قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا
Say, ‘If the sea were ink for the words of my Lord, the sea would be spent before the words of my Lord are finished, though We replenish it with another like it.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:109
[Pooya/Ali Commentary 18:109] The words and signs and mercies of Allah are in all creation, and can never be fully set out in human language, however extended our means may imagine to be.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:109-110
شان نزول
اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں ابنِ عباس سے منقول ہے: یہودیوں نے جب پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے یہ آیت سنی: <ما اوتیتم من العلم الا قلیلاً ”تمہیں تو تھوڑا سا علم دیا گیا ہے“۔ تو انہوں نے کہا یہ بات کیونکر صحیح ہوسکتی ہے جبکہ ہمیں تورات دی گئی ہے اور جسے تورات دی گئی ہے اس کے پاس خیر کثیر ہے اس وقت یہ (مندرجہ بالا پہلی) آیت نازل ہوئی (اور بتایا کہ ہمارے پاس جو علم ہے وہ اللہ کے لا متناہی علم کے مقابلے میں ناچیز ہے) ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہودیوں نے پیغمبرِ اسلام سے کہا: خدا نے تجھے حکمت دی ہے ۔ <و من یوت الحکمة فقد اوتی خیراً کثیراً(اور جسے حکمت دی گئی ہے اُسے تو خیرِ کثیر مل گیا) لیکن جب ہم تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں تو تُو مبہم سا جواب دیتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (اور اس نے نشاندہی کی ہے کہ انسان کے پاس جتنا بھی علم ہو اللہ کے نا پیدا کنار علم کے مقابلے میں ناچیز ہے) ۔(۱)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:109-110
لامتنا ہی کی تصویر کشی
اس مقا م پر قرآن مجید ن لامتنا ہی تعداد کا تصور، الله کے علم بے پایان کا مفہوم اورجہانِ ہستی کی وسعت کو ہمارے افکار و اذہان سے قریب کرنے کے لیے بہت ہی فصیح و بلیغ انداز اختیار کیا ہے اور زندہ و جاندار اعداد سے استفادہ کیا ہے ۔ لیکن کیا اعداد بھی زندہ اور مردہ ہوتے ہیں؟ جی ہاں! وہ اعداد جو ریاضیات میں استعمال ہوتے ہیں ۔ صحیح اعداد کی دائیں طرف بہت سارے صفر لگا کر جو اعداد بنتے ہیں درحقیقت مردہ اعداد ہیں ۔ وہ ہرگز کسی چیز کی عظمت مجسم نہیں کرتے ۔ جن لوگوں کا ریاضیات سے تعلق ہے وہ جانتے ہیں اگر ایک کے دائیں طرف ایک کلومیڑ تک صفر لگادیئے جائیں تو یہ بہت بڑا اور پریشان کن عدد بن جائے گا اور واقعاً اس کی بڑائی کا تصور مشکل ہے لیکن کن اشخاص کے لیے؟۔ ریاضی دانوں کے لیے ۔ جبکہ عام لوگوں کے لیے اس سے کوئی عظمت محسم نہیں ہوتی ۔ زندہ عدد وہ ہے جو جہاں تک خود آگے بڑھے ہماری فکر کو بھی اپنے ساتھ لے جائے اور جس طرح کی حقیقت ہے اسے اسی طرح نظروں کے سامنے مجسم کردے ۔ ایسا عدد زندہ ہے جوروح رکھتا ہو، عظمت رکھتا ہو اور زبان رکھتا ہو۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ عالم ہستی کی وسعت کی خا کی مخلوقات اس عدد سے بھی زیادہ ہیں کہ جس کی دائیں طرف ایک سو کلومیٹر تک صفر لگے ہوں بلکہ قرآن کہتا ہے کہ اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندرو سیاہی بن جائیں تو قلمیں ختم ہوجائیں گی اور سیاہی تمام ہو جائے گی لیکن عالم ہستی کے حقائق و اسرار، موجودات عالم اور معلومات الٰہی ختم نہیں ہوں گی ۔ خوب غور کیجئے ۔ ایک قلم لکھنے کی کس قدر طاقت رکھتا ہے ۔ پھر غور کیجئے ۔ ایک درخت کی ایک چھوٹی سی شاخ سے کتنے قلم بنتے ہیں ۔ پھر ایک تنومند بہت بڑے درخت سے کتنے ہزار یا کتنے لاکھ قلم بنیں گے ۔ پھر روئے زمین پر باغوں اور جنگلوں میں موجود سارے درختوں پر ایک نظر ڈالیں اور ان سے جو قلم تیار ہو سکتے ہیں ۔ ان کا انداز کیجئے ۔ اب سوچیے ۔ سیاہی کے ایک قطرے سے کتنے لفظ لکھے جاسکتے ہیں پھر اس عدد کو ایک تالاب کے قطروں سے ضرب دیجئے ۔ اسی طرح ایک دریا، ایک سمندر کا حساب کیجئے اور آخر کار روئے زمین کے تمام دریاؤں اور سمندروں کے قطروں کا اندازہ کیجئے ۔ اب دیکھئے کیسا عجیب و غریب عدد بنتا ہے ۔ اس بات کی عظمت اور بھی واضح ہوگی جب ہم اس حقیقت کی طرف توجہ دیں کہ ”سبع“ (سات) کا عدد یہاں تعداد کے لیے نہیں بلکہ تکثیر کے کے مفہوم میں آیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے دریا اور سمندر اور بھی آملیں اور سیاہی بن جائیں تو بھی کلماتِ الٰہی ختم نہیں ہوں گے ۔ غور کیجئے کہ یہ عدد کس قدر زندہ اور جاندار ہے ۔ یہ وہ عدد ہے جو فکرِ انسانی کو اپنے ساتھ ساتھ لیے چلتا ہے اور لامتناہی عدد کی طرف آگے لے جاتا ہے ۔ یہ ایسا عدد کہ ریاضی دان ہو یا کوئی ان پڑھ۔ اس کی عظمت کا ادراک کرسکتا ہے اور اس کی وسعت اور بڑائی سے آشنا ہوسکتا ہے ۔ جی ہاں! علمِ خدا اس عدد سے بھی بالاتر ہے ۔ اس کا علم۔ لامحدو اور بے انتہا ہے ۔ ایسا علم کہ جس کی قلمرو۔ تمام عالمِ ہستی ہے ۔ اِس میں تاریخ عالم کا ماضی بھی ہے اور مستقبل بھی اور اس میں تمام اسرار و حقائق موجود ہیں ۔ زیرِ نظر دوسری آیت سورہٴ کہف کی آخری آیت ہے ۔ یہ دینی عقاء کے بنیادی اصولوں کا مجموعہ ہے ۔ اس میں توحید، رسالتِ پیغمبر اور معاد سب کا ذکر موجود ہے ۔ در حقیقت سورہٴ کہف کی ابتدا بھی اسی سے ہوئی تھی ۔ ابتداء میں بھی اللہ، وحی ، عمل کی جزاء اور قیامت کے بارے میں گفتگو تھی ۔ اس سورت کا اہم حصہ چونکہ انہی تین موضوعات پر مشتمل ہے اس لحاظ سے یہ آخری آیت اس سورت کا خلاصہ ہے ۔ نبوت کے بارے میں پوری تاریخ انسانی میں بہت غلو اور مبالغہ ہوا ہے اس لیے قرآن کہتا ہے: کہہ دو : میں تو تم جیسا ایک بشر ہوں ۔ میرا امتیاز اور خصوصیت صرف یہ ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے (قُلْ اِنَّما اَنا بَشَرٌ مِّثلُکُمْ یُوحٰی اِلَیَّ) ۔ یہ کہہ کر قرآن نے ان تمام مشرکانہ خیالی امتیازات پر خطِ بطلان کھینچ دیا ہے کہ جو انبیاء کو مرحلہ بشریت سے مرحلہ الوہیت کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد جن مسائل کی انبیاء پر وحی ہوتی ہے ان میں سے مسئلہ توحید کی نشاندہی کی گئی ہے: مجھ پر وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہے (اَنَّما اِلٰہُکُم اِلٰہٌ وَُاحِدٌ) ۔ صرف اسی مسئلہ کی طرف اشارہ کیوں کیا گیا ہے ۔ اس لیے کہ توحید تمام عقائد اور انسانوں کے لیے تمام سعادت بخش انفرادی و اجتماعی پروگراموں کا نچوڑ ہے ۔ ہم نے ایک اور جگہ بھی کہا ہے کہ توحید فقط اصولِ دین میں سے ایک اصل ہی نہیں بلکہ اسلام کے تمام اصول و فروع کی روح ہے ۔ اگر دینی تعلیمات کو موتیوں کی لڑی کہا جائے تو توحید کو وہ دھاگا کہیں گے جوان موتیوں کو باہم ملائے رکھتا ہے ۔ لہٰذا کہنا چاہیے کہ توحید وہ روح ہے جو اس پیکرِ اسلام میں پھونکی گئی ہے ۔ معاد و نبوت کی بحثوں میں یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ یہ مسائل توحید سے جدا نہیں ہیں یعنی اگر اللہ کو ہم اس کی صفات کے ساتھ پہچان لیں تو پھر ہم جان لیتے ہیں کہ ایسے خدا کو نبی بھیجنے چاہئیں نیز اس کی حکمت و عدالت کا تقاضا ہے کہ کوئی عدالت برپا ہو اور قیامت وجود پذیر ہو۔ اجتماعی مسائل ، پورا انسانی معاشرہ اور جو کچھ اس سے مربوط ہے اسے توحید وحدت کے سائے میں ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے لوازمات سے آراستہ ہوسکے ۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث میں ہے کہ: ”لا الٰہ الّا اللّٰہ“ پروردگار کا محکم قلعہ ہے جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ عذاب ِ الٰہی سے مامون ہوگیا ۔ نیز ہم سب نے سن رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابتدائے اسلام میں فرماتے تھے: ”قولوا لا الٰہ الّا اللّٰہ تفلحوا“ اگر فلاح کے طالب ہو تو پرچمِ توحید کے تلے جمع ہوجاؤ۔ اس آیت کا تیسرا جملہ مسئلہ قیامت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ”فاء تفریع“کے ذریعے اسے مسئلہ توحید سے منسلک کردیتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: لہٰذا جو شخص بھی اپنے رب کی لقاء کا امیدوار ہے اسے چاہیے کہ عملِ صالح انجام دے (فَمَنْ کَانَ یَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّہِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا) ۔ لقائے پروردگار در اصل اس کی ذاتِ پاک کا باطنی مشاہدہ ہے ۔ یہ دل کی آنکھ اور داخلی بصیرت سے ہوتا ہے ۔ اگر چہ اس دنیا میں بھی حقیقی مومنین کے لیے یہ ممکن ہے لیکن یہ معاملہ چونکہ بہت روشن، زیادہ واضح ہوکر عمومیت اختیار کرلے گا لہٰذا قرآن میں یہ تعبیر زیادہ تر روزِ قیامت کے بارے میں استعمال ہوئی ہے ۔ دوسری طرف یہ امر فطری ہے کہ اگر انسان کسی کے انتظار میں ہے اور اسے اس کی امید ہو تو وہ اس کے استقبال کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے گا ۔ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں فلاں چیز کے انتظار میں ہوں لیکن اس کے عمل میں اس کا اثر نہ ہوتو اس کا دعویٰ غلط ہے ۔ اسی لیے ”فلیعمل عملاً صالحاً“ یہاں صیغہٴ امر آیا ہے ۔ وہ امر کہ جو لقائے الٰہی کی امید اور انتظار کا لازمہ ہے ۔ آخری جملے میں عمل صالح کی حقیقت کو مختصر طور پر اس طرح واضح کیا گیا ہے: کسی کو پروردگار کی عبادت میں شریک نہیں کرنا چاہیےٴ (وَلَایُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّہِ اٴَحَدً) ۔ زیادہ واضح لفظوں میں ۔ جب تک عمل میں خلوص پیدا نہ ہو وہ صالح نہیں ہوسکتا اور الٰہی اور خدائی رنگ اختیار نہیں کرسکتا ۔ خلوصِ انسانی عمل کو گہرائی بخشتا ہے، نور نیت عطا کرتا ہے اور صحیح سمت دیتا ہے اور خلوص ختم ہوجائے تو عمل زیادہ تر ظاہری پہلو اختیار کرلیتا ہے اور اس کا جھکاؤ ذاتی مفاد کی طرف ہوجاتا ہے ۔ ایسا عمل گہرائی اور صحیح سمت کھو بیٹھتا ہے ۔ در حقیقت وہ عملِ صالح جس کا سرچشمہ رضائے الٰہی ہو اور جو اخلاص گوندھا ہوا ہو وہ لقائے الٰہی کا پاسپورٹ ہے ۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ عملِ صالح وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ اس میں تمام انفرای و اجتماعی مقید ، اصلاحی اور تعمیری کام شامل ہیں چاہے وہ زندگی کے کسی پہلو سے متعلق ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:109-110
جو لقائے الٰہی کی امید رکھتے ہیں
جو لقائے الٰہی کی امید رکھتے ہیں جو آیات مستقل اور جاری بحث کا حصّہ ہیں اور ان کا تعلق اِس سورت کے تمام مباحث سے ہے ۔ کیونکہ اس سورہ میں مذکورہ تینوں اہم واقعات نئے او رعجیب و غریب مطالب سے پردہ ہٹاتے ہیں ۔ گویا قرآن ان آیات میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ خدا کے علم کے مقابلے میں اصحابِ کہف، موسیٰ و خضر اور ذوالقرنین کے واقعات سے آگاہی کوئی اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ تمام کائنات اور عالمِ ہستی کا ماضی، حال اور مستقل اس کے علم کا حصہ ہیں ۔ بہر حال قرآن زیرِ بحث پہلی آیت میں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے کہتا ہے: کہہ دو: اگر سمندر میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے سیاہی بن جائیں تو سمندر ختم ہوجائیں گے، میرے رب کے کلمات ختم نہیں ہوں گے اگر چہ ہم ان جیسے سمندروں کا اضافہ بھی کردیں (قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اٴَنْ تَنفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّی وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَدا) ۔ ”مَدَدا“ سیاہی کے معنی میں ہے یا پھر اس کا معنی ہے وہ رنگین مادہ جس کے ساتھ لکھا جائے ۔ در اصل یہ لفظ ”مد“ بمعنی ”کشش“ سے لیا گیا ہے کیونکہ اس کی کشش سے خطوط آشکار اور واضح ہوتے ہیں ۔(1) ”کلمات“(کلمہ کی جمع) ان الفاظ کے معنی میں ہے کہ جن کے ذریعے بات کی جاتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ وہ لفظ ہے جو معنی پر دلالت کرتا ہے ۔ اس جہان کی ہر چیز کیونکہ پروردگار کے علم و قدرت پر دلالت کرتی ہے لہٰذا بعض اوقات ہرموجود پر ”کلمة اللہ“ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ زیادہ تر یہ تعبیر اہم اور با عظمت موجودات کے لیے استعمال ہوئی ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن حکیم کہتا ہے: <إِنَّمَا الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللهِ وَکَلِمَتُہُ اٴَلْقَاھَا إِلیٰ مَرْیَمَ۔ ”عیسیٰ اللہ کا کلمہ تھا کہ جو مریم کی طرف القاء کیا گیا“۔ (نساء۔ ۱۷۱) زیرِ بحث آیت میں بھی ”کلمہ“ اسی معنی میں ہے یعنی جہانِ ہستی کے موجودات کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے ہر ایک پروردگار کی گونا گوں صفات کی حکایت کرتا ہے ۔ در اصل اس آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ عالمِ ہستی یہی کچھ ہے جو تم دیکھ رہے ہو یا جانتے ہو یا محسوس کرتے ہو بلکہ یہ کائنات اس قدر وسیع و عظیم ہے کہ اگر تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور اس سے ان موجودات کا احصاء و شمار نہیں ہو پائے گا ۔ اِس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ ”البحر“ یہاں جنس کا مفہوم رکھتا ہے ۔ اسی طرح ”ولو جئنا بمثلہ مددًا“ میں لفظ ”مثل“ بھی جنس کا معنی دیتا ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر سمندروں کی مثل و مانند کا اضافہ بھی کردیا جائے تو بھی جنس کا معنی دیتا ہے ۔ یہ اس بنا پر زیرِ بحث آیت سورہ ٴلقمان کی اس سے ملتی جلتی آیت سے کوئی تضاد نہیں رکھتی ۔ سورہ ٴلقمان کی وہ آیت یہ ہے : <وَلَوْ اٴَنَّمَا فِی الْاٴَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اٴَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِنْ بَعْدِہِ سَبْعَةُ اٴَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اللهِ۔ ”روئے زمین کے سب درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر اور ان کے علاوہ سات سمندر اور سیاہی بن جائیں (تاکہ کلماتِ الٰہی کو لکھ سکیں) تو اس کے کلمات ہر گز ختم نہیں ہوں گے“ (لقمان۔ ۲۷) یعنی یہ قلمیں گھِس جائیں گی او ران سیاہیوں کا آخری قطرہ تک ختم ہو جا ئے گا لیکن جہان ہستی کے اسرار وحقایق ابھی باقی ہوں گے ۔ ایک اہم بات کہ جس کی طرف اس مقام پر توجہ ضروری ہے یہ ہے زیرِبحث آیت ماضی حال اور مستقبل کے لحاظ سے جہان ہستی کی وسعت کی غماز ہو نے کہ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے لا محدود علم کی بھی ترجمان ہے کیو نکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ تمام چیزوں جو عالم ہستی کی وسعت میں تھیں، یا اس وقت میں اللہ تعالیٰ ان کا علمی احاطہ رکھتا بلکہ اس کا علم چونکہ حضوری علم ہے اس لیے ان موجودات سے جدا نہیں ہوسکتا (غور کیجئے گا) ۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر زمین کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام درخت قلمیں بن جائیں تو ہرگز اس پر قادر نہیں کہ جو کچھ الله کے علم میں ہے اسے رقم کرکسیں ۔ لامتنا ہی کی تصویر کشی اس مقا م پر قرآن مجید ن لامتنا ہی تعداد کا تصور، الله کے علم بے پایان کا مفہوم اورجہانِ ہستی کی وسعت کو ہمارے افکار و اذہان سے قریب کرنے کے لیے بہت ہی فصیح و بلیغ انداز اختیار کیا ہے اور زندہ و جاندار اعداد سے استفادہ کیا ہے ۔ ۱۔فخر الدین رازی نے ”مداد“کے مفہوم کے بارے میں ایک اور معنی بھی نقل کیا ہے اور وہ ہے ”ایسا تیل جو چراغ میں ڈالتے ہیں اور جو روشنی کا سبب بنتا ہے“غور سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں معانی کی بنیاد ایک ہی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:109-110
سوره کهف / آیه 109 - 110
