وَكَذَلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا
So it was that We let them come upon them, that they might know that Allah’s promise is true, and that there is no doubt in the Hour. As they disputed among themselves about their matter, they said, ‘Build a building over them. Their Lord knows them best.’ Those who had the say in their matter said, ‘We will set up a place of worship over them.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:21
[Pooya/Ali Commentary 18:21]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:21-24
۲۔”وثامنھم کلبھم“میں واو
۲۔”وثامنھم کلبھم“میں واوٴ: زیر نظر آیات میں”رابعھم کلبھم“ اور ”سادسھم کلبھم“دونوں جملے بغیر واوٴ کے آئے ہیں جبکہ”وثامنھم کلبھم“واوٴ کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور قرآن کی ہر تعبیر میں چونکہ کوئی نہ کوئی حکمت اور مقصد پوشیدہ ہے لہٰذا مفسرین نے اس واوٴ کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے ۔ شایدان میں سے بہترین تفسیر یہ ہو کہ یہ واؤ آخری بات اور آخری حرف کی طرف اشارہ ہے ۔ جیسے موجودہ زمانے کے ادب میں بھی یہ طریقہ عام ہوگیا ہے کہ چیزوں کو شمار کرتے وقت سب کو بغیر واؤ کے ذکر کرتے لیکن آخری کا ذکر لازمی طور پر واؤ کے ساتھ کرتے ہیں مثلاً: زید، عمر، حسن و محمّد آئے ۔ (اردو میں واؤ کی بجائے ”اور“ استعمال ہوتا ہے(مترجم)) ۔ یہاں پر واؤ کلام کے اختتام اور آخری شخص یا چیز کے بیان کی طرف اشارہ ہے ۔ یہی بات مشہور مفسّر ابن عباس سے منقول ہے ۔ بعض دیگر مفسرین نے بھی اس کی تائید کی ہے نیز انھوں نے اسی واؤ سے اس امر کی تائید کے لیے بھی استفادہ کیا ہے کہ اصحابِ کہف کی حقیقی تعداد سات تھی کیونکہ اس کے علاوہ اقوال کو بے بنیاد قرار دے کر قرآن نے ان کی حقیقی تعداد کو آخر میں بیان کیا ہے ۔ بعض دوسرے مفسرین مثلاً فخر رازی اور قرطبی نے اس واؤ کی ایک اور تفسیر نقل کی ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے: سات کا عدد غربوں میں ایک مکمل عدد شمار ہوتا ہے ۔ اسی لیے سات کے عدد تک بغیر واؤ کے ذکر کرتے ہیں لیکن جب اس عدد سے آگے بڑھتے ہیں تو واؤ استعمال کرتے ہیں کہ جو ابتدائے کلام کی دلیل ہے اسی لیے ادباءِ عرب کی زبان میں یہ ”واوِ ثمانیہ“مشہور ہوگئی ۔ آیاتِ قرآن میں بھی عموماً اسی طرح دیکھا گیا ہے ۔ مثلاً سورہٴ توبہ کی آیت ۱۱۲ میں جہاں راہِ خدا کے مجاہدین کی صفات شمار کی گئی ہیں وہاں سات صفات تو واؤ کے بغیر آئی ہیں لیکن جب قرآن آٹھویں صفت پر پہنچتا ہے تو کہتا ہے: <و النَّاہُونَ عَنِ المُنکَرِ وَ الحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّٰہِ اور برائیوں سے روکنے والے اور حدود اللہ کی حفاظت کرنے والے ۔ اسی طرح سورہ تحریم کی آیت ۵ میں ازدواجِ پیغمبر کی صفات بیان کرتے ہوئے ساتویں صف کے بعد آٹھویں صفت کا ذکر واؤ کے ساتھ کیا گیا ہے: <ثَیِّنَاتٍ وَّاَبْکَارًا بیوائیں اور کنواریاں ۔ نیز سورہٴ زمر کی آیت ۷۱ میں جہنم کے دروازوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: <فَتِحَتْ اَبْوَابُہَا اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۔ لیکن دو آیتوں کے بعد جس وقت جنت کے دروازوں کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو فرمایا گیا ہے: <وَ فَتِحَتْ اَبْوَابُہَا اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۔ کیا یہ اس بناء پر نہیں ہے کہ جہنم کے دروازے سات ہیں اور جنت کے دروازے آٹھ ہیں ۔ البتہ شاید یہ کوئی کلی قانون نہ ہو لیکن زیادہ تر مواقع پر ایسا ہی ہے ۔ بہر حال یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ قرآن میں ایک واؤ تک کا وجود بھی کسی حساب کتاب کے تحت ہے اور کسی حقیقت کے بیان کے لیے ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:21-24
