قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا
Say, ‘Shall we inform you who are the biggest losers in their works?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:103
[Pooya/Ali Commentary 18:103] Mere exertion and toil, even in apparently good works, will be of no avail, if there is no belief in Allah. Verse 106 refers to those who ridicule the signs of Allah. Among the signs of Allah, the Quran, the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt are the most important.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:103-108
۳۔ اعمال کا وزن
۳۔ اعمال کا وزن: اس امر کی ضرورت نہیں کہ اعمال کے وزن کے مسئلے کی قیامت میں تجسّمِ اعمال کے حوالے سے تفسیر کی جائے اور یہ کہیں کہ قیامت میں انسانی اعمال وزن والے جسم کی صورت اختیار کر لیں گے کیونکہ” وزن کرنا“ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس میں ہر قسم کا اندازہ لگانا اور وزن کرنا شامل ہے مثلاً جن افرادکی کوئی حیثیت نہ ہوا نہیں بے وزن یا ہلاک لوگ ہیں حالانکہ مراد ان کی حیثیت کی نفی ہے نہ کہ ان کے وزن کی ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں” اخسرین اعمالاً“ کے بارے میں فرمایا گیا ہے: روز قیامت ان کے لیے میزان و ترازو قائم نہیں کیا جائے گا ۔ جبکہ ایسی آیات بھی ہیں جو کہتی ہیں: <وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَق اس روز وزن حق ہے ۔(اعراف۔ ۸) کیا یہ آیات ایک دوسرے کے منافی ہیں؟ یقیناً نہیں ۔ کیونکہ وزن تو ان کے اعمال کا ہوگا جنہوں نے ایسے اعمال کیے ہیں جو وزن کرنے کے قابل ہیں لیکن وہ شخص کہ جس کا سارا وجود اور جس کے افکار و اعمال ایک مکھی کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتے ۔ اس کے لیے وزن کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اسی لیے رسول اکرم صلی علیہ و آلہ وسلم سے مروی ایک مشہور روایت ہے: انہ لیاتی الرجل العظیم السمین یوم القیامة لا یزن جناح بعوضة روزِ قیامت کچھ موٹے تازے افراد لائے جائیں گے جن کا وزن عدالت میں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا ۔(1) 7کیونکہ اس جہان میں ان کی شخصیت، اعمال اور افکار سب کھوکلے ہوں گے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں مختلف قسم کے لوگ ہوں گے: ۱۔ وہ افراد کہ جن کی نیکیاں اتنی وزنی ہوں گی کہ ان کے وزن اور حساب کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ یہ لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔2 ۲۔ وہ افراد کہ جن کے اعمال بالکل حبط اور باطل ہوجائیں گے یا پھر جن کے لیے کوئی نیکی ہوگی ہی نہیں کہ جس کے لیے میزان کی ضرورت پڑے ۔ یہ لوگ بھی بغیر حساب کے جہنم میں داخل ہوجائیں گے ۔ ۳۔ تیسرا گروہ ان افراد کا ہوگا جن کی کچھ نیکیاں ہوں گی اور کچھ بدیاں ۔ میزان اور ترازو کی ضرورت ان کے لیے ہوگی اور شاید بیشتر لوگ اسی تیسری قسم میں شامل ہوں گے ۔ ۱۔ سورہٴ مومنین کی آیت۱۰۶ کی طرف رجوع کریں ۔ 2۔ تفسیر مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:103-108
۵۔ فردوس کن کا مقام ہے؟
