وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
Content yourself with the company of those who supplicate their Lord morning and evening, desiring His Face, and do not lose sight of them, desiring the glitter of the life of this world. And do not obey him whose heart We have made oblivious to Our remembrance, and who follows his own desires, and whose conduct is [mere] profligacy.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:28
[Pooya/Ali Commentary 18:28] The true servants of Allah are those whose hearts are turned to Him morning, noon and night, and who do not seek worldly gains, but desire only Allah's grace and His presence. They are poor in the world, but their company gives far more inward and spiritual satisfaction than worldly grandeur. Such a man was Salman. Qummi says in his commentary that this verse was revealed when A-inya bin Hasin asked the Holy Prophet to send away Salman whenever he or wealthy people like him came to see him because the social status of a poor man like Salman who had only one garment did not justify his presence among them. The Holy Prophet recited this verse and added: "Salman is one of my Ahl ul Bayt." It was a distinction which no other companion had ever enjoyed. Aqa Mahdi Puya says: The Holy Prophet, who only followed the revelations (Najm: 4), never paid any attention to the loose talk of those who have been referred to in this verse, in Al Qalam: 10 to 15 and in the early verses of al Ahzab. The qualities described in this verse refer to the ulil amr whose obedience has been made obligatory. See commentary of Nisa: 59.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:28-31
۱۔ طبقاتی تفاوت۔ معاشرے کی عظیم مشکل ہے
۱۔ طبقاتی تفاوت۔ معاشرے کی عظیم مشکل ہے: صرف یہی آیات نہیں کہ جو معاشرے کی امیر اور غریب کی تقسیم کے خلاف جنگ کررہی ہیں بلکہ قرآن کی ایسی بہت سی آیات ہیں ۔ ان میں سے بعض کا مطالعہ ہم کرچکے ہیں اور بعض آئندہ آئیں گی ۔ وہ معاشرہ کہ جس میں ایک گروہ (جو ظاہر ہے اقلیت میں ہوگا)بڑی خوشحال زندکی گزار رہا ہو، ناز و نعمت میں غرق ہو، اسراف میں ڈوبا ہو اور ساتھ ہی طرح طرح کے مفاسد اور برائیوں میں آلودہ ہوجبکہ وسرا گروہ جو کہ اکثریت میں ہے زندگی کی ابتدائی ضروریات سے بھی محروم ہو ۔ یہ وہ معاشرہ ہے کہ جسے نہ اسلام پسند کرتا ہے اور نہ وہ حقیقی انسانی معاشرے کا رنگ رکھتا ہے ۔ ایسے معاشرے میں کبھی سکون و اطمینان نہیں ہوسکتا ۔ اس پر ہمیشہ ظلم و ستم، لوٹ کھسوٹ اور استعمار و استبداد کی حکمرانی ہوگی ۔ ایسے معاشرے میں آزادیاں سلب ہوں گی ۔ خونین جنگین عموماً ایسے ہی معاشروں سے اٹھی ہیں اور ایسے معاشرے سے پریشانیاں کبھی ختم نہیں ہوسکتیں ۔ اصولی طور پر یہ سب نعماتِ الٰہی آخر کیوں چند لوگوں کے ہاتھ میں ہوں اور معاشرے کی اکثریت طرح طرح کی محرومیوں، درد و رنج، بھوک اور بیماریوں میں ایڑیاں رگڑ رہی ہو ۔ یقینا ایسا معاشرہ، کینہ، بغض، دشمنی، حسد، غرور، ظلم خود پرستی، استکبار اور تباہی کے ایسے ہی عوامل سے پر ہوگا ۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ تمام عظیم انبیاء خصوصاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے نظام کے خلاف شدت اور مسلسل جہاد کیا تو اس کی بھی یہی وجہ ہے ۔ ایسے معاشرے میں دولت مندوں کی محفلیں ہمیشہ تہی دستوں کی محفلوں سے الگ ہوتی ہیں ۔ ان کے حلے الگ ہوتے ہیں، سیر و تفریح کے مراکز جدا ہوتے ہیں اور مل بیٹھنے کی جگہیں جدا ہوتی ہیں ۔ (اگر غریبوں کے لیے بھی کوئی تفریح کی جگہ ہو تو وہاں کے طورطریقے بھی مختلف ہوتے ہیں) ۔ یہاں تک کہ ان کے قبرستان بھی جدا جدا ہیں ۔ یہ تفاوت اور تفریق کہ جو انسانی تقاضوں کے خلاف ہے اور تمام انسانی قوانین کی روح کے خلاف ہے کسی مردِ خدا کے لیے قابلِ برداشت نہ تھی اور نہ ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں شدت سے یہ تفریق موجودہ تھی ۔ یہاں تک کہ وہ لوگ رسولِ اسلام کا سب سے بڑا عیب یہی سمجھتے تھے کہ سلمان و بوذر جیسے پا برہنہ اور تہی دست لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں بھی بت پرست اشراف اور ”بڑے لوگ“آپ(ع) پر یہی اعتراض کرتے تھے کہ : ”پست لوگوں“(اراذل)نے کیوں تیری پیروی کی ہے؟ کیونکہ دل کے یہ اندھے بڑائی اور پستی کا معیار درہم و دینار کو سمجھتے تھے ۔ قرآنی الفاظ میں: <فَقَالَ الْمَلَاٴُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِہِ مَا نَرَاکَ إِلاَّ بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إِلاَّ الَّذِینَ ھُمْ اٴَرَاذِلُنَا۔(ہود۔۲۷) ہم نے دیکھا ہے کہ ان خود پرست بے ایمان لوگوں کو با ایمان غربیوں کے ساتھ چند لمحے بھی بیٹھنا گوارا نہیں ۔ اور تاریخ اسلام شاہد ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے کیسے ان خود پرستوں کو ایک طرف کر کے محروم لوگوں کو مواقع فراہم کیے اور ان کے ذریعے ایک حقیقی تو حیدی معاشرہ تشکیل دیا ۔ وہ معاشرہ کہ جس میں صلاحیتیں بیدار ہوئیں اور معاشرے میں انسانی و قار کا معیار، انسانی کمالات، انسانی قدریں ۔ تقویٰ، علم، ایمان، جہاد اور عمل صالح قرار دیا ۔ آج بھی ایسے معاشروں کی تشکیل کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پیغمبر اسلام کے طرز عمل کو نمونہ بنایا جائے ۔ تعلیم و تربیت اور صحیح قوانین کی بنیاد پر طبقاتی فکرو نظر کا خاتمہ کردیا جائے اور ان صحیح قوانین کو پوری طرح سے رائج کیا جائے چاہے عالمی استکبار کو یہ بات پسند آئے یا نہ آئے اور وہ اس کی مخالفت کے لیے ہی کیوں نہ اٹھ کھڑے ہوں ۔ ہمیں جد و جہد کرنا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر ایک صحیح و سالم حقیقی انسانی معاشرہ ہرگز تشکیل نہیں پاسکتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:28-31
سوره کهف / آیه 28 - 31
۲۸وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْھَہُ وَلَاتَعْدُ عَیْنَاکَ عَنْھُمْ تُرِیدُ زِینَةَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَلَاتُطِعْ مَنْ اٴَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ وَکَانَ اٴَمْرُہُ فُرُطًاا ۲۹ وَقُلْ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ إِنَّا اٴَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِینَ نَارًا اٴَحَاطَ بِھِمْ سُرَادِقُھَا وَإِنْ یَسْتَغِیثُوا یُغَاثُوا بِمَاءٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوہَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَائَتْ مُرْتَفَقًا ۳۰ إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَانُضِیعُ اٴَجْرَ مَنْ اٴَحْسَنَ عَمَلًا ۳۱ اٴُوْلٰئِکَ لَھُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھِمْ الْاٴَنْھَارُ یُحَلَّوْنَ فِیھَا مِنْ اٴَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَیَلْبَسُونَ ثِیَابًا خُضْرًا مِنْ سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُتَّکِئِینَ فِیھَا عَلَی الْاٴَرَائِکِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا ترجمہ ۲۸۔ ان لوگوں کے ساتھ رہ کہ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور صرف اس کی ذات کے خواہاں ہیں ۔ حیات دنیا کی آرائش کی وجہ سے ہرگز اپنی نگاہیں ان سے نہ اٹھالے اور ان لوگوں کی اطاعت نہ کر کہ جن کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے وہ کہ جنھوں نے ہوائے نفس کی پیروی کی ہے اور جن کے کام تجاوز پر مبنی ہیں ۔ ۲۹۔ اور کہہ دے کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لے آئے(اور اس حقیقت کو مان لے) اور جو چاہے کافر ہوجائے ۔ ظالموں کے لیے ہم نے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے کہ جس کی قناتیں انھیں ہر طرف سے گھیر لیں گی اور اگر وہ پانی مانگیں گے تو انھیں ایسا پانی پیش کیا جائے گا جو پگھلی ہوئی دھات کی مانند ہوگا اور منہ کو بھون ڈالے گا ۔ وہ کیا برا پانی ہے اور وہ کیا برا ٹھکانہ ہے ۔ ۳۰۔ یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے او رانھوں نے اچھے عمل انجام دیئے، تو ہم نیک لوگوں کی جزاء ضائع نہیں کریں گے ۔ ۳۱۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کا مسکن بہشت جاوداں ہے، ایسے باغات بہشت کہ جن کے رختوں او رمحلوں کے نیچے نہریں رواں ہیں ۔ وہ وہاں سونے کے گنگنوں سے سنوارے جائیں گے اور انھیں سبز رنگ کے نازک اور دبیزریشم کے (فاخرہ) لباس پہنائے جائیں گے اور تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ کیا ہی اچھی جزا ہے اور کیسی پیاری جگہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:28-31
پاک دل غریب لوگ
پاک دل غریب لوگ اصحاب کہف کے واقعے نے ہمیں جو بہت سے درس دیئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسانوں کی قدر و قیمت کا معیار منصب، ظاہری مقام اور دولت و ثروت نہیں ہے ۔ الله کی راہ میں وزیر اور چرواہا ایک ہی صف میں ہیں ۔ زیر بحث آیات میں در حقیقت اسی اہم مسئلے کا ذکر ہے ۔ ان میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کوحکم دیا گیا ہے: ان افراد کے ساتھ رہو کہ جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور صرف اسی کی پاک ذات کے طلبگار ہیں(وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْھَہُ) ۔ ”وَاصْبِرْ نَفْسَکَ“(اپنے آپ کو صابر بنا) ۔ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ رسول اللہ پر مستکبر دشمنوں اور بُرے اشراف کی طرف سے دباؤ تھا کہ غریب و فقیر مومنین کو اپنی بارگاہ سے دور کردیں لہٰذا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس دباؤ کے مقابلے میں صبر و استقامت اختیار کرو اور ہرگز ان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرو ۔ ”صبح و شام“کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ہر حالت میں اور زندگی بھر یادِ خدا میں محو رہتے ہیں ۔ ”یُرِیدُونَ وَجْھَہُ“(وہ اس کی ذات کے طلب گار ہیں) ۔ یہ تعبیر ان کے خلوص اور اخلاص کی دلیل ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ خدا سے صرف اسی کو چاہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بہشت کی نعمتیں اگر چہ بہت عظیم ہیں مگر وہ اس کی خاطر اللہ کی بندگی نہیں کرتے اور جہنم کا غذاب اگر چہ بہت درد ناک ہے لیکن وہ اس کے خوف سے عبادتِ الٰہی نہیں کرتے بلکہ صرف اس کی پاک ذات کی خاطر اس کی پرستش کرتے ہیں ۔ ان کے دل کی آواز تو بس یہ ہے: ما از تو بغیر از تو نداریم تمنا ہم تجھ سے تیرے علاوہ کوئی تمنا نہیں رکھتے ۔ اور یہ اللہ کی اطاعت، اس بندگی، اس کے عشق اور اس پر ایمان کا اعلےٰ ترین درجہ ہے ۔(۱) اس کے بعد تاکید کے طور پر گفتگو جاری ہے: یہ ایمان کہ جو ظاہراً فقیر سے ہیں، ان سے ہرگز اپنی آنکھیں نہ پھیرو اور دنیا کی زینتوں کی خاطر خدا سے بے خبر ان مستکبرین کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ یکھو (وَلَاتَعْدُ عَیْنَاکَ عَنْھُمْ تُرِیدُ زِینَةَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا) ۔(۲) مزید تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: اور جن کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے ان کی اطاعت نہ کرو (وَلَاتُطِعْ مَنْ اٴَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکْرِنَا) ۔ ان کی کہ جنھوں نے ہوائے نفس کی پیروی کی ہے (وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ) ۔وہی کہ جن کے سارے کام افراط پر مبنی ہیں ۔ جو سوچ بچار اور غور و فکر سے کام نہیں لیتے اور جن کے کام حد سے بڑھے ہوئے ہیں (وَکَانَ اٴَمْرُہُ فُرُطًا) ۔(۳) یہ بات جاذب نظر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کی صفات کو ایک دوسرے کے مدِّ مقابل رکھ دیا ہے ۔ حقیقی مومنین۔ کہ جو تہی دست ہیں ۔ ان کے دل عشق خدا سے سرشار ہیں ۔ وہ ہمیشہ اس کی یاد میں محور ہتے ہیں اور اس سے فقط اس کے طلبگار ہیں ۔ لیکن دولت مند مستکبر یادِ خدا سے بالکل غافل ہیں ۔ ہوائے نفس کے علاوہ ان کی کوئی طلب نہیں ۔ ان کے سارے کام اعتدال کی حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور وہ افراط و تجاوز سے کام لیتے ہیں ۔ مذکورہ موضوع کی اس قدر اہمیت ہے کہ اگلی آیت میں قرآن صراحت کے ساتھ رسول الله سے کہتا ہے: کہدو کہ میرا تو یہ طریقِ کار ہے اور یہ تمھارے پروردگار کی طرف سے ایک حقیقت ہے جو چا ہے ایمان لے آئے اور اس حقیقت کو قبول کر لے اور جو چاہے کافر ہوجائے ( وَقُلْ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ) ۔ لیکن یہ جان لو کہ یہ دنیا پرست ظالم کہ جو اپنی دنیا وی زندگی اور اس کی زیب و زینت پر اتراتے ہوئے سلمان و ابوذر جیسے لوگوں کے کھردرے لباس کا مذاق اڑاتے ہیں ان کا انجام بہت برا اور تاریک ہے کیونکہ ”ہم نے ان ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے کہ جس کے بلند خیموں نے چاروں طرف سے انھیں گھیر رکھا ہے “(إِنَّا اٴَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِینَ نَارًا اٴَحَاطَ بِھِمْ سُرَادِقُھَا) ۔ جی ہاں! وہ جب اس دنیاوی زندگی میں پیاسے ہوتے تو آواز دیتے اور خدام طرح طرح کے مشروبات ان کے سامنے لا حاضر کرتے لیکن ”جہنم میں جب وہ پانی مانگیں گے انھیں ایسا پانی پیش کیا جائے گا جو ایسی پگھلی ہوئی دھات کی مانند ہوگا کہ اگر چہرے کے قریب ہو تو اسے بھون دے“۔ (وَإِنْ یَسْتَغِیثُوا یُغَاثُوا بِمَاءٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوہَ) ۔