۱۔”رجماً بالغیب“کا مفہوم
۱۔”رجماً بالغیب“کا مفہوم: ”رجم“ در اصل ”پتھر“ یا ”پتھر پھینکنے“ کے معنی میں ہے ۔ بعد ازاں یہ لفظ ہر قسم کی تیر اندازی کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ کبھی یہ لفظ کنائے کے طور پر الزام لگانا یا تہمت لگانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ نیز گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا ۔لفظ ”بالغیب“ اس معنی کی تاکید کے لیے ہے یعنی عدم موجود گی میں بغیر کسی ماخذ و دلیل کے کسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرنے کو کہتے ہیں ۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے فارسی میں کہتے ہیں: تیر در تاریکی انداختن اندھیرے میں تیر مارنا ۔ اندھرے میں عموماً تیر صحیح نشانے پر نہیں لگتا اسی طرح اس قسم کا فیصلہ بھی عموماً صحیح نہیں ہوتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:21-24
۵۔ ایک سوال کا جواب
۵۔ ایک سوال کا جواب: زیرِ بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ جس وقت خدا کو بھول جاؤ اور پھر تمھیں یاد آئے تو اسے یاد کرو ۔(1) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر انشاء اللہ کہنے کی صورت میں اس کی مشیت پر بھروسہ نہ کرو تو جس وقت تمھیں یاد آئے اس کی تلافی کرو ۔ اس آیت کی تفسیر میں اہلِ بیت علیہم السلام سے جو متعدد روایات منقول ہیں ان سے بھی اس مفہوم پر تاکید ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ اگر ایک سال گزر نے کے بعد بھی تمھیں یاد آئے انشاء اللہ نہیں کہا تھا تو گزشتہ کی تلافی کرو ۔(2) اس وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ رسول اللہ بھول گئے ہیں حالانکہ اگر ان کی فکر و نظر میں نسیان آجائے تو ان کی گفتار اور اعمال پر کامل اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور انبیاء و آئمہ (ع) کے خطا اور نسیان سے معصوم ہونے کی یہی دلیل ہے یہاں تک کہ موضوعاتِ خارجیہ میں بھی ۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بہت سی قرآنی آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ روئے سخن انبیاء کی طرف ہے لیکن مقصو و منظور عام لوگ ہوتے ہیں ۔ اس بات سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے ۔ اس طرح کی گفتگو کے لیے عربوں کی مشہور ضرب المثل ہے: ”ایّاک اعنی واسمعی یا جارة“ میری مراد تو ہے جو میرے پاس ہے اور اے پڑوسن تو بھی سن لے ۔(3) (بعض بزرگ مفسرین نے اس سوال کا ایک اور جواب دیا ہے جسے ہم سورہٴ انعام کی آیت ۶۸ کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں ۔ پانچویں جلد کی طرف رجوع کیجئے) ۔ 1و 2۔ نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۵۴- 3۔ فارسی میں اس کے متبادل یہ ضرب المثل ہے: در بتومی گویم دیوار تتو بشنو اے ردوازے تجھے کہتا ہوں اور اے دیوار تو سن لے ۔ اردو میں اس کے لیے یہ ضرب المثل ہے: کہوں دِھی کو بہو تو کان رکھیو نیز پنجابی زبان میں اس مفہوم کو شاید سب سے عمدہ ادا کیا گیا ہے: کہنیاں دھی نوں تے سنانیاں تو نہہ نوں (ثاقب)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:21-24
