وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا
When We said to the angels, ‘Prostrate before Adam,’ they prostrated, but not Iblis. He was one of the jinn, so he transgressed against his Lord’s command. Will you then take him and his offspring for guardians in My stead, though they are your enemies? How evil a substitute for the wrongdoers!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:50
[Pooya/Ali Commentary 18:50] Refer to the commentary of al Baqarah: 34; Hijr: 28 to 31 and Bani Israil: 61.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 18:50-53
Self-will on self-opinion disregards Divine Commands resulting in condemnation of Hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:50-53
۱۔ کیا شیطان فرشتہ تھا؟
۱۔ کیا شیطان فرشتہ تھا؟ ہم جانتے ہیں کہ فرشتے معصوم ہیں ۔ قرآن نے ان کی پاکیزگی اور عصمت کا ذکر کیا ہے ۔ ارشاد الٰہی ہے: <بَلْ عِبَادٌ مُکْرَمُونَ ، لَایَسْبِقُونَہُ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بِاٴَمْرِہِ یَعْمَلُونَ وہ خدا کے محترم و مکرم بندے ہیں ۔ کسی بات میں اس پر سبقت نہیں کرتے اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔(انبیاء۲۶،۲۷) اصولی طور پر ان کے جوہر میں عقل ہے اور شہوت نہیں ہے لہٰذا تکبر، خود پرستی اور گناہ پر اکسانے والی کوئی چیز ان میں نہیں ہے ۔ مندرجہ بالا آیات میں کہا گیا ہے کہ ابلیس کے سوا سب فرشتوں نے سجدہ کیا ۔ اسی طرح کا ذکر دوسری آیات میں بھی ہے ۔اس استثناء سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا جبکہ اس کی نافرمانی اور سرکشی پر نظر کی جائے تو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی فرشتہ گناہان کبیرہ کا مرتکب ہو ۔ خصوصاً جبکہ نہج البلاغہ کے بعض خطبات میں بھی ہے کہ:- (ما کان الله سبحانہ لیدخل الجنة بشرا با امرا خرج بہ منھا ملکا) ہر گز ممکن نہیں ہے کہ الله انسان کو ایسا کام کرنے پر بہشت میں بھیج دے جیسا کام کرنے پر اس نے ایک فرشتے کو بہشت سے نکال دیا تھا یہ ابلیس کے غرور کی طرف اشارہ ہے ۔ زیر نظر آیات نے اس سوال کو حل کردیا ہے ۔ ارشاد ہواتاہے: ”کان من الجن“ ابلیس جنوں کے گروہ میں سے تھا ۔ جن ایسے موجودات ہیں جو ہماری نظروں سے پنہان ہیں ۔ وہ عقل و شعور بھی رکھتے ہیں اور شہوت و غضب بھی ۔ ہم جانتے ہیں کہ لفظ ”جنّ“ قرآن میں جہاں کہیں بھی آیا ہے اسی مخلوق کی طرف اشارہ ہے ۔ بعض مفسرین کہ جن کا نظریہ ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا وہ زیر بحث آیت میں آنے والے لفظ”جنّ “ کا لغوی معنی لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”کان من الجن“سے مراد یہ ہے کہ ابلیس دیگر فرشتوں کی طرح نظروں سے پنہاں تھا ۔ حالانکہ یہ معنی بالکل خلاف ظاہرِ قرآن ہے ۔ ہماری دعویٰ کے ثبوت میں سے واضح دلیل یہ ہے کہ قرآن ایک طرف سے کہتا ہے: <وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ جنّ کوہم نے آگ کے مخلوق شعلے سے پیدا کیا(رحمٰن۔۱۵) دوسری طرف سے جس وقت ابلیس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس سر کشی کے لیے یہ منطق پیش کی: <خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ میری تخلیق تو نے آگ سے کی اور اسے تو نے مٹی سے بنایا ہے ۔(اعراف۔۱۲) اس سے قطع نظر بحث آیات میں ابلیس کی”ذریہ“(اولاد)کا ذکر ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ فرشتوں کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ۔ جو کچھ کہا گیا ہے اسے ملحوظ نظر رکھا جائے اور فرشتوں کے جوہر ساخت کو بھی پیش نگاہ رکھا جائے تو مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابلیس ہرگز فرشتہ نہیں تھا لیکن چونکہ ان کی صف میں شامل ہو گیا تھا اور اس نے الله کی اتنی عبادت کی تھی کہ مقربِ خدا، فرشتوں کے مقام تک جا پہنچا تھا لہٰذا جب آدم کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا تو وہ بھی شامل تھا ۔ اس لیے آیاتِ قرآن میں اس کی نافرمانی کا ذکر استثناء کی صورت میں آیا ہے نیز خطبہ قاصعہ میں اسے ”ملک“ مجازی طور پر کہا گیا ہے(غور کیجیے گا) ۔ ”عیون الخبار“ میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے:سب فرشتے معصوم ہیں اور لطف پروردگار سے کفر اور برائیوں سے محفوظ ہیں ۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا:تو کیا ابلیس فرشتہ نہیں تھا؟ امام نے فرمایا:نہیں جنّوں میں سے تھا ۔ کیا تو نے ا لله کا یہ ارشاد نہیں اسنا کہ وہ فرماتا ہے: <وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِاسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ کَانَ مِنَ الْجِن جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا اور وہ جنوں میں سے تھا ۔(1) ایک اور حدیث میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے ایک خاص صحابی میں نے اما م سے ابلیس بارے میں استفسار کیا کہ وہ فرشتوں میں سے تھا ؟ آپ(ع) نے فرمایا:نہیں وہ تو جنّوں میں سے تھا لیکن فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور اس سے ان کے ساتھ تھا کہ وہ(اس کی عبادت اور قرب الٰہی کے سبب) سمجھتے تھے کہ وہ انہی کی نوع میں ہے لیکن خدا جانتا تھا کہ وہ ان میں سے نہیں ہے ۔ جس وقت سجدے کا حکم ہوا تو یہ بات ظاہر ہوئی (پردے ہٹ گئے اور ابلیس کی ماہیت و حقیقت آشکار ہوگئی) ۔(2) ابلیس اور شیطان کے بارے میں ہم نے سورہٴ اعراف کی آیت ۱۱ تا ۱۸ (تفسیر نمونہ۶(۹۵)اردو ترجمہ)اور سورہٴ انعام کی آیت ۱۱۲ (تفسیر نمونہ۵ (۳۲۶) اردو ترجمہ)اور سورہٴ بقرہ کی آیت ۳۴ (تفسیر نمونہ جلد اوّل (۱۶۶) اردو ترجمہ)کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے ۔ (1)(2)نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۶۷-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:50-53
۲۔ گمراہوں کو تعاون کی دعوت نہیں دینا چاہئیے
۲۔ گمراہوں کو تعاون کی دعوت نہیں دینا چاہئیے: زیر نظر آیات میں الله کے بارے میں گفتگو ہے اور گمراہوں میں سے اس کے لیے یاور و مددگار کی نفی کی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اصولی طور پر الله کسی معین و مددگار کا محتاج نہیں، چاہے کوئی گمراہ ہو یا نہ ہو لیکن یہ سب کے لیے ایک عظیم درس ہے کہ اجتماعی کاموں میں ہمیشہ ایسے لوگوں کی مدد حاصل کی جائے کہ جو خود بھی حق و عدالت کے راستے پر ہوں اور طلب اعانت کرنے والا بھی صحیح راستہ کے لئے مدد چاہے ۔ ہم نے بہت دیکھا ہے کہ نیک افراد نے معاونین کے انتخاب کے وقت صحیح توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں بہت سی مشکلات، ناکامیوں اور انحراف سے دوچار ہوئے ہیں ۔ انھیں گمراہوں اور گمراہ والوں نے گھیر لیا ہے اور یہ لوگ ان کے کام کو تباہی کی طرف لے گئے ہیں ۔ آخر کار ایسے لوگوں نے ان کا سب کچھ بر باد کردیا ہے ۔ واقعہٴ کربلا میں ہے کہ دَورانِ راہ سرورِ شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی ملاقات عبید الله بن حر سے ہوگئی ۔ امام(ع)، عبیدالله سے ملنے کے لیے گئے تو اس نے آپ(ع) کا بہت احترام کیا لیکن جب امام(ع) نے اسے مدد کی دعوت دی تو اس نے قسم کھا کرکہا کہ میں تو کوفے سے اسی لیے نکلاہوں کہ اس جنگ سے کنارہ کش ہوجاوٴں ۔ اس نے مزید کہا: میں جانتا ہوں کہ اگر ان لوگوں سے آپ نے جنگ کی تو سب سے پہلے آپ(ع) ہی مارے جائیں گے ۔ البتہ یہ تلوار اور گھوڑا آپ(ع) کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔ امام(ع) نے اس سے منہ پھیر لیا اور فرمایا:جب تو اپنی جان بچاتا ہے تو ہمیں تیرے مال کی ضرورت نہیں ۔ پھیر آپ(ع) نے اس آیت کی تلاوت کی:<وَمَا کُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّینَ عَضُدًا یہ اس طرف اشارہ تھا کہ تو گمراہ کنندہ ہے لہٰذا تو اس قابل نہیں کہ تیرا یہ تعاون قبول کیا جائے ۔(1) بہر حال دوست اور مددگار کا نہ ہونا برے لوگوں سے مددلینے اور انھیں اپنے گرد جمع کر لینے سے بہتر ہے ۔ (1) نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۶۸-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:50-53
شیطانوں کو اپنا سر پرست نہ بناؤ
شیطانوں کو اپنا سر پرست نہ بناؤ قرآن میں کئی مقامات پر خلقتِ آدم(ع) کی داستان بیان ہوئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ فرشتوں نے انھیں سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکمِ خدا کی مخالفت کی ۔ جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں یہ تکرار ہمیشہ کسی مقصد کے پیش نظر ہے اور ہر موقع پر کوئی خاص نکتہ پنہاں ہوتا ہے ۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ کسی ایک اہم واقعے کے مختلف پہلوہوں اور جب بھی اس واقعے کا ذکر ہو تو کوئی ایک پہلو ملحوظ نظ ہو ۔ گزشتہ مباحث میں مستکبر و مغرور دولت مندوں کے بارے میں ایک مثال بیان کی گئی ہے ۔ اس مثال میں تہی دست مستضعفین کے بارے میں ان کے خیالات بیان کیے گئے ہیں اور پھر ان کے انجام کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ در اصل روزِ اوّل سے غرور و تکبر ہی انحراف، کفر اور سر کشی کی بنیاد رہا ہے لہٰذا زیرِ بحث آیات میں ابلیس کا ذکر ہے کہ اُس نے حضرت آدم(ع) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا ۔ اس امر کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ شروع ہی سے غرور و تکبر کفر و سرکشی کا سرچشمہ رہا ہے ۔ علاوہ ازیں اس داستان سے واضح ہوتا ہے کہ انحرافات کا باعث شیطانی وسوسے ہیں اور اس کے وسوسوں کے سامنے سر جھکا دینا کس قدر احمقانہ حرکت ہے کہ جس نے پہلے دن ہی سے ہماری دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ دن یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نافرمانی کی ( وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ) ۔ اس استثناء سے ہو سکتا ہے یہ وہم پیدا ہو کہ ابلیس فرشتوں میں سے ہے حالانکہ فرشتے معصوم ہیں لہٰذا اس نے کیونکر سرکشی کی ۔ اس لیے ساتھ فرمایا گیا ہے: وہ جنّوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کی اطاعت سے نکل گیا (کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اٴَمْرِ رَبِّہِ) ۔ وہ فرشتوں میں سے نہیں تھا لیکن اللہ کی بندنگی، اطاعت اور قرب کی وجہ سے اس نے فرشتوں کی صف میں جگہ پالی تھی ۔ یہاں تک کہ شاید ان کا استاد ہوگیا تھا لیکن لمحہ بھر کے غرور، تکبر نے اسے ایسا گرایا کہ اُس کا تمام تر روحانی مقام جاتا رہا اور بارگاہِ خدا سے ٹھکرادیا گیا اور وہ خدا کے نزدیک سب سے بڑھ کر قابلِ نفرت ہوگیا ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: کیا اِس کے باوجود تم میری بجائے اسے اور اس کی اولاد کو اپنا سرپرست بناتے ہو (اٴَفَتَتَّخِذُونَہُ وَذُرِّیَّتَہُ اٴَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِی) ۔حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں (وَھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ) ۔ اُس نے تمھاری گمراہی اور تباہی کے لیے قسم کھارکھی ہے اور تمھارے باپ کے بارے میں اس کی دشمنی پہلے روز ہی آشکار ہوگئی تھی ۔ خدا کے بدلے شیطان اور اس کی اولاد کو اپنانا کتنا بُرا ہے (بِئْسَ لِلظَّالِمِینَ بَدَلًا) ۔(۱) واقعاً کس قدر بُری بات ہے کہ انسان عالم و آگاہ، رحیم و مہربان اور فیض رساں خدا کو چھوڑ کر شیطان اور اس کے حواریوں کو اپنا لے ۔ یہ بدترین انتخاب ہے، کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک عقلمند انسان ایسے کو اپنا ولی، راہنما اور سہارا سمجھ لے کہ جس نے روزِ اول سے اس کی دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے ۔ اگلی آیت میں اس غلط خیال کے ابطال کے لیے ایک اور دلیل پیش کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: آسمانوں اور زمین کی خلقت کے وقت ہم نے ابلیس اور اولادِ ابلیس کو نہیں بلایا یہاں تک کہ ان کی اپنی تخلیق کے وقت بھی انھیں شریک نہیں کیا (مَا اٴَشْھَدْتُھُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَلَاخَلْقَ اٴَنفُسِھِمْ) ۔ کیونکہ اِس عالم کی خلقت میں ان کی مدد درکار تھی اور نہ اُنھیں آگاہ کیا جانا ضروری تھا ۔ لہٰذا جس کا اس عالم کی آفرینش سے کوئی تعلق ہے اور نہ اپنی تخلیق میں کوئی دخل ہے اور نہ رموزِ خلقت کی جسے کچھ خبر ہے وہ ولایت و پرستش کے لائق کیسے ہوسکتا ہے اور اصولی طور پر اس کے بس میں ہے ہی کیا ؟ وہ تو ایک ناتوان موجود ہے یہاں تک کہ خد اپنے مسائل سے نا آگاہ ہے تو پھر وہ دوسروں کی کیا رہبری کرسکتا ہے اور دوسروں کو مشکلات سے کیا نجات دلا سکتا ہے؟ آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: میں ہرگز گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار نہیں بناتا(وَمَا کُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّینَ عَضُدًا) ۔یعنی خلقت تو وستی اور ہدایت کی بنیاد پر ہے لہٰذا جس کا کام ہی گمراہی کرنا ہو اس نظامِ خلقت کو چلانے میں اس کا دخل نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تو آفرینش وہستی کے اس نظام کی بالکل مخالفت سمت میں گامزن ہے تو خرابیاں پیدا کرتا ہے اور ویرانیاں لاتا ہے نہ کہ اصلاح، تکامل اور ارتقاء کے لیے کچھ کرتا ہے ۔ زیرِ بحث آخری آیت ایک مرتبہ پھر خبردار کرتی ہے: اس وقت کا سوچو جب اللہ فرمائے گا کہ جنھیں تم میرا شریک خیال کرتے تھے انھیں اب اپنی مدد کے لیے آواز دو (وَیَوْمَ یَقُولُ نَادُوا شُرَکَائِی الَّذِینَ زَعَمْتُمْ) ۔ ایک عمر تم ان کا دم بھرتے رہے اور ان کے آستانے پر سجدہ کرتے رہے ۔ اب جب کہ تمھیں عذاب کی موجوں نے گھیر لیا ہے تو انھیں آواز دو کہ ایک لمحے کے لیے تو تمھاری مدد کو آجائیں ۔ وہ لوگ گویا انہی دنیاوی افکار کے مطابق ”انھیں پکاریں گے لیکن یہ خیالی اور جعلی معبود انھیں جواب تک نہیں دیں گے“ چہ جائیکہ مدد کو آئیں (فَدَعَوْھُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیبُوا لَھُمْ) ۔اور ان کے درمیان ہم مرکز ہلاکت بنائیں گے (وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ مَوْبِقًا) ۔(2) زیرِ بحث آخری آیت میں شیطان کے پیرو کاروں اور مشرکین کا انجام واضح کیا گیا ہے: اس دن گنہگار جہنم کی آگ دیکھیں گے (وَرَاٴَی الْمُجْرِمُونَ النَّارَ) ۔ وہ آگ کہ جس کے بارے میں انھیں کبھی یقین نہ آتا تھا ان کے آنکھوں کے سامنے ہوگی ۔ اس موقع پر انھیں اپنی گزشتہ غلطیوں کا انداز ہوگا ”اور اب انھیں یقین آئے گا کہ وہ آگ میں ڈالے جائیں گے اور آگ ان پر ڈالی جائے گی “(فَظَنُّوا اٴَنَّھُمْ مُوَاقِعُوھَا) ۔ پھر انھیں یقین آجائے گا کہ اب اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے (وَلَمْ یَجِدُوا عَنْھَا مَصْرِفًا) ۔ نہ ان کے خود ساختہ معبود ان کی فریاد کو پہنچیں گے نہ شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کے بارے میں موٴثر ہوگی اور نہ جھوٹ، زر یا زور سے وہ جہنم کی آگ سے بچ سکیں گے، وہ آگ کہ جوان کے اعمال و کردار نے ہکائی ہے ۔ اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ”ظنوا“ اگر چہ”ظن“ کے مادہ سے ہے لیکن یہا ں اور بہت سے دیگر مواقع پر یہ لفظ یقین کے معنی میں استعمال ہواہے اسی لیے سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۴۹ میں حضرت طالوت(ع) کے ساتھی حقیقی مومنین اور ثابت قدم مجاہدین کہ جوجابروظالم جالوت کے خلاف جنگ کے لیے نکلے، ان کے بارے میں ہے: <قَالَ الَّذِینَ یَظُنُّونَ اٴَنَّھُمْ مُلَاقُو اللهِ کَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیرَةً بِإِذْنِ اللهِ جو اللهسے ملاقات پر ایمان رکھتے انھوں نے کہا کا ایسا بہت مرتبہ ہوا ہے کہ چھوٹے سے( باایمان ) گروہ نے بڑے گروہ پر کا میابی حاصل کی ہے ۔ ضمناً لفظ ”مواقعوھا “ کہ جو ”مواقعقہ “کے مادہ سے ہے ایک دوسرے پر واقع ہونے کے معنی میں ہے ، اس طرف اشارہ ہے کہ وہ بھی آگ میں گریں گے اور آگ بھی پر گرے گی، وہ بھی آگ میں داخل ہوں گے اور آگ ان پر گرے گی، وہ بھی آگ میں داخل ہوں گے اور آگ بھی ان میں داخل ہوگی ۔ کیونکہ قرآن کی دوسری آیات میں ہے کہ: گنہگار خود آگ کا ایندھن ہیں ۔(بقرہ۔۲۴) ۱۔ ”بَدَلًا“ترکیب نحوی کے لحاظ سے تمیز ہے اور ”بِئْسَ“کا فاعل شیطان اور اس کا لاؤ لشکر ہے یا شیطان اور اس کے لاؤ لشکر کی عبادت فاعل ہے- 2۔ ”موبق“ ”وبوق“ (بروزن ”نبوع“)کے مادہ سے ہے کہ جو ہلاکت کے معنی میں ہے اور ”موبق“ جائے ہلاکت کو کہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:50-53
سوره کهف / آیه 50 - 53
۵۰ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اٴَمْرِ رَبِّہِ اٴَفَتَتَّخِذُونَہُ وَذُرِّیَّتَہُ اٴَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِی وَھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِینَ بَدَلًا ۵۱ مَا اٴَشْھَدْتُھُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَلَاخَلْقَ اٴَنفُسِھِمْ وَمَا کُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّینَ عَضُدًا ۵۲ وَیَوْمَ یَقُولُ نَادُوا شُرَکَائِی الَّذِینَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْھُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیبُوا لَھُمْ وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ مَوْبِقًا ۵۳ وَرَاٴَی الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا اٴَنَّھُمْ مُوَاقِعُوھَا وَلَمْ یَجِدُوا عَنْھَا مَصْرِفًا ترجمہ ۵۰۔ وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ جِنّوں میں سے تھا اس لیے وہ اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا (اس کے باوجود تم)میری بجائے اسے اور اس کی اولاد کو اولیاء بناتے ہو حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں ظالم لوگ بہت برا بدل اپنا تے ہیں ۔ ۵۱۔ میں نے آسمانوں اور زمین کی خلقت کے وقت انھیں نہیں بلایا تھا اور نہ خود انھیں پیدا کرتے وقت انھیں شریک کیا تھا اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار نہیں بناتا ۔ ۵۲۔ اس دن کا سوچو کہ جب اللہ کہے گا کہ اب انھیں آواز دو جنھیں تم میرا شریک خیال کرتے تھے (تاکہ وہ تمھاری مدد کو آئیں)لیکن انھیں جتنا بھی پکاریں وہ ان کی کچھ نہ سنیں گے اور ہم ان دونوں کے درمیان مرکزِ ہلاکتت بنادیں گے ۔ ۵۳۔ اور سارے مجرم (جہنم کی)آگ دیکھیں گے اور یقین کرلیں گے کہ انھیں آگ میں ڈالا جائے گا اور آگ ان پر ڈالی جائے گی اور انھیں اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ سمجھائی نہ دے گی ۔