۵۔ فردوس کن کا مقام ہے؟ جیسا کہ کہا گیا ہے فردوس (1) جنت میں بہترین اور افضل ترن مقام ہے ۔ زیرِ بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ فردوس با ایمان اور اعمالِ صالح انجام دینے والے لوگوں کا ٹھکانا ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر سوال پیدا ہوگا کہ کیا جنت کے دوسرے علاقوں میں رہنے والا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ غیر مومن تو جنت میں جاہی نہیں سکتا ۔ اس سوال کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ زیرِ نظر آیات ہر اس شخص کی طرف اشارہ نہیں کررہیں کہ جو با ایمان ہے اور نیک کام کرتا ہے بلکہ ایمان اور عمل صالح کے لحاظ سے جو افراد بلند درجے پر فائز ہوں گے وہی فردوس میں داخل ہوسکیں گے ۔ ظاہر آیت اگر چہ مطلق ہے لیکن فردوس کے مفہوم کی طرف توجہ کی جائے تو آیت کا مفہوم مقید و محدود ہوجاتاہے ۔ اسی لیے سورہٴ مومنین میں جہاں فردوس کے وارثوں کی صفات بیان کی گئی ہیں وہاں مومنین کی نہایت اعلیٰ صفات کا ذکر ہے اور یہ صفات سب میں نہیں ہوتیں ۔ یہ امر خود اس بات کے لیے قرینہ ہے کہ فردوس میں رہنے والے افراد ایمان اور عمل صالح کے علاوہ ممتاز صفات کے حامل ہوں گے ۔ اسی بناء پر ایک حدیث کہ جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہم پہلے نقل کرچکے ہیں، اس میں ہم نے پڑھا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: جب اللہ سے جنت کا تقاضا کرو تو خصوصیت سے فردوس کا تقاضا کرو کہ جو جنت کی جامع ترین اور اکمل ترین منزلوں میں سے ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ با ایمان افراد کی ہمت ہر چیز کے بارے میں اور ہر حالت میں عالی ہونا چاہیے یہاں تک کہ بہشت کی تمنا میں بھی نچلے مراحل پر قناعت نہیں کرنا چاہیے اگر چہ نچلے مرحلے بھی نعماتِ الٰہی سے معمور ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس قسم کا تقاضا کرتا ہے تو ضروری ہے کہ اپنے آپ کو ایسے مقام تک پہنچانے کے لیے تیار بھی کرے، بہترین انسانی صفات اپنائے اور صالح ترین اعمال سرانجام دے ۔ لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کرے ہمیں جنت میں ٹھکانا مل جائے چاہے نچلے درجے میں ہی ہو، وہ سچے مومنین کی اعلیٰ ہمت سے پوری طرح بہرہ ور نہیں ہیں ۔ ۱۔ بعض کہتے ہیں کہ اصل میں یہ لفظ رومی زبان سے لیا گیا ہے اور بعض سمجھتے ہیں کہ یہ حبشہ کی زبان سے عربی میں منتقل ہوا ہے (تفسیر فخر رازی اور تفسیر مجمع البیان) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:103-108
۴۔ ”لا یبغون عنھا حولاً“کی تفسیر
۴۔ ”لا یبغون عنھا حولاً“کی تفسیر: ”حِوَل“ (بروزن ”مِلل“) مصدری معنی رکھتا ہے ۔ اس کا معنی ہے ”تحول“ اور نقل مکانی ۔ جیسا کہ ہم نے آیات کی تفسیر میں کہا ہے کہ ”فردوس“ جنت کا ایسا باغ ہے جس میں سب نعماتِ الٰہی موجود ہیں اسی بناء پر فردوس اس جہان کی بہترین جگہ ہوگی ۔ لہٰذا اس کے ساکنین وہاں سے نقل مکانی کی ہرگز تمنا نہ کریں گے ۔ ہوسکتا ہے سوال کیا جائے کہ پھر تو وہاں کی زنگی یکسا نیت اور جمود کا شکار ہوگی اور یہ ایک بہت بڑا عیب ہے ۔ ہم جواب میں کہیں گے کہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ تحول و تکامل کا عمل اسی مقامِ دائمی پر جاری رہے ۔ یعنی تکامل و ارتقاء کے اسباب وہاں موجود ہوں گے اور انسان نے اس جہان میں اعمال انجام دیئے ہیں اور اللہ نے اسے جو اس جہان میں نعمتیں عطا کی ہیں سب ہمیشہ تکامل پذیر رہیں گی ۔ متعلقہ آیات کے ذیل میں انشاء اللہ تکاملِ انسان کے بارے میں ہم تفصیل سے بحث کریں گے نیز بہشت میں تکامل کا یہ عمل جاری رہنے سے متعلق گفتگو کریں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:103-108
۱۔ ”اخسرین اعمالا“ کون لوگ ہیں؟
