وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا
We have attached every person’s omen to his neck, and We shall bring it out for him on the Day of Resurrection as a book that he will find wide open.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:13
[Pooya/Ali Commentary 17:13] Every person is responsible for the deeds he has done. Refer to the commentary of verse 7 of this surah (second para).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:13-15
چادر اہم اسلامی اصول
گزشتہ آیات میں معادو قیامت اور حساب و کتاب کے بارے میں گفتگو تھی۔اسی مناسب سے زیر بحث آیات میں انسان کے اعمال کے حساب و کتاب کے ابرے میں بات کی گئی۔ گفتگو قیامت میں اس معاملے کی کیفیت سے شروع ہوتی ہے ۔ ارساد ہوتا ہے: ہر شخص کے اعمال کو ہم نے اس کے گلے کا ہار بنادیا ہے ( وَکُلَّ إِنسَانٍ اٴَلْزَمْنَاہُ طَائِرَہُ فِی عُنُقِہِ) ۔ ”طائر“پرندے کے معنی میں ہے لیکن عربوں کے درمیان معمول تھا کہ وہ پرندوں کے ذریعے نیک یابد فال نکالتے تھے اور ان کی حرکت کی کیفیت سے نتیجہ نکالتے تھے ۔یہاں اس چیز کی طرف اشارہ ہے ۔ مثلاً اگر ایک پرندہ ان کی دائیں طرف اڑرہا ہوتا تو ایک اسے نیک فال سمجھتے اور اگر بائیں طرف اڑرہا ہوتا تو اسے بد فال خیال کرتے ۔اسی لیے یہ لفظ زیادہ تر فال بد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے حالانکہ ”تفال“زیادہ تر نیک فال کے لیے بولا جاتا ہے ۔ آیات قرآن میں بھی بارہا” تطیر“ فال بد کے معنی میں آیا ہے ۔مثلاً: <وَإِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَةٌ یَطَّیَّرُوا بِمُوسیٰ وَمَنْ مَعَہُ فرعوں والوں کو کوئی پر یشانی لایق ہوتی تو وہ اسے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست سمجھتے تھے ۔ (اعراف۔۱۳۱) نیز سورہ نمل کی آیت ۴۷ میں ہے: <قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَعَکَ قوم صالح کے مشرکین کہنے لگے: ہم تجھے اور تیرے ساتھیوں کو منحوس اور فال بد سمجھتے ہیں ۔ اسلامی احادیث میں”تطیر“سے منع کیا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں ”توکل علی الله‘ ‘کی ہدایت فرمائی گئی ہے ۔ بہر حال زیر بحث آیت میں بھی”طائر“اس معنی کی طرف اشارہ ہے یا پھر یہ قسمت کے معنی میں ہے کہ جو نیک و بد فال کے قریب قریب ہے ۔ قرآن در حقیقت کہتا ہے کہ نیک و بد فال اور اچھی بری قسمت کوئی چیز نہیں ۔یہ تو تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں تمہاری گردن میں لٹکایا جائے گا ۔ ”الزمناہ“(ہم نے لازم قرار دیا ہے اس کو) اور”فی عنقہ“(اس کی گردن میں )کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کے اعمال اور ان کے نتائج دنیا اور آخرت میں اس سے جدا نہیں ہوتے اور ہر حالت میں اسے ان کا مسئول اور ذمہ دار ہونا چاہئے ۔جو کچھ ہے عمل ہے باقی سب باتیں ہیں ۔بعض مفسرین نے لفظ ”طائر“کے انسانی اعمال پر اطلاق سے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ انسان کے اچھے برے اعمال گویا ایک پرندے کی مانند ہیں کہ جو اس کے وجود سے پرواز کرتا ہے ۔ اسی لیے ان پر ”طائر“کا اطلاق ہوا ہے ۔ زیر بحث آیت میں لفظ”طائر“اچھائی اور برائی سے انسان کے حصے کے معنی میں ہے یا دلیل اور رہنما کے معنی میں ہے یا نامہ اعمال کے معنی میں ہے یا برکت و نحوست کے معنی میں ہے ۔ ان میں سے بعض تفاسیر سے تو وہی مفہوم نکلتا ہے جس کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں جبکہ بعض تفاسیر آیت کے مفہوم سے بہت دور ہیں ۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: روزِ قیامت ہم اس کے لیے کتاب نکالیں گے کہ جسے وہ اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا(وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کِتَابًا یَلْقَاہُ مَنشُورًا) ۔ واضح ہے کہ”کتاب“سے مراد انسان کے نامہ اعمال کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے ۔ وہی نامہ اعمال کہ جو اس دنیا میں بھی موجود ہے کہ جس میں اس کے اعمال ثبت ہوئے ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ یہاں وہ نامہ اعمال پوشیدہ اور وہاں کھلا ہوا سامنے رکھا ہوگا ۔ ”نخرج“‘ (نکالیں گے) اور ”منشور“ (کھلا ہوا) کی تعبیر اسی معنی کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس جہان میں مخفی ہے وہاں آشکار اور کھلاہوا ہوگا ۔ نامہ اعمال اور اس کی حقیقت کے بارے میں آئندہ صفحات میں ہم مزید گفتگو کریں گے ۔ تو اس وقت اس سے کہا جائے گا: اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے(اقْرَاٴْ کِتَابَک) ۔ اپنا حساب کتاب کرنے کے لیے آج تو خود ہی کافی ہے (کَفیٰ بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیبًا ) یعنی مسائل اس قدر واضح ہیں کہ جائے کلام نہیں ہے ۔جو شخص بھی اس نامہ اعمال کودیکھے گا خود فیصلہ کر سکے گا، چا ہے وہ خود مجرم ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ نامہ اعمال خود اسی کے اعمال یا اعمال کے آثار کا مجموعہ ہے لہٰذا کرئی ایسی چیز نہیں کہ جس کا انکار ہوسکے ۔ اگر میں اپنی ریکارڈ شدہ آواز سنوں یا کرئی اچھایا برا کام کرتے ہوئے کھینچی گئی اپنی تصویر دیکھوں تو کیا اسکا انکار کر سکتا ہوں ۔ نامہ اعمال کی کیفیت روز قیامت اس سے بھی زیادہ اضح اور باریک تفصیلات کے ساتھ ہوگی۔ اگلی آیت میں حساب اور جزاء کے بارے میں چار اصولی احکام بیان کیے گیے ہیں: ۱۔ جو شخص ہدایت پالے تو اس نے اپنے ہی فائدے میں ہدایت پائی ہے اور اس کا نتیجہ خود اسی کو حاصل ہوگا ( مَنْ اھْتَدیٰ فَإِنَّمَا یَھْتَدِی لِنَفْسِہِ) ۔ ۲۔ اور جوشخص گمراہی کا راستہ اپنا لے تو وہ اپنے ہی نقصان میں گمراہ ہوا ہے اور اس کے برے نتائج خود اسی کے دامن گیر ہوں گے (وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا) ۔ ان دو احکام کی نظیر اسی سورت کی ساتویں آیت میں بھی گزرچگی ہے ۔ ۳۔ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے دوش پر نہیں اٹھائے گا اور کسی کو دوسرے کے جرم کی سزا نہیں دی جائے گی ( وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وزَر اٴُخْری) ”وزر“کا معنی ہے”بھاری بوجھ“ یہ لفظ مسئولیت اور جوابد ہی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ روحانی اعتبار سے یہ بھی انسان کے کندھے پر ایک بھار بوجھ کی مانند ہی ہے”وزیر “کو بھی اسی لیے ”وزیر “کہتے ہیں کہ سر براہ مملکت یا عوام کی طرف سے اس کے کندھے پر ایک بھاری بوجھ ہوتا ہے ۔یہ ایک عمومی قانون ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے کندھے پر نہیں اٹھائے گا ۔ البتہ یہ قانون سورہٴ نحل کی آیت ۲۵ کے مفہوم کے منافی نہیں ہے کہ جس میں ہے کہ گمراہ کرنے والے افراد سے ان لوگوں کے بارے میں بھی جوابدہی ہوگی جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے کیونکہ دوسروں کو گمراہ کرنا بھی بذات خود گناہ ہے یا گمراہ کرنے والے مثل فاعل شمارہوں گے لہٰذا در حقیقت یہ ان کے اپنے گناہوں کا بوجھ ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں ”سبب“ کام انجام دینے والے کے حکم میں ہے ۔ متعدد روایات کے مطابق جو اچھی یا بری رسم کی بنیاد رکھے گا وہ جزااور سزا میں اس رسم کی پیروی کرنے والوں کا شریک ہے ۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے یہ روایات اس سے متضاد نہیں ہیں کیونکہ کسی سنت یا رسم کی بنیاد رکھنے والا در حقیقت عمل کے بنیادی اسباب میں سے ہے اور عمل میں شریک ہے ۔ ۴۔آخر میں چو تھا حکم یوں بیان کیا گیا ہے: ہم کسی شخص یا قوم کو اس وقت تک سزا نہیں دیتے جی تک ان کے لیے کوئی پیغمبر مبعوث نہ کریں تا کہ وہ پوری طرح انہیں ا ن کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرکے ان پر حجت تمام کردے (وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا ) ۔ مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ یہاں عذاب سے مراد ہر قسم کا دنیاوی یا اخروی عذاب ہے یا خصوصیت سے”عذابِ استیصال“ ہے (یعنی طوفان نوح کی طرح کا ہولناک عذاب) ۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ آیت کا ظاہری مفہوم مطلق ہے اور اس میں ہر قسم کا عذاب شامل ہے ۔ نیز اس بارے میں بھی مفسرین میں اختلاف ہے کہ یہ حکم شرعی مسائل کہ جنہیں نقلی دلائل سے معلوم کیا جاتا ہے کے لیے مخصوص ہے یا اصولی و فرعی اور عقلی و نقلی تمام مسائل سے مربوط ہے ۔ البتہ اگر ہم آیت کے ظاہری مفہوم کو دیکھیں تو مطلق ہے ۔ لہٰذا کہنا چاہئے اصول و فروع دین سے مربوط تمام عقلی و نقلی احکام اس میں شامل ہے ۔ آیت کے ظاہری مفہوم کے لحاظ سے اس گفتگو کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مسائل بھی جن کے بارے میں عقل مستقلاً اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ رکھتی ہے(مثلاً عدل کا اچھا ہونا اور ظلم کا برا ہونا) الله تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے ان کے بارے میں بھی کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دیتا جب تک خدا کے پیغمبر نہ آئیں اور حکم نقل کے ذریعے حکم عقل کی تائید نہ کریں ۔ (غور کیجئے گا) ۔ لیکن یہ بات بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ عقل جن امور کے بارے میں مستقل فیصلہ رکھتی ہے وہ بیان شرعی کے محتاج نہیں ہیں اور ایسے امور کے لیے حکم عقل اتمام حجت کے لیے کافی ہے لہٰذا ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم مستقلات عقلی کو اس آیت سے مستثنیٰ سمجھیں اور اگر ایسا نہ سمجھیں تو پھر عذاب کے اس جملے میں عذابِ استیصال کا معنی لینا ہوگا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ الله تعالیٰ اپنے لطف اور کرم کی وجہ سے ظالموں اور منحرفوں کواس وقت تک نابود نہیں کرے گا جب تک انہیں سعادت کی تمام راہیں بتانے والا پیغمبر ان میں مبعوث نہ کرے ۔وہ پیغمبر ان سے مستقلات عقلی کے بارے میں بھی شرعی حکم بیان کرے گا اور عقل و نقل دونوں حوالوں سے اتمام حجت کرے گا(غور کیحئے گا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:13-15
چند اہم نکات
