وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا
When Moses said to his lad, ‘I will go on [journeying] until I have reached the confluence of the two seas, or have spent a long time [travelling].’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:60
[Pooya/Ali Commentary 18:60] In these verses the Quran describes the meeting which took place between Musa and a chosen servant of Allah, whose name, as per Islamic traditions, was Khizr. Allah told Musa that if he wanted to see a more knowledgeable person then he should go to meet him at the place where the two seas come together. The sign for that meeting-place was that a fish would disappear in the water. Musa was the most learned man of his times, but even his wisdom did not comprehend everything. Therefore he was commanded by Allah to go in search of Khizr who would impart to him such knowledge as even he did not possess. To meet him Musa had to reach the junction of the two seas where he lived. The distance was very long. Huquba means a long space of time, sometimes it is limited to 80 years. Musa took Yusha, his attendant, with him. When they reached the junction of the two seas where the two arms of the Red Sea join together viz., the Gulf of Aqaba and the Gulf of Suez, they stopped and took rest. Yusha put the cooked fish on a nearby rock. While Yusha was looking on, the fish took its way into the sea in a strange manner. When they had passed the meeting-place, Musa felt hungry and asked Yusha to bring the fish. Then Yusha cursed the avowed enemy of man, Shaytan, who made him forget the mentioning of it to Musa. So they immediately turned back retracing their tracks and reached the meeting place where they found Khizr, a servant from among the servants of Allah, whom He had granted mercy and whom He had taught knowledge from Himself. Verses 66 to 77 describe the actions of Khizr, during their onward journey, which baffled Musa and forced him to question Khizr inspite of the warning Khizr gave to him in the beginning that he would not be able to bear patiently with the events he could not comprehend. In verses 79 to 82 Khizr explains to Musa the interpretation of his actions which he could not bear with patience. Musa learned from Khizr that the mysteries of life are diverse and countless. The finite mind cannot easily disentangle the web of secrets unless the all-wise Lord shows the way to have a glimpse of the unknown; that patience is essential to face the vicissitudes of life and to know the inner meanings of the external manifestations; that the working of the divine plan always brings good in the end; that in the larger interest of the human society the loss of a few lives is not a loss at all; and that good deeds should be done for the sake of good not for immediate return in terms of material gain. Aqa Mahdi Puya says: In verse 79 Khizr says: "I intended to damage it (the boat)"; in verse 81 he says: "We intended that their Lord would give them in exchange (a son) better in purity"; and in verse 82 he says: "So your Lord intended that they should attain their