۱۰۹ قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اٴَنْ تَنفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّی وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَد ۱۱۰ قُلْ اِنَّما اَنا بَشَرٌ مِّثلُکُمْ یُوحٰی اِلَیَّ اَنَّما اِلٰہُکُم اِلٰہٌ وَُاحِدٌ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّہِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَایُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّہِ اٴَحَدً ترجمہ ۱۰۹۔ کہہ دو: سمندر میرے پروردگار کے کلمات (لکھنے کے لیے) سیاہی بن جائیں تو سمندر ختم ہوجائیں گے میرے پروردگار کے کلمات ختم نہیں ہوں گے اگر چہ ایسے ہی (سمندر) ان کے ساتھ اور بڑھادیئے جائیں ۔ ۱۱۰۔ کہہ دو: میں تو تم جیسا بشر ہوں (البتہ میری خصوصیت یہ ہے کہ) مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے ۔ پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے چاہیے کہ عملِ صالح انجام دے اور کسی کو اپنے رب کی عبادت میں شریک نہ کرے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:109-110
اخلاص یا عملِ صالح کی روح
اخلاص یا عملِ صالح کی روح اسلامی روایات میں ”نیت“کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ اسلام کا یہ بنیادی اصول ہے کہ وہ ہر عمل کو اس کی نیت اور مقصد کے ساتھ قبول کرتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث ہے: ”لا عمل الّہ بالنیّة“ نیت کے بغیر کوئی عمل نہیں ۔ یہ حدیث اسی حقیقت کی ترجمان ہے ۔ نیت کے بعد اخلاص کی باری آتی ہے ۔ اگر وہ ہو، تو عمل بہت اہمیت اور قیمت رکھتا ہے ورنہ اس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی ۔ اخلاص یہ ہے کہ محرکِ انسان ہر قسم کے غیر الٰہی شائبہ سے پاک ہو اور اسے ”توحید نیت“کہتے ہیں یعنی ہر کام میں صرف رضائے الٰہی کو ملحوظ رکھا جائے ۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیت کی شانِ نزول کے بارے میں منقول ہے: ایک شخص رسول اللہ (ص) کی خدمت میں آیا ۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں راہِ خدا میں خرچ کرتا ہوں، صلہ رحمی کرتا ہوں اور یہ اعمال صرف اللہ کے لیے بجالا تا ہوں لیکن جب لوگ میرے ان اعمال کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں تو مجھے خوشی ہوتی ہے ۔ میرے یہ اعمال کیسے ہیں؟ رسول اللہ خاموش رہے اور کچھ نہ کہا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں اس شخص کے سوال کا جواب دیا گیا (کہ صرف وہ مقبول بارگاہِ الٰہی ہوگا کہ جو اخلاص کامل کے ساتھ بجالا یا جائے گا) ۔(1) اس میں شک نہیں کہ یہ روایت غیر اختیاری مسرت کی نفی نہیں کرتی بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ لوگوں کی طرف سے کسی کام کی تعریف، اس کے کرنے کا سبب نہ ہو۔ اسلام میں اخلاص ، عملِ خالص اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: ”من اخلص للّٰہ اربعین یوماً فجر اللّٰہ ینابیع الحکمة من قلبہ علیٰ لسانہ“ جو شخص چالیس دن اپنے اعمال خالص اللہ کے لیے انجام دے تو اللہ اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت و دانش کے چشمے جاری کردے گا ۔(2) پروردگارا! تمام اعمال میں ہماری نیت کو اس طرح سے خالص کردے کہ ہم تیرے علاوہ کسی کے لیے نہ سوچیں اور تیرے علاوہ کسی کے لیے قدم نہ اٹھائیں ۔ اور اگر تیرے علاوہ کسی کو چاہیں تو وہ بھی تیری رضا کے لیے ہو اور اس لیے ہوکہ اس کا تجھ سے تعلق ہے ۔ آمین یا رب العالمین ۱۔ مجمع البیان، مذکورہ بالا آیت کے یل میں، نیز تفسیر قرطبی، اسی آیت کے ذیل میں ۔ 2۔ سفینة البحار، ج ۱ ص ۴۰۸․