نَّحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُم بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى
We relate to you their account in truth. They were indeed youths who had faith in their Lord, and We had enhanced them in guidance,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:13
[Pooya/Ali Commentary 18:13]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 18:13-17
17 (a) Sympathizer means intercessor on sin and he can be an intercessor, who is a Divine Light, and of approaching piety he alone is entitled to intercession, who follows the Divine Light. This establishes the Shia’s claim in which they alone shall be entitled to intercession for following Divine Light.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:13-16
۲۔ ایمان اور امدادِ الٰہی
۲۔ ایمان اور امدادِ الٰہی مندرجہ بالا آیات میں متعدد مواقع پر یہ حقیقت بڑی صراحت سے ظاہر ہوتی ہے کہ اگر انسان پہلا قدم راہِ خدا میں اٹھالے اور اس کے لئے قیام کرے تو خدا کی کمک اور امدادِ الٰہی اس کی طرف لپکتی ہے ۔ وہ ایسے مقام پر ہے: ”ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا اور انھیں توانائی بخشی“۔ اور آیات کے آخر میں بھی ہے کہ وہ رحمتِ الٰہی کے سایہ فگن ہونے اور راہِ نجات پانے کے انتظار میں تھے ۔ قرآن کی دیگر آیات سے بھی اس حقیقت کی تائید ہوتی ہے ۔ مثلاً: <وَالَّذِینَ جَاھَدُوا فِینَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا جو راہِ ہدایت پر گامزن ہوئے اللهنے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا ۔ ہم جانتے ہیں کہ راہِ حق میں بہت دشواریاں اور رکاوٹیں ہیں اور لطفِ خداوندی شاملِ حال نہ ہو تو مقصد تک پہنچنا بہت ہی مشکل کام ہے ۔ ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ لطفِ خداوندی اپنے حق طلب اور حق جُو بندے کو اس راہ میں ہرگز تنہا چھوڑتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:13-16
۱۔ ایمان اور جوانمردی کا رشتہ
۱۔ ایمان اور جوانمردی کا رشتہ توحید پرستی اور اعلیٰ انسانی صفات ہمیشہ ساتھ ساتھ ہوتی ہیں ۔ توحید پرستی، اعلیٰ انسانی صفات کے لیے سرچشمہ کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ ایک دوسرے کے لیے باہمی تاثیر رکھتی ہیں ۔ اسی بناء پر اصحاب ِ کہف کی داستان میں ہے: وہ ایسے جوانمرد تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے کہا ہے: راٴس الفتوة الایمان جوانمردی کا سرچشمہ ایمان ہے ۔ بعض دیگر نے کہا ہے: الفتوة بذل الندی و کف الاذی و ترک الشکوی جوانمردی عطا و سخاوت،دوسروں کو اذیت پہنچانے سے احتراز اور مشکلات میں شکایت نہ کرنے کا نام ہے ۔ بعض دیگر نے ”فتوت“کی تفسیریوں کی ہے: ہی اجتناب المحارم و استعمال المکارم جوانمردی نام ہے گناہوں سے پرہیز کا اور انسانی فضائل و مکارم کو بروئے کار لانے کا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:13-16
۳۔ ”غار“ کے نام کی ایک پناہ گاہ
۳۔ ”غار“ کے نام کی ایک پناہ گاہ ”الکھف“ میں الف لام شاید اس طرف اشارہ ہو کہ انھوں نے کی دُور علاقے میں پہلے سے ایک غار کے بارے میں طے کر رکھا تھا کہ اگر ان کی تبلیغاتِ توحید کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو پھر وہ اس آلودہ اور تاریک ماحول سے نجات پانے کے لئے اس میں پناہ لیں گے ۔ ”کھف“ ایک معنی خیز لفظ ہے ۔ اس سے انسان کی بالکل ابتدائی طرزِ رندگی کی طرف ذہن چلا جاتا ہے، وہ ماحول کہ جب راتیں تاریک اور سرد تھیں، روشنی سے محروم انسان جانکاہ درّوں میں زندگی بسر کرتے تھے، وہ زندگی جس میں مادی آسائشوں کا کوئی پتہ نہ تھا، جب نرم بستر تھے نہ خوشحالی۔ اب جب اس طرف توجہ کریں کہ تاریخ میں منقول ہے اصحابِ کہف اس دَور میں بادشاہ کے وزیر اور بہت بڑے اہلِ منصب تھے، انھوں نے بادشاہ اور اس کے مذہب کے خلاف قیام کیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ ناز ونعمت سے بھری اس زندگی کو چھوڑنا اور اس پر غار نشینی کو ترجیح دینا کس قدر عزم، حوصلے، دلیری اور جانثاری کا غماز ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی رُوح کتنی عظیم تھی۔ یہ غار تاریک، سرد اور خاموش ضرور تھی اور اس میں موذی جانوروں کا خطرہ بھی تھا لیکن یہاں نور وصفا اور توحید ومعنویت کی ایک دنیا آباد تھی۔ رحمتِ الٰہی کے نور کی لکیروں نے اس غار کی دیواروں پر گویا نقش ونگار کردیا تھا اور لطفِ الٰہی کے آثار اس میں موجزن تھے ۔ اس میں طرح طرح کے مضحکہ خیز بُت نہیں تھے اور ظالم بادشاہ کا ہاتھ وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا ۔ اس کی فضا نے جہل وجرم کے دم گھُٹنے والے ماحول سے نجات عطا کردی تھی اور یہاں انسانی فکر پر کوئی پابندی نہ تھی۔ فکر آزادی اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ موجود تھی۔ جی ہاں! ان خدا پرست جوانمردوں نے اس دنیا کو ترک کردیا کہ و اپنی وسعت کے باوجود ایک تکلیف دہ زندان کی مانند تھی اور اُس غار کو انتخاب کرلیا کہ جو اپنی تنگی وتاریکی کے باوجودی وسیع تھی۔ بالکل پاکباز یوسف(علیه السلام) کی طرح کہ جنھوں نے عزیزِ مصر کی خوبصورت بیوی کے شدید اصرار کے باوجود اس کی سرکش ہوس کے سامنے سر نہ جھکایا اور تاریک وحشتناک قیدخانے میں جانا قبول کرلیا ۔ الله نے ان کی استقامت میں اضافہ کردیا اور آخرکار انھوں نے بارگاہِ خداوندی میں یہ حیران کُن جملہ کہا: <رَبِّ السِّجْنُ اٴَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہِ وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّی کَیْدَھُنَّ اٴَصْبُ إِلَیْھِنَّ پروردگارا! زندان اپنی جانکاہ تنگی وتاریکی کے باوجود مجھے اس گناہ سے زیادہ محبوب ہے کہ جس کی طرف یہ عورتیں مجھے دعوت دیتی ہیں اور اگر تُو ان کے وسوسوں کو مجھ سے دفع نہ کرے تو مَیں ان کے دام گرفتار ہوجاوٴں گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:13-16
سوره کهف / آیه 13 - 16
۱۳ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاٴَھُمْ بِالْحَقِّ إِنَّھُمْ فِتْیَةٌ آمَنُوا بِرَبِّھِمْ وَزِدْنَاھُمْ ھُدًی ۱۴ وَرَبَطْنَا عَلیٰ قُلُوبِھِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِہِ إِلَھًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا ۱۵ ھٰؤُلَاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ آلِھَةً لَوْلَایَاٴْتُونَ عَلَیْھِمْ بِسُلْطَانٍ بَیِّنٍ فَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا ۱۶ وَإِذْ اعْتَزَلْتُمُوھُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ إِلاَّ اللهَ فَاٴْوُوا إِلَی الْکَھْفِ یَنشُرْ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِنْ رَحْمَتِہِ وَیُھَیِّءْ لَکُمْ مِنْ اٴَمْرِکُمْ مِرفَقًا ترجمہ ۱۳۔ہم تجھ سے ان کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں، وہ ایسے جوانمرد تھے کہ جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے انھیں مزید ہدایت فرمائی تھی۔ ۱۴۔ ہم نے ان کے دل مضبوط کئے جبکہ انھوں نے قیام کیا اور کہا: ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ۔ ہم اس کے علاوہ ہرگز کی کی پرستش نہیں کریں گے ۔ اگر ہم ایسی بات کریں تو ہم نے بیہودہ بات کی۔ ۱۵۔ ہماری اس قوم نے اس کی بجائے اوروں کو معبود بنا رکھا ہے ۔ یہ لوگ ان کے معبودوں کے لئے کوئی واضح دلیل کیوں پیش نہیں کرتے، اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے ۔ 16۔ اور جس وقت ان لوگوں سے اور ان سے کہ الله کے بجائے جن کی یہ پرستش کرتے ہیں، تم کنارہ کشی اختیار کرلو تو غار میں جاپناہ لو کہ تمھارا رب تم پر اپنی رحمت (کا سایہ) کرے گا اور تمھارے لئے آسائش ونجات کی راہ کھول دے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:13-16