سوره کهف / آیه 21 - 24
۲۱ وَکَذٰلِکَ اٴَعْثَرْنَا عَلَیْھِمْ لِیَعْلَمُوا اٴَنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَاٴَنَّ السَّاعَةَ لَارَیْبَ فِیھَا إِذْ یَتَنَازَعُونَ بَیْنَھُمْ اٴَمْرَھُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَیْھِمْ بُنْیَانًا رَبُّھُمْ اٴَعْلَمُ بِھِمْ قَالَ الَّذِینَ غَلَبُوا عَلیٰ اٴَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَسْجِدًا ۲۲ سَیَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَابِعُھُمْ کَلْبُھُمْ وَیَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُھُمْ کَلْبُھُمْ رَجْمًا بِالْغَیْبِ وَیَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُھُمْ کَلْبُھُمْ قُلْ رَبِّی اٴَعْلَمُ بِعِدَّتِھِمْ مَا یَعْلَمُھُمْ إِلاَّ قَلِیلٌ فَلَاتُمَارِ فِیھِمْ إِلاَّ مِرَاءً ظَاھِرًا وَلَاتَسْتَفْتِ فِیھِمْ مِنْھُمْ اٴَحَدًا ۲۳ وَلَاتَقُولَنَّ لِشَیْءٍ إِنِّی فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ۲۴ إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ وَاذْکُرْ رَبَّکَ إِذَا نَسِیتَ وَقُلْ عَسیٰ اٴَنْ یَھْدِیَنِی رَبِّی لِاٴَقْرَبَ مِنْ ھٰذَا رَشَدًا ترجمہ ۲۱۔ اور ہم نے اس طرح سے لوگوں کو اُن کے حال سے مطلع کیا تاکہ وہ جان لیں کہ (قیامت کا) الله کا وعدہ حق ہے اور دنیا کے ختم ہوجانے اور قیامت کے برپا ہوجانے میں کوئی شک نہیں، اس وقت ان میں اس بارے میں نزاع پیدا ہوگیا، کچھ نے کہا کہ ان پر عمارت بنادی جائے (تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے نظروں سے اوجھل ہوجائیں اور ان کے بارے میں باتیں نہ کروکہ) ان کا رب ان کی کیفیت سے بہتر آگاہ ہے (لیکن جنھیں اس راز سے آگہی نصیب ہوئی اور جنھوں نے اس واقعے کو قیامت کے لئے ایک دلیل سمجھا) ہم ان کے (مدفن کے) پاس ایک مسجد بنائیں گے(تا کہ انھیں بھلایا نا جاسکے) ۔ ۲۲۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ تین افراد تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا ۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ پانچ افراد تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا ۔ یہ سب بلا دلیل باتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں وہ سات افراد تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا ۔ کہہ دو کہ میرا رب ان کی تعداد سے بہتر آگاہ ہے ۔ چند افراد کے سوا ان کی تعداد کو کوئی نہیں جانتا ۔ لہٰذا ان کے بارے میں بغیر دلیل کے بات نہ کراور ان کے بارے میں کسی سے سوال نہ کر۔ ۲۳۔اور ہرگز یہ نہ کہہ کہ میں کل فلاں کام انجام دوں گا ۔ ۲۴۔ مگر یہ کہ خدا چاہے اور اگر تو بھول جائے تو(اس کی تلافی کرتے ہوئے) اپنے رب کو یاد کر اور کہہ:مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے زیادہ واضح راستے کی ہدایت کرے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:21-24
اصحاب کہف کے واقعے کا اختتام
