گیارہویں صدی عیسوی میں مدّون ہوئی ہیں، ان میں ایک داستان نقل ہوئی ہے کہ جو حضرت موسیٰ(ع) کی مذکورہ داستان سے کچھ مشابہت رکھتی ہے ۔ اگر چہ اس داستان کے ہیرو ”الیاس“ اور ”یوشع بن لاوی“ ہیں کہ جو تیسری صدی عیسوی کے ”تلمود“ کے مفسرین میں سے تھے ۔ یہ داستان اور کئی پہلوؤں سے بھی موسیٰ و خضر کی داستان سے مختلف ہے ۔ بہرحال مذکورہ داستان کچھ یوں ہے: یوشع نے خدا سے چاہا کہ اس کی الیاس سے ملاقات ہو ۔ اس کی دعا پوری ہوگئی اور اسے الیاس سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوگیا ۔ اس کی آرزو تھی کہ الیاس سے کچھ اسرار حاصل کرے ۔ الیاس نے اُس سے کہا: تجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ انھیں برداشت کر پائے ۔ لیکن یوشع نے اصرار کیا تو الیاس نے اس کی درخواست اس شرط پر قبول کرلی کہ وہ جو کچھ بھی دیکھے گا ہرگز سوال نہیں کرے گا اور اگر اس نے خلاف وزری کی تو اسے الگ ہونا پڑے گا ۔ بہر حال اس معاہدے کے بعد یوشع اور الیاس اکٹھے چل پڑے ۔ دورانِ سفر وہ ایک گھر میں داخل ہوتے ہیں ۔ صاحبِ خانہ بڑی گرم جوشی سے ان کی پذیرائی کرتا ہے ۔ اس گھر والوں کے پاس دنیا کی چیزوں میں سے صرف ایک گائے تھی کوئی اور چیز ان کی ملکیت نہ تھی ۔ وہ گائے کا دودھ بیچ کر گزر اوقات کرتے تھے ۔ الیاس نے صاحب خانہ کو حکم دیا کہ گائے کو ذبح کردے ۔ یوشع کو اس کردار پر سخت تعجب ہوتا ہے ۔ وہ اس کا سبب پوچھتا ہے ۔ الیاس اسے معاہدہ یاد دلاتا ہے اور جدا ہونے کی دھمکی دیتا ہے ۔ یوشع مجبوراً خاموش ہوجاتا ہے ۔ وہاں سے وہ دونوں ایک اور بستی کی طرف چل پڑتے ہیں ۔ اس بستی میں پہنچ کر ایک مالدار آدمی کے گھر داخل ہوتے ہیں ۔ اس گھر کی ایک دیوار گرنے کے قریب ہوتی ہے ۔ الیاس خودد مٹی کے کام میں ہاتھ ڈالتا ہے اور اس دیوار کی مرمت کردیتا ہے ۔ وہاں سے وہ ایک اور بستی میں پہنچتے ہیں ۔ اس گاؤں کے ”چند لوگ“ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں ۔ وہ ان دونوں کی اچھی پذیرائی نہیں کرتے ۔ الیاس نے کے لیے دعا کی کہ ان سب کو ریاست و امارات نصیب ہو ۔ وہ چوتھی بستی میں پہنچتے ہیں تو ان کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا جاتا ہے ۔ الیاس ان کے لیے دعا کرتا ہے کہ ان میں سے صرف ایک کو ریاست نصیب ہو ۔ آخر کار یوشع بن لاوی کی قوت برداشت جواب دے دیتی ہے وہ ان چار واقعات کے بارے میںسوال کرتا ہے تو الیاس کہتا ہے: پہلے گھر میں صاحبِ خانہ کی بیوی بیمار تھی ۔ اگر وہ گائے صدقہ کے طور پر قربان نہ کی جاتی تو وہ عورت مرجاتی ۔ دوسرے گھر میں دیوار کے نیچے ایک خزانہ تھا کہ جو ایک یتیم بچے کے لئے محفوظ رہنا چاہیٴے تھا ۔ تیسری بستی کے سب لوگوں کے لیے ریاست کی دعا اس لیے کی کہ وہ پریشانی سے دوچار ہوں جبکہ اس کے برعکس چوتھی بستی کے ایک شخص کے لیے دعا کی تاکہ ان کے امور منظم اور بہتر طور پر انجام پائیں ۔(2) غلط فہمی نہیں ہوتنا چاہیے ۔ ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ یہ دونوں داستانیں ایک ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ یہودیوں نے جو داستان نقل کی ہے وہ قرآن کی موسیٰ(ع) و خضر(ع) کی داستان کے مشابہ ہے یا پھر موسیٰ(ع) و خضر(ع) کی داستان میں تحریف ہوکر یہ اس صورت میں باقی رہ گئی ہے ۔ 1۔ اصول کافی، ج۱، باب ”ان الائمة بمن یشبہون فیمن مضی“ص ۲۱۰۔ 2۔ یہ تمام تر عبارت کتاب اعلام قرآن ص ۲۱۳ سے نقل کی گئی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:79-82
۱۔ خضر کی ماموریت تشریعی تھی یاتکوینی؟
۱۔ خضر کی ماموریت تشریعی تھی یاتکوینی؟ یہ اہم ترین مسئلہ ہے جس نے بزرگ علماء کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ۔ تین واقعات کہ جو اس عالم کے ہاتھوں انجام پائے ان پر حضرت موسیٰ(ع) نے اعتراض کیا کیونکہ وہ باطن امر سے آگاہ نہ تھے لیکن بعد میں استاد نے وضاحت کی تو مطمئن ہوگئے ۔ سوال یہ ہے کہ واقعاً کسی کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر نقص پیدا کیا جاسکتا ہے، اس بناء پر کہ غاصب اسے لے نہ جائے ۔ اور کیا کسی لڑکے کو اس کام پر سزادی جاسکتی ہے کہ جو وہ آئندہ انجام دے گا ۔ اور کیا ضروری ہے کہ کسی کے مال کی حفاظت کے لیے ہم مفت زحمت برداشت کریں ۔ ان سوالات کے جواب میں ہمارے سامنے دوراستے ہیں: پہلا یہ کہ ان امور کو ہم فقہی احکام اور شرعی قوانین کی روشنی میں دیکھیں، بعض مفسّرین نے یہی راستہ اختیار کیا ہے ۔ انھوں نے پہلے واقعے کو اہم اور اہم تر قوانین پر منطبق سمجھا ہے اور کہا ہے کہ مسلم ہے کہ ساری کشتی اور پوری کشتی کی حفاظت اہم کام تھا جبکہ جزوی نقص سے حفاظت زیادہ اہم نہیں تھا ۔ دوسرے لفظوں میں حضرت خضر(ع) نے کم نقصان کے ذریعے زیادہ نقصان کو روکا ۔ فقہی زبان میں ”افسد کو فاسد سے دفع کیا“۔خصوصاً جبکہ یہ بات ان کے پیشِ نظر تھی کہ کشتی والوں کی باطنی رضا مندی انھیں حاصل ہے کیونکہ اگر وہ اصل صورتِ حال سے آگاہ ہوجاتے تو اس کام پر راضی ہوجاتے ۔ (فقہی تعبیر کے مطابق حضرت خضر(ع) کو اس مسئلے میں ”اذنِ فحوی“حاصل تھا) ۔ اس لڑکے کے بارے میں مفسرین کا اصرار ہے کہ یقیناً وہ بالغ تھا اور وہ مرتد یا فاسد تھا لہٰذا وہ اپنے موجودہ اعمال کی وجہ سے جائز القتل تھا اور یہ جو حضرت خضر(ع) اپنے اقدام کے لیے اس کے آئندہ جرائم کو دلیل بناتے ہیںتو وہ اس بناء پر کہ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ مجرم ہے صرف یہ کہ اس وقت اس کام میں مبتلا ہے بلکہ آئندہ بھی اس سے بڑھ کر جرائم کا مرتکب ہوگا لہٰذا اس کا قتل قوانین شریعت کے مطابق تھا اور وہ اپنے افعال اور خود کردہ گناہوں کی وجہ سے جائز القتل تھا ۔ رہا تیسرا واقعہ تو کوئی شخص کسی پر یہ اعتراض نہیں کرسکتا کہ تم دوسرے کے لیے کیوں ایثار کرتے ہو اور اس کے اموال کو بچانے کے لیے کیوں بیگار اٹھاتے ہو ۔ ہوسکتا ہے یہ ایثار واجب نہ ہو لیکن مسلّم ہے کہ یہ اچھا کام ہے اور لائق تحسین ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ بعض مواقع پر سرحدِ وجوب تک پہنچ جائے، مثلاً کسی یتیم بچے کا بہت سامال ضائع ہو رہا ہو اور تھوڑی سی زحمت کرکے اسے بچایا جاسکے تو بعید نہیں ہے کہ ایسے موقع پر کام واجب ہو ۔ دوسرا راستہ اس بنیاد پر ہے کہ مذکورہ بالا توضیحات اگر چہ خزانے اور دیوار کے بارے میں لائق اطمینان ہوں لیکن جو جوان ماراگیا اس کے بارے میں مذکورہ وضاحتیں ظاہر آیت سے مناسبت نہیں رکھتیں کیونکہ اس کے قتل کا جو ظاہراً اس کے آئندہ کا عمل قرار دیا گیا ہے نہ کہ موجودہ عمل۔ کشتی کے بارے میں بھی مذکورہ وضاحت کسی حد تک قابلِ بحث ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کوئی اور راہ اختیار کی جائے اور وہ یہ ہے:اسی جہان میں ہمیں دو نظاموں سے سابقہ پڑتا ہے ۔ ایک نظامِ تکوین ہے اور دوسرا نظامِ تشریع۔ یہ دونوں نظام اگر چہ کلی اصول میں تو ہم آہنگ ہیں لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جزئیات میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش خوف، اموال و ثمرات کے نقصان، اپنی اور عزیزوں کی موت اور قتل کے ذریعے کرتا ہے تاکہ یہ معلوم ہوکہ کون شخص ان حوادث و مصائب پر صبر و شکیبائی اختیار کرتا ہے ۔ تو کیا کوئی فقیہ بلکہ کوئی پیغمبر ایسا کرسکتا ہے ۔ یعنی اموال و نفوس ، ثمرات اور امن کو ختم کرکے لوگوں کو آزمائے؟ یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نبیوں اور صالح بندوں کو خبر دار کرنے اور انھیں تنبیہ کرنے کے لیے کسی ترکِ اولیٰ پر بڑی مصیبتوں میں گرفتار کرتا ہے جیسا کہ حضرت یعقوب مصیبت میں گرفتار ہوئے اس بات پر کہ انھوں نے بعض مساکین کی طرف کم توجہ دی یا حضرت یونس(ع) کو ایک معمولی ترکِ اولیٰ پر مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا ۔ تو کیا کوئی حق رکھتا ہے کہ کسی کو سزا کے طور پر ایسا کرے ۔ یا یہ کہ ہم یکھتے ہیں کبھی اللہ تعالیٰ کسی انسان کی ناشکری کی وجہ سے اس سے کوئی نعمت چھین لیتا ہے مثلاً کوئی شخص مال ملنے پر شکرادا نہیں کرتا تو اس کا مال دریا میں غرق ہوجاتا ہے یا صحت پر شکرا دا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس سے صحت لے لیتا ہے تو کیا فقہی اور شرعی قوانین کی رو سے کوئی ایسا کرسکتا ہے کہ ناشکری کی وجہ سے کسی کا مال ضائع کردے اور اس کی سلامتی کو بیماری میں بدل ے ۔ ایسی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔ یہ سب مثالیں مجموعی طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ جہان آفرینش خصوصاً خلقتِ انسان اس احسن نظام پر استوار ہے کہ اللہ نے انسان کو کمال تک پہنچانے کے لیے کچھ تکوینی قوانین بنائے ہیں کہ جن کی خلاف ورزی سے مختلف نتائج مرتب ہوتے ہیں حالانکہ قانونِ شریعت کے لحاظ سے ہم ان قوانین پر عمل نہیں کرسکتے ۔ مثلاً کسی انسان کی انگلی ڈاکٹر اس لیے کاٹ سکتا ہے کہ زہر اُس کے دل کی طرف سرایت نہ کر جائے لیکن کیا کوئی شخص کسی انسان میں صبر پیدا کرنے کے لیے یاکران نعمت کی وجہ سے اس کی انگلی کاٹ سکتا ہے؟ (جبکہ یہ بات مسلّم ہے کہ خدا ایسا کرسکتا ہے کیونکہ ایسا کرنا نظامِ احسن کے مطابق ہے) ۔ اب جبکہ ثابت ہوگیا کہ ہم دو نظام رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دونوں نظاموں پر حاکم ہے تو کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ اللہ ایک گروہ کو نظام تشریعی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مامور کرے اور فرشتوں کے ایک گروہ یا بعض انسانوں کو (مثلاً حضرت خضر(ع) کو)نظامِ تکوینی کو عملی شکل دینے پر مامور کرے (غور کیجئے گا) ۔ اللہ تعالیٰ کے نظام تکوین کے لحاظ سے کوئی مانع نہیں کہ وہ کسی نابالغ بچے کو بھی کسی حادثے میں مبتلا کر دے اور اس میں اس کی جان چلی جائے کیونکہ ہوسکتا ہے اس کا وجود مستقبل کے لیے بہت بڑے خطرات کا حامل ہو جیسا کہ بعض اوقات ایسے اشخاص کا باقی رہ جانا آزمائش وغیرہ کے حوالے سے مصلحت کا حامل ہوتا ہے ۔ نیز کوئی مانع نہیں کہ اللہ مجھے آج کسی سخت بیماری میں مبتلا کردے، اس طرح سے کہ میں گھر سے باہر نہ نکل سکوں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں گھر سے باہر نکلا تو خطرناک حادثہ پیش آجائے گا اور وہ مجھے اس حادثے سے بچانا چاہتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں اس عالم میں مامورین کا ایک گروہ باطن پر مامور ہے اور ایک گروہ ظاہر پر مامور ہے ۔ جو باطن پر مامور ہیں ان کے لیے اپنے اصول و وضوابط اور پروگرام ہیں اور جو ظاہرا پر مامور ہیں ان کے لئے اپنے خاص اصول و ضوابط ہیں ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان دونوں پروگراموں کا اصلی اور کلی مقصد انسان کو کمال کی طرف لے جانا ہے اس لحاظ سے دونوں ہم آہنگ ہیں لیکن بعض اوقات جزئیات میں فرق ہوتا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہوتا ہے ۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ ان دونوں طریقوں میں سے کسی میں بھی کوئی خود سری سے کوئی اقدام نہیں کرسکتا بلکہ ضروری ہے کہ وہ حقیقی مالک و حاکم کی طرف سے مجاز ہو لہٰذا حضرت خضر(ع) علیہ السلام نے صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کیا اور کہا: ما فعلتہ عن امری میں نے یہ کام خود سے ہرگز نہیں کیے ۔ یعنی میں نے یہ کام حکم الٰہی کے مطابق اور اسی کے ضابطے اور طریقے کے مطابق انجام دیئے ہیں ۔اس طرح ان اقدامات میں جو ظاہری تضاد نظر آتا ہے وہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اور یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرت موسیٰ(ع) حضرت خضر(ع) کے کاموں کو برداشت نہیں کر پاتے تھے تو یہ اسی بناء پر تھا کہ ان کی ماموریت اور ذمہ داری کا طریقہ جنابِ خضر(ع) کی ذمہ داری کے راستے سے الگ تھا لہٰذا جب انھوں نے حضرت خضر(ع) کا کام ظاہراً شرعی قوانین کے خلاف دیکھا تو اس پر اعتراض کیا لیکن حضرت خضر(ع) نے ٹھنڈے دل سے اپنا کام جاری رکھا اور چونکہ یہ دو عظیم خدائی رہبر مختلف ذمہ داریوں کی بناء پر ہمیشہ کے لیے اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے لہٰذا حضرت خضر(ع) نے کہا: ہٰذا فراق بینی و بینک اب میرے اور تمھارے جدا ہونے کا مرحلہ آگیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:79-82
ان واقعات کا راز
ان واقعات کا راز جب حضرت موسی(ع) اور خضر(ع) کا جدا ہونا طے پاگیا تو ضروری تھا کہ یہ الٰہی استاد اپنے ان کاموں کے اسرار ظاہر کرے کہ حضرت موسیٰ(ع) جنھیں گوارا نہیں کرپائے تھے ۔ درحقیقت ان سے ہمراہی کا فائدہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے یہی تھا کہ وہ ان تین عجیب واقعات کا راز سمجھ لیں اور یہی راز بہت سے مسائل کی تفہیم کے لیے کلید بن سکتا تھا اور مختلف سوالوں کا جواب اس میں پنہاں تھا ۔ حضرت خضر نے کشتی والے واقعے سے بات شروع کی اور کہنے لگے: ہاں، تو وہ کشتی والی بات یہ تھی کہ وہ چند غریب و مسکین افراد کی مالکیت تھی ۔وہ اس سے دریا میں کام کرتے تھے ۔ میں نے سوچا کہ اس میں کوئی نقص ڈال دوں کیونکہ میں جانتا تھا کہ ایک ظالم بادشاہ ان کے پیچھے ہے اور وہ ہر صحیح سالم کشتی کو زبردستی ہتھیا لیتا ہے( اٴَمَّا السَّفِینَةُ فَکَانَتْ لِمَسَاکِینَ یَعْمَلُونَ فِی الْبَحْرِ فَاٴَرَدْتُ اٴَنْ اٴَعِیبَھَا وَکَانَ وَرَائَھُمْ مَلِکٌ یَاٴْخُذُ کُلَّ سَفِینَةٍ غَصْبًا) ۔ گویاکشتی میں سوراخ کرنا ظاہراً برا لگتا تھا لیکن اس کام میں ایک اہم مقصد پوشیدہ تھا اور وہ تھا کشتی کے غریب مالکوں کو ایک غاصب بادشاہ کے ظلم سے بچانا کیونکہ اس کے نزدیک عیب دار کشتیاں اس کے کام کی نہ تھیں اور ایسی کشتیوں پر وہ قبضہ نہیں جماتا تھا ۔ خلاصہ یہ کہ یہ کام چند مسکینوں کے مفاد کی حفاظت کے لیے تھا اور اسے انجام پانا ہی چاہیے تھا ۔ لفظ”وَرَاء“(پیچھے) ۔ یقیناً یہاں مکانی پہلو نہیں رکھتا ۔ یہ تعبیر یہاں کنائے کے طور پر آئی ہے اور اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ متوجہ ہوئے بغیر اس ظالم کے پھنس جاتے اور انسان چونکہ اپنے پس پشت ہونے والے واقعات سے بے خبر ہوتا ہے لہٰذا یہاں یہ تعبیر استعمال کی گئی ہے ۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ میرے قرض خواہ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور مجھے چھوڑتے نہیں ۔ سورہٴ ابراہیم کی آیہ ۱۶ میں ہے: <مِنْ وَرَائِہِ جَھَنَّمُ وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ ”اور جہنم ان کے پیچھے ہے-----“ گویا جہنم ان کا تعاقب کر رہی ہے ۔ یہاں بھی وہی ”وَرَاء“ کی تعبیر آئی ہے ۔(3) ضمناً لفظ ”مَسَاکِین“ سے یہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسکین وہ شخص نہیں ہے کہ جس کے پاس بالکل کوئی چیز نہ ہو بلکہ ایسے شخص کو بھی مسکین کہا جاتا ہے جس کے پاس اتنا مال ہو کہ جو اس کی ضروریات کے لیے کافی نہ ہو ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ انھیں مالی حوالے سے ”مساکین“ نہ کہا گیا ہو بلکہ طاقت کے حوالے سے وہ مسکین اور فقیر ہوں اور عربی زبان میں یہ تعبیر موجود ہے اور یہ مفہوم مسکین کے اصلی معنی سے بھی مطابقت رکھتا ہے جس کے مطابق ساکن، کمزور اور ناتوان کو مسکین کہا جاتا ہے ۔ نہج البلاغہ میں ہے: مسکین ابن اٰدم--- توٴلمہ البقة و تقتلہ الشرقة و تنتنہ العرقة بے چارہ فرزند آدم --- مچھر اسے تکلیف پہنچا دیتا ہے ۔ تھوڑا سا پانی اس کے گلو میں اٹک جاتا ہے اور پسینہ آجائے تو اس سے بدبو آنے لگتی ہے ۔(۲) اس کے بعد حضرت خضر(ع) لڑکے کے قتل کے مسئلے کی طرف آتے ہیں کہتے ہیں: ”رہا وہ لڑکا، تو اس کے ماں باپ صاحبِ ایمان تھے ۔ ہمیں یہ بات اچھی نہ لگی کہ وہ اپنے ماں باپ کو راہِ ایمان سے بھٹکا دے اور سرکشی و کفر پر ابھارے“ ( وَاٴَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ اٴَبَوَاہُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِینَا اٴَنْ یُرْھِقَھُمَا طُغْیَانًا وَکُفْرًا) ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہاں یہ مراد نہیں کہ کافر و سرکش لڑکا اپنے مومن ماں باپ کو منحرف نہ کردے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور کفر کی وجہ سے اپنے ماں باپ کو زیادہ اذیت نہ دے ۔ (۱) البتہ پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ بہر حال اس عالم نے اس لڑکے کو قتل کردیا اور اس لڑکے کے زندہ رہنے کی صورت میں اس کے ماں باپ کو آئندہ جو ناگوار واقعات پیش آنے والے تھے انھیں اس قتل کی دلیل قرار دیا ۔ انشاء اللہ ہم جلد اس داستان کے مختلف نکات پر تفصیلی بحث کریں گےاور حضرت خضر(ع) کے تمام کاموں کو احکام الٰہی اور منطقی حوالوں سے دیکھیں گے اور ”جرم سے قبل قصاص“ والے اعتراض کا جواب دیں گے ۔ ”خشینا“ (ہمیں ڈرتھا کہ ایسا ہوگا) ۔ یہ بہت معنی خیز تعبیر ہے ۔ یہ تعمیر نشاندہی کرتی ہے کہ وہ عالم اپنے آپ کو لوگوں کے مستقبل کا ذمہ دار سمجھتا تھا اور وہ اس بات کے لیے تیار نہ تھا کہ صاحبِ ایمان ماں باپ اپنی جوان اولاد کے انحراف کی وجہ سے مصیبت سے دوچار ہوں ۔ ضمناً یہ بات بھی ہوجائے کہ لفظ ”خشینا“ (ہمیں خوف ہوا) یہاں ”ہمیں اچھا نہ لگا“ کے معنی میں آیا ہے کیونکہ علم و قدرت میں اس مقام کے حامل شخص کے لیے ایسے امور میں خوف و خطر نہیں ہوتا ۔ دوسرے لفظوں میں مقصد ناپسندیدہ کام سے بچنا ہے اور انسان اپنی فطرت کی بناء پر ناگوار امور سے بچنا چاہتا ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ لفظ یہاں ”علمنا“ (ہم نے چاہا) کے معنی میں ہو ۔ ابنِ عباس سے بھی اس کا یہی مفہوم منقول ہے ۔ یعنی: ہم نے جانا اور ہمیں معلوم ہوا کہ اگر یہ لڑکا زندہ رہ گیا تو اس کے ماں باپ کو ناگوار واقعہ دیکھنا پڑے گا ۔ رہا یہ سوال کہ ایک شخص کے لیے جمع متکلم کی ضمیر کیوں استعمال ہوئی ہے ۔ تو اس کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہم قرآن میں ایسی ضمیر دیکھ رہے ہیں ۔ قرآنِ حکیم میں، اس کے علاوہ عربی زبان اور دوسری زبانوں کے محاورات میں بڑے لوگ کبھی گفتگو کرتے وقت جمع کی ضمیر استعمال کرتے ہیں اور یہ عام طور پر اپنے ما تحت افرا کو مختلف کاموں کی انجام دہی کے لیے مامور کرنے اور ایسے ہی دیگر مواقع پر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے اور انسان اپنے ما تحت افراد کو ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ہم نے چاہا کہ ان کا رب ان کو اس کے بدلے زیادہ پاک اور زیادہ پر محبت اولاد عطا فرمائے ( فَاٴَرَدْنَا اٴَنْ یُبْدِلَھُمَا رَبُّھُمَا خَیْرًا مِنْہُ زَکَاةً وَاٴَقْرَبَ رُحْمًا) ۔ ”اٴَرَدْنَا“ (ہم نے ارادہ کیا)ا ور ’ ’رَبھما“ (ان دونوں کا رب) ۔ یہ دونوں یہاں معنی خیز تعبیریں ہیں اور ہم جلد ان کے مقصد سے آگاہ ہوجائیں گے ۔ لفظ ”زکٰوة“ پاکیزگی اور طہارت کے معنی میں ہے اور اس کا یہاں وسیع مفہوم ہے اور اس میں ایمان اور عملِ صالح بھی شامل ہے ۔ اس میں دینی امور بھی شامل ہیں اور دنیاوی بھی اور شاید یہ تعبیر حضرت موسیٰ(ع) کا جواب ہو کیونکہ انھوں نے کہا تھا کہ آپ نے ”نفس زکیہ“ کو قتل کردیا ہے ۔ حضرت خضر(ع) نے جواب میں کہا کہ نہیں وہ پاکیزہ نہ تھا بلکہ ہم چاہتے تھے کہ اللہ اس کی بجائے انھیں پاکیزہ اولاد عطا کرے ۔ مختلف اسلامی کتب میں آنے والی احادیث میں یہ عبارت آئی ہے: ابدلھا اللّٰہ بہ جاریة ولدٰت سبعین نبیاً اللہ نے اس بیٹے کی جگہ انھیں ایک ایسی بیٹی عطا فرمائی کہ جس کی نسل سے ستر نبی پیدا ہوئے ۔(4) آخری زیر بحث آیت میں تیسرے کام یعنی دیوار بنانے کے واقعے کا جواب ہے ۔ اس عالم نے اس واقعے کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا: رہی دیوار کی بات۔ تو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ چھپا ہوا تھا اور ان کا باپ ایک نیک اور صالح شخص تھا (وَاٴَمَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلَامَیْنِ یَتِیمَیْنِ فِی الْمَدِینَةِ وَکَانَ تَحْتَہُ کَنزٌ لَھُمَا وَکَانَ اٴَبُوھُمَا صَالِحًا) ۔ تیراپروردگار چاہتا تھا کہ وہ بالغ ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں (فَاٴَرَادَ رَبُّکَ اٴَنْ یَبْلُغَا اٴَشُدَّھُمَا وَیَسْتَخْرِجَا کَنزَھُمَا) ۔یہ تو تیرے رب کی طرف سے رحمت تھی (رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ) ۔اور ان کے نیک ماں باپ کی وجہ سے میں مامور تھا کہ اس دیوار کو تعمیر کروں کہ کہیں وہ گِر نہ جائے اور خزانہ ظاہر ہوکر خطرے سے دوچار نہ ہوجائے ۔ آخر میں انھوں نے چاہا کہ حضرت موسیٰ(ع) کا ہر قسم کا شک دور ہوجائے اور وہ یقین کرلیں کہ یہ سب کام ایک خاص منصوبے اور ذمہ داری کے تحت تھے ۔ لہٰذا انھوں نے کہا: اور میں نے یہ کام خود سے نہیں کیے بلکہ اللہ کے حکم کے تحت انجام دیئے (وَمَا فَعَلْتُہُ عَنْ اٴَمْرِی) ۔ جی ہاں! یہ تھے ان کاموں کے راز کہ جن پر صبر کی تم میں تاب نہیں تھی (ذٰلِکَ تَاٴْوِیلُ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَیْہِ صَبْرًا) ۔ ۱۔ ”وراء“ کے معنی کے سلسلے میں تفسیرِ نمونہ جلد ۱۰ سورہ ابراہیم آیہ ۱۶ کے ذیل میں بحث کی گئی ہے ۔ ۲۔ نہج البلاغہ۔ کلمات قصار جملہ ۴۱۹- ُ3۔ پہلی تفسیر کے مطابق ”یرھق“کے دو مفعول ہیں ۔ پہلا ”ھما“ اور دوسرا ”طغیاناً“ اور دوسری تفسیر کی بنا پر ”طغیاناً“ اور ”کفراً“مفعول لاجلہ (مفعول لہ)ہیں ۔ 4۔ نور الثقلین ج ۳ ص ۲۸۶ و ۲۸۷-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:79-82
