وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا
Certainly We have honoured the Children of Adam, and carried them over land and sea, and provided them with all the good things, and preferred them with a complete preference over many of those We have created.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:70
[Pooya/Ali Commentary 17:70] Aqa Mahdi Puya says: Allah has honoured the children of Adam (human beings) above other creatures (refer to verses 60 to 69). It is a trial, result of which will be seen by all on the day of judgement as described in the next verse .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:70-72
۳۔ رہبری، اسلام کی نظر میں
۳۔ رہبری، اسلام کی نظر میں: امام باقر علیہ السلام سے ایک مشہور حدیث منقول ہے ۔ اس میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ(علیه السلام) اسلام کے بنیادی ارکان کے بارے میں گفتگو فرمارہے تھے ۔ اس وقت آپ نے پانچواں رکن ولایت (رہبری) کو قرار دیا اور اس کا تعارف اہم ترین رکن کی حیثیت سے کروایا، جبکہ اس حدیث کے مطابق نماز کہ جو خالق و مخلوق کے مابین تعلق کا مظہر ہے، روزہ کہ جو شہوات سے مقابلے کا راز ہے، زکوٰة کہ جو انسان کے تعلق کا اظہار ہے اور حج کہ جو اسلام کے اجتماعی پہلووٴں کا ترجمان ہے دیگر چار بنیادی رکن ہیں ۔ بعد میں امام(علیه السلام) نے مزید فرمایا:کسی چیز کو ولایت کی سی اہمیت حاصل نہیں ہے (کیونکہ دیگر ارکان کا اجراء اسی کے سائے میں ہوگا)۔(۲) یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک مشہور حدیث میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”من مات بغیر امام مات میتة الجاہلیة“ جو شخص اس دنیا سے امام و رہبر کے بغیر چلا جائے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔(۱) تاریخ میں ایسے بہت سے مواقع دکھائی دیتے ہیں کہ کبھی ایک ملت، ایک عظیم اور لائق قیادت و رہبری کی بدولت دنیا کی قوموں میں پہلی صف میں آکھڑی ہوئی اور کبھی وہی ملت اسی افرادی قوت اور انہی وسائل کے باوجود کمزور اور نالائق قائدو رہبر کی بدولت ایسی گرِی کہ شاید کوئی باور نہ کرے کہ یہ وہی ملت ہے ۔ کیا زمانہ جاہلیت کے عرب نہ تھے کہ جو جہالت ، بدبختی، فتنہ و فساد، ذلت و نکبت اور انتشار و انحطاط میں غوطہ ور تھے کیونکہ ان کا کوئی قابل قائد نہ تھا لیکن جب الٰہی رہبر یعنی حضرت محمّد تھے ظہور فرمایا تو اس قوم نے وہ ترقی و کمال اور عظمت حاصل کی کہ پوری دنیا کو ورظہ حیرت میں ڈال دیا ۔ جی ہاں ۔ یہ ہے رہبر کی تاثیر، اُس زمانے میں، اِس زمانے میں اور ہر زمانے میں ۔ البتہ خدا تعالیٰ نے ہر زمانے کے انسانوں کی نجات و ہدایت کے لیے رہبر مقرر کیے ہیں کیونکہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ فرمانِ سعادت ضامن کے بغیر جاری نہ ہو ۔ لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ لوگ اپنے رہبر کو پہچانیں اور گمراہ و فاسد اور مفسد رہبروں کے دام فریب میں گرفتار نہ ہوں کیونکہ پھر ان کے چنگل سے نجات مشکل ہے ۔ شیعوں کا اعتقاد ہے کہ ہر زمانے میں ایک معصوم امام ہوتا ہے ۔ اس اعتقاد کا بھی یہی فلسفہ ہے ۔ جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اللّٰہم بلیٰ لا تخلوا الارض من قائم للّٰہ بحجة، اما ظاہراً مشہوراً و اما خائفاً مغموراً، لئلا تبطل حجج اللّٰہ و بیناتہ جی ہاں! بخدا زمین کبھی ایسے رہبر سے خالی نہیں ہوتی کہ جو حجتِ الٰہی کے ساتھ قیام کرے چاہے وہ ظاہر و آشکار ہو یا (درکار پیروکار نہ ہونے کی وجہ سے)مخفی و تنہاں ہو ۔ ایسے رہبر کا وجود اس لیے ضروری ہے کہ خدا کی نشانیاں اور اس کے فرمان کے دلائل ختم نہ ہونے پائیں ۔(۲) مفہوم امامت اور جہاں انسانیت کے لیے اس کی ناگزیر ضرورت کے بارے میں ہم پہلی جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیہ ۱۲۴ کے ذیل میں بھی بحث کرچکے ہیں ۔ ۱۔ مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں. ۲۔ حدیث کی عبارت یوں ہے: قال الباقر (ع): بنی الاسلام علیٰ خمس علی الصلوٰة والزکوٰة والصوم والحج والولایة ولم یناد بشیءٍ کما نودی بالولایة (اصول کافی ج۲ ص ۱۵)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:70-72
سوره اسراء آیت 70- 72
۷۰ وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ وَحَمَلْنَاھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاھُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاھُمْ عَلیٰ کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا ۷۱ یَوْمَ نَدْعُو کُلَّ اٴُنَاسٍ بِإِمَامِھِمْ فَمَنْ اٴُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِینِہِ فَاٴُوْلٰئِکَ یَقْرَئُونَ کِتَابَھُمْ وَلَایُظْلَمُونَ فَتِیلًا ۷۲ وَمَنْ کَانَ فِی ھٰذِہِ اٴَعْمَی فَھُوَ فِی الْآخِرَةِ اٴَعْمَی وَاٴَضَلُّ سَبِیلًا ترجمہ ۷۰۔ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور خشکی و دریا میں انہیں سواریاں عطا کیں، طرح طرح کے پاکیزہ رزق میں سے انہیں روزی دی اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت عطا کی۔ ۷۱۔ وہ دن یاد کرو کہ جب ہر گروہ کو ہم اس کے امام کے ساتھ پکاریں گے ۔ پس جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ہوگا وہ اسے (بڑی مسرت سے)بڑھیں گے اور ان پر رائی برابر بھی ظلم نہیں ہوگا ۔ ۷۲ ۔ لیکن وہ لوگ جو اس دنیا میں (چہرہٴ حق کو دیکھ کر بھی) اندھے بنے رہے وہ وہاں بھی اندھے رہیں گے بلکہ گمراہ تر۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:70-72
سواری ۔انسان کے لیے اولین نعمت
سواری ۔انسان کے لیے اولین نعمت : یہ نکتہ قا بلِ توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے سب سے پہلے خشکی اور دریا میں اس کی آمد ورفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ممکن ہے یہ اس بناء پر ہو کہ طبیات اور مختلف قسم کے رزق سے حرکت اور سفر کے بغیر فائدہ اٹھانا ممکن نہیںاور صفحہٴ زمین پر اس سفر کے لیے انسان کو سواری کی ضرورت ہے ۔یہ بجا کہا جاتا ہے کہ حرکت میں برکت ہے ۔ یا پھر اس بنا ء پر ہے کہ خدا تعالیٰ اس زمین پر انسانی حکمرانی کو بیان کر نا چاہتا ہے ۔دریا ہو یا صحرا انسان کا اقتدار مو جود ہے ۔اس زمین پر دیگر موجود کا تسلط محدود اور ایک حصے پر ہے ۔ یہ صرف انسان ہے جو پورے کرہ خاکی پر حکومت کرتا ہے ۔ دریا، صحرا، اونچائی، اترائی اور ہوا سب میں انسان کی حکومت ہے ۔ ۲۔ خدا کی طرف سے انسان کی عزت و تکریم: مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم نے انسان کو عزت بخشی۔ یہ ایک سربستہ سی بات ہے ۔ اللہ نے انسان کو کس چیز سے عزت بخشی اس سلسلے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس اعطاء سے مراد عقل و نطق کی قوت،مختلف استعدادیں اور ارادے کی آزادی ہے ۔ بعض سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد انسان کی موزوں جسامت اور قامتِ راست ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اس اعطاء سے انگلیاں مراد ہیں جن کے ذریعے انسان بہت سے ظریف اور دقیق کام انجام دے سکتا ہے اور اسی طرح لکھنے کی قدرت رکھتا ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ اس سے انسان کی اس صلاحیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تقریباً واحد موجود ہے جو اپنی غذا اپنے ہاتھ سے کھا سکتا ہے ۔ بعض سمجھتے ہیں کہ یہ انسان کی اس سربلندی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ روئے زمین کی تمام موجودات پر تسلط رکھتا ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ اس عطاء کی طرف اشارہ ہے کہ انسان معرفت الٰہی پر اور اس کے فرمان کی اطاعت پر قدرت رکھتا ہے ۔ لیکن یہ واضح ہے کہ یہ سب نعمتیں انسان میں جمع ہیں اور ان میں سے کوئی دوسرے کے متضاد نہیں ہے ۔ لہٰذا اس عظیم مخلوق کو خدا نے جو گرامی قدر بنایا اور عزت عطا کی ہے وہ ان تمام نعمات اور ان کے علاوہ دیگر نعمات کی بنیاد پر ہے ۔ مختصر یہ کہ انسان دیگر مخلوقات پر بہت سے امتیازات رکھتا ہے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بلند تر اور جاذب نظر زیادہ ہے ۔ انسان کے جسمانی امتیازات کے علاوہ انسان ایسی روح کا حامل ہے جو کمال حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ صلاحتیں اور بہت توانائی رکھتی ہے ۔ ۳۔”کّرمنا“اور ”فضّلنا“میں فرق: اس سلسلے میں مختلف نظریات بیان کیے گئے ہیں: بعض کا کہنا ہے کہ ”کرّمنا“ ان نعمات کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذاتاً انسان کو دی ہیں جبکہ ”فضّلنا“ان فضائل کی طرف اشارہ ہے جو انسان نے توفیق الٰہی سے کسب کیے ہیں ۔ یہ احتمال بھی بہت صحیح معلوم ہوتا ہے کہ”کرّمنا“ مادی پہلوؤں کی طرف اشارہ ہو اور ”فضّلنا“روحانی پہلوؤں کی طرف کیونکہ لفظ ”فضّلنا“ عام طور پر قرآن میں اسی معنی میں آیا ہے ۔ ۴۔ آیت میں ”کثیر“کا مفہوم بعض مفسّرین کا خیال ہے کہ زیرِ بحث آیت تمام اولادِ آدم پر فرشتوں کی برتری کی دلیل ہے، وہ کہتے ہیں کہ چونکہ قرآن اس آیت میں کہتا ہے کہ ہم نے انسانوں کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت وبرتری عطا کی ہے، لہٰذا اس کا واضح مطلب ہے کہ ایک گروہ ایسا ہے کہ جس سے انسان افضل نہیں ہے اور یہ گروہ فرشتوں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ لیکن خلقتِ آدم اور فرشتوں کا ان کے سامنے سجدہ وخضوضع کرنے اور آدم(ص) کی طرف سے انھیں علمِ اسماء کی تعلیم کی طرف توجہ کی جائے تو اس امر میں شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ انسان فرشتوں سے افضل وبرتر ہے لہٰذا ”کثیر“ یہاں پر ”جمیع“ کے معنی میں ہوگا ۔ عظیم مفسّر طبرسی نے مجمع البیان میں کہا ہے کہ قرآن میں عرب محاورات میں بہت معمول ہے کہ یہ لفظ ”جمیع“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ طبرسی کہتے ہیں کہ اس جملے کا معنی یہ گا: ”انّا فضلناھم علیٰ من خلقنا وھم کثیر“ ہم نے انسان کو ان سب پر فضیلت عطا کی ہے جنھیں ہم نے پیدا کیا ہے اور یہ مخلوقات کثیر ہیں ۔ شیاطین کے بارے میں قرآن کہتا ہے: <وَاٴَکْثَرُھُمْ کَاذِبُونَ (شعراء/۲۲۳) واضح ہے کہ شیطان تو سب جھوٹے ہیں نہ کہ ان میں سے اکثر۔ بہرحال اس معنی کو خلاف ظاہر سمجھیں تو خلقتِ انسان کے بارے میں موجود آیات ہماری مذکورہ بات کے لئے واضح قرینہ ہیں ۔ ۵۔ انسان کیوں افضل ہے؟ اس سوال کا جواب کوئی پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان ہی وہ واحد موجود ہے جس میں مختلف مادی ومعنوی اور جسمانی وروحانی قوتیں اور توانائیاں موجود ہیں، یہی انسان متضاد چیزوں میں رہ کر پرورش پاسکتا ہے، صرف انسان ہی ہے جو کمال وارتقاء اور پیشرفت کی لامحدود صلاحیت رکھتا ہے حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام سے منقول ایک حدیث بھی اس مدعا پر ایک گواہ ہے آپ(ص) فرماتے ہیں: الله نے عالم کو تین قسم کا پیدا کیا ہے: فرشتے، حیوان اور انسان۔ فرشتے عقل رکھتے ہیں اور ان میں شہوت وغضب کی قوت نہیں ہے ۔ حیوان شہوت وغضب کا مجموعہ ہیں لیکن انسان دونوں کا مجموعہ ہے تاکہ معلوم ہو کہ کونسی قوت غالب آتی ہے ۔ اگر اس کی عقل شہوت پر غالب آجائے تو بہ فرشتوں سے افضل ہے اور اگر اس کی شہوت اس کی عقل پر غالب آجائے تو یہ حیوانات سے پست تر ہے ۔ (۱) یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ تمام انسان فرشتوں سے افضل ہیں جبکہ بہت سے لوگ بے ایمان، شریر اور ستمگر ہیں اور ایسے لوگ مخلوقِ خدا میں سے پست ترین شمار ہوتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں کیا زیرِ بحث آیت میں لفظ ”بنی آدم“ سب انسانوں کے لئے ہے یا ان میں سے صرف ایک گروہ کے لئے ۔ اس سوال کا جواب ایک جملے میں دیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ: جی ہاں! تمام انسان برتر ہیں لیکن بالقوة واستعداد کے لحاظ سے ۔ یعنی سب یہ مقام اور اہلیت رکھتے ہیں، البتہ اس سے استفادہ نہ کریں اور اپنے مقام سے گرجائیں تو یہ کام خود ان سے مربوط ہے ۔ انسان کی تمام موجودات پر برتری اگرچہ روحانی اور انسانی حوالے سے ہے تاہم نامناسب نہیں کہ ہم علماء کے بقول بعض حوالوں سے جسمانی قوت کے لحاظ سے بھی افضل جانیں ۔ (اگرچہ بعض پہلووٴں سے انسان کمزور نظر آتا ہے) ۔ کتاب ”انسان موجود ناشناختہ“ کا موٴلف الیکسرکارل کہتا ہے: انسانی بدن غیرمعمولی استحکام ار قابلیت کا حامل ہے، یہ ہر قسم کے حادثے میں استقامت دکھاتا ہے، اسی طرح بھوک، بے خوابی، تکان، بہت زیادہ غصّے، درد، بیماری، دُکھ، مشقّت اور روح وبدن میں موجود حیرت انگیز اعتدال کی حفاظت کے موقع بہت عجیب وغریب فکری وجسمانی توانائی کی وجہ سے وہ صنعت وتمدن میں اس مقام پر آپہنچا ہے اور تمام جانداروں پر اپنی برتری ثابت کرچکا ہے ۔ (۲) اگلی آیت میں انسان کے لئے ایک اور خدائی نعمت کی طرف اشارہ ہے، نیز اس نعمت کے بعد انسان پر جو سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ۔ پہلے مسئلہ رہبری اور انسانی سرنوشت میں اس کی تاثیر کو بیان گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: قیامت کے دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام اور ہبر کے ساتھ پکاریں گے ( یَوْمَ نَدْعُو کُلَّ اٴُنَاسٍ بِإِمَامِھِمْ) ۔ یعنی وہ لوگ کہ جنھوں نے ہر زمانے میں انبیاء اور ان کے اوصیاء کی رہبری کو قبول کیا ہے اپنے ان پیشواوٴں کے ساتھ ہوں گے اور جنھوں نے شیطان، آئمہ ضلال اور جابر وظالم پیشواوٴں کی رہبری کو اختیار کیا ہے وہ ان کے ساتھ محشور ہوںگے ۔ خلاصہ یہ کہ رہبری اور پیروی کا جو رشتہ اس جہان میں ہوگا وہ پوری طرح اُس جہان میں منعکس ہوگا ۔ اسی بنیاد پر اہلِ نجات اور اہلِ عذاب ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے ۔ اگرچہ بعض مفسّرین نے چاہا ہے کہ یہاں ”امام“ کا وسیع مفہوم ہے اور اسی میں ہر پیشوا شامل ہے چاہے وہ انبیاء ہوں یا آئمہ ہدیٰ یا علماء اور کتاب وسنت اور اسی طرح آئمہ کفر وضلال بھی لہٰذا وہاں ہر شخص اس رہبر کی صف میں ہوگا جس کا یہاں طریقہ اپنایا ہوگا ۔ انسان کے کمال وارتقاء کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعبیر سب انسانوں کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے اور اسے خبردار کرتی ہے کہ رہبر کے انتخاب میں بہت زیادہ غور غور و فکر سے کام لےے اور اپنی فکر و نظر اور زندگی کی مہار ہرکسی کے سپرد نہ کردے ۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ وہاں لوگ دوحصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ”جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ افتخار اور سرور کے ساتھ اپنا نامہ اعمال پڑھیں گے اور ان پر ذرہ بھر ظلم نہ ہوگا“(فَمَنْ اٴُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِینِہِ فَاٴُوْلٰئِکَ یَقْرَئُونَ کِتَابَھُمْ وَلَایُظْلَمُونَ فَتِیلًا) ۔ (3) ”لیکن جو لوگ اس جہاں میں کور دل تھے وہ آخرت میں بھی اندھے ہوں گے“( وَمَنْ کَانَ فِی ھٰذِہِ اٴَعْمَی فَھُوَ فِی الْآخِرَةِ اٴَعْمَی) ۔اور فطری امر ہے کہ دل کے یہ اندھے سب سے زیادہ گمراہ ہوں گے ( وَاٴَضَلُّ سَبِیلًا) ۔وہ نہ اس دنیا میں راہِ ہدایت پائین گے اور نہ آخرت میں بہشت و سعادت کی راہ۔ کیونکہ انہوں نے خود سے اپنی آنکھیں تمام حقائق کے سامنے بند کررکھی ہیں ۔ انہوں نے حق کا چہرہ دیکھنے کے لیے آنکھیں نہ کھولیں ۔ آیات خدا اور جو کچھ یاعث ہدایت و عبرت تھا اس سے آنکھیں چرائے رکھیں اور خدا کی عطا کردہ نعمتوں سے انہوں نے اپنے آپ کو محروم رکھا اور دارِ آخرت چونکہ اس جہاں کا عکس العمل ہے تو کیا تعجب کی بات ہے کہ یہ کور دل وہاں عرصہ محشر میں نابینوں کی صورت میں پیش ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:70-72
انسان گلشن حیات کا بہترین پھول
تربیت و ہدایت کا ایک طریقہ یہ ہے لوگوں کو ان کی عظمت اور مقام یاد دلایا جائے ۔ قرآن مجید بھی یہ طریقہ اختیار کرتا ہے ۔ گزشتہ آیات میں مشرکین اور منحرف افراد کے بارے میں گفتگو تھی۔ اب زیر نظر آیات میں نوعِ انسانی کے بلند مقام کا تذکرہ ہے نیز اس عطا ہونے والی نعمات الٰہی کا بیان ہے تا کہ وہ اپنے اس انتہائی اعلیٰ مقام کی طرف توجہ کرے اور اپنے مقامِ گراں بہا کو ضائع نہ کردے اور اپنے تئیں کسی حقیر سی قیمت پر نہ بیچ ڈالے ۔ ارشاد ہو تا ہے :ہم نے اولاد ِآدم کو عزت و تکریم بخشی اور گرامی قدر بنایا (وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ) ۔ اس کے بعد انسان کو عطا ہو نے والی تین طرح کی نعمات الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ پہلی نعمت : ”ہم نے انہیں خشکی ودریا میں سواریاں عطا ہیں“ ( وَحَمَلْنَاھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْر) ۔ دوسری نعمت: ”پاکیزہ رزق میں سے ہم نے انہیں روزی دی ہے “(وَرَزَقْنَاھُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ ) لفظ ”طیب“کے مفہوم میں ہر پاکیزہ موجود شامل ہے ۔اس مفہوم پر توجہ کی جائے تو اس عظیم خدائی نعمت کی وسعت واضح ہو جاتی ہے ۔ تیسری نعمت : ”ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ہے “( وَفَضَّلْنَاھُمْ عَلیٰ کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:70-72
۱۔ انسان زندگی پر رہبری کا اثر