داستان اصحاب کہف کی تفصیل
داستان اصحاب کہف کی تفصیل جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ اجمالی طور پر واقعہ بیان کرنے کے بعد چودہ آیتوں میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ گفتگو کا آغاز یوں کیا گیا ہے: ان کی داستان، جیسا کہ کہا ہے، ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں (نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاٴَھُمْ بِالْحَقِّ)۔ ہم اس طرح سے واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ہر قسم کی فضول بات، بے بنیاد چیزوں اور غلط باتوں سے پاک ہوگا ۔ وہ چند جوانمرد تھے کہ جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت اور بڑھادی تھی (إِنَّھُمْ فِتْیَةٌ آمَنُوا بِرَبِّھِمْ وَزِدْنَاھُمْ ھُدًی)۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ”فتیہ“ ”فتی“ کی جمع ہے کہ جونوخیز وسرشار جوان کے معنی میں ہے لیکن چونکہ جوانی میں انسان کا بدن قوی ہوتا ہے اس کے جذبات میں جوش وخروش ہوتا ہے ۔ روحانی اعتبار سے دل نورِ حق قبول کرنے اور محبت، سخاوت اور عفو ودرگزر کے جذبوں کے لئے زیادہ آمادہ ہوتا ہے لہٰذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ”فتی“ اور ”فتوت“ اگر بڑی عمر والوں کے لئے بولا جائے تو مجموعی طور پر ان صفات کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے لفظ ”جوانمردی“ اور ”فتوت“ فارسی زبان میں بھی انھیں مفاہیم میں استعمال ہوتے ہیں ۔ آیات قران سے اجمالی طور پر اور تاریخ سے تفصیلی طور پر یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اصحابِ کہف جس دَور اور ماحول میں رہتے تھے اس میں کفر وبت پرستی کا دَور تھا، ایک ظالم حکومت کہ جو عام طور پر شرک، کفر، جہالت، عارت گری اور ظلم کی محافظ تھی لوگوں کے سروں پر مسلط تھی، لیکن یہ جوانمرد کہ جو ہوش و صداقت کے حامل تھے آخرکار اس دن کی خرابی کو جان گئے ۔ انھوں نے اس کے خلاف قیام کا مصمم ارادہ کرلیا اور فیصلہ کیا کہ اگر اس دین کے خاتمے کی طاقت نہ ہوئی تو ہجرت کرجائیں گے ۔ اسی لئے گزشتہ بحث کے بعد قرآن کہتا ہے: جب انھوں نے قیام کیا اور کہا کہ ہمارا رب آسمان وزمین کا پروردگار ہے، ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا (وَرَبَطْنَا عَلیٰ قُلُوبِھِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ)۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس کے علاوہ کسی معبود کی ہرگز پرستش نہیں کریں گے (لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِہِ إِلَھًا)۔ اگر ہم ایسی بات کریں اور اس کے علاوہ کسی کو معبود سمجھیں تو ہم نے بیہودہ اور حق سے دُور بات کہی ( لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا)۔ ”رَبَطْنَا عَلیٰ قُلُوبِھِمْ “ سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ان کے دل میں توحید کی فکر پیدا ہوئی لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرسکتے تھے، خدا نے ان کے دلوں کو ڈھارس دی اور انھیں یہ طاقت بخشی کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور علی الاعلان صدائے توحید بلند کریں ۔ کیا انھوں نے یہ اعلان سب سے پہلے اس دَور کے ظالم بادشاہ دقیانوس کے سامنے کیا یا عام لوگوں کے سامنے یا دونوں کے سامنے یا آپس میں ایک دوسرے کے سامنے؟ یہ بات صحیح طور پر واضح نہیں ہے لیکن ”قَامُوا“کی تعبیر کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے یہ اعلان ظالم بادشاہ کے سامنے کیا ۔ ”شطط“ (برورزن ”وسط“) حد سے نکل جانے اور بہت دور چلے جانے کے معنی میں ہے، لہٰذا وہ باتیں کہ جو حق سے بہت دور ہوں انھیں ”شطط“ کہا جاتا ہے اور یہ جو بڑے دریاوٴں کے ساحل کو ”شط“ کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پانی سے دُور اور بلند ہوتا ہے ۔ ان با ایمان جوانمردوں واقعاً توحید کے اثبات اور ”اٰلھہ“ کی نفی کے لئے واضح دلیل کا سہارا لیا اوروہ یہ کہ ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ آسمان وزمین کا کوئی مالک اور پروردگار ہے کہ وجود نظامِ خلقت جس کے وجود کی دلیل ہے اور ہم بھی اس عالمِ ہستی کا ایک حصّہ ہیں لہٰذا ہمارا پروردگار بھی وہی آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ۔ اس کے بعد وہ ایک اور دلیل سے متوسل ہوئے اور وہ یہ کہ ”ہماری اس قوم نے خدا کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں“ (ھٰؤُلَاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ آلِھَةً) تو کیا دلیل وبرہان کے بغیر بھی اعتقاد رکھا جاسکتا ہے، ”وہ ان کی الوہیت کے بارے میں کوئی واضح دلیل کیوں پیش نہیں کرتے“ (لَوْلَایَاٴْتُونَ عَلَیْھِمْ بِسُلْطَانٍ بَیِّنٍ)۔ کیا تصور، خیال یا اندھی تقلید کی بناء پر یہ ایسا عقیدہ اختیار کیا جاسکتا ہے؟ یہ کیسا کھلم کھلا اور عظیم انحراف ہے؟ ”اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے“ (فَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا) یہ افتراء اپنے اوپر بھی ظلم ہے اور معاشرے پر بھی اپنے اوپر اس طرح کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح بدبختی ارور تباہی کے سپرد کردیتا ہے اور معاشرے پر اس طرح کہ یہی عقیدہ وہ اس میں پیش کرتا ہے اور اسے بھی انحراف کی طرف کھینچتا ہے اور یہ ساحتِ اقدس پروردگار میں بھی ظلم ہے اور اس کے مقامِ بزرگ کی اہانت ہے ۔ ان توحید پرست جواں مَردوں نے بہت کوشش کی کہ لوگوں کے دلوں سے شرک کا زنگ اتر جائے اور ان کے دلوں میں توحید کی کونپل پھوٹ ڑے لیکن وہاں تو بتوں اور بُت پرستی کا ایسا شور تھا اور ظالم بادشاہ نغمہٴ توحید ان کے حلق میں ہی اٹک کر رہ گیا تھا ۔ لہٰذا انھوں نے مجبوراً اپنی نجات کے لئے اور بہتر ماحول کی تلاش کے لئے ہجرت کا عزم کیا ۔ لہٰذا باہمی مشورے ہونے لگے کہ کہا جائیں، کس طرف کو کوچ کریں، آپس میں کہنے لگے: ”جب اس بت پرست قوم سے کنارہ کشی اختیار کرلو اور خدا کو چھوڑکر جنھیں یہ پوچتے ہیں ان سے الگ ہوجاوٴ اور اپنا حساب کتاب ان سے جدا کرلو تو غار میں جا پناہ لو“ (وَإِذْ اعْتَزَلْتُمُوھُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ إِلاَّ اللهَ فَاٴْوُوا إِلَی الْکَھْفِ)۔ تاکہ تمھارا پروردگار تم پر اپنی رحمت کا سایہ کردے اور اس مشکل سے نکال کر تمھیں نجات کی راہ پر ڈال دے (یَنشُرْ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِنْ رَحْمَتِہِ وَیُھَیِّءْ لَکُمْ مِنْ اٴَمْرِکُمْ مِرفَقًا) ”یُھَیِّءْ“ ”تھیہ“ کے مادہ سے تیار کرنے کے معنی میں ہے ۔ اور ”مرفق“ اس چیز کو کہتے ہیں جو آرام وراحت کا ذریعہ بنے ۔ لہٰذا ”یُھَیِّءْ لَکُمْ مِنْ اٴَمْرِکُمْ مِرفَقًا“ کا معنی ہے ”خدا تمھارے لئے راحت وآرام کا ذیعہ فراہم کردے“۔ بعید نہیں کہ ”نشر رحمة“ گزشتہ جملے میں الله کے الطافِ معنوی کی طرف اشارہ ہو جبکہ دوسرا جملہ جسمانی ومادی نجات وآرام کی طرف اشارہ ہو ۔