مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا
Whoever desires this transitory life, We expedite for him therein whatever We wish, for whomever We desire. Then We appoint hell for him, to enter it, blameful and spurned.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:18
[Pooya/Ali Commentary 17:18]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:18-21
چند اہم نکات
۱۔ کیا دنیا و آخرت میں تضاد ہے؟: بہت سی آیات میں دنیا اور اسی کے مادّی و مسائل کی تعریف کی گئی ہے ۔ بعض آیات میں مال دنیا کو ”خیر“ کہا گیا ہے (بقرہ۔ ۱۸۰) ۔ بہت سی آیات میں مادّی نعمتوں کو”فضل الله“کہا گیا ہے ۔ مثلاً: <وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے: <خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا دنیا کی تمام نعمتیں تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے ۔ بہت سے آیات انہیں ”سَخَّرَ لَکُمْ“ (انہیں تمہارے لیے مسخر کیا گیا ہے) کے حوالے سے ان کا ذکر آیا ہے ۔ اگر ہم ان آیات کو جمع کریں کہ جن میں مادّی وسائل کی تعریف کی گئی ہے تو آیات کا اچھا خاصا ذخیرہ ہو جائے ۔ لیکن مادّی نعمات کو اس قدر اہمیت دینے کے باوجود ایسے الفاظ آیات قرآن میں وجود ہیں جن میں ان کی تحقیر و تذلیل کی گئی ہے: ایک مقام پر اسے متاع فانی شمار کیا گیا ہے: <تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا ایک جگہ اسے غرور غفلت کا سبب قرار دیا گیا ہے: <وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ ایک موقع پر اسے لہو و لعب اور کھیل کود کا ذریعہ شمار کیا گیا ہے: <وَمَا ھٰذِہِ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَھْوٌ وَلَعِبٌ نیز ایک مقام پر اسے یادخدا سے غفلت کا سبب گردانا گیا ہے: <رِجَالٌ لَاتُلْھِیھِمْ تِجَارَةٌ وَلَابَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللهِ یہی دو قسم کی تعبیرات روایات اسلامی میں بھی نظر آتی ہیں ۔ ایک رُخ سے دنیا آخرت کی کھتی ہے، مردانِ خدا کا مرکز تجارت ہے، دوستان حق کی مسجد ہے، وحی پروردگار کے نزول کا مقام ہے اور پند و نصیحت کا گھر ہے ۔ امیر المومنین علی السلام فرماتے ہیں: مسجد اٴحباء الله ومصلی ملائکة الله وم۰بط وحی الله ومتجر اٴولیاء الله-(۱) جبکہ دوسری طرف اسے یاد خدا غفلت کا سبب اور متاع غرور وغیرہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دو طرح کی آیت و ورایات ایک دوسرے سے متضاد ہیں؟ اس سوال کا جواب خود قرآن سے تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ قرآن جہاں دنیا داور اس کی نعمتوں کی مذمت کرتا ہے تو اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن کا مقصد فقط یہی زندگی ہے ۔ سورہ نجم کی آیہ ۲۹ میں ہیں: <وَلَمْ یُرِدْ إِلاَّ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا وہ لوگوں کہ جو دنیاوں زندگی کے سوا کچھ نہیں چاہتے ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو ہے جو دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیتے ہیں اور مادّی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی قسم کی غلط کاری اور جرم سے نہیں چوکتے ۔ سورہٴ توبہ آیہ ۳۸ میں ہے: < اٴَرَضِیتُمْ بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا مِنَ الْآخِرَةِ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا وی زندگی قبول کرنے پر راضی ہو گئے ہو؟ زیر بحث آیات خود اس دعوی کی شہادت دیتی ہیں ۔ فرمایا گیا ہے: <مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَةَ یعنی ان کے پیش نظر یہی زود گزر مادّی زندگی ہے ۔ اصولی طور پر کھیتی یا مزکر تجارت و غیرہ کے الفاظ خود اسی پر زندہ شاہد ہیں ۔ مختصر یہ کہ مادّی دنیا کی نعمتیں سب کی سب الله کی نعمتیں ہیں ۔ ان کا وجود نظام خلقت میں یقیناً ضروری تھا اور ہے ۔ اگر انسان ان سے سعادت اور روحانی کمال تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھ کر استفادہ کرے تو یہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے ۔ لیکن اگر وسیلے کی بجائے انہی کو مقصد سمجھ لیا جائے اور انہیں معنوی اور انسانی قدروں سے الگ کر لیا جائے تو فطرتاً یہ امر غرور، طغیان، سرکشی،ظلم اور بیدادگری کا سبب ہوگا ۔ ایسی دنیا یقیناً ہر قسم کی برائی کا محل قرار پائے گی اور قابل مذمت ٹھہرے گی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے اس پُر مغزدار اور مختصر سے جملے میں کیا خوب فرمایا ہے: من اٴبصر بھا بصرتہ ومن البصر الیھا اٴعمتہ جو اس کے ذریعے چشم بصیرت سے دیکھے تو دنیا اسے آگہی بخشتی ہے اور خود دنیا کی طرف دیکھے تو یہ اسے اندھا کردیتی ہے ۔ (2) در حقیقت مذموم اور ممدوح دنیا میں وہی فرق ہے جو ”الیھا“ اور ”بھا“میں ہے ۔ پہلی صورت میں دنیا مقصد ہے اور دوسری صورت میں دنیا وسیلہ ہے اور کسی اور تک پہنچے کا ذریعہ ہے ۔ ۲۔ کا میابی میں کوشش کا دخل: یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قرآن کوشش کا ذکر کرتے ہوئے سست اور بیکار افراد کو تنبیہ کررہا ہے اور نہیں بیدار کر تے ہوئے کہہ رہا ہے کہ دوسری جہان کی سعادت وخوش بختی صرف اظہار ایمان اور گفتار سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ سعادت وخوش بختی کا حقیقی عامل کوشش اور جستجو ہے ۔ یہ حقیقت بہت سی قرانی آیات سے معلوم ہوتی ہے ۔ذیل کی آیت میں انسان کو اپنے اعمال کا گیروی قرار دیا گیا ہے : < کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَھِینَةٌ ایک اور مقام پر فرمایاگیا ہے کہ انسان کا حصّہ وہی کچھ ہے جو وہ کوشش کرتاہے : <وَاٴَنْ لَیْسَ لِلْإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعیٰ بہت سی آیات قرآن میں ایمان کا ذکر کرنے کے بعد عمل صالح کا ذکر کیا گیا ہے ۔تاکہ یہ خیال خام ذہن سے نکل جائے کہ کو شش کے بغیر بھی کسی مقام تک پہنچا جا سکتا ہے ۔جب مادّی دنیا کی نعمات کوشش کے بغیر حاصل نہیں جا سکتی تو کیسے جاسکتی ہے کہ سعادت جاودانی اس کے بغیر ہاتھ لگ جائے گی ۔ ۳۔امدادالٰہی: ”نمد“ ”امداد“ کے مادہ سے مدد دینے کے معنی میں ہے ۔مفردات میں راغب کہتا ہے : لفظ ”امداد“ عام طور پر مفید اور موٴثر کمک کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ”مد“ ناپسندیدہ کمک کے لیے ۔ بہر حال زیر بحث آیات کے مطابق خدا تعالیٰ اپنی نعمتوں کا کچھ حصہ تو سب کو دیتا ہے اور نیک اور بد سب اس سے استفادہ کرتے ہیں یہ نعمتوں کے اس حصے کی طرف اشارہ ہے جس پر دنیاوی زندگی کے بقا موقوف ہے اور جس کے بغیر کوئی باقی رہ سکتا ۔ دوسرے لفظوں میں خدا کا وہی مقام رحمانیت ہے جس کا فیض مومن و کافر کے لیے عام ہے لیکن اس کے علاوہ بھی ایسی لا متناہی نعمتیں ہیں جو صرف مومنین اور نیک لوگوں کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ ۲۲ لَاتَجْعَلْ مَعَ اللهِ إِلَھًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولً ۲۳ وَقَضَی رَبُّکَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اٴَحَدُھُمَا اٴَوْ کِلَاھُمَا فَلَاتَقُلْ لَھُمَا اٴُفٍّ وَلَاتَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَھُمَا قَوْلًا کَرِیمًا ۲۴ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا ۲۵ رَبُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِمَا فِی نُفُوسِکُمْ إِنْ تَکُونُوا صَالِحِینَ فَإِنَّہُ کَانَ لِلْاٴَوَّابِینَ غَفُورًا ترجمہ ۲۲۔ اور الله کے ساتھ کسی اور کو معبود قرار نہ دے ورنہ مذموم و رسوا ہو جائے گا ۔ ۲۳۔تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو جب ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھا پے کو پہنچ جائیں تو ان کی ذرہ بھر اہانت بھی نہ کرو اور انہیں جھڑکو نہیں اور کریمانہ انداز سے لطیف و سنجیدہ گفتگوکرو۔ ۲۴۔ اور لطیف و محبت سے ان کے سامنے خاکساری کا پہلو جھکائے رکھو۔ اور کہو۔ پروردگارا! جیسے انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما ۔ ۲۵۔تمہارا پروردگار تمہارے دلوں کے نہاں خانہ سے آگاہ ہے(اگر تم نے اس سلسلے میں کوئی لغزش کی ہوا اور پھر اس کی تلافی کردی ہو تو وہ تمہیں معاف کردے گا کیونکہ)اگر تم صالح اور نیک ہوگے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بخش دیتا ہے ۔ ۱۔ نہج البلاغہ، کلماتِ قصار، جملہ۱۳۱- 2۔ نہج البلاغہ، خطبہ۳۸-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:18-21
طالبان دنیا اور طالبان آخرت
گزشتہ آیات میں اوامرِ الٰہی کے مقابلے میں منکرین کی مخالفت اور پھر ان کی ہلاکت کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر نظر آیات میں اس سرکشی اور طغیان کے حقیقی سبب یعنی حبّ دنیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جن لوگوں کی نظر اسی زود گزر مادّی دنیا پر ہے، ہم جس مقدار میں چاہتے ہیں اور اس کے لیے مناسب سمجھتے ہیں اسی زندگی میں اسے دے دیتے ہیں، اس کے بعد اس کے لیے ہم جہنم قرار دیں گے کہ جس کی آگ میں وہ جلے گا اس حالت میں کہ وہ رحمت الٰہی کی درگاہ سے راندہ اور مذموم ہوگا(مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَہُ فِیھَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِیدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہُ جَھَنَّمَ یَصْلَاھَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا) ”عاجلة“کا معنی ہے جلد گزر جانے والی نعمتیں یا زود گزر دنیا ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص دنیا کے پیچھے جائے گا، وہ جو کچھ چاہے گا اس تک پہنچ جائے گا بلکہ اس کے لیے دو شرطیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ وہ جو چاہے گا اس کا کچھ حصہ اسے ملے گا، اتنا ہی جتنا ہم چاہیں گے(ما نشاء) ۔ دوسری یہ کہ سب لوگ بھی یہ حصہ نہیں پا سکیں گے، بلکہ ان میں سے کچھ متاع دنیا کے ایک حصے تک پہنچیں گے وہی کہ جن کے بارے میں ہم چاہیںگے(لمن نرید) ۔ اس طرح نہ تمام دنیا پرست دنیا تک پہنچیں گے اور نہ ہی پہنچ پانے والے اتنی دنیا حاصل کرسکیں گے جتنی وہ چاہیں گے ۔ روزمرہ کی زندگی میں بھی ہم اس امر کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ کتنے لوگ شب و روز دوڑتے رہتے ہیں لیکن کہیں نہیں پہنچتے اور کتنے افرادہیں جو اس دنیا میں بڑی بڑی آرزوئیں رکھتے ہیں مگر ان میں سے کچھ ہی کی تکمیل ہوتی ہے ۔ یہ امر دنیا پرستوں کے لیے تنبیہ ہے کہ اگر تم خیال کرتے ہو کہ آخرت کو دنیا کے بدلے بیچ کر اپنامقصد حاصل کر لوگے تو یہ تمہاری بہت بڑی غلطی ہے ۔ ایسا کبھی نہ ہوسکے گا ۔ مقصد کا کچھ حصہ ہی تمہیں ملے گا ۔ ویسے بھی انسان کی آرزووٴں کا دامن اتنا وسیع ہے کہ محدود عالم مادہ میں وہ سب پوری نہیں ہو سکتیں ۔ ایک شخص کو سازی دنیا مل جائے تو بھی اکثر وہ سیر نہیں ہوتا ۔ رہے وہ لوگ کہ جو کوششیں کرتے ہیں مگر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا، تو اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ یا تو اس لیے کہ ابھی ان کی بیداری اور نجات کی امید ہوتی ہے اور خدا ان سے محبت کرتا ہے اور یا اس وجہ سے کہ اگروہ کچھ حاصل کرلیں تو اس قدر سرکشی کریں گے کہ مخلوق خدا پر عرصہ حیات تنگ کریں گے ۔ ”یصلی“ ”صلی“کے مادہ سے آگ روشن کرنے اور آگ میں جلنے کے معنی میں ہے ۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ سزا کے طور پر جہنم کی آگ کے ساتھ ”مذموم“ اور ”مدحور“ کے الفاظ بھی تاکید کے طور پر آئے ہیں ۔ ان میں سے پہلی سزا سرزنش اور مذمت ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری خدا سے دور رہنے کے معنی میں ہے ۔ در حقیقت جہنم کی آگ تو ان کے لیے جسمانی سزا ہے اور مذموم و مدحور ہونا ان کے لیے روحانی عذاب ہے ۔ کیونکہ معاد جسمانی بھی ہے اور روحانی بھی، اس کا عذاب و ثواب اور سزا جزاکے بھی دونوں پہلوں ہیں ۔ اس کے بعد دوسرے گروہ کے حالات بیان کیے گئے ہیں تا کہ قرآن کی روش کے مطابق تقابل سے مطلب زیادہ آشکار ہو جائے ۔ ارشاد ہوتا ہے: باقی رہا وہ شخص جو آخرت طلب کرتا ہے اور اسی راستے میں سعی و کوشش کرتا ہے اور وہ صاحب ایمان ہے تو اس کی سعی و کوشش بارگاہ الٰہی میں قبول ہوگی(وَمَنْ اٴَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعیٰ لَھَا سَعْیَھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُوْلٰئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَشْکُورًا) لہٰذا جاودانی سعادت اور دائمی خوش بختی تک پہنچے کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں: (۱)انسانی ارادہ۔ایسا ارادہ جو حیا ت ابدی سے تعلق رکھتا ہو اور زود گزر لذات، نا پائندہ نعمات اور نرے مادی مقاصد سے تعلق نہ رکھنا ۔ بلند ہمت اور اعلی جذبہ اسے قوت دینے والا ہو۔ اور یہ جذبہ و ہمت اسے ہر غیر الٰہی وابستگی اور تعلق سے آزاد کردے ۔ (۲)یہ ارادہ فکر و نظر، تصور اور روح میں کمزور و ناتوان نہ ہو بلکہ ایسا ہو کہ وجود انسانی کے سبب ذرات کو حرکات میں لائے اور انسان اپنی تمام تر کوشش صرف کردے(توجہ رہے کہ لفظ”سعیھا“جو تاکید کے طور پر آیا ہے، نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنی حتمی کوشش کہ جو آخرت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے، انجام دیتا ہے اور کوئی -------دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتا) ۔ (۳)یہ سب امور ایمان کے ساتھ لازم وملزوم ہیں ۔ ایمان کہ جو استوار اور پختہ ہو کیونکہ مصمم ارادہ اور کوشش جب ہی ثمر آور ہوگی جب اس کا سرچشمہ صحیح جذبہ ایمان بالله کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا ۔ یہ صحیح ہے کہ آخرت کے لیے کوشش ایمان کے بغیر نہیں ہوسکتی اور ایمان کا مفہوم اس میں پوشیدہ ہے لیکن اس راہ میں چونکہ ایمان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے لہٰذا اس سلسلے میں دلالت التزامی پر قناعت نہیں کی گئی اور ایمان کو بالصراحت کے شرط کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ دنیا پرستوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیے ہم جہنم قرار دیں گے لیکن آخرت کے عاشقین کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان کی سعی و کوشش مشکور ہوگی یعنی پروردگار اس کا تشکر اور قدر دانی کرے گا ۔ اس کی نسبت کہ کہا جائے”ان کی جزا بہشت ہوگی“ یہ مذکورہ تعبیر بہت زیادہ جامع اور بلند تر ہے کیونکہ ہر شخص کے لیے تشکر اور قدر دانی اس کی شخصیت کی وسعتِ وجودی کے مطابق ہوتی ہے نہ کہ عمل کی مقدار کے مطابق۔ اس لحاظ سے خدا کا شکر اور قدر دانی اس کی لامتنا ہی ذات کی مناسب سے ہے ۔ انواع و اقسام کی مادی و معنوی نعمتیں اور وہ سب کچھ جو ہمارے تصور میں آسکتا ہے، اس میں جمع ہے ۔ بعض مفسرین نے ”مشکور“ کا معنی”کئی گناہ اجر“پ بیان کیا ہے اور بعض نے اس سے ”مقبولیتِ عملپمراد لیا ہے لیکن واضح ہے کہ”مشکور“ ان سے وسیع تر معنی رکھتا ہے ۔ ممکن ہے یہاں یہ تو ہم ہوکہ دنیا کی نعمتیں دنیا پرست لوگوں کاحصہ ہیں اور طالبانِ آخرت اس سے محروم ہیں ۔ اس تو ہم کو دُور کرنے کے لیے بعد والی آیت کہتی ہے: ہم اس گروہ کو یعنی ان میں سے ہر ایک کو اپنی عطا و بخشش کا حصہ دیں گے اور اس کی مدد کریں گے (کُلًّا نُمِدُّ ہَؤُلَاء وَھٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّکَ) ۔ کیونکہ پروردگار کی بخشش کسی سے ممنوع نہیں ہے ۔ یہودی و نصاریٰ، مومن و مسلمان سب اس کے خوانِ نعمت سے حصہ پاتے ہیں ۔ ”نمد“ ”امداد“ کے مادہ سے زیادہ کرنے کے معنی میں ہے ۔ اسکے بعد والی آیت اس سلسلے میں ایک بنیادی امر بیان کرتی ہے اور وہ یہ کہ جس طرح اس دنیا میں کوشش مختلف ہوتونتیجہ مختلف ہو جاتا ہے اخروی امور میں بھی پوری طرح یہ بنیاد کا رفرما ہے ۔ فرق یہ ہے کہ دنیا محدود ہے اور یہاں کا فرق بھی محدود ہے لیکن آخرت چونکہ لا محدود ہے لہٰذا وہاں فرق بھی لا محدود ہوگا ۔ ارشاد ہوتا ہے: دیکھو کس طرح ہم ان میں سے بعض کو بعض دوسروں پر(ان کی کوشش میں اختلاف کی وجہ سے) برتری دیتے ہیں البتہ آخرت کے درجات زیادہ بڑے ہیں اور اس کی برتری و فضیلت بھی بہت زیادہ ہے (انظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ وَلَلْآخِرَةُ اٴَکْبَرُ دَرَجَاتٍ وَاٴَکْبَرُ تَفْضِیلًا) ۔ ہو سکتا ہے کہا جائے کہ اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ افراد بغیر کسی کوشش کے بہت سے فوائد حاصل کر لیتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ استثنائی مواقع ہیں ۔ سعی و کوشش کو عمومی بنیاد کی حیثیت حاصل ہے اور یہی کامیابی کی میزان ہے اس کے مقابلے میں ان استثنائی مواقع کی پرواہ نہیں کی جا سکتی اور نہ یہ استثنائی مسئلہ عمومی و کلی بنیاد کے منافی ہے ۔ ضمنی طور پر توجہ رہے کہ کوشش سے مراد فقط اس کی مقدار نہیں ہے ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تھوڑی سی کوشش بہت سی کوششوں کے مقابلے میں اپنی کیفیت کہ وجہ سے زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے ۔