فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا
You are liable to imperil your life out of grief for their sake, if they should not believe this discourse.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:6
[Pooya/Ali Commentary 18:6] (see commentary for verse 1)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:6-8
سوره کهف / آیه 6 - 8
۶ فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ عَلیٰ آثَارِھِمْ إِنْ لَمْ یُؤْمِنُوا بِھٰذَا الْحَدِیثِ اٴَسَفًا ۷ إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاٴَرْضِ زِینَةً لَھَا لِنَبْلُوَھُمْ اٴَیُّھُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلًا ۸ وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَیْھَا صَعِیدًا جُرُزًا ترجمہ ۶۔ اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم غم کے مارے اپنی جان دے بیٹھو گے ۔ ۷۔ جو کچھ روئے زمین پر ہے اسے ہم نے اس کی زینت قرار دیا ہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ بہتر عمل ان میں کون کرتا ہے ۔ ۸۔ (لیکن یہ زیب و زینت پائدار نہیں ہے)اور آخر کار ہم روئے زمین کو چٹیل میدان بنادیں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:6-8
غم نہ کرو ۔ یہ دنیا آزمائش گاہ ہے
غم نہ کرو ۔ یہ دنیا آزمائش گاہ ہے گزشتہ آیات میں رسولِ اکرم کی رسالت اور رہبری کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر نظر پہلی آیت میں رہبری کی ایک نہایت اہم شرط کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے ہمدردی اور غمخواری۔ ارشاد ہوتا ہے: گویا تو اس شدت غم میں اپنی جان دے بیٹھے گا کہ یہ لوگ آسمانی کتاب پر ایمان نہیں لاتے (فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ عَلیٰ آثَارِھِمْ إِنْ لَمْ یُؤْمِنُوا بِھٰذَا الْحَدِیثِ اٴَسَفًا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:6-8
چند توجہ طلب نکات
چند توجہ طلب نکات ۱۔ ”باخع“کا مفہوم: ”باخع“”بخع“(بروزن ”نخل“)کے مادہ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے اپنے آپ کو شدتِ غم سے مارڈالنا ۔ ۲۔ ”اسفاً“کا مطلب: ”اسفا“غم و اندوہ کی شدت ظاہر کرتا ہے ۔ یہ لفظ یہاں اس امر کی تاکید کے لیے ہے ۔ ۳۔ ”اٰثار“کا معنی: ”اٰثار“”اثر“کی جمع ہے ۔ یہ در اصل نشان پاکے معنی میں ہے لیکن کسی چیز کی جو علامت باقی رہ جائے اسے بھی ”اثر“کہتے ہیں ۔ یہاں اس لفظ کا استعمال ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ وہ یہ کہ کبھی انسان ایک جگہ سے چلا جاتا ہے ۔ کچھ دیر تو اس کے آثار باقی رہتے ہیں لیکن زیادہ وقت گزرجائے تو آثار بھی محو ہوجاتے ہیں یعنی تو ان کے ایمان نہ لانے سے اس قدر پریشان ہے کہ ان کے آثار محو ہونے سے پہلے تو اپنے اُ کو غم و اندوہ سے مار ڈالے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ”آثار“سے مراد ان کے آثار و کردار ہوں ۔ ۴۔ قرآن کے لیے لفظ ”حدیث“: قرآن کو ”’حدیث“کہنا اس کتاب کے تازہ نزول کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی وہ اتنی زحمت بھی نہیں کرتے کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں کہ جو تازہ نازل شدہ ہے اور جس کے مظامین نئے ہیں ۔ یہ انتہائی بے خبری کی دلیل ہے کہ انسان کسی نئی چیز کے پاس سے لاپرواہی سے گزر جائے ۔ ۵۔ غمخوار ہادی: آیاتِ قرآن اور تاریخ سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی رہبر لوگوں کی گمراہی پر کسی کے تصور سے زیادہ دکھی ہوتے تھے ۔ ان کی آرزو تھی کہ لوگ ایمان لے آئیں چونکہ وہ دیکھ رہے ہوتے تھے کہ لوگ پیاسے ہیں، صاف و شفاف چشمے کے پاس بیٹھے ہیں اور پھر بھی پیاس کی شدت سے فراد کناں ہیں ۔ ہادیاں برحق اس حالت پر پریشان ہوتے،آنسو بہاتے، دعا کرتے اور رات دن کوشش کرتے تھے ۔ چھپ چھپا کر بھی تبلیغ کر بھی تبلیغ کرتے ۔ کھلے بندوں بھی پیغامِ حق پہنچاتے ۔