وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا
The day We shall set the mountains moving and you will see the earth in full view, We shall muster them, and We will not leave out anyone of them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:47
[Pooya/Ali Commentary 18:47] On the day of judgement none of our present landmarks will remain. We shall stand as we were created before the Lord with our record of deeds. Expressed in the forms of this world it will be a clear statement of all we did in this life. Refer to Bani Israil: 13 and 14.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:47-49
ہائے ہماری شامت! یہ کیسی کتاب ہے
ہائے ہماری شامت! یہ کیسی کتاب ہے گزشتہ آیات میں ایک خود پرست اور مغرور انسان کے بارے میں گفتگو تھی کہ جس نے اپنے تکبرّکی وجہ سے قیامت کا انکار کریا تھا ۔زیر نظر آیات میں قیامت کی کیفیت کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں تین مراحل کا ذکر ہے: پہلا مرحلہ انسانوں کے قبروں سے اٹھنے سے پہلے کا ہے: دوسرا مرحلہ قیامت کا ہے اور تیسرا مرحلہ اس کے بعد کا ہے ارشاد ہوتا ہے:اس وقت کا سوچو جب (جہاں ہستی کا یہ نظام نئے نظام کے مقدمے کے طورپر درہم برہم ہوجائے گا اور)پہاڑ چلنے لگیں گے اور سطح زمین کی ساری اونچ نیچ ہوجائے گی ۔ زمین کھلے میدان کی طرح ہوگی اور ہر چیز اس میں تم نمایاں دیکھوگے(وَیَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَی الْاٴَرْضَ بَارِزَةً) ۔ ان آیات میں ان حوادث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو آغاز قیامت میں رونما ہوں گے ۔ یہ حوادث بہت زیادہ ہیں ۔ قرآن حکیم کی آخری مختصر سورتوں میں ان کا خاص طور پر بہت ذکر ہے ۔ انھیں”اشراط الساعة“(قیامت کی نشانیاں)کہا جاتا ہے ۔ یہ سب نشانیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ آج کی دنیا اور موجود عالم بالکل دگر گوں ہوجائے گا ۔پہاڑ چلنے لگیں گے اور پھر دکھائی نہ دیں گے ۔ درخت اور عمارتیں گر پڑیں گی ۔ زمین صاف اور ہموار ہو جائے گی ۔ پھر زلزلے اسے در ہم برہم کردیں گے ۔ سورج کی روشنی ختم ہوجائے گی اور چاند بے نورہوجائے گا ۔ ستاروں کے چراغ بجھ جائیں گے ۔ پھر ان ویرانوں میں نئے جہان اور نئے زمین و آسمان تعبیر ہوں گے ۔ انسان نئے سرے سے نئے زندگی آغاز کریں گے ۔ مزیدفرمایا گیا ہے:اس وقت ہم محشور کریں گے اور ان میں سے ہم کسی کو نظر انداز نہیں کریں گے( وَحَشَرْنَاھُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اٴَحَدًا) ۔ ”نغادر“”غدر“ کے مادہ سے کسی چیز کو ترک کرنے کے معنی میں ہے اسی لیے اپنے عہد و پیمان کو توڑنے والے شخص کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے ”غدر“کیا ہے او ریہ جو پانی کے گڑھے کو ”غدیر“ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بارش کے پانی کی کچھ مقدار وہاں چھوڑدی گئی اور ترک کردی گئی ہوتی ہے ۔ بہر حال مذکورہ جملہ اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے کہ معاد کا حکم سب کے لیے ہے اور اس سے کوئی شخص مستثنیٰ نہیں ہے ۔ اگلی آیت میں قبروں سے انسانوں کے اٹھنے اور محشور ہونے کی کیفیت کے بارے میں ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ سب ایک ہی صف میں تیرے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے( وَعُرِضُوا عَلیٰ رَبِّکَ صَفًّا) ۔ ہوسکتا ہے یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہوکہ لوگوں کا ہر گروہ جو ایک عقیدے کا حامل ہے یا جن کے عمل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں وہ ایک صف میں ہوں گے یا یہ کہ سب کے سب کسی فرق اور امتیاز کے بغیر ایک صف میں ہوں گے ۔ اور انھیں کہا جائے گا: تم سب کو ہمارے پاس اس طرح آنا پڑا جیسے ہم نے آغاز میں تمھیں پیدا کیا( لَقَدْ جِئْتُمُونَا کَمَا خَلَقْنَاکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّة) ۔ نہ مال و ثروت کا کوئی پتہ ہے، نہ زر و زیور کی کوئی خبر ہے، نہ مادی امتیازات ہیں، نہ رنگارنگ لباس ہیں اور نہ یاور و مددگار۔ بالکل اسی طرح جیسے ابتدئی آفرینش میں تھے، آج بھی اسی پہلی حالت میں ہو ۔ لیکن تمھیں یہ گمان تھا کہ ہم تمھارے لیے کوئی وعدہ گاہ قرار نہیں دیں گے(بَلْ زَعَمْتُمْ اٴَلَّنْ نَجْعَلَ لَکُمْ مَوْعِدًا) ۔اور یہ اس وقت ہوتا تھا جب مادی وسائل اور نعمتوں کا غرور تم پر چھا جاتا تھا ۔ تمھیں دنیا جاوداں لگنے لگتی تھی اور آخرت کی فطری فکر اس میں چھپ جاتی تھی ۔ اس کے بعد اس قیامت کبریٰ کے دوسرے مراحل بیان کیے گئے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے:وہ کتاب وہاں رکھ دی جائے گی جو سب انسانوں کا نامہٴ اعمال ہے ( وَوُضِعَ الْکِتَاب) ۔ گنہگار جب اس کے مندرجات سے آگاہ ہوں گے تو خوفزوہ ہوجائیں گے اور وحشت کے آثار تو ان کے چہرے پر دیکھے گا(فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیہِ) ۔ تو اس وقت فریاد کریں گے اور کہیں گے: ہائے افسوس! یہ کیسی کتاب ہے کہ جو کوئی چھوٹا بڑا عمل شمار کیے بغیر نہیں چھوڑتی(وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لَایُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلَاکَبِیرَةً إِلاَّ اٴَحْصَاھَا) ۔ اس نے چھوٹی سے چھوٹی چیز کا حساب رکھا ہے اور کسی چیز کو نظر انداز نہیں کیا ۔واقعاًیہ بھی کتنی وحشتناک ہے جن کا موں کو ہم نے بھلا دیاتھا اور ہم تو سوچتے تھے کہ ہم نے کوئی غلط کام کیاہی نہیں لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری جوابدہی کا وزن کتنا بھاری ہے اور ہمارا انجام تاریک ہے ۔ اس تحریری سند کے علاوہ ”تم اپنے سب اعمال کو حاضر پاوٴگے“ (وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا) ۔ نیکیاں، برائیاں، مظالم، عدل کے کام، فضول باتیں اور خیانتیں سب ان کے سامنے مجسّم ہوں گی ۔ در حقیقت وہ اپنے کیے ہیں گرفتاہو گے ’اورتیراب تو کسی پر ظلم نہیں کرتا “( وَلَایَظْلِمُ رَبُّکَ اٴَحَدًا) ۔ یہ تو ہی کام ہوں گے جو انھوں نے اس جہان میں انجام دیئے ہیں لہٰذا وہ شکوہ بھی اپنے آپ ہی سے کرسکتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:47-49