(4) یہ پینے کی کیا بری چیز ہے (بِئْسَ الشَّرَابُ) ۔ اور دوزخ کتنا برا ٹھکانا ہے (وَسَائَتْ مُرْتَفَقًا) ۔(5) غور کیجئے ۔ وہ پانی کہ جو چہرے کے قریب ہو تو اسے بھون دے، کیا پینے کے قابل ہے؟ یہ اس بناپر ہے کہ یہ لوگ دنیا میں اچھے اچھے مشروبات پیا کرتے تھے جبکہ محروم اور مستضعف لوگوں کے دلوں کو جلایا کرتے تھے ۔ اب یہ وہی آگ ہے جس نے یہ جسمانی شکل اختیار کرلی ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ قرآن نے یہاں دولت مندوں اور ظالم و بے ایمان مفاد پرستوں کے لیے جہنم میں بھی اس جہاں کے تکلفات کا ذکر کیا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ دنیا میں دولت مندوں کے جو ”سرادق“یعنی بلند خیمے (یہ لفظ فارسی کے لفظ ”سراپردہ“سے لیا گیا ہے) ہوتے ہیں ان میں غریبوں کا کوئی گزر نہیں ۔ یہاں یہ امیروں کے عیش و نوش اور بادہ گساری کے لیے ہوتے ہیں لیکن وہاں ان کے بلند خیمے ”دوزخ کے بلند بھڑکتے ہوئے شعلے“ ہیں ۔ یہاں ان کے عیش کدوں میں طرح طرح کے مشروبات ہیں اور جب وہ ساقی کو آواز دیتے ہیں تو وہ شراب کے رنگارنگ جام ان کے سامنے لا حاضر کرتے ہیں ۔ دوزخ میں بھی ان کے لئے ساقی اور مشروبات موجود ہیں ۔ لیکن وہاں کا مشروب پگھلی ہوئی دھات کی مانند ہوگا ۔ یتیموں کے اشکِ سوزان اور محتاجوں کی آہِ آتشیں سے ابلتا ہوا پانی ۔ جی ہاں وہاں جو کچھ ہے وہ یہاں کی کیفیتوں کا تجسّم ہے (پناہ بخدا) ۔ قرآنِ حکیم کی روش چونکہ تطبیقی اور ترتیبی ہے لہٰذا خود غرض دنیا پرستوں کے اوصاف اور ان کا کیفرِ کردار بیان کرنے کے بعد حقیقی مومنین کی حالت اور ان کا انتہائی زیاہ اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے مختصر طور پر اور پھر ذرا تفصیل سے ارشاد ہوتا ہے: وہ کہ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ہم ان نیکوکاروں کا اجر و ثواب ضائع نہیں کریں گے (إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَانُضِیعُ اٴَجْرَ مَنْ اٴَحْسَنَ عَمَلًا) ۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جنّاتِ جاوداں ان کے لیے ہیں (اٴُوْلٰئِکَ لَھُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ) ۔وہ باغاتِ بہشت کہ جن کے درختوں تلے نہریں رواں ہیں (تَجْرِی مِنْ تَحْتِھِمْ الْاٴَنْھَارُ) ۔ وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ ہوں گے (یُحَلَّوْنَ فِیھَا مِنْ اٴَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ) ۔(6) اور وہ سبز رنگ کے نازک دبیز ریشم کے فاخرہ لباس زیبِ تن کیے ہوں گے (وَیَلْبَسُونَ ثِیَابًا خُضْرًا مِنْ سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ) ۔ جبکہ وہ تختوں اور کرسیوں پر تکیہ لگائے ہوں گے (مُتَّکِئِینَ فِیھَا عَلَی الْاٴَرَائِکِ) ۔(7) واہ کیا کہنا! کیا اچھی چیز ہے (نِعْمَ الثَّوَابُ) ۔ اور دوستوں کا کیسا اچھا اکٹھ ہے (وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا) ۔ ۱۔ ”وجہ“کبھی ”ذات“کے معنی میں آتا ہے اور کبھی ”چہرے“کے معنی میں ۔ اس قسم کے مواقع پر اس لفظ کے انتخاب کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۲ ص ۲۰۵ (اردو ترجمہ)پر تفصیلی بحث کرچکے ہیں ۔ ۲۔ ”َلَاتَعْد“ ”عدا یعدوا“ کے مادہ سے تجاوز کرنے کے معنی میں ہے لہٰذا جملے کا مفہوم یہ ہوگا ”ان سے آنکھیں ہی نہ ہٹا کہ دوسرے پر نگاہ پڑے“۔ ۳۔ ”فرط“حد سے تجاوز کرنے کے معنی میں ہے اور ہر وہ چیز جو اپنی حد سے نکل کر اسراف ہوجائے اسے ”فرط“کہتے ہیں ۔ 4۔ ”مُہل“(بروزن ”قفل“) ۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے تہ نشین تیل کو کہتے ہیں کہ جو عام طور پر گندا، کثیف، گاڑھا اور بدذائقہ ہوتا ہے لیکن بعض مفسروں نے اس لفظ سے ہر قسم کی پگھلی ہوئی دھات مراد لیا ہے اور ”یشوی الوجوہ“(چہروں کو بھون دیتا ہے)یہ تعبیر دوسرے معنی کی تائید کرتی ہے ۔ 5۔ ”مرتفق“”رفق“ اور ”رفیق“کے مادہ سے ہے ۔ اس سے دوستوں کے جمع ہونے کی جگہ مراد ہے ۔ 6۔ ”اساور“ ،”اسورہ“ (بروزن ”مَشورہ“) کی جمع ہے اور خود ”اسورہ“(بروزن ”غبار“ اور ”کتاب“)کی جمع ہے ۔ اصل میں یہ فارسی لفظ ہستوار (کنگن) سے لیا گیا ہے ۔ اسے عربی میں ڈھالنے کے بعد اس سے عربی کے فصل بھی مشتق ہوئے ہیں ۔ 7۔ ”ارائک“، ”اریکة“ کی جمع ہے ۔ یہ اس تخت کو کہتے ہیں جو چاروں طرف سے سائبان کی طرح ڈھانپا گیا ہو ۔ راغب کے بقول یہ اصل میں ”اراک“سے ہے جو ایک مشہور درخت (پیلو)کا نام ہے، سے لیا گیا ہے کیونکہ عرب بعض اوقات اس درخت سے ایک خاص طرح کا سائبان بناتے تھے ۔ یا یہ لفظ ”اروک“سے لیا گیا ہے کہ جو اقامت اور توقف کرنے کے معنی میں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:28-31
شان نزول
مندرجہ بالا آیات میں سے کچھ کی شان نزول کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ کچھ سرمایہ دار متکبر، خود غرض اشراف خدمتِ رسول میں حاضر ہوئے ۔ وہ سلمان ، ابوذر، صہیب اور خباب و غیرہ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے:اے محمد! اگر تو کسی محفل میں صدر نشین ہو اور ایسے افراد کہ جن کی بدبو انسانی مشام کو اذیّت پہنچاتی ہے اور جنھوں نے سخت اونی لباس پہن رکھے ہیں اپنے سے دور کردے(یعنی مجلس میں اشراف اور بڑے لوگ ہوں) تو ہم تیرے پاس آئیں گے، تیری مجلس میں بیٹھیں گے اور تیری باتوں سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن ان لوگوںکے ہوتے ہوئے تو ہم یہاں نہیں بیٹھ سکتے ۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا کہ ان پر فریب کھو کھلی باتوں کی طرف ہرگز مائل نہ ہوں اور زندگی کے ہر دور میں ہمیشہ با ایمان، پاک دل افراد کے ساتھ رہیں کہ جو سلمان و ابوذر جیسے ہوں اگر چہ ان کا ہاتھ ثروت دنیا سے خالی ہو اور ان کا لباس کھُردرا ہو ۔ ان آیات کے نزول کے بعد رسول الله ان افرادکی تلاش کے لیے اٹھے ۔( یہ مخلص مومنین ان سرمایہ داروں کی باتیں سن کر ناراض تھے اور مسجد کے ایک گوشے میں جاکر عبادت پروردگار میں مشغول ہوگئے تھے) ۔ آخر کار رسول الله نے انھیں مسجد کے آخری حصّے میں پالیا ۔ وہ لوگ ذکر الٰہی میں مشغول تھے ۔ آپ نے فرمایا: حمد ہے اس خدا کے لیے جس نے موت سے پہلے یہ حکم دیا کہ تم جیسے لوگوں کے ساتھ رہوں ۔ ”معکم المحیا و معکم الممات“ ”تمھارے ساتھ جینا اور تمھارے ساتھ مرنا ہی اچھا ہے“۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:28-31
۵۔ سرمائے کی وجہ سرمایہ داروں کی قربت
