قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا
Say, ‘Should all humans and jinn rally to bring the like of this Quran, they will not bring its like, even if they assisted one another.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:88
[Pooya/Ali Commentary 17:88] Refer to the commentary of al Baqarah: 23; Yunus: 38 and Hud: 13.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:88-89
سوره اسراء / آیه 88 - 89
۸۸ قُلْ لَئِنْ اجْتَمَعَتْ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلیٰ اٴَنْ یَاٴْتُوا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْآنِ لَایَاٴْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیرًا ۔ ۸۹ وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِی ھٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ فَاٴَبیٰ اٴَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُورًا ۔ ترجمہ ۸۸۔کہہ دو : اگر انسان اور جِن مل کر اِس قرآن کی مثل لانا چاہیں تو اس کی مثل نہیں لا سکیں گے اگرچہ اس کام میں وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں ۔ ۸۹۔اس قرآن میں ہم نے لوگوں کے سامنے طرح طرح کی مثالیں اور نمونے پیش کئے ہیں لیکن لوگ انکارِ حق کے سوا کچھ نہیں کرتے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:88-89
مثل کبھی نہیں لائی جاسکتی
مثل کبھی نہیں لائی جاسکتی قبل اور بعد کی آیات قرآن کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں جب کہ زیرِ بحث آیات میں صراحت کے ساتھ اعجازِ قرآن کے متعلق بات کرہی ہیں، اس لحاظ سے زیرِ نظر آیات کا گزشتہ اور اور بعد کی اایست سے ربط محتاجِ بیان نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں آئندہ آیات میں مشرکین کی بہانہ تراشیوں کا ذکر تفصیل کی کیا گیا ہے کہ وہ طرح طرح کے من پسند معجزات کا تقاضا کرتے تھے، اس حوالے سے زیرِ نظر آیات آئندہ کی بحث کے لئے مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان بہانہ تراش لوگوں پر واضح کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم کی حقانیت کا اعلی ترین، زندہ اور جاوداں معجزہ یہی قرآن ہے کہ جو تاریخ میں ہمیشہ چمکتا رہے گا اور اس کے ہوتے ہوئے بہانہ سازیاں بے جاں ہیں ۔۔ بعض نے ان آیات کا تعلق گزشتہ آیات سے اس پہلو سے بیان کیا ہے کہ روح کے اسرار آمیز ہونے کا موازنہ قرآن کے اسرار آمیز ہونے سے کیا گیاہے(۱)، البتہ جس ربط کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ واضح نظر آتا ہے ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ یہاں روئے سخن اپنے رسول کی جانب کرتے ہوئے کہتا ہے:ان سے کہو : اگرتمام انسان اور جِن مل کر قرآن کی مثل لانا چاہیں تو بھی وہ اس جیسا کلام لانے پر قادر نہیں ہوسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں( قُلْ لَئِنْ اجْتَمَعَتْ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلیٰ اٴَنْ یَاٴْتُوا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْآنِ لَایَاٴْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیرًا)۔ یہ آیت پوری صراحت کے ساتھ پورے عالم کو چیلینج کرتی ہے ، سب لوگ چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے ، عرب ہوں یا غیر عرب حتی کہ انسان ہو یا غیر انسان ذوی العقول موجودات، علماء ،فلاسفہ، ادباء، مورخین، نوابغ یا غیر نوابغ، غرض یہ کہ قرآن بلا استثنا سب کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر تمہارا خیال ہے کہ قرآن خدا کا کلام نہیں ہے اور انسانی دماغ کی ایجاد ہے تو تم بھی انسان ہو، اس کی مثال لے آؤ اور اگر مشترکہ کاوش کے باوجود اپنے آپ کو ناتواں پاؤ تو یہ اعجازِ قرآن کی بہترین دلیل ہے ۔ عقائد اور کلام کے علماء مقابلے کی اس دعوت کو ”تحدی“(چیلنج)کے نام سے یاد کرتے ہیں، یہ تحدی ہر معجزہ کا ایک رکن ہے، جہاں کہیں اس قسم کی تعبیر آئے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ امر معجزات میں سے ہے ۔ ۱۔ فی ظلال القرآن ،ج۵،ص ۳۵۸، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:88-89
آیت کے چند قابلِ توجہ نکات