۲۔ نامہٴ اعمال
۲۔ نامہٴ اعمال: زیرِ بحث آیات کے ذیل میں تفسیر المیزان میں ہے کہ تمام آیاتِ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمِ قیامت میں انسانوں کے لیے تین قسم کے اعمال نامے ہوں گے ۔ پہلی قسم: وہ کتاب ہے جو ہر امت کے لیے ایک کتاب ہوگی کہ جس میں اس کے اعمال درج ہوں گے ۔ جیسا کہ سورہٴ جاثیہ کی آیت۲۸ میں ہے: <وَوُضِعَ الْکِتَاب اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ سب انسانوں کے حساب کتاب کے لیے ایک ہی کتاب ہوگی ۔ دوسری قسم: وہ کتاب ہے جو ہر امت کے لیے ہوگی ۔ ہر امت کے لیے ایک کتاب ہوگی کہ جس میں اس کے اعمال درج ہوں گے ۔ جیسا کہ سورہٴ جاثیہ کی آیت ۲۸ میں ہے: <کُلُّ اٴُمَّةٍ تُدْعیٰ إِلَی کِتَابِھَا ”ہر امت اپنی کتاب اور نامہٴ اعمال کی طرف بلائی جائے گی“۔ تیسری قسم: وہ کتاب ہے کہ جو ہر انسان کے لیے الگ الگ ہے ۔ جیسا کہ سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۱۳ میں ہے: <وَکُلَّ إِنسَانٍ اٴَلْزَمْنَاہُ طَائِرَہُ فِی عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کِتَابً--- ”ہر انسان کے نامہٴ اعمال کی جوابدہی ہم نے اسی کی گردن میں ڈالی ہے اور روزِ قیامت ہم اس کے لیے کتاب اور نامہٴ اعمال باہر نکالیں گے“۔(۱) مفسر قرآنِ مجید، فیلسوف عالی قر، عالمِ بزرگ اخلاق آیة اللہ علامہ طباطبائی انہی دنوں ہم سے جدا ہوگئے ہیں ۔ ان کی یہ جدائی ہمارے لیے ایک بہت بڑا صدمہ اور نقصان ہے ۔ وہ ایک ایسی عظیم ہستی تھے کہ جنھوں نے اپنی با برکت زندگی میں بہت ہی اہم اور قیمتی خدمات انجام دی ہیں ۔ وہ ہر قسم کی خو نمائی سے دور اسلامی معاشرے کی خدمت میں مصروف رہے ۔ انھوں نے حوزہ علمیہ قم اور دورِ حاضر کے علما کے افکار میں ایک انقلاب پیدا کریا اور بہت ہی بلند پایہ شاگردوں کی تربیت کی ۔ انھوں نے بہت قیمتی آثار بطور یاد گار چھوڑے ہیں ۔ خصوصاً ان کی گر انقدر تفسیر المیزان نے قرآن کریم کے نئے باب کھولے ہیں ۔ یہ تفسیر ، تفسیر کے اہم اسلامی علم کی طرف نئی لگن کا سبب بنی ہے ۔ اللہ کرے ان کی روح غریق رحمت ہو اور ان کی یاد ہمیشہ احترام تکریم کے ساتھ دلوں میں باقی رہے ۔ (آپ کی تاریخِ رحلت ۲۴ آبان ماہ ۱۳۶۰ ہجری شمسی، بمطابق ۱۸ محرم الحرام ۱۴۰۲ ہجری قمری) ۔ واضح ہے کہ یہ آیات ایک دوسری کے منافی نہیں ہیں کیونکہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ آدمی کے اعمال مختلف کتب میں درج ہوں ۔ موجودہ زمانے میں اس کی مثالیں موجود ہیں ۔ ملک کے اداروں اور محکموں میں تفصیلات کے لیے ہر شخص کی الگ فائل ہوتی ہے اور پھر محکمے اور شعبے کے مجموعی ریکارڑ میں بھی اس کے بارے میں کوائف ہوتے ہیں اور اسی طرح سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے ۔ لیکن اس نکتے کی طرف توجہ رہے کہ قیامت میں انسانوں کے نامہٴ اعمال اس جہان کی عام فائلوں اور کتابوں کی طرح نہیں ہیں ۔ وہ تو ایک منہ بولتا اور نا قابل انکار مجموعہ ہوگا ۔ شاید وہ خود انسان کے اعمال کا فطری نتیجہ ہو ۔ بہر حال زیرِ بحث آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ خاص کتابوں میں درج ہونے کے علاوہ خود اعمال بھی وہاں مجسم ہوں گے اور حاضر ہوں گے (وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا) ۔ وہ اعمال جو بکھر جانے والی توانائیوں کی طرح اِس جہان میں نظروں سے محو ہوچکے ہیں حقیقت میں ختم نہیں ہوئے ۔ (دورِ حاضر کے علم نے بھی ثابت کیا ہے کہ مادہ، توانائی اور کوئی کوشش ختم نہیں ہوتی بلکہ ان کی شکل بدل جاتی ہے) ۔ نیک اعمال جاذب اور خوبصورت شکل میں ظاہر ہوں گے اور بُرے اعمال بُرے اور بد صورت چہروں میں ظاہر ہوں گے ۔ یہ اعمال ہمارے ساتھ ساتھ ہوں گے یہی وجہ ہے کہ زیر بحث آیات کے آخری جملے میں فرمایا گیا ہے: ”ولا یظلم ربک احداً“ ”تیرا رب اپنے بندوں میں سے کسی پر بھی ظلم نہیں کرے گا“۔ کیونکہ جزا اور سزا ان کے عمل کا ماحصل ہی ہے ۔ البتہ بعض مفسرین نے ” وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا“کو نامہٴ اعمال کے مسئلہ پر تاکید سمجھا ہے اور کہا ہے کہ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ اپنے نامہٴ اعمال کی کتاب میں اپنے تمام کاموں کو موجود اور لکھا ہوا پائیں گے ۔(2) بعض دوسرے مفسرین اس آیت میں لفظ ”جزا“کو مقدر سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے: اِس دن لوگ اپنے اعمال کی جزا کو حاضر اور موجود پائیں گے ۔(3) لیکن پہلی تفسیر آیات کے ظاہری مفہوم سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔ تجسمِ اعمال کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد میں سورہٴ آل عمران کی آیت ۳۰ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی متعلقہ آیات کے ذیل میں بحث کریں گے ۔(4) قرآن واقعاً ایک عجیب تربیتی کتاب ہے ۔ جب اس میں انسانوں کے سامنے قیامت کا منظر پیش کیا جاتا ہے کہ ”وہ دن جب سب لوگ اللہ کی بارگاہِ عدل میں منظم طور پر صفین باندھے پیش کیے جائیں گے“۔ ان کی مختلف صفیں ان کے عقاء و اعمال میں ہم آہنگی کی بناء پر ترتیب پائیں گی ۔ ان کے ہاتھ تہی ہوں گے اور تمام دنیاوی تعلقات ختم ہوجائیں گے ۔ وہاں اجتماع کے باوجود وہ تنہا ہوں گے اور تنہائی کے باوجود اکٹھے ہوں گے اور اعمال نامے کھُلے ہوں گے ۔ سب چیزیں بولیں گی اور انسانوں کے چھوٹے بڑے اعمال بتائیں گی ۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ خود اعمال و افکار میں جان پڑجائے گی او ر جسمانی شکل میں ظاہر ہوں گے ہر شخص کے گرد اس کے اعمال جسمانی صورت میں موجود ہوں گے ۔ لوگ اپنے آپ میں اس طرح سے کھوئے ہوں گے کہ ماں کو بیٹے اور بیٹے کو ماں کا ہوش نہیں ہوگا ۔ عدلِ الٰہی کی عدالت لگی ہوگی ۔ عذابِ عظیم بدکاروں کے انتظار میں ہوگا ۔ لوگ اس سے سخت وحشت زدہ ہوں گے ۔ سانس سینیوں میں اٹکے ہوں گے اور آنکھیں پتھرائی ہوں گی ۔ ایسی حالت میں ایمان واقعاً انسانی تربیت کے لیے کس قدر موٴثر ہے ۔ ہوا و ہوس پر کنٹرول کے لئے یہ ایمان کس قدر مفید ہے ۔ یہ ایمان انسان کو کس قدر آگاہی اور بیداری عطا کرتا ہے اور اس کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: اذ ا کان یوم القیامة دفع للانسان کتاب ثم قیل لہ اقرء - قلت فیعرف ما فیہ- فقال انہ یذکرہ فما من لحظة ولا کلمة ولا نقل قدم ولا شیءٍ فعلہ الاذکرہ، کاٴنّہ فعلہ تلک الساعة، و لذٰلک قالو یا ویلتنا ما لھٰذا الکتاب لا یغادرصغیرة ولا کبیرة الّا احصاہا ۔ روزِ قیامت انسان کے ہاتھ میں اس کا نامہٴ اعمال تھمایا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا: پڑھو ۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے امام(ع) سے پوچھا: جو کچھ اس نامہٴ اعمال میں ہوگا کیا وہ شخص اسے پہچان لے گا اور اسے یاد آجائے گا ۔ امام (ع) نے فرمایا:اسے سب کچھ یاد آجائے گا ۔ پلکوں کا جھپکنا، ہر لفظ کا ادا کرنا اور ہر قدم کا اٹھانا مختصر یہ کہ اس نے جو کام بھی انجام دیا اسے ایسے یاد آجائے گا گویا اس نے ابھی انجام دیا ہے ۔ لہٰذا لوگ فریاد کریں گے اور کہیں گے: ہائے افسوس ! یہ کیسی کتاب ہے کہ جس نے کسی چھوٹے بڑے کام کو شمار کیے بغیر نہیں چھوڑا ۔ (5) اس حقیقت پر ایمان کا تربیتی اثر کہے بغیر واضح ہے ۔ واقعاً کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ انسان ایسے عالم پر ایمانِ قاطع رکھتا ہو اور پھر بھی گناہ کرے ۔ ۱۔ المیزان۔ ج ۱۳ ص ۳۴۸- 2و 3۔فخر الدین رازی ۔ تفسیر کبیر میں اور قرطبی ۔ تفسیر الجامع میں ۔ 4۔ معاد پر ایمان کا تربیتی نتیجہ: 5۔ نور الثقلین ، ج ۳، ص ۲۶۷-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:47-49
سوره کهف / آیه 47 - 49
۴۷ وَیَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَی الْاٴَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاھُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اٴَحَدًا ۴۸ وَعُرِضُوا عَلیٰ رَبِّکَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُونَا کَمَا خَلَقْنَاکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ اٴَلَّنْ نَجْعَلَ لَکُمْ مَوْعِدًا ۴۹ وَوُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیہِ وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لَایُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلَاکَبِیرَةً إِلاَّ اٴَحْصَاھَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَایَظْلِمُ رَبُّکَ اٴَحَدًا ترجمہ ۴۷۔ اس دن کا سوچو جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین کھلے میدان کی مانند ہوگی اور ہم ان سب(انسانوں)کو محشور کریں گے اور کسی کو نظر انداز نہیں کریں گے ۔ ۴۸۔ وہ سب صف بستہ تیرے رب کے حضور پیش ہوں گے(اور انھیں کہا جائے گا) تم سب کو اسی ہمارے پاس آنا پڑا جس طرح ابتداء میں ہم نے تمھیں پیدا کیا تھا جبکہ تمھارا یہ گمان تھا کہ ہ تمھارے لیے کوئی وقت مقرر نہیں گریں گے ۔ ۴۹۔ اور(سب انسانوں کے نامہٴ اعمال کی) کتاب وہاں رکھ دی جائے تو گنہگاروں کو دیکھے گا کہ وہ اس میں کچھ لکھا ہے اسے دیکھ دیکھ کر ڈریں گے اور کہیں گے ہائے ہماری شامت، یہ کیسی کتاب ہے کہ جو کسی چھوٹے بڑے عمل کو شمار کیے بغیر نہیں چھوڑتی اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے اور تیرا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:47-49
۱۔ پہاڑ کیوں منہدم ہوں گے؟