خلوت و جلوت میں فرد اور اجتماع کو دعوت دیتے ۔ اس بات پر بہت ملول ہوتے کہ لوگوں نے سیدھی راہ کو چھوڑ کر ٹیڑھا راستہ اختیار کرلیا ہے ۔ ان کے اندوہ کا یہ عالم ہوتا کہ کبھی ایسا لگتا کہ وہ اس غم میں جان دے بیٹھیں گے ۔ واقعاً رہبر جب تک ایسا غمخوار نہ ہو رہبری کا عمیق مفہوم عملی جامہ نہیں پہن سکتا ۔ بعض اوقات غم کی یہ حالت اس قدر شدید ہوجاتی کہ خود رسول اللہ کی جان خطرے میں پڑجاتی اور ایسے میں اللہ تعالیٰ ان کی لجوئی کرتا ہے اور انہیں تسلی دیتا ۔ سورہ شعراء کی آیہ ۳ اور ۴ میں ہے: <لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ اٴَلاَّ یَکُونُوا مُؤْمِنِینَ إِنْ نَشَاٴْ نُنَزِّلْ عَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاءِ آیَةً فَظَلَّتْ اٴَعْنَاقُھُمْ لَھَا خَاضِعِینَ تو تو گویا اپنی جان دے ڈالے گا کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے ۔ غم نہ کر، ہم نے انہیں فاعلِ مختار بنایا ہے اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان کو ایسی آیت بھیجتے کہ ان کی گردن بلا اختیار اس کے سامنے جھک جاتی۔ اگلی آیت میں اس عالم کی کیفیت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا انسانوں کے لیے میدان آزمائش ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ روئے زمین پر ہے اسے ہم نے اس کی زینت قرار دیا ہے (إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاٴَرْضِ زِینَةً لَھَا)۔ہم نے دنیا کو حسین بنایا ہے ۔ اس کا ہر گوشہ دل کو کھینچتا ہے، نگاہوں کو دعوت دیدار دیتا ہے اور انسان میں مختلف احساسات کو ابھارتا ہے ۔ جذبات کی یہ کشاکش، خوبصورت چیزوں کی یہ چمک دمک اور دلربا چہروں کی یہ جاذبیت انسان کے لیے آزمائش ہے ۔ انسان کا ایمان، ارادے کی قوت اور معنویت فضیلت ہر چیز کا امتحان ہوجاتا ہے ۔ لہٰذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے: تاکہ انہیں آزمائیں کہ ان میں سے بہتر عمل کون انجام دیتا ہے ( لِنَبْلُوَھُمْ اٴَیُّھُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلًا)۔ بعض مفسرین نے ”ما علی الارض“کا مفہوم علماء میں محدود کرنا چاہا ہے ۔ بعض نے اس سے صرف مرد مراد لیے ہیں اور کہا ہے کہ زمین کی زینت یہی ہیں لیکن اس لفظ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں روئے زمین کی تمام موجودات شامل ہیں ۔ یہ باتت جاذب نظر ہے کہ یہاں ”احسن عملاً“کی تعبیر استعمال ہوئی ہے نہ کہ ”اکثر عملاً“کی۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں حسن عمل اور عمل کی اعلیٰ کیفیت کی قدر و قیمت ہے نہ مظاہر سے دل لگانے کی بجائے حسن عمل کے بارے میں سوچیں ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: یہ پائدار نہیں ہے اور آخر کار نابود ہوجائے گی اور ہم روئے زمین کی تمام چیزوں کو ختم کردیں گے ”اور صفحہ ارض کو چٹیل میدان میں بدل کے رکھ دیں گے“(وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَیْھَا صَعِیدًا جُرُزًا)۔ ”صعید“”صعود“کے مادہ سے ہے ۔ یہاں سطح زمین کے معنی میں ہے ۔ وہ سطح کہ جس میں مٹی پوری طرح نمایاں ہو ”جزر“اس زمین کو کہتے ہیں جس میں گھاس نہ اگتی ہو، گویا وہ اپنی گھاس کو کھا جاتتی ہو ۔ دوسرے لفظوں میں ”جرز“اس زمین کو کہتے ہیں کہ خشک سالی کی وجہ سے جس کے پودے ختم ہوگئے ہوں ۔ جی ہاں! یہ حسین اور دل انگیز مناظر کہ جو فصلِ بہار میں صحراؤں اور کوہساورں کے دامن میں دکھائی دیتے ہیں، پھولوں کی مسکراہٹیں، جھومتے ہوئے شجر، سر گوشیاں کرتے ہوئے پتے، ندی نالوں کے زمزے سب فصل خزاں میں ختم ہوجاتے ہیں پتے مرجھا جاتے ہیں اور زندگی کی آواز چپ ہوجاتی ہے ۔ انسانوں کی رنگین زندگی کا بھی یہی عالم ہے ۔ یہ محل اور یہ فلک بوس عمارتیں، یہ رنگارنگ لباس یہ گوناں گوں نعمتیں، یہ خدّام اور یہ مقام و منصب سب ختم ہوجانے والی چیزیں ہیں ۔ ایک دن ایسا آئے گا کہ خشک و خاموش قبرستان کے سوا کچھ باقی نہیں ہوگا، اور یہ ایک بہت بڑا درسِ عبرت ہے ۔