وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا
Draw for them the parable of the life of this world: [It is] like the water We send down from the sky. Then the earth’s vegetation mingles with it. Then it becomes chaff, scattered by the wind. And Allah has power over all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:45
[Pooya/Ali Commentary 18:45] The rain-water is soon absorbed in the earth, and produces grain, grass and vegetation for a time. The produce of the earth is consumed by men and animals and when the summer comes the water disappears as if it was a dry straw which the winds scatter around. Such is the life of this world- temporary and consumable. Allah is the only enduring power we can look to, supreme over all.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 18:45-49
Transitory nature of worldly material prosperity is exemplified in vegetation allegorically subject to decay, against religious morals and not morality apart from religion, which is another name for sin in decency, admitting of folk dances, and like amusements, whereby social reaction has started in social conscience foreboding coming disasters, unless religiously guarded.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:45-46
۱۔ دنیا کی ناپائیدار خوشنمایاں
۱۔ دنیا کی ناپائیدار خوشنمایاں: زیرِ نظر آیات میں ایک مرتبہ پھر معانی کو مثال کے پیرائے میں مجسم کرکے پیش کیا جاراہا ہے ۔ وہ عقلی حقائق جن کا ادراک شاید بہت سے لوگوں کے لیے اتنا آسان نہیں ہے، قرآن مجید انھیں ایک زندہ اور واضح مثال کے ذریعے محسوسات کے قریب لے آتا ہے ۔ قرآن انسانوں سے کہتا ہے: اپنی زندگی کا آغاز و انجام کا منظر ہر سال تم دیکھتے ہو ۔ اگر تمھاری عمر ساٹھ سال ہے تو یہ منظر تم نے ساٹھ مرتبہ دیکھا ہے ۔ تم دیکھتے ہوکہ ہر موسمِ بہار میں ویرانے ، دل انگیز اور خوبصورت مناظر میں بدل جاتے ہیں اور ان کے ہر گوشے سے زندگی کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں لیکن فصلِ خزاں میں سر سبز وادیاں ویرانوں اور صحراؤں میں بدل جاتی ہیں اور ان کے ہر گوشے سے موت کے آثار نمایاں نظر آنے لگتے ہیں ۔ جی ہاں! تم بھی ایک دن بچے تھے، نو شگفتہ غنچے کی طرح۔ پھر تم جوان ہوجاتے ہو تر و تازہ اور کھلے ہوئے پھول کی مانند۔ پھر طوفانِ اجل تمھیں کاٹ دیتا ہے ۔ پھر چند دنوں کے بعد تمھاری بوسیدہ مٹی طوفانوں کے دوش پر اِدھر اُدھر بکھر جاتی ہے ۔ لیکن یہ واقعہ کبھی غیر طبیعی صورت میں بھی پیش آجاتا ہے ۔ بیچ راہ ہی میں بجلی یا طوفان اس زندگی کو ختم کردیتا ہے، اس طرح سے جیسے سورہٴ یونس کی آیہ ۲۴ میں آیا ہے: <إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اٴَنْزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْاٴَرْضِ مِمَّا یَاٴْکُلُ النَّاسُ وَالْاٴَنْعَامُ حَتَّی إِذَا اٴَخَذَتْ الْاٴَرْضُ زُخْرُفَھَا وَازَّیَّنَتْ وَظَنَّ اٴَھْلُھَا اٴَنَّھُمْ قَادِرُونَ عَلَیْھَا اٴَتَاھَا اٴَمْرُنَا لَیْلًا اٴَوْ نَھَارًا فَجَعَلْنَاھَا حَصِیدًا کَاٴَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْاٴَمْسِ۔ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے کہ ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس سے طرح طرح کے نباتات اُگتے ہیں جنھیں انسان اور چوپائے کھاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ زمین اپنا حُسن و زیبائی ان سے لے لیتی ہے ۔ ان کے مالک مطمئن ہوتے ہیں، کہ اچانک رات کو یادن کو ہمارا حکم آپہنچتا ہے (ہم ان پر سردی یا بجلی کو مسلط کردیتے ہیں)اور انھیں یوں کاٹ کے رکھ دیتے ہیں گویا وہ تھے ہی نہیں ۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیچ راہ میں پیش آنے والے حوادث ان نباتات کو تباہ نہیں کرتے اور وہ اپنا طبیعی سفر پورا کرلیتے ہیں البتہ ان کا انجام بہرحال پژمردگی، پراگندگی اور فنا ہے، جیسا کہ زیرِ بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے ۔ لہٰذا دنیاوی زندگی اپنا طبیعی سفر پورا کرے یا نہ کرے جلد یا بدیر دستِ فنا اُس کا دامن آپکڑے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:45-46
سوره کهف / آیه 45 - 46
۴۵ وَاضْرِبْ لَھُمْ مَثَلَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اٴَنزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْاٴَرْضِ َاٴَصْبَحَ ھَشِیمًا تَذْرُوہُ الرِّیَاحُ وَکَانَ اللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ مُقْتَدِرًا ۴۶ الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِینَةُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ اٴَمَلًا ترجمہ ۴۵۔ انھیں حیاتِ دنیا کے لیے یہ مثال کہہ دو کہ ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں اس سے زمین کی پود خوب پھلی پھولی پھر کچھ عرصے بعد وہ خشک ہوگئی اور ہوا نے اسے اِد ھر اُدھر بکھیر دیا اور خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔ ۴۶۔ مال و اولاد تو دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور باقیاتِ صالحات (پائیدار اور اچھے اعمال اور یہ نیکیوں)کا ثواب تیرے رب کے ہاں بہتر اور زیادہ امید بخش ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:45-46
زندگی کی ابتداء و انتہا کے لئے ایک مثال
زندگی کی ابتداء و انتہا کے لئے ایک مثال کزشتہ آیات میں مادی دنیا کی نا پائدار نعمتوں کے بارے میں گفتگو تھی اور اس حقیقت کا ادراک چونکہ ۶۰ یا ۸۰ سال کی عمر میں عام افراد کے لیے آسان نہیں ہے لہٰذا قرآن نے زیرِ نظر آیت میں اس کے لیے ایک بڑی زندہ اور منہ بولتی مثال پیش کی ہے ۔ یہ وہ مثال ہے جو لوگ اپنی زندگی میں عموماً دیکھتے رہتے ہیں ۔ یہ مثال مغرور و غافل افراد کو بیار کرنے کے لیے بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: حیاتِ دنیا کے لیے ان سے آسمان سے برسنے والے بارش کے قطروں کی مثال بیان کر (وَاضْرِبْ لَھُمْ مَثَلَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اٴَنزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ) ۔ بارش کے یہ حیات بخش قطرے پہاڑوں،صحراوٴں او رمیدانوں میں گرتے ہیں ۔ زمین کے اندر موجودہ دانے جن میں صلاحیت ہوتی ہے ان میں ان قطروں سے جان پڑجاتی ہے اور وہ اپنی زندگی کا ارتفائی سفر شروع کردیتے ہیں ۔ دانے اگرچہ سخت ہوتے ہیں ان کی جلد مضبوط ہوتی ہے لیکن وہ بارش کی نرمی کے ساتھ نرم ہو جاتے ہیں ۔ ان میں سے پودے پھوٹتے ہیں اور آخر کار شاخیں مٹی سے نکالتی ہیں ۔ سورج چمکتا ہے، بادِ نسیم چلتی ہے، زمین میں مواد بھی مدد کرتا ہے اور یہ نورس شاخیں ان تمام عوامِل حیات سے قوت پاکر رشد و نمو کا سفر جاری رکھتی ہیں ۔ اس طرح سے ”کچھ مدت بعد پودے ایک دوسرے سے مِل جُل جاتے ہیں ایسے کہ جیسے گلے مل رہے ہوں“ (فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْاٴَرْضِ) ۔ کوہ و صحرا میں زندگی لہلہانے لگتی ہے ۔ پھول اور پھل شاخوں کو زینت بخشے ہیں تو ہر طرف خوشیاں اور مسرتیں بکھر جاتی ہیں ۔ لیکن یہ دلربا منظر زیادہ دیر نہیں رہتا ۔ پھر بادِ خزاں چلنے لگتی ہے ۔ موت کی گرد اُن کے سروں پر آپڑتی ہے ۔ ہوا خنک ہوجاتی ہے اور پانی کم ہوجاتا ہے ”زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ وہ مسکراتے ہوئے سر سبز و شاداب پودے پژمردہ اور بے فروغ شاخوں اور پتوں میں بدل جاتے ہیں“(اٴَصْبَحَ ھَشِیمًا) ۔(۱) وہ پتے کہ جنھیں فصلِ بہار کی تیز ہوائیں بھی جدا نہیں کرسکتی تھیں آج اس قدر بے جان ہوگئے ہیں کہ ”ہوا کے جھونکے انھیں جدا کرکے اِدھر اُدھر لیے پھرتے ہیں“(تَذْرُوہُ الرِّیَاحُ) ۔(۲) جی ہاں! خدا ہر چیز پر قادر تھا اور قادر ہے (وَکَانَ اللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ مُقْتَدِرًا) ۔ مال و ثروت ارو افرادی قوت کہ جو دنیاوی زندگی کے دو اصلی رکن ہیں، ان کے بعد اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: مال و اولاد حیاتِ دنیا کی زینت ہیں (الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِینَةُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا) ۔ یہ حیات دنیا کے شجر کی شاخوں کے پھول ہیں جن کی عمر بہت کم ہے ۔ راہِ خدا میں رنگِ جاوداں نہ پالیں تو یہ بہت بے اعتبار ہیں ۔ در حقیقت اس آیت میں دنیاوی زندگی کے سرمائے کے و اہم ترین حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ دنیاوی زندگی کی باقی چیزیں انہی دو سے وابستہ ہیں ۔ ایک اقتصادی قوت ہے اور دوسری افرادی قوت۔ ہر مادی مقصد تک پہنچنے کے لیے حتماً ان دو قوتوں کو جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خصوصاً گزشتہ زمانے میں جس شخص کے زیادہ بیٹے ہوتے تھے وہ اپنے آپ کو زیادہ قوی محسوس کرتا تھا ۔ گزشتہ آیات میں بھی جس بے ایمان دولت مند کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنے مال اور افرادی قوت کا ذکر دوسروں کے سامنے بڑے غرور سے کرتا تھا اور کہتا تھا: ”انا اکثر منک مالاً و اعز نفراً“ ”میرے پاس تجھ سے زیادہ مال اور زیادہ آدمی ہیں“۔ پہلے ”بنون“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو ”ابن“کی جمع ہے جس کا معنی ہے بیٹا ۔ کیونکہ وہ بیٹیوں کو انسانی سرمایہ اور فعال قوت سمجھتے تھے نہ کہ بیٹیوں کو ۔ بہر حال جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے باغات، کھیتیاں اور پانی کے چشمے چند لمحوں میں نابود ہوگئے جو ظاہراً بہت مستحکم دولت تھی ۔ اولاد کی زندگی اور سلامتی بھی ہمیشہ خطرے میں ہونے کے علاوہ بعض اوقات وہ دشمن ہوجاتی ہے اور مددگار ہونے کی بجائے تکلیف رساں ہوجاتی ہے ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: باقیاتِ صالحات (پائیدار اور شائستہ کاموں اور نیکیوں کا)ثواب تیرے پروردگار کے ہاں بہتر اور زیادہ امید بخش ہے (وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ اٴَمَلًا) ۔ بعض مفسرین نے ”باقیات الصالحات“کا بالکل محدود مفہوم بیان کیا ہے ۔ مثلاً بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد نمازِ پنجگانہ ہے ۔