۱۔ ”اخسرین اعمالا“ کون لوگ ہیں؟ ہم نے اپنی اور دوسروں کی زندگی میں بہت دیکھا ہے کہ کبھی انسان غلط کام انجام دیتا ہے جبکہ وہ سمجھتا رہتا ہے کہ اس نے اچھا اور اہم کام انجام دیا ہے ۔ ایسا جہلِ مرکب لحظہ بھر کے لیے بھی ہوسکتا ہے، سال بھر کے لیے بھی اور عمر بھر کے لیے بھی ۔ اور واقعاً اس سے بڑی بختی کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ نقصان میں ہیں تو اس کی وجہ واضح ہے ۔ جو لوگ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن یہ جانتے ہیں کہ ہم غلط کام کررہے ہیں اکثر وہ اپنے غلط کام کی ایک حد مقرر کرلیتے ہیں اور بسایہ بھی ہوتا ہے کہ وہ حق کی طرف پلٹ آتے ہیں اور اس کی تلافی کے لیے توبہ کرتے ہیں اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں ۔ لیکن وہ گنہ گار کہ جو اپنے گناہ کو عبادت اور برے اعمال کو صالحات اور کجی کو درستی خیال کرتے ہیں وہ نہ صرف تلافی کے لیے کوشش نہیں کرتے بلکہ شدت کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھنے کی سعی کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنا تمام تر سرمایہٴ وجود اس راستے پر صرف کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں ۔ قرآن نے ان لوگوں کے بارے میں کیا عمدہ الفاظ کہے ہیں: ”اخسرین اعمالاً“ جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے میں ہیں ۔ اسلامی روایات میں ”اخسرین اعمالاً“کی مختلف تفسیریں آئی ہیں ان میں سے ہر ایک اس وسیع مفہوم کے کسی واضح مصداق کی طرف اشارہ ہے اور یہ تفسیریں اس کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کردیتیں ۔ اصیغ بن نباتہ نے ایک حدیث امیرالمومنین علی علیہ السلام سے روایت کی ہے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو امام نے فرمایا: اس سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں ۔ پہلے یہ لوگ حق پر تھے بعد میں انہوں نے اپنے دین میں بدعتیں ایجاد کرلیں ۔ یہ بدعتیں انہیں انحرافی راستے کی طرف لے جاتی ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نیک کام انجام دے رہے ہیں ۔(1) ایک اور حیث امام امیرالمومنین ہی سے منقول ہے کہ مذکورہ بالا گفتگو کے بعد فرمایا:خوارجِ نہروان بھی ان سے کوئی زیادہ دور نہیں ہیں ۔(2) ایک اور حدیث میں خاص طور پر رہبانوں (تارک الدنیا مردون اور عورتوں) اور مسلمانوں میں سے بدعتی گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔(3) بعض روایات میں بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں سے مراد امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے منکر ہیں ۔(4) راہب ایک عمر گرجے میں طرح طرح کی محرومیوں کے ساتھ گزار دیتے ہیں، شادی نہیں کرتے، اچھا لباس اور اچھا غذا ترک کردیتے ہیں، گرجے میں بیٹھے رہنے کو ہر کام پر ترجیح دیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ان کی یہ محرومیاں قربِ خدا کا باعث ہیں ۔ کیا یہ لوگ ”اخسرین اعمالاً“ کا مصداق نہیں ہیں ۔ کیا ممکن ہے کہ کوئی الٰہی دین عقل و فطرت کے قانون کے برخلاف انسان کو معاشرتی زندگی سے نکال کر گوشہ نشینی کی دعوت دے اور اس کام کو قربِ الٰہی کا سرچشمہ قرار دے ۔ اسی طرح وہ لوگ کہ جنہوں نے اللہ کے دین میں کسی بدعت کی بنیاد رکھی ہے ۔ توحید کی جگہ تثلیت کے عقیدے کو دے دی ہے اور اللہ کے بندے حضرت عیسیٰ﷼ کو خدا کا بیٹا قرار دے دیا ہے اور اللہ کے پاک دین میں اسی طرح کی بدعتیں داخل کردیں، اس گمان سے کہ وہ ایک خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ کیا ایسے لوگ دنیا کے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے نہیں ہیں ۔ نہروان کے تہی مغز اور عقل دشمنی جو سب سے بڑے گناہ (مثلاً حضرت علی اور مسلمانوں کے نیک افراد کو شہید کرنے کو) موجبِ تقرب خدا سمجھتے تھے، یہاں تک کہ جنت کو صرف اپنے لیے مختص سمجھتے تھے، کیا یہ سب سے زیادہ خسارے والے لوگ نہیں ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ آیت ایسا وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ بہت سی گزشتہ، موجودہ اور آئندہ اقوام اس میں شامل ہیں ۔ اب سوال سامنے آتا ہے کہ اس خطرناک حالت کا سرچشمہ کیا ہے؟ یقینا ان غلط خیالات کے اہم ترین عوامل میں شدید تعصب، غرور، ہٹ دھرمی، خود پرستی اور حبِّ ذات شامل ہے ۔ کبھی دوسروں کی چاپلوسی، گوشہ نشینی اور اکیلے ہی خود سے فیصلہ کرنا بھی اس منزلت کے پیدا ہونے کا سبب بنتاہے ۔ اس حالت میں انسان کو اپنے تمام انحرافی اور برے اعمال و افکار اچھے لگتے ہیں اور وہ ان پر احساسِ ندامت کی بجائے احساسِ تفخر کرنے لگتا ہے جیسا کہ ایک اور جگہ قرآن فرماتا ہے: <اٴَفَمَنْ زُیِّنَ لَہُ سُوءُ عَمَلِہِ فَرَآہُ حَسَنًا۔ کیا وہ شخص کہ جسے اپنے برے عمل بھلے لگتے ہیں اور وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے(فاطر۔۸) ۔ قرآن حکیم کی بعض دیگر آیتوں میں ان برائیوں کی تزئین کا عامل شیطان کو قرار دیا گیا ہے اور مسلّم ہے کہ انسانی وجود میں شیطان کا ظہور برے اخلاق اور غلط عادات ہیں ۔ قرآن کہتا ہے: <وَإِذْ زَیَّنَ لَھُمْ الشَّیْطَانُ اٴَعْمَالَھُمْ وَقَالَ لَاغَالِبَ لَکُمْ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّی جَارٌ لَکُمْ۔ وہ وقت یاد کرو جب شیطان نے مشرکین کے اعمال کو ان کے نظر میں زینت دی اور (جنگِ بدر کے) میدان میں ان سے کہا کہ کوئی شخص تم پر فتح حاصل نہیں کرسکتا اور میں خود اس میدان میں تمہارے ساتھ شریک ہوں ۔(انفال۔۴۸) قرآن مجید فرعون کے مشہور برج کا واقعہ بیان کرکے کہتا ہے: <کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِہِ۔ اس طرح فرعون کو اس کا برا عمل اچھا لگا (کہ وہ ایسے احمقانہ اور مضحکہ خیز کاموں کے ذریعے اللہ کا مقابلہ کرتا اور گمان کرتا کہ وہ کوئی اہم کام انجام دے رہاہے) ۔(مومن۔۳۷) ۱۔ تا 2۔ تفسیر نور الثقلین ، ج ۳، ص ۳۱۲․ 3۔ تفسیر نور الثقلین ، ج ۳ ، ص ۳۱۱․
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:103-108
۲۔ لقاء اللہ کیا ہے؟
۲۔ لقاء اللہ کیا ہے؟ بعض عالم نما بیہودہ افراد نے اس قسم کی آیات سے یہ مطلب نکالا ہے کہ اللہ کو دوسرے جہان میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ ان لوگوں نے یہاں لقائے الٰہی سے حسّی ملاقات مراد لی ہے ۔ لیکن واضح ہے کہ حسّی ملاقات کے لیے جسم ضروری ہے اور جسم کے لیے محدود ہونا، محتاج ہونا اور فنا پذیر ہونا ضروری ہے اور ہر عقلمند جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان صفات کا حامل نہیں ہوسکتا ۔ لہٰذا اس میں شک نہیں کہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں ”ملاقات“ اور ”روٴیت“کی نسبت اللہ کی طرف دی گئی ہے وہاں ملاقات حسّی مرا دنہیں ہے بلکہ شہودِ باطنی مراد ہے یعنی قیامت میں انسان آثارِ خداوندی کو ہر زمانے بہتر طور پر دیکھ سکے گا، اسے دل کی آنکھ سے دیکھ سکے گا اور وہاں اللہ پر اس کا ایمان شہودی ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ آیاتِ قرآن کے مطابق ہٹ دھرم ترین منکرین خدا قیامت میں اعتراف کرلیں گے کیونکہ انہیں انکار کی کوئی راہ سچائی نہ دے گی ۔(1) ۱۔ عض مفسرین نے اس تعبیر کا یہ مفہوم سمجھتا ہے کہ وہاں انسان نعمتیں اور جزاء و ثواب دیکھے گا اور اسی طرح الله کے عذاب و سزا کا مشاہدہ کرے گا ۔ انہوں نے در حقیقت نعمت و ثواب و جزاء کو مقدار سمجھا ہے ۔ یہ دوتفاسیر اگر چہ ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں تا ہم پہلی ریادہ واضح معلوم ہوتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:103-108