۵۔ موسیٰ(ع) خضر(ع) کی ملاقات کیوں گئے؟
۵۔ موسیٰ(ع) خضر(ع) کی ملاقات کیوں گئے؟ ابن ابی کعب نے ابن عباس کی وساطت سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک حدیث اس طرح نقل کی ہے: ایک دن موسیٰ(ع) بنی اسرائیل سے خطاب کر رہے تھے ۔ کسی نے آپ سے پوچھا: روئے زمین پر سب سے زیادہ علم کون رکھتا ہے ۔ موسی(ع) نے کہا مجھے اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کے عالم ہونے کا علم نہیں ۔ اس وقت موسی(ع) کو وحی ہوئی کہ ہمارا ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے کہ جو تجھ سے زیادہ عالم ہے ۔ اس وقت موسی(ع) نے درخواست کی کہ میں اس عالم کی زیارت کرنا چاہتا ہوں ۔ اس پر الله نے انھیں ان سے ملاقات کی راہ بتائی ایسی ہی ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے ۔(1) یہ درحقیقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنبیہ تھی کہ اپنے تمام تر علم و فضل کے باوجود اپنے آپ کو افضل ترین نہ سمجھیں ۔ لیکن یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ایک اولوالزم، صاحب رسالت و شریعت شخص کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم نہیں ہونا چاہئے؟ اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے کہ اپنی ماموریت کی قلمرو میں، نظام تشریع میں اسے سب سے بڑا عالم ہونا چاہئے اور حضرت موسیٰ(ع) اسی طرح تھے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے نکتے میں بیان کیا ہے کہ ان کی ماموریت کی قلمرو ان کے عالم دوست کی قلمرو سے الگ تھی ۔ ان کے عالم دوست کی ماموریت کا تعلق عالم تشریع سے نہ تھا ۔ دوسرے لفظوں میں وہ عالم ایسے اسرار سے آگاہ تھے کہ جو دعوتِ نبوت کی بنیاد نہ تھے ۔اتفاقاً ایک حدیث کہ جو امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے اس میں صراحت ک ساتھ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) حضرت خضر(ع) سے زیادہ عالم شریعت میں ۔(2) شاید اس سوال کا جواب نہ پانے کی وجہ سے اور نسیان سے مربوط سوال کا جواب نہ پانے کے سبب بعض نے ان آیات میں جس موسیٰ کا ذکر ہے اسے موسی بن عمران تسلیم نے کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ ایک حدیث کہ جو حضرت علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس سے بھی یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کا دائرہ کار اور قلمرو ایک دوسرے سے مختلف تھی اور ہر ایک دوسرے سے اپنے کام میں زیادہ عالم تھا ۔(3) اس نکتے کا ذکر بھی مناسب ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے:جس وقت کا موسی(ع) خضر(ع) سے ملے تو ایک پرندہ ان کے سامنے ظاہر ہوا ۔ اس نے پانی کا ایک قطرہ اپنی چونچ میں لیا تو حضرت موسی(ع) سے خضر(ع) نے کہا: جانتے ہوں کہ پرندہ کیا کہتا ہے: موسی(ع) نے کہا: کیا کہتا ہے؟ خضر(ع) کہنے لگے: کہتا ہے: ما علمک و علم موسیٰ فی الله الاکما اخذ منقاری من المائ تیرا علم او رموسیٰ کا علم خدا کے علم کے مقابلے میں اس قطرے کی طرح ہے جو میں نے پانی سے چونچ میں لیا ہے ۔(4) 1۔ مجمع البیان، ۴ص ۴۸۱(ہم نے روایت اختصار سے درج کی ہے) ۔ 2۔نور الثقلین، ج۳ص ۲۷۵- 3۔المیزان، ج۱۳ص ۳۸۳- 4۔ مجمع البیان، ج۶ص ۴۸۰-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:79-82
۷۔ اس داستان سے حاصل ہونے والے درس
۷۔ اس داستان سے حاصل ہونے والے درس: اس داستان سے ہمیں بہت سے سبق حاصل ہوتے ہیں مثلاً: (ا) عالم رہبر کی تلاش اور اس کے علم سے استفادہ کرنا اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) جیسے اولوالعزم پیغمبر نے اس کی تلاش میں انتا سفر کیا اور یہ سب انسانوں کے لیے ایک نمونہ ہے، وہ جس مرتبہ کے بھی ہوں اور جس سن و سال کے اور انھیں جیسے بھی حالات در پیش ہوں ۔ (ب) جو ہر علم الٰہی کا سرچشمہ عبودیت اور الله کی بندگی ہے ۔ جیسا کہ زیر نظر آیات میں ہم نے پڑھا ہے: عبداً من عبادنا اٰتیناہ رحة من عندنا و علمناہ من لنا علماً وہ ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ تھا اسے ہم نے اپنے خاص علم سے نوازا تھا ۔ (ج)علم ہمیشہ عمل کے لیے حاصل کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت موسی(ع) اپنے عالم دوست سے کہتے ہیں: مما علمت رشداً مجھے ایسا علم سکھائیے جو راہِ مقصد میں میرے لیے مفید ہو ۔ یعنی میں علم برائے علم نہیں چاہتا بلکہ حصول مقصد کے لیے علم حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ (د) کاموں میں جلد بازی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بہت سے امور کے لیے مناسب موقع کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے: الامور مرھونة باوقاتھا امور اپنے وقت کے مرہونِ منت ہوتے ہیں ۔ خصوصاً زیادہ اہم مسائل میں اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہیے ۔ اسی بناپر اس عالم نے اپنے کاموں کے اسرار حضرت موسیٰ(ع) سے مناسب وقت پر بیان کیے ۔ (ھ)چیزوں اور واقعات کا ظاہری چہرہ بھی ہوتا ہے اور باطنی بھی ۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ جو ہم اس داستان سے سیکھتے ہیں ۔ اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اپنی زندگی میں پیش آنے والے ناگوار واقعات کے بارے میں ہمیں جلدبازی سے فیصلے نہیں کرنا چاہیے ۔ کتنے ایسے واقعات ہیں کہ جو ہمیں ناپسند ہوتے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لیے الله کا لطف خفی تھے ۔ اسی بات کے بارے میں قرآن حکیم ایک جگہ کہتا ہے: <عَسی اٴَنْ تَکْرَھُوا شَیْئًا وَھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ وَعَسیٰ اٴَنْ تُحِبُّوا شَیْئًا وَھُوَ شَرٌّ لَکُمْ وَاللهُ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لَاتَعْلَمُون ہوسکتا ہے ایک چیز تمھیں ناپسند ہو حالانکہ وہ تمھارے فائدے میں ہو اور ممکن ہے ایک چیز تمھیں پسند ہو اور وہ تہارے لیے مضر ہو اور خدا جانتا ہے تم نہیں جانتے ۔(بقرہ۔۲۱۶) اس حقیقت کی طرف توجہ کے سبب انسان ناگوار واقعات و حوادث پر فوراً مایوس نہیں ہوتا ۔ اس سلسلے میں ایک جاذبِ نظر حدیث امام صادق علیہ السلام سے منقول نظر سے گزرتی ہے ۔امام(ع) نے فرزند زراہ(1)سے فرمایا:اپنے باپ سے میرا سلام کہہ کریہ کہنا: بعض محفلوں میں جو تیری برائی بیان کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دشمن اس بات کی نگرانی کرتے ہیں کہ ہم کس شخص سے اظہار محبت کرتے ہیں تاکہ اسے اس محبت کی وجہ سے تکلیف پہنچائیں کہ جو ہم اس سے رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس اگر ہم کسی کی مذمت کرتے ہیں تو وہ اس کی تعریف کرتے ہیں ۔ بعض اوقات اگر میں تیری عدم موجودگی میں تیری برائی کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تو لوگوں میں ہماری ولایت و محبت کے حوالے سے مشہور ہوچکا ہے ۔ اسی بناء پر ہمارے مخالفین تیری مذمت کرتے ہیں ۔میں چاہتا ہوں کہ تجھ پر عیب لگاؤں تا کہ تجھ سے ان کا شر دور ہو ۔ جیسا کہ الله موسیٰ(ع) کے دوست عالم کی زبانی فرماتا ہے: اٴَمَّا السَّفِینَةُ فَکَانَتْ لِمَسَاکِینَ یَعْمَلُونَ فِی الْبَحْرِ فَاٴَرَدْتُ اٴَنْ اٴَعِیبَھَا وَکَانَ وَرَائَھُمْ مَلِکٌ یَاٴْخُذُ کُلَّ سَفِینَةٍ غَصْبًا --- ”کشتی کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ چند مسکینوں کی ملکیت تھی وہ اس سے دریا میں کام کرتے تھے ۔ میں نے اس میں اس لیے عیب اور نقص ڈال دیا کہ ایک بادشاہ ان کے پیچھے تھا اور وہ سب کشتیوں کو زبر دستی ہتھیار تھا“۔ اس مثال کو اچھی طرح سمجھ لے لیکن خدا کی قسم تو لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے چاہے وہ زندہ ہیں یا فوت ہوگئے ہیں ۔ تو اس موجزان دریا میں بہترین کشتی ہے اور ظالم غاصب بادشاہ تیرے پیچھے ہے جس کی بڑی گہری نظر ہے کہ بحرِ ہدایت میں سے کونسی صحیح و سالم کشتیاں گزرتی ہیں تاکہ انھیں غصب کر لے ۔ تم پر الله کی رحمت ہو زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ۔(2) (و) اعتراض کے ساتھ ساتھ حقیقتوں کا اعتراف۔ اس داستان کا ایک اور ہے ۔ حضرت موسیٰ(ع) نے تین بارنہ چاہتے ہوئے بھی اپنے عالم دوست سے کیے گئے عہد کو نظر انداز کردیا اور باوجود اس کے اس استاد کی جدائی انھیں سخت ناگوار تھی ہم اس تلخ حقیقت کے سامنے انھوں نے ہٹ دھری سے کام نہیں لیاء اور ان کے اقدام کو حق تسلیم کیا ۔ ان سے بڑی محبت اور خلوص کے عالم میں جدا ہوئے اپنے کام میں لگ گئے جبکہ اس دوستی اور رفاقت کے مختصر سے عرصے میں انھوں نے حقیقت کے عظیم خزانے جمع کر لیے تھے ۔ انسان کو نہیں چاہیے کہ آخر عمر تک اپنی آزمائش میں لگا رہے اور ایسے مستقل کے لیے اپنی زنذگی مو تجربہ گاہ نہ بنالے کہ جو ہرگز نہیں آئے گا ۔ جب انسان کسی ایک چیز کو چند مرتبہ آزمالے تو پھر اس کے نتیجے کے سامنے سر جھکادے ۔ (ز) ماں باپ کے ایمان کا اولاد کے لیے اثر بھی اس داستان کا ایک اہم سبق ہے ۔ حضرت خضر(ع) نے ایک نیک اور صالح باپ کی وجہ سے اس کی اولا کی اس قدر حمایت اپنے ذمہ لے لی کہ جس قدر ہوسکتی ۔ یعنی اولاد اپنے باپ کے ایمان باپ اور امانت کی وجہ سے سعادت مند ہوسکتی ہے اوراس کی نیکی فاہدہ اس کی اولاد کو پہنچ سکتا ہے ۔ چند ایک روایات میں ہم کہ وہم مرد صالح ان یتیموں کا باپ نہیں تھا بلکہ ان کے دور کے اجداد میں شمار ہوتا تھا(جی ہاں! عمل صالح کی تاثیر اس قدر ہے ۔)(3) اس کے صالح ہونے کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے اپنی اولاد کے لیے معنویت کے خزانے اور حکیمانہ پند نصائح بطور یادگار چھوڑے ۔ (ح) اس داستان کا ایک سبق یہ ہے کہ ماں باپ کو تکلیف پہنچانے سے عمر کم ہوجاتی ہے ۔ جب ایسی اولاد موت کی مستحق ہے کہ جس نے آئندہ ماں باپ کو تکلیف پہنچاناہے ان کے مقابلے میں سرکشی اور کفران اختیار کرنا ہے یا نہیں راہِ خدا سے منحرف کرنا ہے ۔ تو پھر اس اولاد کی کیفیت بارگاہ الٰہی میں کیا ہوگی کہ جو اس وقت مشغول گناہ ہے ۔ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے کہ عمر کی کمی اور ترک صلہ رحمی (خصوصاً ماں باپ کو تکلیف پہنچانے) کے درمیان قریبی رشتہ ہے ۔ ان میں کچھ روایات کا ذکر ہم اسی جلد میں سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۲۳ کے ذیل میں آئے ہیں ۔ (ط) اس داستان کا ایک درس یہ ہے کہ لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے ۔ بسا ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہمارے بارے میں نیکی کرتا ہے چونکہ ہم باطن کار سے آگاہ نہیں ہوتے اس لیے اُسے دشمن خیال کرتے ہیں اور اس پر بر ہم ہوتے ہیں ۔ خصوصاً ہم ان چیزوں کے بارے میں کم صبر اور بے حوصلہ ہوتے ہیں جنھیں نہیں جانتے ۔ البتہ یہ ایک فطری امر ہے کہ انسان ایسے امور کے بارے میں بے صبر ہوتا ہے کہ جن کا صرف ایک رخ اور ایک زاویہ اس کے سامنے ہوتا ہے ۔ بہر حال یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ تمام پہلووٴں کا مطالعہ کرنے کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے ۔ امیر اموٴمنین علی علیہ السلام سے بھی ایک حدیث مردی ہے، آپ(ع) نے فرمایا: الناس اعداء ماجھلوا انسان جس چیز کو نہیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ہیں ۔(4) اسی بناء پر لوگوں کی سطح علم و آگہی جس قدر بلند ہوگی مسائل سے ان کا برتاوٴ اتنا ہی منطقی ہوتا چلا جائے گا ۔ دوسرے لفظوں میں صبر کی بنیاد علم و آگہی ہے ۔ البتہ حضرت موسیٰ(ع) ایک لحاظ سے مضطرب اور ناراحت ہونے کا حق رکھتے تھے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان تینوں واقعات میں شریعت کے احکام کا بہت ساحصہ خطرے میں پڑگیا ہے ۔ پہلے واقعے میں لوگوں کا مال محفوظ نہیں رہا دوسرے میں جان محفوظ نہیں رہی اور تیسرے میں مسائل حقوق خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں ۔ دوسرے میں انھوں نے دیکھا کہ ظاہراً لوگوں کے حقوق کے ساتھ منطقی برتاوٴ نہیں ہوٴا لہٰذا کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ اس قدر پریشان ہوجائیں کہ اس عالم بزرگ سے باندھا عہد بھلادیں لیکن جب وہ باطن امر سے آگاہ ہوئے تو انھیں چین آگیا اور پھر کوئی اعتراض نہ کیا اور یہ بات خود اس امر کو واضح کرتی ہے کہ معاملات کے باطن سے مطلع نہ ہونا کس قدر پریشان کن ہے ۔ اس داستان سے ہم استاد اور شاگرد کے آداب بھی سیکھ سکتے ہیں ۔ اس عالم زبانی اور حضرت موسیٰ(ع) کے درمیان ہونے والی گفتگو سے استاد اور شاگرد کے درمیان آداب کے سلسلے میں بہت سے نکات سامنے آتے ہیں ۔ مثلاً: ۱۔حضرت موسی(ع) اپنے آپ کو حضرت خضر(ع)کے تابع قرار دیتے ہیں: اتبعک ۲۔اور اس پیروی اور اتباع کے لیے حضرت موسیٰ(ع) اپنے استاد سے اجازت طلب کرتے ہیں: ہل اتبعک ”کیا میں اپ کی اتباع کرسکتا ہوں؟“ ۳۔ حضرت موسیٰ(ع) اپنی احتیاج علم اور استاد کے صاحب علم ہونے کااقرار کرتے ہیں: علیٰ ان تعلمن تا کہ میں آپ سے علم حاصل کرسکوں ۔ ۴۔انکساری کا اظہار کرتے ہوئے حضرت موسیٰ(ع) اپنے استاد کا علم بہت زیادہ قرار دیتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ میں ت اس علم کا کچھ حصّہ حاصل کرنے حاضر ہوٴا ہوں ۔ لفظ”ممّا“اس کی دلیل ہے ۔ ۵۔ علم استاد کو علم الٰہی کے عنوان سے یاد کرتے ہیں (علمت) ۔ ۶۔ن سے ارشاد و ہدایت کی خواہش کرتے ہیں ( رشداً) ۔ ۷۔حضرت موسیٰ(ع) در پردہ اپنے استاد سے کہتے ہیں کہ جس طرح الله نے اپنے آپ پر لطف و کرم کیا ہے اور آپ کو تعلیم دی ہے آپ بھی مجھ پر یہ لطف کیجئے:(تعلمن ممّا علمت) ۸۔”ہل اتبعک“ سے یہ حقیقت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ شاگرد کو ا ستاد کے پیچھے جانا چاہیے نہ کہ استاد کو شاگرد کے پیچھے (سوائے خاص مواقع کے) ۔ ۹۔حضرت موسیٰ بہت مقام بلند اور عظیم مقام کے حامل تھے ۔ اولوالعزم نبی تھے اور صاحب رسالت و کتاب تھے اس کے باوجود انھوں نے اس انکساری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ان کا کردار ہر کسی سے کہہ رہا ہے کہ تو جو بھی ہے اور جو مقام بھی رکھتا ہے کسب علم و دانش کے موقع پر فروتنی اور انکساری سے کام لینا چاہیے ۔ ۱۰۔حضرت موسیٰ(ع) نے استاد سے عہد کرتے وقت قطعی اور یقینی لفظ استعمال نہیں کیے بلکہ کہا: ستجدنی انشاء الله صابراً انشاء الله آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ یہ الله کے حضور بھی ادب ہے اور استاد کے حضور بھی ۔ کہ خلاف ورزی ہوجائے تو استاد کی ہتک احترام نہ ہو ۔ ۱۱۔ اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اس عالم زبانی نے تعلیم و تربیت کے وقت انتہائی حلم و بردباری کا مظاہرہ کیا ۔ موسیٰ جب ہیجان و اضطراب کے عالم میں اپنا عہد بھول جاتے تھے اور اعتراض کرنے لگتے تھے تو وہ بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوالیہ انداز میں صرف اتنا کہتے تھے: میں نہ کہتا تھا کہ میرے کاموں پر تم صبر نہ کرسکوں گے ۔ 1۔ زرارہ اپنے زمانے کے بزرگ فقہاء اور محدثین میں شمار ہوتے تھے انھیں امام سے بہت محبت تھی اور امام(ع) کو ان سے بہت لگاوٴ تھا ۔ 2۔معجم رجال الحدیث، ج۷ ص ۲۲۷- 3۔نور الثقلین،ج ۳ ص ۲۸۹- 4۔ نہج البلاغہ، حکم ۱۷۲-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:79-82
سوره کهف / آیه 79 - 82
۷۹ اٴَمَّا السَّفِینَةُ فَکَانَتْ لِمَسَاکِینَ یَعْمَلُونَ فِی الْبَحْرِ فَاٴَرَدْتُ اٴَنْ اٴَعِیبَھَا وَکَانَ وَرَائَھُمْ مَلِکٌ یَاٴْخُذُ کُلَّ سَفِینَةٍ غَصْبًا ۸۰ وَاٴَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ اٴَبَوَاہُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِینَا اٴَنْ یُرْھِقَھُمَا طُغْیَانًا وَکُفْرًا ۸۱ فَاٴَرَدْنَا اٴَنْ یُبْدِلَھُمَا رَبُّھُمَا خَیْرًا مِنْہُ زَکَاةً وَاٴَقْرَبَ رُحْمًا ۸۲ وَاٴَمَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلَامَیْنِ یَتِیمَیْنِ فِی الْمَدِینَةِ وَکَانَ تَحْتَہُ کَنزٌ لَھُمَا وَکَانَ اٴَبُوھُمَا صَالِحًا فَاٴَرَادَ رَبُّکَ اٴَنْ یَبْلُغَا اٴَشُدَّھُمَا وَیَسْتَخْرِجَا کَنزَھُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ وَمَا فَعَلْتُہُ عَنْ اٴَمْرِی ذٰلِکَ تَاٴْوِیلُ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَیْہِ صَبْرًا ترجمہ ۷۹۔ ہاں وہ کشتی کی بات۔ تو وہ کچھ مسکین و غریب افراد کی تھی ۔ وہ اس سے دریا میں کام کرتے تھے ۔ میں نے چاہاکہ اس میں کوئی نقص ڈال دوں(کیونکہ)ایک ظالم بادشاہ ان کے پیچھے تھا کہ جو ہر کشتی کو زبر دستی ہتھیا رہا تھا ۔ ۸۰۔ رہا وہ لڑکا ۔ تو اس کے ماں باپ صاحب ایمان تھے ۔ ہم نے پسند نہیں کیا کہ وہ انھیں سرکشی اور کفر پر اکسائے ۔ ۸۱۔ ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے انھیں زیادہ پاک اور زیادہ پر محبت اولاد عطا کردے ۔ ۸۲۔ رہی اُس دیوار کی بات تو وہ اس شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی ۔ اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا ۔ ان کا باپ نیک اور صالح شخص تھا ۔ تیرا رب چاہتا تھا کہ وہ بالغ ہو کر اپنا خزانہ نکال لیں ۔ یہ تیرے پروردگار کی رحمت تھی ۔ میں نے یہ کام اپنی مرضی سے نہیں مرضی سے نہیں کیا اور یہ تھا ان کاموں کا راز کہ جن پر تو صبر کی تاب نہ رکھتا تھا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:79-82
۳۔ خود ساختہ افسانے
۳۔ خود ساختہ افسانے: حضرت موسی(ع) اور حضرت خضر(ع) کی داستان کی بنیاد وہی ہے کہ جو کچھ قرآن میں آیا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سے منسلک کر کے بہت سے افسانے گھڑلیے گئے ہیں ۔ ان افسانوں کو اس داستان کے ساتھ خلط ملط کرنے سے اصل داستان کی صورت بھی بگڑجاتی ہے ۔جاننا چاہئے کہ یہ کوئی پہلی داستان نہیں ہے جس کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہے اور بہت سی سچی داستانوں کے ساتھ یہی ہاتھ کیا گیا ہے ۔ لہٰذا حقیقت تک رسائی کے لیے قرآن کی ان تیئس آیتوں کو بنیاد قراردیا جانا چاہئے جن میں داستان بیان ہوئی ہے ۔ یہاں تک کہ احادیث کو بھی اسی صورت میں قبول کیا جاسکتا ہے جب وہ قرآن کے موافق ہوں ۔ اگر کوئی حدیث اس کے برخرخلاف ہو تو یقیناً وہ قابل قبول نہیں ہے اور خوش قسمتی سے معتبر احادیث میں ایسی کوئی حدیث نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:79-82
۴۔ کیا انبیاء کے لیے بھول چوک ممکن ہے؟
۴۔ کیا انبیاء کے لیے بھول چوک ممکن ہے؟ مندرجہ بالا واقعے میں ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھول گئے ۔ پہلے تو اس مچھلی کو جو انھوں نے کھانے کے لیے رکھی تھی ۔ دوسری اور تیسری مرتبہ آپ اپنے عالم دوست سے کیے گئے معاہدہ کو بھول گئے ۔ ان امور کو دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انبیاء کے لیے نسیاں ممکن ہے؟ بعض کا نظر یہ ہے کہ انبیاء سے ایسے نسیان کا صدور بعید نہیں ہے کیونکہ یہ دعوت نبوّت کی بنیاد اور اصول سے مربوط ہے اور نہ اس کی فروع ہے اور نہ ہی اس کا تعلق تبلیغ نبوت کے ساتھ ہے بلکہ اس کا تعلق صرف روز مرہ کی معمول کی زندگی سے ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جو کچھ مسلّم ہے یہ ہے کہ کوئی نبی نبوت کی دعوت اور اس سے متعلقہ امور میں ہرگز خطا و اشتباہ کا آشکار نہیں ہوتا اور ان کا مقام عصمت انھیں اس قسم کی چیزوں سے محفوظ رکھتا ہے لیکن اس میں کیا مانع ہے کہ موسی(ع) کو جو بڑے اشتیاق سے اس عالم کی تلاش میں جارہے تھے اپنے کھانے بھول گئے اور یہ ایک معمول کا مسئلہ ہے نیز اس میں کیا مانع ہے کہ کشتی میں سوراخ، نوجوان لڑکے کے قتل اور بخیلوں کے شہر کی دیوار کی بے وجہ تعمیر، جیسے بڑے واقعات نے ایسا ہیجان زدہ کیا کہ انھوں نے اپنے عالم دوست سے جو ذاتی عہد کیا تھا اسے بھول گئے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نہ ایک پیغمبر سے بعید ہے اور نہ مقام عصمت کے منافی ہے ۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ نسیان یہاں مجازی معنی میں یعنی ترک کرنے کے معنی میں آیا ہے کیونکہ انسان جب کسی چیز کو ترک کرتا ہے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اسے بھول گیا ہو اور اس کے بارے میں اس نے نسیان کیا ہو ۔حضرت موسی(ع) نے اپنی غذا کو اس لیے ترک کیا کیونکہ وہ اس بارے میں بے اعتناء تھے اور اپنے عالم دوست سے کیے ہوئے معاہدے کو انھوں نے اس لیے ترک کیا کیونکہ حوادث کو ظاہری حوالے سے دیکھنے کی وجہ سے اصلاً یہ بات ان کے لیے قابل نہ تھی کہ کوئی شخص بلاوجہ لوگوں کے جان و مال کو نقصان پہنچائے لہٰذا انھوں نے اعتراض کرنا اپنی ذمہ داری سمجھا اور ان کے نزدیک یہ معاہدے کا مقام نہ تھا ۔ لیکن واضح ہے کہ ایسی تفاسیر ظاہرِ آیات سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتیں(1) 1۔ یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ کسی نقلی دلیل کا ظہور مسلّم عقلی دلیل کے ساتھ ٹکرائے تو اس نقلی دلیل کی تاویل کی جائے گی مثلاً خدا کے بارے میں قرآن کی بہت سی آیات کا ظہور یہ ہے کہ وہ ہاتھ، آنکھیں، پہلو اور نفس رکھتا ہے یا معاذ الله وہ جسم رکھتا ہے لیکن چونکہ یہ امور اصول مسلمہ اور دلائل عقلیہ قطعیہ کے خلاف ہیں لہٰذا ان آیات کی تاویل کی جاتی ہے یعنی خلاف ظاہر معنی کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ معنی مجازی ہوتا ہے ۔ اسی طرح انبیاء، اور آئمہ(ع) کا مطلقاً معصوم ہونا عقلاً ضروری ہے لہٰذا اس کے خلاف ظہورات کی تاویل کی جانا چاہئے(مترجم) ۔