۱۔ انسان زندگی پر رہبری کا اثر: انسان کی اجتماعی اور معاشرتی زندگی کو رہبری کے مسئلے سے جدا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کسی بھی گروہ کے حقیقی راستے کو واضح کرنے کے لیے ہمیشہ رہبر اور پیشوا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اصولی طور پر کمال و ارتقاء وجود رہبر کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ انبیاء اور اوصیاء کے بھیجے جانے اور انتخاب کا یہی راز ہے ۔ علم عقائد و کلام میں بھی قاعدہ لطف سے استفادہ کرتے ہوئے اور معاشرے کے نظم و نسق کے حصول اور انحراف سے بچانے میں رہبر کی ضرورت کے حوالے سے بعثت انبیاء اور ہر زمانے میں موجود امام کا ضروری ہونا ثابت کیا گیا ہے لیکن ایک خدائی رہبر اور عالم و صالح انسان کی رہبری انسان کے لیے اصلی ہدف تک رسائی کو جیسے آسان اور تیز تر کردیتی ہے ایسے ہی آئمہ کفر و ضلال کی رہبری کو قبول کرنے سے انسان بد بختی اور بد انجام کے گڑ ھے میں جاگر تاہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں معتدد احادیثِ اسلامی مصادر میں موجود ہیں ۔ ان کے مطالعے سے مفہوم آیت اور ہدف امامت واضح ہوجاتا ہے ۔ ایک حدیث شیعہ اور سنی حضرات نے امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے صحیح اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔اس میں ہے کہ امام نے اپنے آباؤ اجداد کے واسطے سے رسولِ اکرم سے اس آیت کی تفسیر میں نقل فرمایا: ”یدعی کل اناس بامام زمانہم و کتاب ربہم وسنة نبیہم“ اس روز ہر قوم کو اس کے زمانے کے امام، اس کی کتاب الٰہی اور اس کے پیغمبر کی سنت کے ساتھ پکارا جائے گا ۔ (1) نیز امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: الا تحمدون الله اذا کان یوم القیامة فدعا کل قوم الیٰ من یتولونہ و دعانا الیٰ رسول الله و فزعتم الینا فالی این ترون یذھب بکم الی الجنہ و رب الکعبة قالھا ثلالاً کیا تم الله کی حمد و ثنا بجا نہیں لاتے کہ جب قیامت کا دن ہوگا، خدا ہر گروہ کو اس شخص کے ساتھ پکارے گا جس کی اس نے ولایت قبول کی ہوگی، ہمیں رسول الله کے ساتھ پکارے گا اور تمہیں ہمارے ساتھ۔ تم سوچتے ہوکہ ایسے میں تمہیں کدھر لے جائیں گے ۔ ربِّ کعبہ کی قسم! بہشت کی طرف۔ پھر امام (علیه السلام)نے اس حملے کو تین مرتبہ دہرایا ۔(2) ۱۔ مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں- ۲۔ حدیث کی عبارت یوں ہے: قال الباقر (ع): بنی الاسلام علیٰ خمس علی الصلوٰة والزکوٰة والصوم والحج والولایة ولم یناد بشیءٍ کما نودی بالولایة (اصول کافی ج۲ ص ۱۵)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:70-72
۲۔ بنی آدم کا شرف
”بنی آدم“ عموماً قرآن میں انسان کے لئے ایک ایسا عنوان ہے جس میں مدح وستائش اور احترام شامل ہے جبکہ لفظ انسان کی توصیف”ظلوم“،”جہول“،”ہلوع“( کم ظرف)،”ضعیف“ نافرمان اور ناسپاسی کے الفاظ سے کی گئی ہے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ لفظ”بنی آدم“تربیت یافتہ انسانوں کی طرف اشارہ کرتا ہے یاکم از کم یہ انسان کی مثبت صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔(حضرت آدم(علیه السلام) کا افتخار و اعزاز اور فرشتوں پر ان کی فضیلت کہ جو اس لفظ ”بنی آدم“میں پنہان ہے یہ بھی اس معنی کی ایک موئد ہے)۔جبکہ لفظ”انسان“اس کے مطلق معنی کے لحاظ سے ہے اور کبھی کبھی انسان کے منفی پہلووٴں کی طرف ذکر ہے یہاں لفظ”بنی آدم“ استعمال ہوا ہے ۔ قرآن مجید میں انسانوں کے معنی کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۸صفحہ۱۹۴ پر ہم نے تفصیلی بحث کی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:70-72