سوره کهف / آیه 103 - 108
۱۰۳ قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاٴَخْسَرِینَ اٴَعْمَالًا ۱۰۴ الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُونَ اٴَنَّھُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعًا ۱۰۵ اٴُولَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّھِمْ وَلِقَائِہِ فَحَبِطَتْ اٴَعْمَالُھُمْ فَلَانُقِیمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَزْنًا ۱۰۶ ذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ جَھَنَّمُ بِمَا کَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آیَاتِی وَرُسُلِی ھُزُوًا ۱۰۷ إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ۱۰۸ خَالِدِینَ فِیھَا لَایَبْغُونَ عَنْھَا حِوَلًا ترجمہ ۱۰۳ ۔ کہہ دو: کیا ہم تمہیں خبر دیں کہ زیادہ خسارت میں کون لوگ ہیں؟ ۱۰۴۔ وہ کہ جن کی ساری کوششیں دنیاوی زندگی میں بھٹک کے رہ گئی ہیں اور اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام انجام دے رہے ہیں ۔ ۱۰۵ ۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جنہوں نے آیاتِ ربانی اور الله کی ملاقات کا انکار کیا ہے ۔ اسی بناء پر ان کے سارے اعمال اکارت ہوگئے ہیں لہٰذا قیامت کے دن ان کے لیے ہم میزان حساب قائم نہیں کریں گے ۔ ۱۰۶ ۔ ان کی سزا جہنم ہے کیونکہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور یہ لوگ میری آیتوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے تھے ۔ ۱۰۷ ۔ رہے وہ لوگ کہ جو ایمان لائے اور نیک کا م کیے تو باغات فردوس ان کی منزل ہے ۔ ۱۰۸ ۔ او روہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی یہاں سے کہیں اور جانے کی خواہش نہیں کریں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:103-108
سب سے زیادہ خسارت میں کون لوگ ہیں؟
سب سے زیادہ خسارت میں کون لوگ ہیں؟ ان آیات میں اور ان کے بعد سورہ کے آخر تک بے ایمان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں ان آیات میں بلکہ اس پوری سورت میں مختلف جگہوں پر بحثیں آئی ہیں انہیں جمع کردیا گیا ہے ۔ خصوصاً اصحابِ کہف، موسیٰ(علیه السلام) و خضر(علیه السلام) اور ذوالقرنین کی جد و جہد او رمخالفین کے مقابلے میں ان کے طرزِ عمل سے مربوط مباحث کا ان آیات میں ایک طرح سے نچوڑ آگیا ہے ۔ سب سے پہلے تو ان لوگوں کا ذکر ہے کہ جو زیادہ خسارت میں ہیں او ر انسانوں میں سب سے زیادہ بدبخت ہیں ۔ لیکن سننے والوں کے احساسِ جستجو کو تحریک دینے کے لیے اس اہم مسئلے پر گفتگو سوالیہ انداز میں کی گئی ہے ۔ رسول اللهکو حکم دیا گیا ہے کہ کہہ دو: کیا انہیں ان لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں کہ جولوگوں میں سب سے زیادہ خسارت میں ہیں(قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاٴَخْسَرِینَ اٴَعْمَالًا) ۔ فوراً ہی خود جواب دیا گیا ہے تا کہ سننے والا زیادہ دیر تک متحیر نہ رہے ۔ زیادہ خسارت میں وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوششیں حیاتِ دنیا میں بھٹک کے رہ گئی ہیں مگر پھر بھی ان کا خیال ہے کہ وہ اچھے کام انجام دے رہے ہیں(الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُونَ اٴَنَّھُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعًا) ۔ یقیناً نقصان صرف یہ نہیں ہے کہ انسان مادی مفادات گنوا بیٹھے بلکہ حقیقی نقصان تو یہ ہے کہ انسان اصل سرمایہ ہی کھودے ۔ عقل و ہوش، خدا داد صلاحیتیں، عمر، جوانی اور صحت و سلامتی سے بڑھ کر کون سا سرمایہ ہوسکتا ہے ۔ یہی چیزیں ہیں کہ جن کا ماحصل انسانی اعمال ہیں اور ہمارے عمل ہماری استعداد اور طاقت کی ایک مجسم شکل کے ہوتے ہیں ۔ جب یہ قوتیں اور صلاحتیں بے ہودہ اعمال کی شکل اختیار کر لیں تو گویا یہ سب ضائع ہوگئیں اور راہ گم کردہ ہوگئیں ۔ یہ بالکل ایسے ہے کہ انسان بہت زیادہ دولت لے کر بازار کو نکلے لیکن اسے راستے میں گنوادے اور خالی ہاتھ لوٹ آئے ۔ البتہ جب انسان سمجھ جائے کہ میں اپنا سرمایہ گنوا بیٹھا ہوں تو یہ نقصان زیادہ خطرناک نہیں کیونکہ یہ نقصان اس کے لیے آئندہ سبق بن جائے گا ۔ یہ درس بعض اوقات اس کھو جانے والے سرمائے کے برابر ہوتا ہے او رکبھی اس سے بھی زیادہ قیمتی ۔ ایسا کہ گویا اس نے کچھ نہیں گنوایا ۔ لیکن حقیقی اور کئی گنا نقصان اس صورت میں ہے کہ انسان اپنا مادی او رروحانی سرمایہ کسی غلط اور کج راستے پر گنوا دے او رخیال کرے کہ اس نے اچھا کام لیا ہے، وہ اپنے کاموں سے نہ کوئی نتیجہ حاصل کرے، نہ اس نقصان سے کوئی سبق اور نہ ایسے کاموں کے تکرار سے بچے ۔ یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ یہاں”بِالْاٴَخْسَرِینَ اٴَعْمَالًا“ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں حالانکہ”‘اٴَخْسَرِینَ عَمَلًا“ہونا چاہئے تھا(کیونکہ تمیز عام طور پر مفرد ہوتی ہے) ۔ ہوسکتا ہے یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ وہ ایک ہی بازارِ عمل میں نقصان کا شکار ہوئے بلکہ ان کا جہل مرکب زندگی کے تمام پہلووٴں اور تمام اعمال میں نقصان کا سبب بنا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں انسان کسی ایک تجارت میں نقصان کر بیٹھتا ہے اور دوسرے کاروبار میں فائدہ حاصل کرلیتا ہے ۔ سال کے آخر میں حساب کرتا ہ تو دیکھتا ہے کہ کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا لیکن بدبختی یہ ہے کہ انسان جہاں بھی سرمایہ کاری کرتا ہے تمام شعبوں میں نقصان اٹھاتا ہے ۔ ضمناً ”ضل“یعنی گم کر بیٹھنا اور بھٹک جانا کی تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کے اعمال بالکل ختم اور نابود نہیں ہوجاتے ۔ جیسے مادہ اور توانائی ہمیشہ شکل بدلتے رہتے ہیں ختم نہیں ہوتے لیکن کبھی گم ہوجاتے ہیں ۔ ان اعمال کے آثار چونکہ دکھائی نہیں دیتے اور ان سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو یہ گویا گمشدہ سرمایہ ہیں جو ہماری دسترس میں نہیں ہے اور نہ ہمارے کسی کام کا ہے ۔ اس سلسلے میں کہ انسان کی نفسیاتی طور پر یہ کیفیت کیوں ہوتی ہے ہم ”چند اہم نکات“کے ذیل میں بات کریں گے ۔ اگلی آیات میں اس نقصان اٹھانے والے گروہ کی صفات اور عقائد و نظریات بیان کیے گئے ہیں اورچند ایسی صفات بیان کی گئی ہیں جو تمام بدبختیوں کی جڑہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی آیات کو للکارتے ہیں ( اٴُولَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّھِمْ) ۔ وہ ان آیات سے کفر کرتے ہیں کہ جو آنکھ کو بصارت اور کان کو شنوائی عطا کرتی ہیں، وہ آیات جو نور اور روشنی ہیں اور جو انسان کو اوہام کے ظلمات سے باہر نکال دیتی ہیں اور سرزمین حقائق کی طرف ہدایت کرتی ہیں ۔ آیات الٰہی سے کفر اختیار کرنے اور خدا کو فراموش کرنے کے بعد وہ لقائے الٰہی کے بھی منکر ہوگئے ہیں (وَلِقَائِہِ) ۔ جی ہاں! جب تک معاد پر ایمان مبداء پر ایمان کے ساتھ نہ ہو اور انسان یہ احساس نہ کرلے کہ کوئی طاقت اس کے اعمال کی نگران ہے اور سب اس کی عظیم، دقیق اور سخت عدالت میں پیش ہوں گے، وہ اپنے اعمال کی صحیح جانچ پرکھ نہیں کرے گا اور اس کی اصلاح نہیں ہوسکے گی ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: مبداء و معاد سے اسی انکار اور کفر کی وجہ سے ان کے اعمال اکارت ہوگئے ہیں (فَحَبِطَتْ اٴَعْمَالُھُمْ) ۔ جیسے ایک تیز رفتار آندھی تھوڑی سی خاکستر کو نابود کردیتی ہے ۔ اور چونکہ ان کا کوئی ایسا عمل نہیں کہ جو ناپ تول کے لائق ہو یا جس کی کوئی اہمیت ہو لہٰذا ان کیلئے روزِ قیامت کوئی میزان قائم نہیں کی جائے گی (فَلَانُقِیمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَزْنًا) ۔ کیوں کہ وزن اور ناپ تول تو وہاں ہوتا ہے جہاں بساط میں کچھ ہو۔ جن کی بساط میں کچھ بھی نہیں ان کے لئے میزان اور ناپ تول کی کیا ضرورت ہے ۔ اس کے بعد ان کے انحراف، بدبختی اور نقصان کا تیسرا عامل بیان کیا گیا ہے نیز ان کا کیفرِ کردار بھی بتایا گیا ہے: ارشاد ہوتا ہے: ان کی سزا جہنم ہے، اس لیے کہ وہ کافر ہوگئے ہیں اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے ہیں ( ذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ جَھَنَّمُ بِمَا کَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آیَاتِی وَرُسُلِی ھُزُوًا) ۔(۱) اس طرح انہوں نے نہ صرف عقائد کے تین بنیادی اصولوں، توحیدی، نبوت اور قیامت سے کفر اختیار کیا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان کا مذاق اڑایا ہے ۔ ان آیات سے کفر اور ان کا کردار و انجام واضح ہوگیا کہ جو زیادہ خسارت میں ہیں ۔ اب مومنین اور ان کے انجام کی باری ہے تا کہ دونوں کا موازنہ ہوجائے اور اس صورت حال بالکل واضح ہو جائے ۔ قرآن کہتا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام لیے باغاتِ فردوس ان کی منزل ہے(إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا) ۔ جبکہ بعض دوسرے علماء مبتداء کو محذوف اور”ذٰلِک“ کو اس کی خبر جانتے ہیں اور” جَزَاؤُھُمْ جَھَنَّمُ “ کو بھی وہ دوسرا مبتداء خبر سمجھتے ہیں ۔ ان کے لحاظ سے تقدیر یوں ہوگا ۔ الامرذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ جَھَنَّمُ معاملہ کچھ یوں ہے کہ ان کی جزاء جہنم ہے ۔ لیکن واضح ہے کہ پہلا بیان زیادہ مناسب ہے ۔ جیسا کہ بعض بزرگ مفسرین نے کہا ہے ”فردوس“ ایسا باغ ہے جس میں تمام ضروری نعمتیں جمع ہیں اور اس طرح سے ”فردوس“ جنت کے بہترین باغوں میں سے ہے، اور کسی نعمت کا کمال تبھی ہوگا جب اسے زوال نہ ہو لہٰذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے: وہ ان باغات ِ بہشت میں سدار ہیں گے (خَالِدِینَ فِیھَا) ۔ انسان کی طبیعت اگر ہ جدت پسند اور وہ ہمیشہ تنوع، تغیّر اور تبدیل چاہتا ہے لیکن فردوس کے باسی کبھی بھی نقل مکانی اور تبدیلی کی خواہش نہیں کریں گے ۔(لَایَبْغُونَ عَنْھَا حِوَلًا) ۔ اس بناء پر کہ وہ جو کچھ چاہیں گے وہاں موجود ہے یہاں تک کہ تنوع اور تکامل بھی ۔ جیسا کہ ”چند اہم نکات“کے ذیل میں ہم وضاحت کریں گے ۔ ۱۔ ”ذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ جَھَنَّمُ “کی ترکیب اور جمع بندی کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض” ذٰلِکَ “ کو مبتدا اور” جَزَاؤُھُمْ “ کو خبر اور” جَھَنَّمُ “ کو ” ذٰلِکَ“ کا بدل سمجھتے ہیں