آیت کے چند قابلِ توجہ نکات ۱۔ یہ چیلنج عام ہے اور سب انسانوں اور دیگر ذوی العقول موجودات پر محیط ہے ۔ ۲۔ یہ تحدی اور دعوت دائمی ہے کیونکہ اس میں زمانے کی شرط نہیں ہے، اس طرح سے یہ دعوت جس طرح رسول اللہ کے زمانے میں تھی آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ ۳۔”اجتمعت“ کی تعبیر مل جل کر، ہم فکر ہوکر اور باہمی تعاون سے مقابلے کے لئے آنے کی دعوت کا انتظار کررہی ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ اس طرح سے قوت میں سینکڑوں گناہ اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ۴۔”ولولاکان بعضھم لبعض ظھیرا“ (اگرچہ ایک گروہ دوسرے کی مدد کرے )یہ جملہ ہمفکر ہونے اور باہمی تعاون کے لئے تاکیدِ مزید ہے نیز ضمناً یہ مقاصد واہداف کی پیش رفت میں ہم فکری وتعاون کی اہمیت وتاثیر کے لئے سربستہ اشارہ ہے ۔ ۵۔ ”مثل ھذاالقرآن“ ۔یہ ایک جامع تعبیر ہے جو ہر لحاظ سے مثل ومشابہ ہونے کی طرف اشارہ ہے یعنی فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے، مضامین ومفاہیم کے لحاظ سے، انسان سازی کے حوالے سے علمی مباحث کے پہلو سے، حیات بخش معاشرتی قانون کے لحاظ سے، خرافات سے پاک تاریخ کے اعتبار سے، پیش گوئیوں کے لحاظ سے اور دیگر تمام پہلوؤں کے اعتبار سے ۔اس کی مثل ہو ۔ ۶۔ سب انسانون کی دعوت دینا اس بات کی دلیل ہے کہ مسئلہ اعجاز میں صرف الفاظ ِقرآن اور فصاحت و بلاغت کا پہلو ملحوظ نظر نہیں ہے کیونکہ ایسا ہوتا تو عربی زبان سے نا آشنا لوگوں کو دعوت دینا بے فائدہ تھا ۔ ۷۔ ایک منہ بولتا اور رسا معجزہ وہ ہے جس کے لانے والا مخالفین کو نہ صرف مقابلے کی دعوت دے بلکہ مختلف طریقوں سے اس کام کی تحریک کرے اور تشویق دلائے، بالفاظ، دیگر غیرت دلائے تا کہ اس کام کے لئے جو کچھ ان کے بس میں ہو وہ کریں، بھر جب وہ ایسا نہ کر سکیں تو اعجاز کی عظمت اور گہرائی واضح ہوجائے ، زیرِ بحث آیت میں عملی طور پر بالکل ایسا ہی کیا گیا ہے، کیونکہ ایک طرف تو سب انسانوں کو دعوت دی گئی ہے اور ”لایاتون بمثلہ“ کہہ کر ان کے عجز کی تصریح کی گئی ہے اور اس انہیں اکسایا گیا ہے اور دوسری طرف ”ولولاکان بعضھم لبعض ظھیرا“ کہہ کر مزید تحریک دلائی گئی ہے ۔ بعد والی آیت در حقیقت اعجاز ِ قرآن کے ایک اور پہلو کو بیان کرتی ہے اور وہ ہے اس کی جامعیت ، ارشاد ہوتا ہے: اس قرآن میں ہم نے تمام طرح کے معارف کا نمونہ بیان کیا ہے ( وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِی ھٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ کُلِّ مَثَل)، لیکن اس کے باوجود اکثر جاہل و نادان لوگوں نے نہ صرف انکارِ حق ہی کیا ہے بلکہ ان کا ردِ عمل ایسا گویا انہوں نے دلائل ِ ہدایت کو دیکھا تک نہیں( فَاٴَبیٰ اٴَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُورًا)۔ ”صرفنا“ ”تصریف“ کے مادہ سے ہے یہ تغیر یا تبدل اور ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنے کے معنی میں آیاہے ۔ ”کفور“ انکارِ حق کے معنی میں آیاہے ۔ واقعاً مضامینِ قرآن کا یہ تنوع اور وہ بھی ایک ایسی شخص کے ذریعے کی جس نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہ کیا ہو ، عجیب و غریب ہے کیونکہ اس آسمانی کتاب میں عقائد کے بارے میں متین اور پختہ عقلی دلائل بھی ہیں اور نوعِ بشر کی تمام ضروریات کی بنیا دپر متین و استوار احکام بھی ہیں ، تاریخ کے بارے میں بھی اس کی گفتگو بے نظیر ، جذبوں کو ابھارنے و الی، بیدار کن، دلچسپ، ہلادینے والی خرافات سے پاک ہے، نیز اس کی اخلاقی مباحث بھی دلوں پر وہی تاثرات مرتب کرتی ہیں جو ابرِ بہار بے جان زمین پر، اسی طرح اس سے عملی مسائل ایسے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں جن کی کم از کم اس زمانے میں علماء خبر نہ تھی۔ خلاصہ یہ قرآن کی ہر وادی حسین ترین اور عالی ترین ہے ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ انسان کی معلومات محدودہیں، جیسا کہ گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے اور خصوصاً اس ماحول پر نظر کریں کہ جس میں پیغمبر اسلام صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم پروان چڑھے کہ جب اس محدود علم کی بھی لوگوں کو خبر نہ تھی اس کے باوجود قرآن نے توحید ، اخلاق، معاشرت، سیاست اور انتظامی امور پر ایسے متون مضامین پیش کئے ہیں، کیا یہ امر اس بات کی دلیل نہیں کہ اسے انسانی دماغ میں نہیں تراشا بلکہ یہ خدا کی طرف سے ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر جن وانس مل کر اس کی مثل لانا چاہیں تو وہ ایسا نہیں کرسکتے ۔ فرض کریں کہ دورِ حاضر کے علماء، دانشمند اور مختلف علوم کے ماہرین جمع ہوجائیں اور وہ ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کریں اور اسے بہترین قالب میں ڈھالیں تو ہوسکتا ہے کہ یہ آج کے لئے آج کے زمانے کے لحاظ سے تو جامعیت رکھتا ہو لیکن مسلم ہے کہ پچاس سال بعد نہ صرف یہ ناقص اور نارسا معلوم ہوگا بلکہ اس کی کہنگی کے آثار بھی نمایان ہوںگے جب کہ قرآن جس زمانے میں بھی پڑھا جائے گا خصوصاً ہم نے اسے دور َ حاضر کے حوالے سے دیکھا تو ایسا لگتا ہے جیسے آج ہی اور آج کے لئے نازل ہوا ہے اس پر مرور زمانے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے ۔