وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا
Certainly We have variously paraphrased [the principles of guidance] in this Quran so that they may take admonition, but it increases them only in aversion.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:41
[Pooya/Ali Commentary 17:41] Aqa Mahdi Puya says: Things are explained in the Quran from all points of view, individual and collective, by means of stories, parables, figures of speech, and by way of categorical commands. The purpose of the presenting the signs and arguments is to stimulate reaction. A few pay heed, but a large number turn away. As verse 20 of this surah says the grace of Allah is bestowed freely on all irrespective of their reaction .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:41-44
ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ اگر تسبیح و حمد سے مراد یہ ہے کہ نظامِ آفرینش خدا کی پاکیزگی، عظمت،قدرت اور صفات ثبوتیہ و سلبیہ کی حکایت و ترجمانی کرتا ہے تو پھر قرآن کیوں کہتا ہے کہ تم ان کی حمد و تسبیح نہیں سمجھتے کیونکہ بعض لوگ نہیں سمجھتے تو کم از کم علماء او ردانشمند تو سمجھتے ہیں ۔ اس سوال کے دو جواب ہیں: پہلا یہ کہ روئے سخن لوگوں کی نادان اکثریت خصوصاً مشرکین کی طرف ہے اور صاحب ایمان علماء کہ جو اقلیت میںہیں اس عموم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ہر عام میں استثناء ہے ۔ دوسرا یہ کہ اسرار عالم میں سے جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ اس کے مقابلے میںکہ جسے ہم نہیں جانتے سمندر کے مقابلے میں قطرے کی مانند ہے اور عظیم پہاڑ کے مقابلے میں ذرّے کی طرح ہے ۔ اگر کسی میں صحیح طور پر غور و فکر کیا جائے تو اسے علم و دانش کا نام بھی نہیں دیا جاسکتا ۔ تا بد انجار رسید دانش من کہ بدانستمی کہ نادانم! میرا علم یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ میں نہیں جانتا ۔ اس بناء پر اگر ہم عالم بھی ہوں تو بھی ان موجودات کی حمد وتسبیح نہیںپہچانتے کیونکہ جو کچھ ہم سُن رہے ہیں وہ ایک عظیم کتاب کا ایک لفظ ہے ۔ اس لحاظ سے ایک عمومی حکم کے طور پر یہ سب لوگوں سے خطاب ہے کہ عالم ہستی کی موجودات زبانِ حال سے جو تسبیح و حمد کرتے ہیں تم انہیں نہیں سمجھتے کیونکہ جو کچھ تم سمجھتے ہو وہ اس قدر ناچیز او رحقیر ہے کہ کسی حساب و شمار ہی میں نہیں آتا ۔ ۳۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں موجودات کی عمومی تسبیح و حمد زبانِ حال اور زبانِ قال دونوں کا مرکب ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ تسبیح”تسبیح تکوینی“ بھی ہے اور”تسبیح تشریعی“ بھی کیونکہ بہت سے انسان اور تمام فرشتے ادراک و شعور کے ساتھ اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور باقی تمام موجودات کے ذرّے بھی اپنی زبانِ حال سے خالق کی عظمت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ۔ یہ دونوں قسم کی حمد و تسبیح اگر چہ آپس میں فرق رکھتی ہے لیکن حمد و تسبیح کے وسیع مفہوم میں دونوںمشترک ہیں لیکن جیسا کہ واضح ہے دوسری تفسیر اس تشریح کے ساتھ کہ جو ہم نے بیان کی سب سے زیادہ دلچسپ ہے ۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے جو روایات اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں ان میں جاذبِ نظر تعبیرات دکھائی دیتی ہیں ۔ امام صادق علیہ السلام کا ایک صحابی کہتا ہے: میں نے آیہ”وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ“ کے متعلق سوال کیا تو آپ(ص) نے جواب میں فرمایا: کل شیء یسبح بحمدہ وانا لنریٰ اٴن ینقض الجدار وھو تسبیحھ- جی ہاں ہر چیز خدا کی تسبیح و حمد کرتی ہے ۔یہاں تک کہ جب دیوار گر رہی ہوتی ہے اور اس کے گرنے کی آواز ہمیں سنائی دے رہی ہوتی ہے تو وہ بھی تسبیح ہوتی ہے ۔ (1) امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: نھی رسول الله عن ان توسھم البھائم فی وجوھھا، واٴن تضرب وجوھھا لاٴنّھا تسبح ربھ- رسول الله نے فرمایا کہ جانوروں کے منہ نہ داغو اور ان کے منہ پر تازیانہ نہ مارو کیونکہ خدا کی حمد و ثنا کرتے ہیں(2) امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: ما من طیر یصاد فی بر ولابحر ولا شیء یصاد من الوحش الّا بتضیعہ التسبیح- کوئی پرندہ صحرا و دریا میں شکار نہیں ہوتا اور کوئی جانور دام صیاد میں نہیں پھنستا مگر تسبیح ترک کرنے سے ۔ (3) امام باقر علیہ السلام نے چڑیا کی آواز سنی توفرمایا: جانتے ہو یہ کیا کہتی ہیں؟ ابو حمزہ ثمالی جو آپ کے خاص اصحاب میں سے تھے نے عرض کیا: نہیں ۔ اس پر آپ(ص) نے فزمایا: یسبحن ربہن عزوجل و یسئلن قوت یومہن یہ خدائے عزوجل کی تسبیح کرتی ہیں اور اس سے دن کی روزی مانگتی ہیں ۔ (4) ایک اور حدیث میں ہے: ایک روز رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم حضرت عائشہ کے پاس آئے ۔ فرمایا: میرے یہ دونوں کپڑے دھو ڈالو۔ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! کل میں نے انہیں دھویا تھا ۔ رسول اللہ نے فرمایا: اما علمت ان الثوب یسبحن فاذا اتسخ انقطع تسبیحہ۔ کیا جانتی نہیں ہو کہ کپڑے تسبیح کرتے ہیں اور جب میلے ہوجائیں تو ان کی تسبیح رُک جاتی ہے ۔ (5) ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: للدابة علی صاحبہا ستة حقوق لا یحملہا فوق طاقتہا، ولا یتخذ ظہرہا مجلساً یتحدث علیہا، و یبدء بعلفہا اذا نزل، ولا یسمہا فی وجہہا، ولا یضربہا فانہا تسبح و یعرض علیہا الماء اذا مربہا ۔ جانور اپنے مالک پر چھ حق رکھتا ہے: ۱۔ اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار نہ لادے ۔ ۲۔ اس کی پشت کو باتیں کرنے کی مجلس نہ بنائے (بلکہ جب کسی سے سرِراہ ملاقات ہوجائے اور اس سے باتیں کرنا چاہے تو سواری سے اتر کرے اور بات چیت ختم ہوجائے تو سوار ہوکر چل دے) ۔ ۳۔ جس منزل پر پہنچے اسے پہلے چارہ مہیا کرے ۔ ۴۔ اس کے منہ کو نہ داغے ۔ ۵۔ اور نہ اس کے منہ پر مارے کیونکہ وہ خدا کی تسبیح کرتا ہے ۔ ۶۔ اور چشمہ آب یا ایسی کسی جگہ سے گزرے تو اسے پانی کے پاس لے جائے(تاکہ اگر وہ پیاسا ہے تو پانی پی لے) ۔ (6) مجموعی طور پر یہ روایات کہ جن میں سے بعض دقیق اور باریک معانی کی حامل ہیں، نشاندہی کرتی ہیں کہ موجودات کی تسبیح والا عام حکم بلا استثناء سب چیزوں پر محیط ہے اور یہ سب چیزیں مذکورہ بالا دوسری تفسیر(تفسیر تکوینی اور زبان حال کے معنی میں تسبیح) سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہیں اور یہ جو ان روایات میں ہے کہ جس وقت لباس کثیف ہوجاتا ہے تو اس کی تسبیح رُک جاتی ہے، ممکن ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ جب تک موجودات طبیعی حالت میں اور پاک صاف ہوں تو انسان کو یاد الٰہی میں ڈالتی ہیں ۔ لیکن جب طبیعی حالت میں اور پاک صاف نہ ہوں تو پھر یاد کا یہ سلسلہ باقی نہیں رہتا ۔ 1۔ نور الثقلین ج ۳ ص ۱۶۸- 2۔ نورالثقلین ج ۳ ص ۱۶۸- 3۔ نور الثقلین ج ۳ ص ۱۶۸- 4۔ تفسیر المیزان، بحوالہ حلیة الاولیاء از ابونعیم اصفہانی- 5۔ تفسیر المیزان، بحوالہ حلیة الاولیاء از ابونعیم اصفہانی- 6۔ تفسیر المیزان، بحوالہ کافی ۴-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:41-44
موجودات عالم کی عمومی تسبیح
قرآن کی مختلف آیات میں یہ بات آئی ہے کہ عالم ہستی کے موجودات خدائے عظیم کی تسبیح اور حمد کرتے ہیں ۔ ان سب آیات میں شاید زیادہ صریح زیرِ بحث آیت ہے ۔ اس آیت کے مطابق عالم ہستی کے تمام موجودات بلا استثناء مصروف تسبیح ہیں ۔ اس کے مطابق زمین، آسمان، ستارہ، کہکشاں، انسان، حیوان، نباتات یہاں تک کہ ایٹم کے چھوٹے چھوٹے ذرّات بھی اس عموی تسبیح و حمد میں شریک ہیں ۔ قرآن کہتا ہے عالم ہستی سر تا پا زمزمہ و نغمہ ہے ۔ ہر موجود ایک طرح سے حمد و ثنائے حق میں مشغول ہے ۔بظاہر خاموش عالم ہستی کے صحن میں مسلسل ایک نغمہ ہے ۔ بے خبر لوگ اسے سننے کی توانایی نہیں رکھتے لیکن وہ صاحبان فکر و نظر جن کا قلب و روح نور ایمان سے زندہ اور روشن ہے ہر طرف سے کان اور جان سے یہ صدا سن رہے ہیں ۔ بقول شاعر: ۱۔گر تو را از غیب چشمی باز شد با تو ذراتِ جہاں ہمراہ شد ۲۔نطق آب و نطق خاک و نطق گل ہست محسوس حواس اہلِ دل! ۳۔جملہ ذرّات در عالم نہاں با تو می گویند روزان و شباں ۴۔ ما سمیم و بصیر و باہشیم با شما نامحرمان ما خامشیم! ۵۔ا زجمادی سوئی جان حاں شوید غلغل اجزای عالم بشنوید ۶۔فاش تسبیح جمادات آیدت وسوسہ ی تاٴویلھا بزد ایدت ۱۔ اگر تجھے نگاہ غیب حاصل ہو جائے تو ذرات عالم تجھ سے باتیں کرنے لگیں ۔ ۲۔ پانی، خاک اور مٹی کا بولنا اہلِ دل محسوس کرتے ہیں ۔ ۳۔ سارے عالم کے موجودات چپکے چپکے شب و روز تجھ سے کہتے ہیں ۔ ۴۔ وہ سنتے ہیں، دیکھتے ہیں اور باہوش ہیں البتہ تم نا حرموں سے بات نہیں کرتے ۔ ۵۔ ایک جماد بے جاں سے جانِ جاں ہوجاوٴ تو اجرائے عالم کا غلغلہ سنو۔ ۶۔جمادات کی تسبیح تمہیں صاف سنائی دے گی اور تاویلوں کا وسوسہ کم کردے گی۔ اس حمد و تسبیح کی حقیقت کے بارے میں فلاسفہ اورمفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے ۔ بعض نے اسے ”حالی“ کہا ہے اور بعض نے ”قالی“ ہمارے نزدیک اان کے جو قابلِ قبول نظریات ہیں، ذیل میں ان کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے ۔ ۱۔ ایک گروہ کا نظریہ ہےں کہ اس جہان کے سب ذرّات انہیں ہم عاقل سمجھیں یا غیر عاقل ایک قسم کے ادراک اور شعور کے حامل ہیں اگر چہ ہم میں یہ قدرت نہیں کہ ان کے ادراک و احساس کی کیفیت سمجھ سکیں اور ان کی حمد و تسبیح سن سکیں ۔ وہ مختلف آیات اپنے نظریے کا شاہد قرار دیتے ہیں، مثلاً: <وَإِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللهِ بعض پتھر خوفِ خدا سے پہاڑوں کی چوٹی سے نیچے گِر جاتے ہیں ۔ (بقرہ۔۷۴) <فَقَالَ لَھَا وَلِلْاٴَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اٴَوْ کَرْھًا قَالَتَا اٴَتَیْنَا طَائِعِینَ اللہ نے آسمان و زمین سے فرمایا طوعاً یا کرہاً میرے فرمان کی طرف آؤ تو انہوں نے کہا کہ ہم اطاعت کا راستہ اپنائیں گے ۔ (حٰم ٓ السّجدہ۔۷۴) ۲۔ بہت سوں کا نظریہ ہے کہ یہ تسبیح اور حمد وہی چیز ہے جسے ہم ”زبان حال“ کہتے ہیں ۔یہ تسبیح حقیقی ہے نہ کہ مجازی لیکن زبانِ حال سے ہے نہ کہ زبان قال سے (غور کیجئے گا) ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کے چہرے اور آنکھوں سے تکلیف ، رنج و غم اور بے خوابی نمایاں ہو تو ہم کہتے ہیں کہ اگر چہ تم اپنی تکلیف اور رنج و غم کے بارے میں زبان سے کچھ نہیں کہتے لیکن تمہاری آنکھیں کہہ رہی ہیں کہ تم کل رات نہیں سوئے اور تمہارا چہرہ کہہ رہا ہے کہ تم کسی جان کاہ رنج و غم سے گزر رہے ہو۔ یہ زبان حال کبھی اس قدر قوی ہوتی ہے کہ زبان قال سے انکار چھپانے کی کوشش بھی کی جائے تو حقیقت چھپ نہیں سکتی۔ بقول شاعر: گفتم کہ با مکرو فسوں پنہان کنم رازِ دروں پنہاں نمی گردو کہ خون از دید گانم می رود میں نے چاہا کہ کسی حیلے سے رازِ دروں چھپا لوں ۔ لیکن وہ نہیں چھپتا کیونکہ میری آنکھوں سے خون جاری ہے ۔ یہی بات حضرت علی علیہ السلام اپنے مشہور جملے میں فرماتے ہیں: ما اضمر احد شیئاً الاظہر فی فلتات لسانہ و صفحات وجھہ کوئی شخص اپنے دل کا بھید نہیں چھپاتا مگر یہ کہ لا علمی میں اس کی گفتگو کے دوران اور اس کے چہرے کے صفحہ پر آشکار ہوجاتا ہے ۔ (2) کیا انکار کیا جاسکتا ہے کہ عظیم نامور شعراء کا دیوان ان کے ذوقِ ادراک اور طبیعت عالی کی حکایت کرتا ہے اور ہمیشہ صاحبِ دیوان کی تعریف کرتا ہے ۔ کیا انکار کیا جاسکتا ہے کہ عظیم عمارتیں اور بڑے بڑے کاخانے اور پیچیدہ کمپیوٹر وغیرہ زبانی سے اپنے موجد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اورہر ایک اپنی اپنی حد تک اپنے موجد کی ستائش کرتا ہے ۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ یہ عجیب و غریب عالم ہستی اپنے عجیب نظام، اسرار، خیرہ کن عظمت اور حیرت انگیز باریکییوں کے ساتھ خدا کی تسبیح و حمد کرتا ہے ۔ کیا”تسبیح“ عیوب سے پاک شمار کرنے کہ علاوہ کچھ اور ہے؟ اس عالم ہستی کے ساخت اور اس کا نظم او ر نسق ہوتا ہے کہ اس کا خالق ہر قسم کے نقص اور عیب سے مبرا اوںر منزہ ہے ۔ کیا حمد و ثنا صفات کمال بیان کرنے کے علاوہ کچھ اور ہے؟ جہان آفرینش کا نظام۔ الله کی صفات کمال ،اس کے بے پایان علم، بے انتہا قدرت اور وسیع اور ہمہ گیر حکمت کی حایت کرتا ہے ۔ مخصوصاً سائنس و اور علم و دانش کی پیشرفت سے اور اس وسیع عالم کے اسرار کے بعض گوشوں سے پردہ اٹھنے سے موجودات عالم کی یہ عمومی حمد وتسبیح زیادہ آشکار ہوئی ہے ۔ اگر ایک دن کوئی نکتہ پرداز شاعر سبز و درختوں کے ہر پتے کو معرفت پروردگار کا ایک دفتر سمجھتا تھا تو آج کے ماہرین نباتات اور سائنس دانوں نے ایک دفتر نہیں بلکہ کئی کتابیں لکھی ہیں آج ان ماہرین نے پتوں کے چھوٹے سے چھوٹے اجرا کی حیرت انگیز ساخت پر بحث کی ہے ۔ پتوں کے اجرائے حیات ،cellules سے لے کر ان کی سات تہوں، ان کے تنفس کے نظام ،آب غذا کے حصول کے لیے ان کے رشتے ناتوں پر کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ کئی پیچیدہ پتوں کی خصوصیات پر بھی ایسی کتابوں میں بحث کی گئی ہے ۔ لہٰذا ہر پتّہ شب و روز مزمہٴ توحید گنگناتا ہے ۔ پتوں کی تسبیح کی دلنشین آواز باغوں، کہساروں اور درّوں کے پُر پیچ راستوں میں گونج رہی ہے لیکن بے خبر لوگوں کوکچھ نہیں آتا وہ انہیں خاموش اور گونگا سمجھتے ہیں ۔ موجودات کی عمومی تسبیح و حمد کا یہ مفہوم پوری قابلِ فہم ہے اور ضروری نہیں کہ ہم اس بات کے قائل ہوں کہ عالم ہستی کے تمام ذرّات ادراک و شعور رکھتے ہیں کیونکہ اس بات کے لیے ہمارے پاس کوئی قطعی دلیل نہیںہے او رزیادہ احتمال یہی ہے کہ مذکورہ آیات اسی”زبانِ حال“ کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ 1۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار۲۶-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:41-44
وہ حق سے کیو نکر فرار کرتے ہیں؟
گزشتہ آیات میں گفتگو مسئلہ توحید پر تمام ہوئی ۔زیر بحث آیات میں واضح اور قاطع اندازہ میں اسی مسئلے پر تاکید کی جارہی ہے ۔ پہلے توتوحید کے مختلف دلائل کے سامنے ایک گروہ مشرکین کی انتہائی ہٹ دھر می کا ذکر کیا گیا ہے ۔ارشاد ہو تاہے :ہم نے اس قرآن میں بہت سے استد لال پیش کیے اور طرح طرح سے موٴثر طور پر بیان کیا تاکہ وہ سمجھیں اور راہ حق میں قدم اٹھائیں لیکن ان سب استدلال اور بیانات پر انہوں نے فرار ہی کیا اور ان کی نفرت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا (وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِی ھٰذَا الْقُرْآنِ لِیَذَّکَّرُوا وَمَا یَزِیدُھُمْ إِلاَّ نُفُورًا) ۔ ”صرّف“مادہ ”تصریف“سے تبدیل کرنے اور دگرگوں کرنے کے معنی میں ہے ۔ خصوصاً اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ بابِ تفعیل سے ہے، کثرت کا مفہوم اس میں پنہاں ہے ۔ قرآن میں توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے لیے کبھی منطقی استدلال پیش کیا گیا ہے، کبھی برہان فطرت سے کام لیا گیا ہے، کبھی تہدیہ کی صورت اپنائی گئی ہے اور کبھی تشویق کی راہ اختیار کی گئی ہے خلاصہ یہ کہ مشرکین کو بیدار اور آگاہ کرنے کے لیے کلام کے مختلف طریقوں اور فنوں سے استفادہ کیا گیا ہے لہٰذا ”صرفنا“ کی تعبیر اس مقام پر بہت ہی مناسب ہے ۔ اس تعبیر کے ذریعے قرآن کہتا ہے: ہم ہر دروازے سے وارد ہوئے اور ہم نے ہر راستے سے استفادہ کیا تاکہ ان کے اندھے دلوں میں توحید کا چراغ روشن کردیں لیکن ان میں سے ایک گروہ اس قدر ہٹ دھرم، متعصب اور سخت ہے کہ نہ صرف ان بیانات سے وہ حقیقت کے قریب نہیں ہوئے الٹا ان کی نفرت اور دوری میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان بیانات کا الٹا نتیجہ نکلتا ہے تو پھر ان کے ذکر کا کیا فائدہ؟ جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ قرآن ایک خاص گروہ کے لیے نازل نہیں ہوا بلکہ یہ سارے انسانی معاشرے کے لیے ہے اور مسلّم ہے کہ سب انسان تو ایسے نہیں ہیں ۔ بہت سے ایسے بھی ہیں کہ وہ یہ دلائل سنتے ہیں تو راہِ حق ان پر آشکار ہوجاتی ہے ۔ ان تشنگانِ حقیقت کا ہر دستہ قرآن کے کسی ایک طرح کے بیان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور بیدار ہوجاتا ہے اور ان آیات کے نزول کا یہی اثر کافی ہے اگر چہ کور دِل اس سے الٹا اثر لیتے ہیں ۔ علاوہ ازیں اس متعصب اور ہٹ دھرم گروہ کا راستہ اگر چہ غلط ہے اور یہ خود بدبخت ہیں لیکن حق طلب افراد ان سے اپنا موازنہ کر کے راہ حق کو بہتر طور پر پاسکتے ہیں کیونکہ نور ظلمت کے مقابلے سے نور کی قیمت بیشتر معلوم ہوتی ہے یہاں تک کہ بے ادبوں سے بھی سیکھا جاسکتا ہے ۔ ضمنی طور پر اس آیت سے تربیت اور تبلیغ مسائل کے سلسلے میں یہ درس لیا جاسکتا ہے کہ اعلیٰ تربیتی اہداف و مقاصد تک پہنچنے کے لیے صرف ایک ہی طریقے سے استفادہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مختلف اور طرح طرح کے وسائل سے استفادہ کیا جانا چاہئے کیونکہ استعداد مختلف ہوتی ہے ۔ ہر ایک پر اثر انداز ہونے کے لیے خاص انداز ہونا چاہیے ۔ فنونِ بلاغت میں سے ایک یہ اسلوب ہے ۔ دلیل تمانع اگلی آیت توحید کی ایک دلیل کی طرف اشارہ کرتی ہے جو علماء اور فلاسفہ میں”دلیل تمانع“ کے نام سے مشہور ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: اے رسول! ان سے کہہ دو: اگر خداوند قادر متعال کے ساتھ اور بھی خدا ہوتے، جیسا کہ تمہارا خیال عے، تو وہ خدا کوشش کرتے کہ خدائے عظیم صاحب عرش تک پہنچنے کی کوئی راہ نکالیں اور اس پر غلبہ حاصل کرلیں(قُلْ لَوْ کَانَ مَعَہُ آلِھَةٌ کَمَا یَقُولُونَ إِذًا لَابْتَغَوْا إِلیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیلًا) ۔ ”إِذًا لَابْتَغَوْا إِلیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیلًا“ کا مفہوم اگر چہ یہ ہے کہ”وہ صاحب عرش کی طرف راہ نکالتے“ لیکن طرز بیان نشاندہی کرتا ہے کہ مراد اس پر غلبہ حاصل کرنے کی کوئی سبیل پیدا کرنا ہے ۔ خصوصاً ”الله“ کے بجائے”ذی العرش“ کی تعبیر اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہے یعنی وہ بھی چاہتے کہ عرش اعلیٰ کے مالک بن جائیں اور سارے جہان ہستی پر حکومت کریں ۔ لہٰذا ا س سے مقابلے کے لیے اٹھ کڑے ہوتے ۔ بہر حال یہ امر فطر ی اور طبیعی ہے کہ ہر صاحب قدرت چاہتا ہے کہ اپنے اقتدار کامل کرے اور اپنے قلمرو حکومت کو تو سیع دے اور اگر سچ مچ کوئی خدا موجود ہوتے تو توسیع حکومت کا یہ تنارع اور تمانع ان میں رونما ہوتا ۔ (۱) لیکن اگلی آیت کی تعبیرات اور بعد کی آیت اس تفسیر سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتیں ۔ ممکن ہے کہا چاہیے کہ کونسا مانع ہے اور کیا حرج ہے کہ متعدد خدا ایک دوسرے کے ساتھ ہمکاری اور تعادن کرتے ہوئے ا س عالم پر حکومت کریں اور کیا ضروری ہے کہ وہ آپس میں جھگڑیں ۔ اس سوال کے جواب میں اس حقیقت کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ اگر چہ ہر موجود کے لیے تکامل اورتوسیعِ اقتدار سے لگاوٴ فطری اورطبیعی ہے اور یہ بھی کہ جن خداوٴں کا مشرکین عقیدہ رکھتے تھے وہ بہت سی بشری صفات کے حامل تھے کہ جن میں حکومت و قدرت سے لگاوٴایک زیادہ واضح صفت ہے لیکن ان سب امور سے قطع نظر اختلاف تعدّدِ وجود کا لازمہ ہے کیونکہ اگر کسی رویّے، پروگرام اور دیگر پہلووٴں سے کوئی اختلاف نہ ہو تو تعدّد کا کوئی معنی ہی نہیں اور دونوں ایک چیز ہوں گے(غور کیجیے گا) ۔ اس بحث کی نظیر سورہ انبیاء کی آیت ۲۲ میں بھی موجود ہے ۔ جہاں فرمایا گیا ہے: <لَوکَانَ فِیھِمَا آلِھَةٌ الّا الله لَفَسَدَتَا اگر زمین و آسمان میں ”الله“ کے علاوہ اور وہ خدا ہوتے تو نظام جہاں دگرگوں اور فاسد ہوجاتا ۔ اشتباہ نہیں ہونا چاہیے، یہ دونوں بیان بعض جہات سے اگر چہ ایک دوسرے کے مشابہ میں لیکن دومختلف دلیلوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ ایک کی خداوٴں کے تعدد کی وجہ سے نظام جہاں کے فساد کی طرف بازگشت ہے اور دوسری نظام جہاں سے قطع نظر متعدد خداوٴں کے درمیان وجود تمانع و تنازع کے بارے میں گفتگو کرتی ہے ۔ (سورہ انبیاء کی آیہ ۲۲ کے ذیل میں بھی ہم انشاء الله اس سلسلے میں بحث کریں گے) چونکہ مشرکین کہتے ہیں کہ خدائے بزرگ نے ایک طرف نزاع کیا ہے لہٰذا اگلی آیت میں بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: جو کچھ وہ کہتے ہیں خدا اس سے پاک اور منزہ ہے اور جو کچھ وہ سوچتے ہیں خدا اس سے بہت برتر اور بالاتر ہے (سُبْحَانَہُ وَتَعَالیٰ عَمَّا یَقُولُونَ عُلُوًّا کَبِیرًا) ۔ اس مختصر سے جملہ میں حقیقت الله تعالیٰ نے چار مختلف تعبیروں سے ناروا نسبتوں سے اپنے دامن کبریایی کی پاکیزگی بیان کی ہے: ۱۔خدا ان نقائص اور نارواں نسبتوں سے منزہ ہے(سُبْحَانَہُ) ۲۔ جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے(وَتَعَالیٰ عَمَّا یَقُولُونَ) ۳۔ لفظ ”علواً“ مفعول مطلق ہے اور تاکید کے لیے آیا ہے ۔ ۴۔ اور آخر میں ”کبیراً“ کہہ کر مزید تاکید کی گوئی ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ”عما یقولون“ (جو کچھ وہ کہتے ہیں) ۔ ایک وسیع معنی رکھتا ہے ۔ اس میں ان کی تمام ناروا نسبتیں اور ان کے لوازم شامل ہیں(غور کیجیے گا) ۔ ا س کے بعد پروردگار کا مقام عظمت بیان کیا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے وہم و خیال سے برتر ہے ۔ فرمایا گیا ہے کہ موجود جہاں اس کی ذات مقدس کی تسبیح کرتی ہیں ۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتے ہیں(تُسَبِّحُ لَہُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْاٴَرْضُ وَمَنْ فِیھِنَّ) ۔ اس کے با وجود خود حلیم و غفور ہے (إِنَّہُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا) ۔ تمہارے کفر اور شرک پر الله تمہارا فوری مواخذہ نہیں کرتا بلکہ کافی مہلت دیتا ہے اور تمہارے لیے توبہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے تا کہ اتمام حجت ہوجائے ۔ دوسرے لفظوں میں تم یہ صلاحیت رکھتے ہو کہ عالم کے تمام ذرات میں سے سن سکو کہ موجودات تسبیح الٰہی کا نغمہ گنگنار ہے ہیں اور تم اس قابل ہو کہ خدائے یگانہ قادر متعال کی معرفت حاصل کر سکو لیکن تم کوتاہی کرتے ہو اور ا س کوتاہی کے باوجود وہ فوراً مواخذہ اور عذاب نہیں کرتا اور تمہیں زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرتا ہے کہ تم توحید کی شناخت کر سکو اور راہ شرک ترک کرسکو۔ ۱۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس جملے کا معنی یہ ہے کہ دوسرے خدا کوشش کرتے کہ اپنے آپ کو ”الله“ کی بارگاہ میں مقرب بنائیں یعنی یہ تمھارے بُت اور خدا جب خود الله کا تقرب حاصل نہیں کرسکتے تمھارے تقرب کا وسیلہ کیسے بن سکتے ہیں ۔