اصحاب کہف کے واقعے کا اختتام جلد ہی لوگوں میں ان عظیم جوانمردوں کی ہجرت کی داستان پھیل گئی ۔ ظالم بادشاہ سیخ پا ہو گیا کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی ہجرت یا بھاگ نکلنا لوگوں کی بیداری اور آگاہی کا سبب بن جائے ۔ اُسے یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں وہ دُور یا نزدیک کے علاقے میں جاکر لوگوں کو دینِ توحید کی تبلیغ کرنے لگیں اور شرک و بت پرستی کے خلاف جد جہد شروع کردیں ۔ لہٰذا اس نے خاص افراد کو مامور کیا کہ انھیں ہرجگہ تلاش کیا جائے اور ان کا کچھ اتہ پتہ معلوم ہو تو گرفتاری کے لیے تعاقب کیا جائے اور انھیں سزادی جائے ۔ لیکن انھوں نے جتنی بھی کوشش کی کچھ نہ پایا اور یہ امر خود علاقے کے لوگوں کے لیے معمہ اور ان کے قلب و فکر کے لیے ایک خاص نقطہ بن گیا ۔ نیز یہ امر کہ حکومت کے نہایت اہم چند اراکین نے ہر چیز کو ٹھوکر مار دی اور طرح طرح کے خطرات مول لے لیے شاید بعض لوگوں کی بیداری اور آگاہی کا سرچشمہ بن گیا ۔ بہر حال ان افراد کی یہ حیران کن داستان ان کی تاریخ میں ثبت ہوگئی اور ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہونے لگی اور اسی طرح اس مسئلے کو صدیاں گزر گئیں ۔ آئے اب دیکھتے ہیں کہ اُس پر کیا گزری جو غذا لینے کے لیے آیا ۔ وہ شہر میں داخل ہوا تو اس کا منہ تعجب سے کھلے کا کھلارہ گیا ۔ شہر کی عمارتوں کی شکل و صورت تمام تبدیل ہوچکی تھی، سب چہرے ناشناس تھے، لباس نئے انداز کے تھے یہاں تک کہ لوگوں کی بول چال اور رسم و رواج بھی بدل چکے تھے ۔ کل کے دیرانوں پر آج محل تھے اور جہاں پہلے تھے وہاں ویرانے ہی ویرانے تھے ۔ شاید تھوڑی دیر کے لیے اس نے سوچا ہوکہ ابھی میں نیند میں ہوں اور یہ جو کچھ دیکھ رہا ہوں سب خواب ہے ۔ اس نے اپنی آنکھوں کو ملا ۔ وہ سب چیزوں کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔ اس نے سوچا کہ یہ کیسی حقیقت ہے کہ جس پر یقین نہیں کیا جاسکتا ۔ اب وہ سوچنے لگا کہ وہ غار میں ایک یا آدھا دن سوئے ہیں تو پھر یہ اتنی تبدیلیاں اتنی مدت میں کیسے ممکن ہیں؟ دوسری طرف اس کا چہرہ مہرہ اور حالت لوگوں کے لیے بھی عجیب اور غیر مانوس تھی ۔ اس کا لباس، اس کی گفتگو اور اس کا چہرہ سب نیا معلوم ہوتا تھا شاید اسی وجہ سے کچھ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے پیچھے چل پڑے ۔ اُس وقت لوگوں کا تعجب انتہا کو پہنچ گیا جب اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تا کہ اس کھانے کی قیمت ادا کرے جو اس نے خریدا تھا ۔ دکاندار کی نگاہ سکے پر پڑی وہ تین سوسال سے زیادہ پرانے دَور کا تھا اور شایداس زمانے کے ظالم بادشاہ دقیانوس کا نام بھی اس پراکنندہ تھا ۔ جب اس نے وضاحت چاہی تو خریدار نے جواب میں کہا: میرے ہاتھ میں تو یہ سکّہ ابھی ہی آیا ہے ۔ قرائن اور احوال سے لوگوں کو آہستہ یقین ہوگیا کہ یہ شخص تو انہی افراد میں سے ہے جن کا ذکر ہم نے تین سوسال پہلے کی تاریخ میں پڑھا ہے اور بہت سی محفلوں میں ہم نے جن کی پُر اسرار داستان سنی ہے ۔ خود اسے بھی احساس ہوا کہ وہ اور اس کے ساتھی کسی گہری اور طولانی نیند میں مستغرق رہے ہیں ۔ اس بات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر میں آن کی آن میں پھیل گئی ۔ موٴرخین لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں ایک نیک اور خدا پرست بادشاہ حکومت کرتا تھا لیکن معاد جسمانی اور موت کے بعد مردوں کے جی اٹھنے کے مسئلہ پر یقین کرنا وہاں کے لوگوں کے لیے مشکل تھا ۔ان میں سے ایک گروہ کو اس بات پر یقین نہیں آتا تھا کہ انسان مرنے کے بعد پھر جی اٹھے گا لیکن اصحابِ کہف کی نیند کا واقعہ معاد جسمانی کے طرفداروں کے لیے ایک دندان شکن دلیل بن گیا ۔ اسی لیے زیر نظر پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے: جیسے ہم نے انھیں سلادیا تھا اسی طرح انھیں اس گہری اور طویل نیند سے بیدار کیا اور لوگوں کو ان کے حال کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ جان لیں کہ قیامت کے بارے میں خدا کا وعدہ حق ہے (وَکَذٰلِکَ اٴَعْثَرْنَا عَلَیْھِمْ لِیَعْلَمُوا اٴَنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ) ۔ اور دنیا کے خاتمے اور قیام قیامت میں کوئی شک نہیں ( وَاٴَنَّ السَّاعَةَ لَارَیْبَ فِیھَا) ۔ کیونکہ صدیوں پر محیط یہ لمبی نیند موت سے غیر مشابہ نہیں ہے اور ان کا بیدار ہونا قبروں سے اٹھنے کی مانند ہے بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سونا اور جاگنا کئی حوالوں سے مرنے اور پھر جی اٹھنے سے عجیب تر ہے کیونکہ وہ صدیوں سوئے رہے لیکن ان کا بدن بوسیدہ نہ ہوا جبکہ انھوں نے کچھ کھایا نہ پیا ۔ تو پھر وہ اتنی لمبی مدت زندہ کس طرح رہے ۔ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہر چیز اور ہر کام پر قادر ہے ۔ ایسے منظر کی طرف نظر کی جائے تو موت کے بعد زندگی کا مسئلہ کوئی عجیب معلوم نہیں ہوتا بلکہ یقینی طور پر ممکن دکھائی دیتا ہے ۔ بعض موٴرخین نے لکھا ہے کہ جو شخص غذا لینے شہر میں آیا تھا اس نے یہ صورت دیکھی تو جلدی سے غار کی طرف پلٹا اور اپنے دوستوں کو سارا حال سنایا، وہ سب کے سب گہرے تعجب میں ڈوب گئے ۔ اب انھیں احساس ہوا کہ ان کے تمام بچے، بھائی اور دوست کوئی بھی باقی نہیں رہا اور ان کے احباب و انصار میں سے کوئی نہیں رہا ۔ ایسے میں ان کو یہ زندگی بہت سخت اور ناگوار لگی ۔ لہٰذا انھوں نے اللہ سے دعا کی کہ اس جہان سے ہماری آنکھیں بند ہوجائیں اور ہم جوارِ رحمتِ حق میں منتقل ہوجائیں ۔ ایسا ہی ہوا ۔ اس دنیا سے انھوں نے آنکھیں بند کرلیں ۔ ان کے جسم غار میں پڑے تھے کہ لوگ ان کی تلاش کو نکلے ۔ اس مقام پر معادِ جسمانی کے طرفداروں اور مخالفوں کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی ۔ مخالفین کی کوشش تھی کہ لوگ اصحابِ کہف کے سونے اور جاگنے کے مسئلہ کو جلد بھول جائیں لہٰذا انھوں نے تجویز پیش کی کہ غار کا دروازہ بند کردیا جائے تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں ( إِذْ یَتَنَازَعُونَ بَیْنَھُمْ اٴَمْرَھُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَیْھِمْ بُنْیَانًا) ۔ وہ لوگوں کو خاموش ہونے کے لیے کہتے تھے کہ ان کے بارے میں زیادہ باتیں نہ کرو، ان کی داستان اسرار آمیز ہے ”ان کا پروردگار ان کی کیفیت سے زیادہ آگاہ ہے“( رَبُّھُمْ اٴَعْلَمُ بِھِمْ) ۔لہٰذا ان کا قصہ ان تک رہنے دو اور انھیں ان کے حال پر چھوڑدو ۔ جبکہ حقیقی مومن کہ جنھیں اس واقعے کی خبر ہوئی اور جو اسے قیامت کے حقیقی مفہوم کے اثبات کے لئے ایک زندہ دلیل سمجھتے تھے، ان کی کوشش تھی کہ یہ واقعہ ہرگز فراموش نہ ہونے پائے ۔ لہٰذا ”انھوں نے کہا: ہم ان کے مدفن کے پاس مسجد بناتے ہیں ۔“تاکہ لوگ انھیں اپنے دلوں سے ہرگز فراموش نہ کریں علاوہ ازیں ان کی ارواح پاک سے لوگ استمداد کریں ( قَالَ الَّذِینَ غَلَبُوا عَلیٰ اٴَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَسْجِدًا) ۔ اس آیت کی تفسیر میں کئی اور احتمال بھی پیش کیے گئے ہیں ۔ ”چند اہم نکات“کے زیرِ عنوان ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے ۔ اگلی آیت میں ان چند اختلافات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو اصحابِ کہف کے بارے میں لوگوں میں پائے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک ان کی تعداد کے بارے میں ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا (سَیَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَابِعُھُمْ کَلْبُھُمْ) ۔ ”بعض کہتے ہیں وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا “(وَیَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُھُمْ کَلْبُھُم) ۔ یہ سب بلا دلیل باتیں ہیں اور اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہیں ( رَجْمًا بِالْغَیْبِ) ۔ ”اور بعض کہتے ہیں کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا“( وَیَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُھُمْ کَلْبُھُمْ) ۔ ”کہہ دے: میرا رب ان کی تعداد و بہتر جانتا ہے“( قُلْ رَبِّی اٴَعْلَمُ بِعِدَّتِھِمْ) ۔ ”صرف تھوڑے سے لوگ ان کی تعداد جانتے ہیں“( مَا یَعْلَمُھُمْ إِلاَّ قَلِیلٌ) ۔ قرآن نے ان جملوں میں اگر چہ صراحت سے ان کی تعداد بیان نہیں کی لیکن آیت میں موجود بعض اشاروں سے سمجھا جاسکتا ہے کہ تیسرا قول صحیح اور مطابقِ حقیقت ہے کیونکہ پہلے اور دوسرے قول کے بعد ”رَجْمًا بِالْغَیْبِ“(اندھیرے میں تیر مارنا)آیا ہے کہ جو ان اقوال کے بے بنیاد ہونے کی طرف اشارہ ہے لیکن تیسرے قول کے بارے میں نہ صرف ایسی کوئی تعبیر نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی فرمایا گیا ہے: ”کہہ دے:میرا رب ان ان کی تعداد سے بہتر طور پر آگاہ ہے“ اور یہ بھی فرمایا گیا ہے”ان کی تعداد کو تھوڑے سے لوگ جانتے ہیں“۔یہ جملے بھی اس تیسرے قول کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں ۔ بہر حال آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: استدلالی اور منطقی گفتگو کے علاوہ ان کے بارے میں بحث نہ کر ( فَلَاتُمَارِ فِیھِمْ إِلاَّ مِرَاءً ظَاھِرًا) ۔جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے ” مِرَاء“”مریة الناقة“(میں نے دودھ دوہنے کے لیے اونٹنی کا پستان ہاتھ میں پکڑا)سے لیا گیا ہے بعد ازاں کسی ایسی چیز کے بارے میں بحث کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہ جس میں شک ہو اور اکثر یہ لفظ باطل کی حمایت میں ہٹ دھرمی کی گفتگو کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن بنیادی طور پر یہ لفظ اس مفہوم کے لیے محدود نہیں ہے لیکن کسی بھی ایسی بات کے بارے میں بحث کے مفہوم میں آتا ہے کہ جس کے بارے میں شک ہو ۔ ”ظَاھِرًا“غالب ، مسلط اور کامیاب کے معنی میں ہے ۔ لہٰذا ” فَلَاتُمَارِ فِیھِمْ إِلاَّ مِرَاءً ظَاھِرًا“کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے ساتھ اس طرح سے منتقی اور استدلالی گفتگو کرکہ تیری منطق کی برتری واضح ہو ۔ اس آیت کی تفسیر میں بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ہٹ دھرم مخالفین سے علحٰید گی میں بحث نہ کر کیونکہ اس طرح تو ان سے جو کچھ کہے گا وہ اس میں ردّ و بدل کریں گں لہٰذا ان سے کھلم کھلا لوگوں کی موجود گی میں بات چیت کرتا کہ وہ حقیقت میں تحریف و انکار نہ کرسکیں ۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ بہر حال اس گفتگو کا مفہوم یہ ہے کہ وحی خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے ”تو ان کے ساتھ بات کر کیونکہ اس سلسلے میں محکم ترین دلیل یہی ہے لہٰذا جو لوگ بغیر دلیل کے اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں بات کرتے ہیں ان سے اس بارے میں سوال نہ کر “( وَلَاتَسْتَفْتِ فِیھِمْ مِنْھُمْ اٴَحَدًا) ۔ اگلی آیت میں رسول اللہ کو ایک عمومی حکم دیا گیا ہے:کبھی نہ کہو میں کل یہ کام کروں گا (وَلَاتَقُولَنَّ لِشَیْءٍ إِنِّی فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا) ۔”مگر یہ کہ خدا چاہے “(إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ) ۔ یعنی آئندہ کی خبروں اور کاموں کے ارادے میں”انشاء الله“ حتمی طور پر کہاکرو کیونکہ : اوّلاً:ارادہ کرنے میں ہرگز تم مستقل نہیں کیونکہ خدا نہ چاہے تو کوئی شخص بھی کسی کام کی طاقت نہیں رکھتا لہٰذا یہ واضح کیا کرو کہ تمھاری قوت اس کی لایزال قوت سے ہے اور تمھاری طاقت سے وابستہ ہے اس لیے لازمی طور پر” انشاء الله“ (اگر خدا نے چاہا تو)کہا کرو ۔ ثانیاً:ایسا انسان کہ جس کی طاقت محدود ہو اور ر اہ میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا احتمال بھی ہو اس کے لئے صحیح نہیں ہے کہ وہ آئندہ کی کوئی یقینی اور قطعی خبردے جبکہ بعض اوقات اچانک غیر متوفق رکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں ۔ لہٰذا ایسی باتوں کے ساتھ” انشاء الله“ کہنا چاہئیے ۔ زیر بحث آیت کی تفسیر میں بعض مفسریں ایک اور احتمال ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ یہاں مراد یہ ہے کہ اس بات کی نفی کی جائے کہ انسان کو کاموں کی انجام دہی میں استقلال حاصل ہے لہٰذا اس آیت کا مفہوم یہ ہے : تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں کل یہ کام کروں گا ۔ مگر یہ کہ خدا چاہے ۔ البتہ اس تفسیر کا لازمہ یہ ہے کہ اگر ہم ”انشاء الله“ کا اضافہ کردیںتو گفتگو مکمل ہوجائے گی لیکن یہ جملے کا لازمہ ہے نہ کہ متن او ر اصل جملے کا مفہوم ہے، جیسا کہ پہلی تفسیر میں کہا گیا ہے(۱) زیر بحث آیات کے بارے میں ہم نے جو شانِ نزول نقل کی ہے وہ پہلی تفسیر کی تائید کرتی ہے کیونکہ رسول الله نے ”انشاء الله“ کہے بغیر اصحاب کہف سے متعلق سوال کرنے والوں کو جواب دیا تھا ۔ اسی لیے ایک عرصے تک وحی الٰہی میں تاخیر ہوگئی تا کہ اس بارے میں آپ کو متوجہ کیا جائے اور آپ اس سلسلے میں سب کے لیے نمونہ بن جائیں ۔ اس جملے کے بعد قرآن کہتا ہے: اگر تو بھول جائے تو پھر اپنے رب کو یاد کر(وَاذْکُرْ رَبَّکَ إِذَا نَسِیت) ۔ یہ جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ آئندہ کے امور کے بارے میں بات کرتے ہوئے”انشاء الله“کہنا بھول جائے تو جس وقت یاد آئے فوراً تلافی کرو اور ”انشاء الله“ کہو ۔ یہ کہنے سے گزشتہ کی تلافی ہوجائے گی ۔ اور کہہ:مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے زیادہ واضح راستے کی ہدایت کرے گا (وَقُلْ عَسیٰ اٴَنْ یَھْدِیَنِی رَبِّی لِاٴَقْرَبَ مِنْ ھٰذَا رَشَدًا) ۱۔ توجہ رہے کہ پہلی تفسیر کی بنا پر ”ان تقول“مقدر ماننا پڑے گا ۔ تقدیر یوں ہوگی:”الا ان تقول انشاء اللّٰہ“؛ لیکن دوسری تفسیر میں تقدیر کی ضرورت نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:21-24
۳۔ آرام گاہ کے پاس مسجد