کچھ نے کہا ہے کہ اس سے یہ ذکر مراد ہے: ”سبحان اللّٰہ و الحمد للّٰہ ولا الٰہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر“ اسی طرح بعض لوگوں نے دیگر محدود مفاہیم بیان کیے ہیں لیکن واضح ہے کہ اس تعبیر کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ ہر صالح اور اچھا عقیدہ، نظریہ، گفتار اور کردار شامل ہے کہ جو باقی رہ جاتا ہے اور جس کے اثرات و برکات لوگوں پر اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں ۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں اس سے نمازِ تہجد یا موٴدتِ اہلِ بیت مراد لی گئی ہے یہ بلاشبہ واضح مصادیق کا بیان ہے اور ان روایات سے یہ مراد نہیں کہ باقیات الصالحات کا مفہوم ان امور میں منحصر ہے خصوصاً ان روایات میں لفظ ”مِن“ استعمال ہوا ہے جو اِن کے ایک مفہوم کے ایک پہلو پر دلالت کرتا ہے ۔ مثلاً ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: ”لا تستصغر مودتنا فانھا من الباقیات الصالحات“ ”ہماری محبت و مودت کو کم تر نہ سمجھو کہ یہ بھی باقیات الصالحات میں سے ہے“۔ ایک اور حدیث میں پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: تسبیحاتِ اربعہ پڑھنے میں تنگدلی نہ دکھاؤ کیونکہ یہ باقیات الصالحات میں سے ہے ۔ یہاں تک کہ وہ نا پائیدار اموال اور اولاد کہ جو کبھی فتنے اور آزمائش کا باعث ہوتے ہیں اللہ کی راہ میں ہوں تو وہ بھی باقیات الصالحات کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں کیونکہ خدا کی پاک ذات جاوداں ہے اور جو چیز اس کے لیے اور اس کی راہ میں ہو وہ جاوداں ہوجاتی ہے ۔ ۱۔ ”ھشیم“”ھشم“کے مادہ سے توڑنے کے معنی میں لیا گیا ہے اور یہاں ایسی خشک گھاس پھونس کے لیے استعمال ہوا ہے کہ جسے توڑدیا گیا ہو ۔ ۲۔ ”تذروہ“مادہ ”ذرو“سے منتشر کرنے اور بکھرنے کے معنی میں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:45-46
۲۔ غرور شکن عوامل
۲۔ غرور شکن عوامل: ہم کہہ چکے ہیں کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب انھیں مادی نعمتیں میسر آتی ہیں تو وہ مغرور ہوجاتے ہیں اور یہ غرور انسانی سعادت کا بہت بڑا دسمن ہے ۔ گزشتہ آیات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح غرور، شرک و کفر کا باعث بنتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن جو ایک اعلیٰ تربیتی کتاب ہے، اس غرور کی کمر توڑنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتی ہے ۔ کبھی وہ بتاتی ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز فانی ہے ۔ کبھی وہ مثالوں کے ذریعے مادی چیزوں کی ناپائیداری کو واضح کرتی ہے (جیسا کہ زیرِ بحث آیات میں کہا گیا ہے) ۔ کبھی یہ خبر دار کرتی ہے کہ ہوسکتاہے تمھاری دنیا کے وسائل اور سرمائے ہی تمھارے لیے دشمن جاں ہوجائیں (جیسا کہ سورہٴ توبہ کی آیت ۵۵ میں ہے) ۔ کبھی یہ تاریخ کے مغرور لوگوں کا انجام بیان کرتی ہے جیسا کہ قارون اور فرعون کا انجام بیان کر کے ان جیسے افراد کوخبردار کیا گیا ہے او رکبھی یہ انسان کو اس کے اس دور کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ جب وہ ایک بے حیثیت نطفہ یا معمولی سی خاک تھا، کبھی وہ اس کے ایسے ہی مستقبل کو اس کی آنکھوں کے سامنے مجسم کرتی ہے تا کہ وہ جان لے کہ ایسے کمزور و ناتوان آغاز و انجام کے درمیانی عرصے میں غرور و تکبر احمقانہ قدم ہے(جیسا کہ سورہٴ طارق کی آیت۶، سورہٴ سجدہ کی آیت ۱۸ اور سورہٴ قیامت کی آیت۳۸ میں ہے) ۔ شیطان پوری تاریخ میں بڑے بڑے جرائم کا باعث رہا ہے ۔ قرآن شیطانی حربوں کی ناکامی کے لیے یہ تمام ذرائع استعمال کرتا ہے ۔ مسلّم ہے کہ با ایمان ، یا ظرف اور حقیقت شناس انسان مقام و ثروت پا کر غرور جیسی عادت میں مبتلا نہیں ہوتے ۔ نہ صرف یہ کہ وہ مغرور نہیں ہوتے بلکہ ان کے طرز عمل میں ذرہ بھر تبدیل نہیں آتی ۔ وہ ثروت و حیثیت کو عیاریتاً والی ایسی چیز سمجھتے ہیں کہ ہوا کے ایک جھونکے سے گرپڑے ۔