۱۔ اچھی اور بری فال: کسی چیز یا کام سے نیک و بد فال لینا تمام قوموں میں تھا اور آج بھی ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ اس کا سرچشمہ حقائق تک دسترس نہ ہونا اور واقعات کے اسباب و علل سے لا علمی ہے ۔ بہر حال اس میں شک نہیں کہ نیک یا بد فال کا کوئی طبیعی اثر نہیں ہے البتہ اس کا نفیساتی اثر ہوتا ہے ۔ لیکن فال امید آفریں ہوتی ہے جبکہ بد فال یاس، ناامیدی اور کمزوری کا موجب بنتی ہے ۔ اسلام چونکہ ہمیشہ اچھی چیزوں کا خیر مقدم کرتا ہے اس لیے اسلام نے نیک فال سے منع نہیں کیا، البتہ بد فال کی شدید مذمت کی ہے ۔ یہاں تک کہ بعض روایات میں اسے سرحد شرک میں شمار کیا گیا ہے ۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: الطیرة شرک بری فال لینا(اور خدا کے مقابلے میں اسے اپنی قسمت میں موثر جاننا) ایک قسم کا خدا کی ذات میں شرک کرنا ہے ۔ اس سلسلے میں چھٹی جلد میں ہم سورہٴ اعراف میں آیت ۱۳۱ کے ذیل میں گفتگو کر چکے ہیں ۔یہ بات جاذب نظر ہے کہ صحیح او راصلاح پہلووں سے اس قسم کے تخیلاتی امور سے اسلام نے بھی فائدہ اٹھایا ہے ۔ مثلاًعمو ماً کہا جاتا ہے کہ فلاں دلہن خوش قدم تھی یا بَد قدم تھی۔جس دن سے اس نے فلاں شخض کے گھر میں قدم رکھا ہے وہ ایساہو گیاہے ۔ یہ ایک فضول بات سے زیادہ نہیں ہے ۔لیکن اسلام نے اسے تعمیری اور اصلاحی شکل دی ہے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے : من شوم المرئة غلاء مھرھا وشدة مئونتھ---- عورت کی ایک نحوست یہ ہے کہ اس کاحق مہرزیادہ ہو اور اخراجات بھاری ہوں----(۱) ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ(ص) وسلم سے منقول ہے: اما الدار فشومھا ضیقھا وخبث جیرانھا منحوس گھر وہ ہے کہ جو تنگ وتاریک ہو اور جس کے ہمسائے برے لوگ ہوں ۔ (۲) خوب غور کریں کہ وہی الفاظ جنہیں لوگ غلط اور بے ہودہ مفاہیم کے لیے استعمال کرتے ہیں انہیں حقیقی اور اصلاح مفاہیم کے لیے صرف کیا گیا ہے اور بے راہ روی کی طرف جانے والے خیال و افکار کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کی گئی ہے ۔ اس بحث کی موید رسول صلی الله علیہ وآلہ(ص) وسلم کی ایک حدیث پر ہم اپنی اس گفتگو کو ختم کرتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: اللّٰھم لاخیر الّا خیرک، ولا طیر الّا طیرک ولا رب غیرک بار الہا!خیر وہی ہے جو تیری طرف سے ہوا اور کوئی اچھی بری فال تیرے ارادے کے بغیر کچھ نہیں اور تیری علاوہ کوئی رب نہیں ۔ ۲۔ انسان کا عجیب اعمال نامہ: قرآن حکیم کی بہت سی آیات اور روایات میں انسانوں کے نامہ اعمال کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ مجموعی طور پر ان آیات و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے تمام اعمال اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ ایک رجسٹر میں لکھے جاتے ہیں اور اگر انسان نیک ہوا تو روز قیامت اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اگر برا ہوا تو بائیں ہاتھ میں ۔ سورہ ٴحاقہ میں ہے: <فَاٴَمَّا مَنْ اٴُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِینِہِ فَیَقُولُ ھَاؤُمْ اقْرَئُوا کِتَابِی جسے اس نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں تھما یا جائے گا فخر سے کہے گا کہ آئیے اور ہمارا نامہٴ اعمال پڑھیے ۔ (حاقہ۔۱۹) نیز یہ بھی فرمایا ہے: <وَاٴَمَّا مَنْ اٴُوتِیَ کِتَابَہُ بِشِمَالِہِ فَیَقُولُ یَالَیْتَنِی لَمْ اٴُوتَ کِتَابِی لیکن جسے اس نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں تھما یا جائے گا وہ کہے گا: اے کاش! میر نامہٴ اعمال مجھے نہ تھما یا جاتا ۔ (حاقہ۔ ۲۵) سورہ کہف کی آیت ۴۹ میں ہے: <وَوُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیہِ وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لَایُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلَاکَبِیرَةً إِلاَّ اٴَحْصَاھَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَایَظْلِمُ رَبُّکَ اٴَحَدًا بنی آدم کے اعمال نامے کھول دیئے جائیں گے تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اس کی تحریر سے خوف کھائیں گے اور کہیں گے! ہائے ہم پر افسوس! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس میں کوئی چھوٹا بڑا گناہ شمار کیے بغیر نہیں چھوڑا گیا اور جو کچھ انہوں نے انجام دیا تھا اسے موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا ۔ ایک حدیث میں زیر بحث آیت”اقرء کتابک---“کے ذیل میں اما م صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: یذکر العبد جمیع ما عمل، وما کتب علیہ، حتی کانہ فعلہ تلک الساعة، فلذلک قالوا یا ویلتنا ما لہٰذا الکتاب لایغادر صغیرة ولا کبیرة الّا اٴحصاھ- جو کچھ انسان انجام دے چکا ہے اور اس کے نامہٴ اعمال میں درج ہے سبب کچھ اسے یاد آجائے گا اور اس طرح سے کہ جیسے اس نے ابھی ابھی انجام دیا ہے لہٰذا مجرمین پکاریں گے اور کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے کہ جس نے کوئی چھوٹا بڑا گناہ لکھے بناء نہیں چھوڑا ۔ (3) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نامہٴ اعمال کیا ہے اور کیسا ہے ۔ظاہر ہے کہ وہ عام کتاب، یار جسٹر یا فائل کی طرح کا تو نہیں ہوگا ۔ اس لیے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ نامہٴ اعمال”روح انسان“ کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے کہ جس میں تمام اعمال کے آثار ثبت ہیں ۔ (4) کیونکہ ہم جو بھی عمل انجام دیتے ہیں وہ لازمی طور پر ہماری روح پر اثر مرتب کرتا ہے ۔ یا یہ کہ یہ نامہٴ اعمال ہمارے جسم کے اعضاء اور گوشت پوست اور اس کے گرد کی زمین، ہوا اور فضا ہے کہ جس میں ہم اعمال انجام دیتے ہیں کیونکہ ہمارے اعمال ہمارے جسم پر اثرات مرتب کرنے کے علاوہ ہوا اور زمین پر بھی اثر چھوڑتے ہیں اگر چہ اس دنیا میں ہم ان آثار کو محسوس کر نہیں سکتے لیکن بلاشبہ وہ موجود ہوتے ہیں اور روز قیامت کہ جب ہمیں ایک نئی قوت ادراک حاصل ہوگی، ہم دیکھ سکیں گے ۔ سطورِ بالا میں جو تفسیر بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں لفظ”اقراٴ“ (پڑھ) سے غلط فہمی پیدا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ پڑھنے کا بھی ایک وسیع مفہوم ہے اور اس میں ہر قسم کا مشاہدہ شامل ہے ۔ مثلاً روز مرہ کی گفتگو میں ہم کبھی کبھی کہتے ہیں:”میں نے اس کی آنکھوں سے پڑھ لیا ہے کہ اس کا ارادہ کیا ہے“ یا ”فلاں آدمی کے فلاں کام سے میں نے باقی بات پڑھ لی ہے ۔“ اسی طرح بیماروں کے ایکس رے کو دیکھنے کے لیے بھی پڑھنے کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ہے کہ اس کے نامہ اعمال کے مندرجات کسی طرح بھی قابلِ انکار نہیں ہیں کیونکہ وہ خود عمل کے حقیقی اور تکوینی آثار ہیں ۔بالکل انسان کی ٹیپ شدہ آواز کی طرح اور یا اس کی انگلی کے نشان کی طرح۔ ۳۔ گنگار کے ساتھ بے گناہ نہیں جلے گا: عوام میں مشہور ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو خشک و تر سب کچھ جل جاتا ہے ۔ لیکن منطق، عقل اور تعلیمات انبیاء کے مطابق کسی بے گناہ کو کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے سزا نہیں ملے گی قوم لوط کے تمام شروں میں صرف ایک گھر ایمان والوں کا تھا ۔ جب الله نے اس منحرف اور غلیظ قوم پر عذاب نارل کیا تو اس ایک گھرانے کو بچا لیا ۔ زیر بحث آیات میں بھی صراحت سے فرمایا گیا ہے: ولا تزر وازرة وزر اخری کوئی شخص دوسرے کا بوجھ دوسرے کا بوجھ اپنے کندھے پر نہیں اٹھا ئے گا ۔ اس بناء پر اگر کچھ غیر معتبر روایات میں اسلام کے کلی قانون کے خلاف کچھ نظر آئے تو اسے لازمی طور پر ایک طرف پھینک دینا چاہئے یا اس کی توجیہ کی جانا چاہئے ۔ مثلا ًایک روایت میں ہے: مرجانے والے کو اس کے پسماندگان کی گریہ و زاری کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔ ہوسکتا ہے یہاں عذاب سے عذاب الٰہی مراد نہ ہو بلکہ اس سے وہ ناراحتی اور دکھ مراد ہو کہ جو اس کی روح کو اپنے عزیزوں کی بے تابی و اضطراب سے آگاہ ہونے پر ہوتا ہے ۔ نیز اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ کہ کافروں کی اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ جہنم میں جائے گی، ایک اسلامی عقیدہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اولاد کو ماں باپ کے گناہ کی سزا نہیں مل سکتی یہی وجہ ہے کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ غیر شرعی طور پرپیدا ہونے والی اولاد کا بھی ذاتی طور پر کوئی گناہ نہیں اور اگر وہ چاہے تو سعادت و نجات کے دروازے اس کے سامنے کھلے ہیں اگر چہ ایسی اولاد کے لیے تربیت کا مسئلہ بہت دشوار ہے ۔ ۴۔ برائت کا اصول اور آیت”ما کنا معذبین“: علمِ اصول میں”برائت “کی بحث میں زیر نظر آیت سے استدال کیا گیا ہے کیونکہ آیت کا کم از کم مفہوم یہ ہے کہ جن مسائل کا عقل ادراک نہیں کرسکتی، انبیاء بھیجے بغیر یعنی احکام اور ذمہ داریاں بیان کیے بغیر خدا کسی کو سزا نہیں دے گا ۔ یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ جن امور کے بارے میں کوئی حکم موجود نہیں ہے ان پر کوئی سزا نہ ہوگی۔ اس کو قانونِ برائت کہتے ہیں یعنی حکم بیان کیے بغیر سزا صحیح نہیں ہے ۔ باقی رہا یہ معاملہ کہ بعض نے کہا ہے کہ زیر نظر آیت میں عذاب سے مراد صرف عذابِ استیصال ہے جیسا قومِ نوح پر آیا تھا، تو اس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں آیت مطلق ہے اور اس کے مفہوم میں ہر قسم کا عذاب اور سزا شامل ہے ۔ ۱۶ وَإِذَا اٴَرَدْنَا اٴَنْ نُھْلِکَ قَرْیَةً اٴَمَرْنَا مُتْرَفِیھَا فَفَسَقُوا فِیھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاھَا تَدْمِیرًا ۱۷ وَکَمْ اٴَھْلَکْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ وَکَفیٰ بِرَبِّکَ بِذُنُوبِ عِبَادِہِ خَبِیرًا بَصِیرًا ترجمہ ۱۶۔ اور جب ہم کسی شہر کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے”مترفین“( نفس پرستی میں مست دولت مندوں) سے اپنے اورامر بیان کرتے ہیں ۔ پھر جب وہ مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں تو ہم شدت سے ان کی سر کوبی کرتے ہیں ۔ ۱۷۔ اور ایسے کتنے ہی لوگ تھے جو نوح کے بعد کی صدیوں میں رہے اور(اسی سنت کے مطابق)ہم نے انہیں ہلاک کردیا ۔ اور کافی ہے تیرا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں سے آگاہ اور ان کے لیے بینا ہے ۔ ۱۔ وسائل الشیعہ، ج۳، ص۱۰۴- ۲۔ سفینة البحار، ج۱، ص۶۸۰- 3۔ نور الثقلین، ج۳، ص۱۴۴- 4۔ تفسیر صافی-