maturity." In the end he says: "I did it not of my own accord." The reason for taking the responsibility of damaging the boat in verse 79, is not to attribute such an act to Allah as a matter of courtesy. In verse 81 the slaying of the boy deprived him of his life but it was a service to his parents, therefore "we" is used. The deprivation refers to Khizr and the advantage refers to Allah. The act referred to in verse 82 is purely good, so it has been attributed to Allah exclusively. Khizr's statement is based upon the fact that every manifestation has a cause in the final analysis. In verse 79 he refers to himself as the causative agent; in verse 81 he takes the apparent and the real causes into consideration; and in verse 82 by stating that "he did not do anything" he discards human or any created agency and points towards the real author of all events. Whatever takes place is a divine blessing in disguise even if the manifestation is apparently not favourable to an individual or a group of individuals. The knowledge of even those who have received divine revelation is not all-encompassing, and is limited according to the excellence Allah bestowed on them as mentioned in verse 253 al Baqarah and explained in the commentary of Bani Israil: 1.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 18:60-70
Made bodily expressive.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:60-64
خضر(ع) اور موسی(ع) کی حیرت انگیز داستان
خضر(ع) اور موسی(ع) کی حیرت انگیز داستان مفسّرین نے ان آیات کی شان نزول کے بارے میں لکھا ہے کہ کچھ اہل قریش رسول الله کی خدمت میں آئے ۔ انھوں نے آپ سے اس عالم کے بارے میں سوال کیا کہ حضرت موسیٰ کوجس کی پیروی کا حکم دیا گیا تھا ۔ یہ آیات اسی ضمن میں نازل ہوئی ہیں ۔ اصولی طور اِس سورت کہف میں تین واقعات بیان ہوئے ہیں ۔ یہ تینوں ایک لحاظ سے ہم آہنگ ہیں ۔ پہلا واقعہ ذوالقرنین کے بارے میں ہے، حضرت موسی(ع) اور حضرت خضر(ع) کی داستان ہے، تیسرا واقعہ ذالقرنین کے بارے میں ہے جو بعد میں آئے گا ۔ یہ تینوں واقعات ہمیں ہماری اس محدود زندگی سے باہر نکالتے ہیں جس کے ہم عادی ہوچکے ہیں ۔ یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جہان اسی میں محدود نہیں کہ جو کچھ ہمیں لگتا ہے اور نہ ہی واقعات کی حقیقت بس وہی ہے جو ہمیں معلوم ہوتی ہے یا جو ہم سمجھتے ہیں ۔ بہر حال اصحاب کہف کا واقعہ ایسے جوانمردوں کی کہانی ہے کہ جنھوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے ہر چیز کو ٹھوکر مار دی ۔ حضرت موسی(ع) اور خضر(ع) کہ جو اس زمانے کے بڑے عالم تھے ان کاواقعہ بھی عجیب ہے ۔ یہ واقعہ نشاندہی کرتا ہے کہ حضرت موسی(ع) جیسے اولوالعزم پیغمبر کہ جو اپنے ماحول کے آگاہ ترین اور عالم ترین فرد تھے، بعض پہلووٴں سے ان کا علم محدود تھا لہٰذا وہ اس سے درس لیں ۔ استاد نے بھی ایسے درس دیئے کہ جن میں سے ہر ایک دوسرے سے عجیب تر ہے ۔ اس داستان میں بہت سے اہم نکات پوشیدہ ہیں ۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے دوست اور ساتھی جوان سے کہا کہ میں تو کوشش جاری رکھوں گا جب تک ”مجمع البحرین“تک نہ پہنچ جاؤں، اگر چہ مجھے یہ سفر لمبی مدت تک جاری رکھنا پڑے ( وَإِذْ قَالَ مُوسیٰ لِفَتَاہُ لَااٴَبْرَحُ حَتَّی اٴَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اٴَوْ اٴَمْضِیَ حُقُبًا) ۔ اس آیت میں ”موسیٰ“ سے مراد بلاشبہ وہی مشہور اولوالعزم پیغمبر حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں ۔ بعض مفسرین نے اس احتمال کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ مفسرین اس واقعے سے ابھرنے والے چند سوالات کاجواب تلاش نہیں کر پائے لہٰذا وہ مجبور ہوئے ہیں کہ کوئی اور موسیٰ فرض کریں حالانکہ قرآن نے جہاں کہیں ”موسیٰ“کی بات کی ہے وہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہی مراد ہیں ۔ بہت سے مفسرین اور بہت سی روایات کے مطابق آیت میں ”ِفَتَاہ“سے مراد ”یوشع بن نون“ ہیں ۔و ہ بنی اسرائیل کے رشید، شجاع اور با ایمان جوانمرد تھے ۔ ہوسکتا ہے اُن کے لیے لفظ ”فتیٰ“ (جوان) انہی برجستہ صفات کی بناء پر ہویا اس لیے کہ وہ حضرت موسیٰ(ع) کی خدمت کرتے تھے، ان کے ہمراہی اور ہم قدم تھے ۔ ”مجمع البحرین“ کا مطلب ہے دو دریاؤں کا سنگم۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ ”بحرین“ سے یہاں کون سے دو دریا ہیں ۔ اس سلسلے میں تین مشہور نظریے ہیں: ۱۔ خلیج عقبہ اور خلیج سویز کے ملنے کی جگہ۔ ہم جانتے ہیں کہ بحیرہ احمر دوحصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے ۔ ایک حصہ شمال مشرق کی طرف بڑھتا رہتا ہے اور دوسرا شمال مغرب کی طرف، پہلے حصے کو ”خلیج عقبہ“ کہتے ہیں اور دوسرے کو ”خلیج سویز“ اور یہ دونوں خلیجیں جنوب میں پہنچ کر آپس میں مل جاتی ہیں اور پھر بحیرہ احمر اپنا سفر جاری رکھتا ہے ۔ ۲۔ اس سے بحرِ ہند اور بحیرہ احمر کے ملنے کی طرف اشارہ ہے کہ جو ”باب المندب“ پر جا ملتے ہیں ۔ ۳۔ یہ بحیرہ روم اور بحرِ اطلس کے سنگم کی طرف اشارہ ہے کہ جو شہر طنجہ کے پاس جبل الطارق کا تنگ دہانہ ہے ۔ تیسری تفسیر تو بہت ہی بعید نظر آتی ہے کیونکہ حضرت موسیٰ(ع) جہاں رہتے تھے وہاں سے جبل الطارق کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اس زمانے میں حضرت موسیٰ اگر عام راستے سے وہاں جاتے تو کئی ماہ لگ جاتے ۔ دوسری تفسیر میں جس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے اس کا فاصلہ اگر چہ نسبتاً کم بنتا ہے لیکن اپنی حد تک وہ بھی زیاہ ہے کیونکہ شام سے جنوبی یمن کا فاصلہ بھی بہت زیادہ ہے ۔ پہلا احتمل زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جہاں رہتے تھے وہاں سے یعنی شام سے خلیج عقبہ تک کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہے ۔ ویسے بھی زیرِ نظر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) نے کوئی زیادہ سفر طے نہیں کیا تھا اگر چہ وہ مقصد تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ سفر کے لیے بھی تیار تھے (غور کیجئے گا) ۔ بعض روایات میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ نظر آتا ہے ۔ لفظ ”حقب“’ ’عرصہ د راز“ کے معنی میں ہے ۔ بعض نے اس کی ۸۰ سال سے تفسیر کی ہے ۔ اس لفظ سے حضرت موسیٰ(ع) کا مقصد یہ تھا کہ مجھے جس کی تلاش ہے میں اسے ڈھونڈھ کے رہوں گا چاہے اس مقصد کے لیے مجھے سالہا سال تک سفر جاری رکھنا پڑے ۔ جو کچھ سطورِ بالا میں کہا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) کو کسی نہایت اہم چیز کی تلاش تھی ۔ وہ اس کی جستجو میں در بدر پھر رہے تھے ۔ وہ عزم بالجزم اور پختہ ارادے سے اسے ڈھونڈھ رہے تھے ۔ وہ ارادہ کیے ہوئے تھے کہ جب تک اپنا مقصود نہ پالیں چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ حضرت موسیٰ(ع) جس کی تلاش پر مامور تھے اس کا آپ(ع) کی زندگی پر بہت گہرا اثر ہوا اور اس نے آپ(ع) کی زندگی کا نیا باب کھول دیا ۔ جی ہاں! وہ ایک مردِ عالم و دانشمند کی جستجو میں تھے ۔ ایسا عالم کہ جو حضرت موسیٰ(ع) کی آنکھوں کے سامنے سے بھی حجاب ہٹا سکتا تھا اور انھیں نئے حقائق سے روشناس کروا سکتا تھا اور ان کے لیے علوم و دانش کے تازہ باب کھول سکتا تھا ۔ ہم اس سلسلے میں جلد پڑھیں گے کہ اس عالمِ بزرگ کی جگہ معلوم کرنے کے لیے حضرت موسیٰ(ع) کے پاس ایک نشانی تھی اور وہ اس نشانی کے مطابق ہی چل رہے تھے ۔ بہر حال جس وقت وہ ان دو دریاؤں کے سنگم پر جا پہنچے تو ایک مچھلی کہ جوان کے پاس تھی اسے بھول گئے ( فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِھِمَا نَسِیَا حُوتَھُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیلَہُ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا) ۔(۱) یہ مچھلی جو ظاہراً ان کے پاس غذا کے طور پر تھی ۔ کیا بھونی ہوئی تھی اور اسے نمک لگا ہوا تھا یا یہ تازہ مچھلی تھی کہ جو معجزانہ طور پر زندہ ہوکر اچھل کر پانی میں جا کر تیرنے لگی ۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔ بعض کتب تفاسیر میں یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں آبِ حیات کا چشمہ تھا ۔ اس کے کچھ قطرات مچھلی پر پڑگئے جس سے مچھلی زندہ ہوگئی ۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ مچھلی ابھی پوری طرح مری نہ تھی کیونکہ بعض مچھلیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو پانی سے نکلنے کے بعد بہت دیر تک نیم جاں صورت میں رہتی ہیں اور اس مدت میں پانی میں گر جائیں تو ان کی معمولی کی زندگی پھر شروع ہوجاتی ہے ۔ آخر کار موسیٰ(ع) اور ان کے ہمراہی دو دریاؤں کے سنگم سے آگے نکل گئے تو لمبے سفر کے باعث انھیں خستگی کا احساس ہوا اور بھوک بھی ستانے لگی ۔ اس وقت موسیٰ(ع) کو یاد آیا کہ غذا تو ہم ہمراہ لائے تھے لہٰذا انھوں نے اپنے، ہمسفر دوست سے کہا ہمارا کھانا لائیے ۔ اس سفر نے بہت تھکادیا ہے (فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاہُ آتِنَا غَدَائَنَا لَقَدْ لَقِینَا مِنْ سَفَرِنَا ھٰذَا نَصَبًا) ۔ ”غَدَاء“نا شتے کو یادد دو پہر کے کھانے کو کہتے ہیں لیکن کتبِ لغت میں جو تعبیرات آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ زمانے میں ”غَدَاء“ صرف اس کھانے کو کہتے تھے جو دن کی ابتداء میں کھایا جاتا تھا کیونکہ یہ لفظ ”غَدَوة“ سے لیا گیا دن کے آغاز کے معنی میں ہے جبکہ موجودہ عربی زبان میں”غَدَاء“ ا ور ”تغدی“ د ن یا دن کے کھانے کو کہتے ہیں ۔ بہر حال یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) اور حضرت یوشع(ع) نے اتنا راستہ طے کرلیا تھا کہ جس پر سفر کا اطلاق ہوتا تھا لیکن یہی تعبیرات نشاندہی کرتی ہیں کہ سفر کچھ زیادہ طولانی نہ تھا ۔ اس وقت ”ان کے ہمسفر نے انھیں خبردی کہ آپ کو یاد ہے کہ جب ہم نے اس پتھر کے پاس پناہ لی تھی (اور آرام کیا تھا) تو مجھے مچھلی کے بارے میں بتانا یاد نہ تھا اورشیطان ہی تھا جس نے یہ بات مجھ بھلادی تھی ۔ ہوا یہ کہ مچھلی نے بڑے حیران کن طریقے سے دریا کی راہ لی اور پانی میں چلتی بنی “(قَالَ اٴَرَاٴَیْتَ إِذْ اٴَوَیْنَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَإِنِّی نَسِیتُ الْحُوتَ وَمَا اٴَنْسَانِی إِلاَّ الشَّیْطَانُ اٴَنْ اٴَذْکُرَہُ وَاتَّخَذَ سَبِیلَہُ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا) ۔(2) یہ معاملہ چونکہ موسیٰ(ع) کے لیے اس عالمِ بزرگ کو تلاش کرنے کے لیے نشانی کی حیثیت رکھتا تھا لہٰذا ”موسیٰ(ع) نے کہا: یہی تو ہمیں چاہئے تھا اور یہی چیز تو ہم ڈھونڈتے پھرتے تھے“( قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ) ۔ اور اُس وقت وہ تلاش کرتے ہوئے اسی راہ کی طرف پلٹے (فَارْتَدَّا عَلیٰ آثَارِھِمَا قَصَصًا) ۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) جیسے پیغمبر نسیاں کا شکار ہوجائیں کیونکہ قرآن کہتا ہے: ”نسیا حوتہما“ وہ دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے ۔ علاوہ ازیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ(ع) کے ہمسفر نے اپنی بھول کی نسبت شیطان کی طرف کیوں دی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ جن مسائل کا تعلق احکام ِ الٰہی اور امورِ تبلیغی سے نہ ہو یعنی روز مرّہ کے عام مسائل ہوں ان میں نسیاں ہوجائے (خصوصاً ایسے موقع پر جہاں معاملے کا تعلق آزمائش سے ہو جیسا کہ اس موقع پر حضرت موسیٰ(ع) کے لیے کہا جاتا ہے ۔ اس کی تشریح بعد میں آئے گی) ۔(3) باقی رہا آپ کے ہمسفر کا نسیاں کی نسبت شیطان کی طرف دینا ۔ تو ممکن ہے یہ اس بناء پر ہو کہ مچھلی کا معاملہ اس عالمِ بزرگ کو پانے اور اس کی ملاقات سے مربوط تھا اور چونکہ شیطان ہر نیکی میں حائل ہونے کی کوشش کرتا ہے لہٰذا چاہا کہ اس ملاقات میں انھیں دیر ہوجائے اور شاید اس کی بنیاد خود یوشع کی طرف سے پڑی ہوکہ اس کام میں جس قدر اہتمام اور احتیاط ضروری تھی وہ انھوں نے نہ کی ہو ۔ ۱۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ”سرب“ (بروزن ”جرب“) نشیب کی طرف جانے کے معنی میں ہے اور ”سرب“ (بروزن ”جرب“) نشیبی راستے کے معنی میں ہے ۔ 2۔ ”وَمَا اٴَنْسَانِی إِلاَّ الشَّیْطَانُ اٴَنْ اٴَذْکُرَہُ“۔ یہ جملہ معترضہ ہے کہ جو بات کے بیچ میں آگیا ہے ۔ یہ جملہ در حقیقت بھول جانے کی علت بیان کررہا ہے اس لیے درمیان میں آگیا ہے ۔ خصوصاً ایسے اشخاص کہ جنھیں کسی بزرگ تر شخصیت کی طرف سے عتاب و خطاب ہو رہا ہو معمولاً وہ علتِ اصلی کو اپنی گفتگو کے بیچ میں جملہ معترضہ کی صورت میں ذکر کر دیتے ہیں تاکہ اعتراض کم ہوجائے ۔ 3۔ یہ جواب اطمیان بخش نہیں ہے، خصوصاً شیعہ مسلک کے حوالے سے (مترجم) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:60-64
سوره کهف / آیه 60 - 64
۶۰ وَإِذْ قَالَ مُوسیٰ لِفَتَاہُ لَااٴَبْرَحُ حَتَّی اٴَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اٴَوْ اٴَمْضِیَ حُقُبًا ۶۱ فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِھِمَا نَسِیَا حُوتَھُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیلَہُ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا ۶۲ فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاہُ آتِنَا غَدَائَنَا لَقَدْ لَقِینَا مِنْ سَفَرِنَا ھٰذَا نَصَبًا ۶۳ قَالَ اٴَرَاٴَیْتَ إِذْ اٴَوَیْنَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَإِنِّی نَسِیتُ الْحُوتَ وَمَا اٴَنْسَانِی إِلاَّ الشَّیْطَانُ اٴَنْ اٴَذْکُرَہُ وَاتَّخَذَ سَبِیلَہُ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا ۶۴ قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلیٰ آثَارِھِمَا قَصَصًا ترجمہ ۶۰۔ وہ وقت یاد کرو کہ جب موسیٰ نے اپنے دوست سے کہا کہ میں تلاش جاری رکھوں گا جب تک کہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاوٴں ۔ اگر چہ اس کے لیے مجھے طویل عرصے تک سفر جاری رکھنا پڑے ۔ ۶۱۔جس وقت وہ ان دو دریاوٴں کے سنگم پر پہنچے تو انھیں اپنی مچھلی کا خیال نہ رہا (کہ جو انھوں نے پکا کر کھانے کے لئے رکھی تھی)اور وہ نکل بھاگی ۔ ۶۲۔آگے جا کر موسیٰ نے اپنے، ہمسفر دوست سے کہا: لاوٴ ہما را کھانا لے آوٴ، ہم اس سفر سے بہت تھک گئے ہیں ۔ ۶۳۔اس نے کہ آپ کو یاد ہے کہ جب نے اس پتھر کے پاس پناہ لی (اور آرام کیا) تو میں مچھلی کے بارے میں بتانا بھول گیا تھا اور یہ بات شیطان نے میرے ذہن سے نکال دی تھی اور مچھلی عجیب طریقے سے دریا کی طرف چلتی بنی ۔ ۶۴۔ (موسیٰ نے) کہا: اسی تو ہم ڈھونڈھ رہے تھے ۔ پھر وہ اسے تلاش کرتے ہوئے اسی راستے سے واپس آئے ۔