۳۔ آرام گاہ کے پاس مسجد: تعبیرِ قرآن کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ آخر کار اصحابِ کہف نے زندگی کو خیر باد کہا اور سپردِ خاک ہوئے اور لفظ ”علیھم“(ان پر) اس دعویٰ کی دلیل ہے ۔ اس کے بعد ان کے عقیدت مندوں نے ارادہ کیا کہ ان کی آرام گاہ کے پاس عبادت خانہ بنائیں ۔ قرآن نے زیر بحث آیات میں ان کے اس ارادے کو موافقت کے لہجے میں بیان کیا ہے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ بزرگانِ دین کی قبور کے احترام میں وہابیوں کے خیال کے برعکس مسجد اور عبادت خانہ بنانا نہ صرف حرام نہیں ہے بلکہ اچھا اور پسندیدہ کام ہے ۔ اصولی طور پر ایسی عمارتیں کہ جو اہم اور عظیم شخصیات کی یاد کو زنددہ رکھیں ان کی تعمیر کا سلسلہ ہمیشہ سے ساری دنیا کے لوگوں میں رہا ہے اور آج بھی ہے ۔ در اصل اس کام سے ان بزرگوں کے بارے میں ایک طرح سے قدر دانی اور احسان شناسی کا اظہار ہوتا ہے نیز جیسے کام انھوں نے کیے ان کی طرف رغبت اور شوق دلانے کا مفہوم بھی اس میں پوشیدہ ہوتا ہے ۔ اسلام نے نہ صرف اس کام سے منع نہیں کیا بلکہ اسے جائز شمار کیا ہے ۔ اس قسم کی عمارتوں کا وجودد ایسی شخصیتوں ، ان کے کام اور ان کی تاریخ کے لیے ایک تاریخی سند ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جن انبیاء و مرسلین اور دیگر شخصیات کی قبریں نہیں ملتیں ان کی تاریخ بھی مشکوک ہوگئی ہے اور ایک سوال بن کر رہ گئی ہے ۔ یہ بھی واضح ہے کہ اس قسم کی عمارتات ہرگز توحید کی نفی نہیں کرتیں اور نہ ہی ان کے وجود سے اس بات کی ذرہ بھر نفی ہوتی ہے کہ عبادت فقط اللہ کے لیے مخصوص ہے کیونکہ احترام کرنا اور ہے اور عبادت کرنا اور ہے ۔ البتہ یہ ایک طویل بحث ہے جس کا یہ موقع نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:21-24
۴۔ تمام چیزیں مشیٴت الٰہی کے سہارے پر ہیں
۴۔ تمام چیزیں مشیٴت الٰہی کے سہارے پر ہیں: آئندہ سے مربوط ارادے اور کام کے ساتھ ”انشاء اللہ“کہنا نہ صرف بارگاہِ خداوندی کے لیے ادب و احترام کا اظہار ہے بلکہ اس اہم حقیقت کا بیان بھی ہے کہ ہم اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں رکھتے، جو کچھ ہے اسی کی طرف سے ہے ۔ مستقل بالذات خدا ہے اور ہم سب اسی کے سہارے پر ہیں ۔ اگر ساری دنیا کی تلواریں چل پڑیں لیکن اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ ایک رگ بھی نہیں کاٹ سکتیں اور اگر اس کا ارادہ ہو تو ہر چیز تیزی سے واقع ہوجائے یہاں تک کہ وہ آئیے کو پتھر کے پہلو میں محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ یہ درحقیقت ”توحیدِ افعالی“کا مفہوم ہے یعنی اگر چہ انسان ارادہ، اختیار اور آزادی رکھتا ہے لیکن ہر چیز اور ہر کام اللہ کی مشیٴت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ یہ تعبیر ہمیں کاموں میں خدا کی طرف زیادہ توجہ دلانے کے علاوہ طاقت و ہمت بھی بخشتی ہے اور عمل کی پاکیزگی اور صحت کی دعوت بھی دیتی ہے ۔ چند ایک روایات میں ہے کہ اگر کوئی شخص آئندہ کے بارے میں کوئی بات انشاء اللہ کے بغیر کہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے اور اپنی حمایت اس سے اٹھا لیتا ہے ۔(1) امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث مروی ہے ۔ اس میں ہے: امام(ع) نے ایک خط لکھنے کا حکم دیا ۔ خط اختتام کو پہنچا تو آپ(ع) کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ امام(ع) نے دیکھا کہ اس میں ”انشاء اللہ“نہیں تھا، تو فرمایا: ”کیف رجوتم ان یتم ھٰذا و لیس فیہ استثناء، انظر و اکل موضع لا یکون فیہ استثناء فاستثنوا فیہ“ تمھیں ا س کے انجام پاجانے کی امید کیسے ہوئی جبکہ اس میں انشاء اللہ نہیں تھا ۔ اس میں دیکھو جہاں جہاں پر (ضرورت ہے اور)نہیں ہے وہاں وہاں پر انشاء اللہ لکھو ۔ 1۔ نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۵۴-