۵۔ سرمائے کی وجہ سرمایہ داروں کی قربت: زیر بحث آیات ہمیں جو ایک او رنکتہ سکھاتی ہیں یہ ہے کہ ہم گروہ کو ہدایت و ارشاد اس لیے ترک نہ کریں کہ وہ دولت مند ہے اور خوشحال زندگی گزرتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے گرد سرخ لکیر نہیں کھینج دینا چاہیے بلکہ قابل مذمت یہ ہے کہ ہم ان کی مادی زندگی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کے قریب ہوں اور قرآن کے بقول”ترید زینتہ الحیٰوة الدنیا“ (تم دنیا وی زندگی کے طلبگار ہو)کے مصداق نہ بنیں ۔ لیکن اگر مقصدان کی ہدایت اور ارشاد ہو ۔ یہاں تک کہ مقصد ان کے وسائل سے مثبت اور تعمیری معاشرتی و اجتماعی ضروریات کے لیے فائدہ اٹھانا ہو تو ان سے رابطہ قائم رکھنا نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں ہے بلکہ ضروری ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:28-31
۴۔ دوسرے جہاں میں لباسِ زینت
۴۔ دوسرے جہاں میں لباسِ زینت: ممکن ہے بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دنیا کی زیب و زینت کی مذمت کی ہے لیکن مومنین کے لیے ایسی ہی زیب و زینت کا آخرت میں وعدہ کیا ہے ۔ طلائی زیورات، باریک و دبیز ریشمی لباس اور خوبصورت تخت وغیرہ۔ اس سوال کے جواب میں پہلے ہم اس نکتے کی طرف توجہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم نے خود قرآن سے سیکھا ہے کہ معاد و قیامت کا ایک پہلو روحانی ہے اور ایک پہلو جسمانی بھی ہے ۔ لہٰذا اس جہان کی لذتیں بھی دونوں طرح کی ہیں ۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ وہاں کی روحانی لذتوں کا مقابلہ جسمانی لذتوں سے نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے باوجو اس حقیقت کو نہیں چھپایا جاسکتا کہ اس جہاں کی نعمتیں ہمارے لیے ایک ہیولے کی طرح ہیں کہ جسے ہم دور سے دیکھ رہے ہوں ۔ وہاں کی باتیں ہمارے لیے ایک اشارے کی مانند ہیں کیونکہ وہ جہان ہمارے لیے ایسے ہی ہے جیسے شکمِ مادر میں موجود بچے کے لیے ہمارا یہ جہاں ۔ ماں اپنے شکم کے بچے سے اس دنیا کے بارے میں کچھ کہہ سکے تو اس دنیا کی خوبصورتی، خورشیدِ درخشاں، ماہ تاباں، رواں چشموں، باغات، رنگ برنگے پھولوں اور ایسی دوسری چیزوں کے بارے میں کچھ اشارے ہی کیے جاسکیں گے ۔ چونکہ عالمِ جنین میں بچے کو سمجھانے کے لیے کافی و دانی الفاظ نہیں ہیں ۔ اسی طرح رحم دنیا میں ہماری نظر محدود ہے ۔ یہاں واضح طور پر قیامت کی مادی معنوی نعمات کا پورا ادراک ممکن نہیں ہے ۔ اس تمہیدی وضاحت کے بعد اب ہم اس سوال کے جواب کی طرف آتے ہیں ۔ الله تعالیٰ اس دنیا کی زیب و زینت کی مذمت اس لیے کرتا ہے کہ یہ دنیا محدود ہے اگر کوئی یہاں پر زیب وزینت میں پڑے گا تو ایسی زندگی کی فراہم کے لیے وہ طرح طرح کے ظلم و زیادتی کا مرتکب ہوگا اور ایسی زندگی پانے کے بعد وہ غفلت میں جاپڑے گا ۔ اس راستہ میں تفریقات اور طبقے پیدا ہوجاتے ہیں جن کے باعث کینے، حسد، عداوتیں اور بالآخر خون ریزیاں جنم لینی ہیں ۔ لیکن اس جہان کی ہر چیز فراوان ہے ۔ وہاں ایسی زینتوں کے حصول سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا اور نہ وہاں ان چیزوں کا حصول تفریق اور محرومیت کا سبب بنتا ہے، نہ وہاں اس سے کینہ اور نفرت ابھرتی ہے اور نہ معنویت و روحانیت سے معمور اس ماحول میں انسان خدا سے غافل ہوتا ہے ۔ وہاں چیزوں کی حفاظت کا مسئلہ ہے اور نہ ہی زقیبوں کے حسد کا ۔ یہ چیز وہاں غرور و تکبر کا باعث بنتی ہے اور نہ خدا اور خلقِ خدا کی دوری کا ۔ لہٰذا اہل بہشت عظیم روحانی نعمتوں کے ساتھ ساتھ اس جسمانی لذت سے کیوں محروم رہیں جبکہ اس کا کوئی ناپسندیدہ نتیجہ نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:28-31
۳۔ ہوا پرستی اور خدا سے غفلت