۴۔ دل کے اندھے
۴۔ دل کے اندھے: مشرکوں اور ظالموں کے بارے میں زیر بحث آیت میں قرآن نے ایک نہایت عمدہ تعبیر استعمال کی ہے اور وہ ہے ”اعمیٰ“(اندھے)۔یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ حق کا چہرہ ہر جگہ آشکار ہوتا ہے البتہ چشم بینا کی ضرورت ہے ۔ ایسی آنکھ کہ جو اس وسیع کائنات میں آیات الٰہی کو دیکھ سکے، وہ آنکھ کہ جو صفحاتِ تاریخ میں سے درسِ عبرت کا مطالعہ کرسکے اور ایسی آنکھ کہ جو ظالموں اور جابروں کے انجام کا مشاہدہ کرسکے ۔ خلاصہ یہ کہ ایسی کھلی آنکھ کی ضرورت ہے کہ جو حق کو دیکھ سکے ۔ لیکن جب جہالت، غرور، تعصب، ہٹ دھرمی، شہوت اور ہوا و ہوس کے موٹے موٹے پردے انسان کی آنکھ کے سامنے پڑجائیں تو پھر وہ دیکھنے کے قابل نہیں رہتی۔ جمالِ حق تو حجاب میں نہیں ہوتا مگر ایسی آنکھ اس کے مشاہدے سے عاجز ہوتی ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک حدیث امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”من لم یدلہ خلق السمٰوات والارض، واختلاف اللّیل والنہار، و دوران الفلک والشمس والقمر والاٰیات العجیبات علیٰ ان وراء ذٰلک امر اعظم منہ، فہو فی الاٰخرة اعمیٰ واضل سبیلا“۔ جس شخص کو زمین و آسمان کی خلقت، روز و شب کی آمد و شد، سورج چاند ستاروں کی گردش اور اس کی عجیب و غریب نشانیاں اس عالم کے ماوراء چھپی ہوئی عظیم حقیقت سے آگاہ نہ کریں، وہ آخرت میں اندھا ہوگا اور بہت زیادہ گمراہ۔(1) نیز متعد روایات میں اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہے کہ جو حج کی استطاعت رکھنے کے باوجود آخر عمر تک حج پر نہ جائے ۔(2) اس میں شک نہیں کہ ایسا شخص اس آیت کا ایک مصداق ہے نہ کہ آیت کا مفہوم اسی میں منحصر ہے شاید اس مصداق کا ذکر اس بناء پر ہو کہ مراسم حج میں شرکت سے،اس عظیم اسلامی سیمینار میں حاضری سے اور اس میں پنہاں عبادی وسیاسی اسرار کے مشاہدے سے انسان کی آنکھ بینا ہوجاتی ہے اور اس بہت سے حقائق ددکھائی دینے لگتے ہیں ۔ بعض دیگر روایات میں بدترین اندھاپن دل کے اندھے پن کو قراردیا گیا ہے: شر العمی عمی القلب بدترین نابینائی دل کا اندھا پن ہے ۔(3) بہر حال جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ عالمِ قیامت ہمارے اس عالم کے عقائد و اعمال کا عکس العمل ہے ۔اسی بناء پر سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۲۴ سے لے کر ۱۲۶ تک میں ہے: < وَمَنْ اٴَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِی فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَةً ضَنکًا وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ اٴَعْمَی قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِی اٴَعْمَی وَقَدْ کُنتُ بَصِیرًا قَالَ کَذٰلِکَ اٴَتَتْکَ آیَاتُنَا فَنَسِیتَھَا وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنسیٰ ”جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرے گا وہ سخت زنگی سے دوچار ہوگا اور روزِ قیامت اندھا محشور ہوگا ۔ اس وقت کہے گا: پرورگار !مجھے تونے کیوں اندھا محشور کیا ہے حالانکہ پہلے تو (دنیا میں) میں بینا تھا ۔ وہ فرمائے گا: اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آتی تھیں اور تو ان سے آنکھیں بند کرلیتا تھا اور انہیں بھُلا رکھا تھا آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا“۔ ۱۔ تفسیر نورالثقلین ج ۳ ص ۱۹۶ 2.و3. ۔تفسیر نور الثقلین ج ۳ ص ۱۹۶و ۱۹۷.