۱۔ پہاڑ کیوں منہدم ہوں گے؟ ہم کہہ چکے ہیں کہ قیامت کے آغاز میں مادی دنیا کا نظام در ہم بر ہم ہوجائے گا ۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ۔ البتہ اس سلسلے میں قرآن میں مختلف تعبیریں دکھائی دیتی ہیں ۔ زیرِ بحث آیات میں ہے: ”نسیر الجبال“ یعنی ۔ ہم پہاڑوں کو حرکت میں لائیں گے اور انھیں چلائیں گے ۔ یعنی تعبیر سورہٴ نباء کی آیت ۲۰ اور سورہٴ تکویر کی آیت ۳ میں بھی نظر آتی ہے ۔ لیکن سورہٴ مرسلات کی آیت ۱۰ میں ہے: <وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَت ”شدید طوفانوں کے باعث پہاڑ اپنی چگہ سے اکھڑ جائیں گے اور الگ ہوجائیں گے“۔ جبکہ سورہ حاقہ کی آیت ۱۴ میں ہے: <وَحُمِلَتْ الْاٴَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّةً وَاحِدَةً ”زمین اور پہاڑ اپنی چگہ سے اٹھ جائیں گے اور ایک دوسرے سے ٹکڑاجائیں گے“۔ سورہ مزمل کی آیت ۱۴ میں ہے: <یَوْمَ تَرْجُفُ الْاٴَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتْ الْجِبَالُ کَثِیبًا مَھِیلاً ”وہ دن کہ جب زمین اور پہاڑوں میں لرزہ پیدا ہوگا اور پہاڑ ریت کے ملے ہوئے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے“۔ سورہٴ واقعہ کی آیت ۵،۶ میں ہے: <وَبُسَّتْ الْجِبَالُ بَسًّا، فَکَانَتْ ھَبَاءً مُنْبَثًّا ”پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور پھر گرد و غبار کی طرح بکھر جائیں گے“۔ بالآخر سورہٴ قارعہ کی آیت ۵ میں ہے: < وَتَکُونُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنفُوشِ ”اور پہاڑ رنگی ہوئی دُھنی ہوئی اُون کی مانند ہوں گے (کہ جو اِدھر اُدھر بکھر جاتی ہے)“۔ واضح ہے کہ ان آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ پہاڑوں کے درہم برہم ہونے کے مختلف مراحل کی طرف مختلف اشارے ہیں ۔ پہاڑ اس زمین کا محکم ترین اور مضبوط ترین حصّہ ہے ۔ معاملہ ان کی حرکت اور چلنے سے شروع ہوگا ۔ یہاں تک کہ وہ گرد و غبار بن کریوں اڑیں گے کہ فضا میں ان کا صرف رنگ نظر آئے گا ۔ یہ اتنی بڑی حرکت کیسے پیدا ہوگی، یقینا اس کا ہمیں علم نہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ زمین کی کششِ ثقل وقتی طور پر اٹھالی جائے اور زمین کی دَوری حرکت کے سبب پہاڑ در ہم برہم ہوجائیں اور فضاؤں میں بکھر جائیں ۔ یا ہوسکتا ہے بڑے بڑے اٹیمی دھماکوں کے باعث زمین کے مرکز میں ایسی عظیم اور وحشت ناک حرکت پیدا ہوجائے ۔ بہر حال یہ سب امور اس بات کی دلیل ہیں کہ قیامت ایک بہت بڑے انقلاب کی حامل ہے ۔ عالم کے بے جان مادہ میں بھی انقلاب پیدا ہوگا اور انسانوں کی زندگی میں بھی ۔ سب انسان جہانِ نو میں بلند تر زندگی شروع کریں ۔ روح اور جسم تو اس دنیا میں بھی ہوگی لیکن وہاں اس کی بناوٹ ہر لحاظ سے وسیع تر اور کامل تر ہوگی ۔ قرآن کی یہ تعبیر ضمنی طور پر انسان کو اس حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ باغ اور پانی تو معمولی چیز ہیں، بڑے بڑے پہاڑ تک ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جائیں گے ۔ اس طرح دنیا کی تمام کی تمام موجودات یہاں تک کہ جو بہت بڑی بڑی چیزیں ہیں سب کے لیے فنا ہے ۔