۳۔ ہوا پرستی اور خدا سے غفلت: انسان کی روح میں خدا سمایا ہوتا ہے یا ہوائے نفس یہ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہوسکتیں ۔ نفس پرستی در حقیقت خدا سے غفلت کا سرچشمہ ہے ۔ ہوا پرستی تمام اخلاقی اصولوں سے دوری کا سبب ہے ۔ مختصر یہ کہ ہوا پرستی انسان کو خود محور بنادیتی ہے اور دنیا کے تمام حقائق سے دور کردیتی ہے ۔ ایک نفس پرست انسان اپنی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ کچھ نہیں سوچتا ۔ علم، آگاہی، ایثار، قربانی اور روحانیت کا اس کے لیے کوئی مفہوم نہیں ۔ مندرجہ بالا آیات میں ہوا پرستی اور خدا سے غفلت کے درمیان رابطہ اچھی طرح سے واضح ہوتا ہے ۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: وَلَاتُطِعْ مَنْ اٴَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ وَکَانَ اٴَمْرُہُ فُرُطًا پہلے خدا سے غفلت کا ذکر ہے اور پھر خواہشات کی پیروی گا ۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ ان کا نتیجہ تجاوز اور افراط بیان کیا گیا ہے جو مطلق کی صورت میںہے ۔ نفس پرست انسان ہمیشہ افراط میں گرفتار رہتا ہے ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسان کی طبیعت ایسی ہے کہ جب وہ مادی لذتوں میں پڑتا ہے تو پھر زیادہ اور زیادہ کی طلب ہوتی ہے ۔ کل ایک شخص نشہ آور چیز کی جس مقدار سے مست ہوتا تھا آج اتنی مقدار سے اسے نشہ نہیں ہوتا بلکہ وہ تدریجاً اس کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے ۔ کل ایک شخص کو اپنے ساز و سامان کے ساتھ اگر نسبتاً ایک چھوٹی کوٹھی کافی معلوم ہوتی تھی تو آج وہ اسے کم سمجھتا ہے ۔ انسان کی تمام خواہشات کا یہی عالم ہے یہاں تک کہ وہ اسی چکر میں اپنے آپ کو تباہ کرلیتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:28-31
۲۔ دونوں جہانوں کی زندگی کا موازنہ
۲۔ دونوں جہانوں کی زندگی کا موازنہ: ہم نے بارہا کہا ہے کہ تجسیم اعمال قیامت سے مربوط ایک نہایت اہم مسئلہ ہے یعنی اس جہان میں کچھ ہو گا وہ اس جہان کی ایک بڑی کی ہوئی تصویر (ENLARGEA PICTURE) تکامل و ارتفاء ہے ۔ ہمارے اعمال و افکار، معاشرتی طور طریقے، مختلف اخلاقی عادات و خصائل اس جہان میں جسم ہوں گے اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے ۔ زیر بحث آیات اس حقیقت کی زندہ تصویر ہیں ۔ خود پرست اور ظالم دولت مند کہ جو اس جہان میں محلوں میں تکیہ لگائے ہوئے مے نوشی میں سرمست تھے اور جن کی کوشش تھی کہ ان کی ہر چیز غریب مومنین سے الگ ہو ۔ وہ وہاں بھی بلند خیموں کے حامل ہوں گے لیکن وہ خیمے جلا ڈالنے والی آگ کے ہوں گے ۔ کیونکہ ظلم درحقیقت آتشِ سوزان ہے کہ جو مستضعفین کے خرمن حیات اور سرمایہ امید کو جلادیتی ہے ۔ وہاں بھی انھیں مشروبات ملیں گے ۔ وہاں شرابِ دنیا میں ان کو ملنے والا مشروب نہ فقط ان کی انتڑیوں کو جلادے گا بلکہ پگھلی ہوئی دھات کی مانند جب وہ پینے کے لیے اپنا چہرہ اس کے قریب کریں گے تو وہ چہروں کو بھون دے گا ۔ لیکن اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنی پاکدامنی کی حفاظت کی اصولِ عدالت کا احترام کیا، ان چیزوں کو ٹھکرادیا، سادہ زندگی پر قناعت کی اور اس دنیا کی محرومیوں کو اس لیے قبول کرلیا کہ عدل قائم ہو ۔ وہاں ان کے لیے بہشتِ بریں کے باغات ہونگے جن کے درختوں تلے نہریں رواں ہوں گی ۔ وہ فاخرہ لباس پہنے ہونگے، زینت و رنگ اور شوق انگیز محفلیں ان کے انتظار میں ہوں گی ۔ یہ تجسم ہے ان کی پاک نیت کا کہ وہ یہ نعماتِ دنیا تمام بندگانِ خدا کے لیے چاہتے ہیں ۔