قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا
Say, ‘Invoke ‘‘Allah’’ or invoke ‘‘the All-beneficent.’’ Whichever [of His Names] you may invoke, to Him belong the Best Names.’ Be neither loud in your prayer, nor murmur it, but follow a middle course between these,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:110
[Pooya/Ali Commentary 17:110] (see commentary for verse 90)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:110-111
سوره اسراء / آیه 110 - 111
۱۱۰ قُلْ ادْعُوا اللهَ اٴَوْ ادْعُوا الرَّحْمَانَ اٴَیًّا مَا تَدْعُوا فَلَہُ الْاٴَسْمَاءُ الْحُسْنَی وَلَاتَجْھَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَاتُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیلًا ۱۱۱ وَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیرًا ترجمہ ۱۱۰ ۔کہہ دو: اللہ کو پکار و یا رحمٰن کو جسے بھی پکارو(اس کی پاک ذات ایک ہی ہے اور)اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اپنی نماز نہ زیادہ بلند پڑھ اور نہ بہت آہستہ بلکہ درمیانی (معتدل)راہ اختیار کر۔ ۱۱۱۔ اور کہہ دو: حمد و ستائش اس اللہ کے لیے ہے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ جس کی حکومت میں کوئی شریک ہے اور نہ وہ کمزور و عاجز ہے کہ کوئی اس کا ولی و حامی ہے اور اس کی کبریائی بیان کرو، کمال درجے کی کبریائی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:110-111
جہر و اخفات میں اعتدلال کے دو پہلو
جہر و اخفات میں اعتدلال کے دو پہلو جہر و اخفات میں اعتدال کا یہ اسلامی حکم ہمیں دو لحاظ سے متوجہ کرتا ہے: پہلے اس نظر سے کہ ہم اپنی عبادات اس طرح سے انجام نہ دیں کہ دشمنوں کے ہاتھ بہانہ آجائے ۔ وہ تمسخر اڑانے لگیں یا اعتراض کرنے لگیں ۔ کیا ہی اچھا ہے کہ عبادت، متانت، سکون اور ادب کے ساتھ ہوکہ جس پر نہ صرف اعتراض نہ کیا جاسکے بلکہ اپنے شکوہ، آداب ارو عظمت کے لحاظ سے بھی نمونہ ہو ۔ کچھ لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ جب لوگ آرام کررہے ہیں اپنے جلسوں میں ایسے لاؤ ڈسپکر لگائیں کہ جن کی آواز کان پھاڑنے والی ہو اور اس طرح اپنے جلسوں کے وجود کی خبر دیں ۔ یہ لوگ اپنے خیالِ خام میں اس عمل کے ذریعے اسلام کی آواز دوسروں تک پہنچاتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف یہ اسلام کی آواز نہیں ہے بلکہ اسلام سے لوگوں کی دوری کا باعث ہے اور اس طرزِ عمل سے نتیجتاً دینی تبلیغات پر ضرب لگتی ہے ۔ اس حکم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ عبادت ہمارے دوسرے اعمال کے لیے نمونہ بن جائے ۔ ہمارے تمام سماجی، سیاسی اور اقتصادی امور اسی آئینے میں انجام پائیں ۔ ان امور میں ہمیں ہر طرح کے افراط و تفریط اور تندروی و سہل انگاری سے بچنا چاہیےٴ اور ”وابتغ بین ذٰلک سبیلاً “(درمیانی راہ اختیار کرو)کو اصول ہر کہیں کار فرما ہونا چاہیےٴ۔ اب ہم سورہ بنی اسرائیل کی آخری آیت پر پہنچتے ہیں ۔ اس میں حمد کے ساتھ سورہ کا اختتام ہوتا ہے جیسے اس کی ذات پاک کی تسبیح کے ساتھ اس سورہ کی ابتداء ہوئی تھی۔ در حقیقت یہ آخری آیت اس سورہ کے تمام توحیدی مباحث اور مفاہیم کا نتیجہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کہہ دو: حمد مخصوص ہے اس خدا کے لیے جس کا کوئی بیٹا ہے نہ عالم ہستی کی حکومت و مالکیت میں جس کا کوئی شریک ہے اور نہ توانائی کے لیے اس کا کوئی سرپرست ہے( وَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ)۔اور وہ ایسی صفات کا حامل خدا ہے کہ ہر لحاظ سے تمہاری فکر سے برتر و بالاتر ہے لہٰذا اس کی بڑائی اور کبریائی کو سمجھو اور اس کی لامتناہی عظمت سے آشنائی حاصل کرو ( وَکَبِّرْہُ تَکْبِیرًا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:110-111
۳۔ ایک سوال کا جواب
۳۔ ایک سوال کا جواب: یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے ۔ وہ یہ کہ زیر بحث آیات میں صفات سبیلہ کے ساتھ خدا حمد کیونکر آئی ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ حمد صفاتِ ثبوتیہ یعنی علم و قدرت وغیرہ کے ساتھ آنی چاہیٴے ۔ ولد، شریک اور ولی کی نفی جیسی صفات کے ساتھ تسبیح مطابقت رکھتی ہے نہ کہ حمد۔ اس سوال کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ صفات ثبوتیہ اور صفاتِ سبیلہ کا مقام اگر چہ ایک دوسرے سے جدا ہے اور صفات ثبوتیہ حمد کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں اور صفاتِ سبیلہ تسبیح کے ساتھ لیکن عینیت خارجی میں یہ ایک دوسرے کی لازم و ملزوم ہیں ۔ خدا سے جہل کی نفی اثباتِ علم کے ساتھ ہے جیسا کہ اس کی ذاتِ پاک کے لیے اثبات علم، جہل کی نفی کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ لہٰذا کوئی مانع نہیں کہ کبھی لازم کو بیان کیا جائے اور کبھی ملزوم کو ۔ جیسا کہ اس سورہ کی ابتداء میں ایک اثباتی امر کیلئے تسبیح آئی ہے: سُبْحَانَ الَّذِی اٴَسْریٰ بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْاٴَقْصیٰ منزہ ہے وہ خدا کہ جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد اقصیٰ کی طرف لے گیا ۔ پروردگارا! ہمارے دل کو نورِ علم و ایمان سے سرشار کردے تاکہ ہم تیری عظمت کے سامنے ہمیشہ جھُکے رہیں، تیرے وعدوں پر ایمان رکھیں اور تیرے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیں، تیرے وعدوں پر ایمان رکھیں اور تیرے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیں، تیرے علاوہ کسی کی پرستش نہ کریں اور تیرے عیر کا سہارا نہ لیں ۔ بار الٰہا! ہمیں توفیق دے کہ ہم زندگی بھر کبھی اعتدال سے باہر نہ نکلیں اور ہر قسم کی افراط و تفریط سے پرہیز کریں ۔ خداوندا! ہم تیری حمد کرتے ہیں ۔ تجھے یگانہ و یکتا سمجھے برتر سمجھتے ہیں، اس سے برتر کہ تیری توصیف کی جاسکے ۔ تو بھی ہمیں بخش دے ۔ ہمارے قدم اپنی راہمیں استوار کر اور اخلی و خارجی دشمنوں پر ہمیں کامیابی فرما اور ہماری کامیابیوں کو قیام مہدی موعود (ہماری جانیں ان پر فدا)کی آخری کامیابی کے ساتھ متصل کردے اور اس تفسیر کی ایسی تکمیل کی توفیق دے کہ جس سے تو توراضی و خشنود ہو ۔ سورہ بنی اسرائیل اختتام کو پہنچی سورہٴ کہف اس سورہ کی ۱۱۰ آیتیں ہیں آیت ۲۸ کے سوا سب مکی ہیں سورہٴ کہف کی فضیلت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں بہت سی روایات مروی ہیں، ان روایات میں سے اس سورہ کے مضامین کی بہت زیادہ اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔چند ایک روایات ذیل میں درج کی جارہی ہیں: ۱۔ رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: کیا تمھیں ایسی سورہ کا تعارف کراوٴں کہ جو نازل ہوئی تو ستّر ہزار فرشتے اس کی نگرانی کررہے تھے اور اس کی عظمت سے زمین وآسمان معمور تھے ۔ صحابہ نے عرض کی: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا: وہ سورہٴ کہف ہے، جو شخص جمعہ کے روز اس کی تلاوت کرے گا آئندہ جمعہ تک الله اسے بخش دے گا (ایک اور روایت کے مطابق آئندہ جمعہ تک الله اسے گناہ سے محفوظ رکھے گا) اور اسے ایسا نور عطا کرے گا کہ جو آسمان تک ضوفشاں ہوگا اور وہ شخص دجّال کے فتنے سے محفوظ رہے گا ۔(1) ۲۔ ایک اور روایت نبی اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ہی سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: جو شخص سورہٴ کہف کی دس آیات حفظ کرے گا اسے دجّال نقصان نہیں پہنچاسکے گا اور جو شخص اس سورہ کی آخری آیات حفظ کرے گا روزِ قیامت یہ اس کے لئے روشنی بن جائیں گی۔(2) ۳۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: جو شخص ہر شب جمعہ سورہٴ کہف کی تلاوت کرے گا دنیا سے وہ شہید جائے گا اور شہداء کے ساتھ مبعوث ہوگا اور روزِ قیامت شہداء کی صف میں شمار ہوگا ۔(3) ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآنی سوروں کی عظمت، ان کے روحانی اثرات اور اخلاقی برکات ان کے مضامین ومفاہیم کے لحاظ سے ہیں یعنی ان اثرات وبرکات کے حصول کے لئے ان مفاہیم پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا ہوگا ۔ اس سورہ کے مضامین کا ایک نہایت اہم حصّہ چند با عظمت نوجوانوں کی داستان پر مشتمل ہے، ان نوجوانوں نے اپنے زمانے کے طاغوت اور دجّال کے خلاف قیام کیا، نتیجتاً ان کی جان خطرے میں پڑگئی اور وہ گویا موت کی سرحد تک آپہنچے لیکن الله تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی، اس کی سچّی داستان کی طرف توجہ کی جائے تو ہوسکتا ہے وہ دل جو آمادہ ہو ان میں نورِ ایمان چمک اٹھے گا اور انھیں گناہوں، دجّالوں اور فاسد ماحول کی برائیوں سے بچالے ۔ اس سورہ میں عذابِ دوزخ کا ایسا تذکرہ ہے کہ انسان لرز کے رہ جاتا ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسا بُرا انجام مستکبرین کے انتظار میں ہے ۔ اسی طرح اس سورہ میں ایک نہایت عمدہ مثال کے ذریعے علمِ الٰہی کی وسعت بیان کی گئی ہے ۔ اگر انسانان تمام امور کی طرف توجہ کرے تو ہو سکتا ہے شیاطین کے فتنوں سے محفوظ رہے، اس کے دل میں ایک روشنی چمک اٹھے اور وہ عصیاں وگناہ سے بچ جائے جس کے نتیجے میں آخرکار شہداء کے ساتھ محشور ہو ۔ سورہٴ کہف کے مضامین یہ سورہ الله کی حمد وستائش سے شروع ہوتی ہے اور توحید، ایمان اور عملِ صالح کے ذکر پر تمام ہوتی ہے ۔ دیگر مکّی سورتوں کی طرح اس سورہ کے مضامین بھی زیادہ تر مبداء ومعاد اور بشارت وانذار پر مشتمل ہیں، نیز اس میں ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کی ان سخت دنوں میں مسلمانوں کو ضرورت تھی، مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ حق پرست اگرچہ کتنے کم کیوں نہ ہوں اور حق پرستوں کو ماحول کی خرابی میں منحل نہیں ہونا چاہیے، اگرچہ اکثریت ظاہراً کتنی ہی قوی اور طاقتور کیوں نہ ہو اور حق پرستوں کو ماحول کی خرابی میں منحل نہیں ہونا چاہیے اور اس بُرے ماحول کے خلاف قیام کرنا چاہیے، ان تھوڑے افراد میں جب تک طاقت ہو مقابلہ کریں اور طاقت نہ ہونے کی صورت میں انھیں چاہیے کہ ہجرت کرجائیں ۔ اس میں دو افراد کی ایک اور داستان بھی ہے، ان میں سے ایک بہت زیادہ خوشحال اور دولت مند تھا لیکن ایمان کی دولت سے محروم تھا جبکہ دوسرا تہی دست تھا مکر مومن تھا، یہ تہی دست اپنی عزت وقار کو برقرار رکھتے ہوئنے ہمیشہ اس امیر شخص کو نصیحت وارشاد کیا تھا لیکن جب اس پر کوئی اثر نہ ہوا تو اس سے بیزاری کا اعلان کردیا اور کامیابی کا راستہ بھی ہی ہے ۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ابتدائی حالات کی مشکلات سے دوچارہیں یا آئندہ کبھی جن مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے وہ جان لیں کہ سرمایہ داروں کا جوش و خروش وقتی ہوتا ہے، جیسا ایک با ایمان شخص کی تنگدستی۔ اس سورہ میں اگر چہ حضرت خضر(علیه السلام)کا نام نہیں آیا تاہم اس میں حضرت موسٰی(علیه السلام) اور حضرت خضر(علیه السلام) ایک واقعہ مذکورہ ہے ۔ اس واقعے کے مطابق بعض کام ایسے تھے جو ظاہراً تو ٹھیک نہ معلوم ہوتے تھے مگر باطناً مصلحت پر مبنی تھے، حضرت موسی(علیه السلام)ٰ ان پر نہ کرسکے لیکن حضرت خضر(علیه السلام)نے وضاحت کی تو انہیں ان کی گہرائی کا پورا علم ہوا اور پھر اپنی بے تابی پر پشیمان ہوئے ۔ اس واقعے میں بھی سب کے لیے یہ درس ہے کہ واقعات کو صرف ظاہری نظر سے نہ دیکھا کریں بلکہ ان کی گہرائی پر نظر کریں ۔ اس سورہ میں حضرت ذوالقرنین کی داستان بھی مذکور ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کیسے دنیا کے مشرق و مغرب کی سیر کی۔ دنیا کی مختلف قوموں سے ملے کہ جن کے رسم و رواج مختلف تھے ۔ آخر کار وہ کچھ لوگوں کی مدد سے یا جوج و ماجوج کی سازش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے راستے میں آہنی دیوار کھڑی کرکے ان کے نفوذ کو ختم کردیا ۔ (اس واقعے کی پوری تفصیل انشاء اللہ سورت کے ذیل میں آئے گی)۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصدیہ ہے کہ مسلمان دنیا کے مشرق و مغرب میں نفوذ کے لیے پوری بصیرت کے ساتھ اپنے آپ کو تیار کریں اور ہر طرح کے یاجوج و ماجوج کا مقابلہ کرنے کے لیے آپس میں متحد ہوجائیں ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اصحاب کہف، موسیٰ(علیه السلام) و خضر کا واقعہ اور خضر کا واقعہ اور حضرت ذوالقرنین کی داستان کہ جس کا اس سورہ میں ذکر ہے دیگر قرآنی واقعات کے بر خلاف ان کا قرآن میں کسی اور جگہ کوئی ذکر نہیں آیا ۔ صرف سورہ انبیاء کی آیہ ۹۶ میں یاجوج وماجوج کے مسئلے کی طرف اشارہ ہوا ہے تا ہم حضرت ذوالقرنین کا نام اس میں نہیں آیا ۔ بہرحال یہ بات اس سورہ کی خصوصیات میں سے ہے ۔ بہر کیف اس سورہ کے مضامین ہر لحاظ سے ثمر بخش اور ترتیب کنندہ ہے ۔ ۱، 2، 3۔ مجمع البیان
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:110-111
شان نزول
مفسرین نے زیر نظر پہلی آیت کی شانِ نزول کے بارے میں ابن عباس کے حوالے سے یوں نقل کیا ہے: مکہ میں ایک رات پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سجدے میں تھے ۔ آپ خدا کو ”یا رحمٰن“اور ”یا رحیم“ کہہ کر پکار رہے تھے کہ عذر تراش مشرکوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا: دیکھو! یہ شخص (ہمیں تو سرزنش کرتا ہے کہ ہم کئی خدا کیوں مانتے ہیں لیکن)خود دو خداؤں کی پرستش کرتا ہے حالانکہ اس کا خیال ہے کہ یہ موحد ہے اور اس کا ایک سے زیادہ معبود نہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں جواب دیا گیا (کہ یہ متعدد نام ایک ہی ذات پاک کی خبر دیتے ہیں)۔(۱) ۱۔ مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:110-111
آخری بہانے
آخری بہانے گزشتہ آیات میں مشرکین کے کمزور اور بے بنیاد بہانوں کا ذکر تھااور ان کا جواب دیا گیا تھا ۔ زیر نظر آیات میں ان کے آخری بہانوں کا ذکر ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ پیغمبر خدا کو مختلف ناموں سے کیوں پکارتے ہیں جبکہ یہ توحید کے مدعی ہیں ۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: کہہ دو : تم اسے ”اللہ “کے نام سے پکارو یا ”رحمٰن“کے نام سے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے کئی اچھے اچھے نام ہیں (قُلْ ادْعُوا اللهَ اٴَوْ ادْعُوا الرَّحْمَانَ اٴَیًّا مَا تَدْعُوا فَلَہُ الْاٴَسْمَاءُ الْحُسْنَی)۔ دل کے یہ اندھے اپنی روز مرہ کی زندگی پر بھی نظر نہیں کرتے تھے ۔ خود ان کے ہاں ایک شخص، ایک جگہ یا ایک چیز کے لیے کئی کئی نام ہوتے تھے اور یہ مختلف پہلوؤں کے حوالے سے رکھے جاتے تھے ۔ تو کیا ان حالات میں باعثِ تعجب ہے کہ جس کے ہاتھ میں ہے ۔ ، جو تمام کمالات، نعمات اور اچھائیوں کا سرچشمہ ہے، اس جہان کی ہر گردش جس کے ہاتھ میں ہے ۔ اس ذات مقدس کے ہر کمال اور ہر کام کی مناسبت سے کوئی خاص نام ہو ۔ اصولی طور پر اللہ کو صرف ایک نام سے نہ پکارا جاسکتا ہے اور نہ پہنچانا جاسکتا ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس کے نام اس کی صفات کی طرح لامتناہی ہوں تاکہ اس ذات کے ترجمان ہوں لیکن ہمارے الفاظ چونکہ ہمارے الفاظ چونکہ ہماری ہر چیز کی طرح محدود ہیں ۔ لہٰذا ہمارے پاس اس کے نام بھی محدود ہی ہیں ۔ اس لیے اللہ کے بارے میں ہماری جتنی بھی معرفت ہو محدود ہے ۔ یہاں تک کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی روح کی عظیم وسعت کے باوجود فرماتے ہیں: ما عرفناک حق معرفتک تیری معرفت کا جو حق ہے اتنا ہم تجھے پہچان نہیں پائے ۔ لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ہماری جتنی عقل اور شعور ہے اتنا اسے نہ پہنچانیں خصوصاً جبکہ وہ اپنی ذات کی معرفت کے لیے خود ہماری مدد بھی بہت کرتا ہے اور اپنی کتاب میں مختلف ناموں سے اپنا ذکر کرتا ہے اور اس کے اولیاء دین کے بیانات میں اس کے ایک ہزار کے قریب اسما ہم تک پہنچے ہیں ۔ واضح ہے کہ یہ سب ”اسم“ہیں اور ”اسم“کا ایک معنی علامت اور نشانی ہے لہٰذا یہ سب اس کی پاک ذات کی نشانیاں ہیں اور یہ سب خطوط ایک ہی نقطے تک جا پہنچتے ہیں اور اس سے اس کی ذات و صفات کی توحید ووحدت پر کوئی فرق نہیں آتا ۔ ان اسماء میں سے بعض زیادہ اہمیت و عظمت کے حامل ہیں کیونکہ ان کے توسط سے ہمیں زیادہ معرفت و آگہی نصیب ہوتی ہے ۔ ان اسماء کو قرآن حکیم اور اسلامی روایات میں ”اسماء الحسنیٰ“سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے ایک مشہور روایت میں ہے: اللہ کے ننانوے نام ہیں جو شخص انہیں شمار کرے گا جنت میں داخل ہوگا ۔ اسماء الحسنیٰ کے مفہوم اور ان ننانوے ناموں کے بارے میں ہم ساتویں جلد میں سورہ اعراف کی آیہ ۱۸۰ کی تفسیر میں تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں ۔ آیت یوں ہے: وللّٰہ الاسماءُ الحسنیٰ فادعُوُبہا اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں ۔ اسے ان ناموں سے پکارا کرو ۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم سمجھیں کہ ان ناموں کو شمار کرنے کا یہ معنی نہیں کہ ان ناموں کو صرف زبان پر جاری کرلیں اور اللہ کو ان ناموں سے پکاریں تاکہ جنتی یا مستجاب الدعوة ہوجائیں ۔ مقصد یہ ہے کہ ان اسماء کو عملی طور پر اپنا یا جائے ۔ عالم، رحمان، رحیم ، جواد، کریم جیسے ناموں کا پرتو اپنے وجود پر ڈالا جائے اور عملی زندگی میں انہیں اپنایا جائے تاکہ ہم جتنی بھی ہوجائیں اور ہماری دعا بھی ہر حالت میں مستجاب ہو ۔ مرحوم صدوق نے اپنی کتاب توحید میں ہشام بن حکم سے ایک حدیث نقل کی ہے ۔ اس میں ہے: ہشام کہتا ہے میں نے امام سے اللہ کے ناموں کے بارے میں پوچھا اور یہ بھی پوچھا کہ ان کی بنیاد کیا ہے ۔ نیز میں نے کہا کہ ”اللہ“کس سے مشتق ہے ۔ تو امام نے فرمایا: اے ہشام ! یہ لفظ ”الہ“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ”تحیّر“اور”الہ“ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ کوئی ”ماٴلوہ“رکھتا ہو(وہ ذات کہ کوئی شخص جس کی ذات کی حقیقت اور کہنہ کی شناخت کے لیے حیران و سرگردان ہو)۔ لیکن اس بات کو جانو کہ اسم مسمیٰ کا غیر ہے لہٰذا جو صرف نام کی پرستش کرتا ہے بغیر مفہوم و مطلوب کے، وہ کافر ہے اور در حقیقت اس نے کسی چیز کی پرستش نہیں کی اور جو اسم اور مسمٰی دونوں کی پرستش کرتا ہے وہ بھی کافر ہے کیونکہ وہ دو کی پرستش کرتا ہے نہ کہ اسم کی (بلکہ اسم کو اس معنی تک پہنچنے کے لیے علامت سمجھے)تو یہ سچی توحید کی حقیقت ہے ۔ اے ہشام! سمجھ۔ ہشام کہتا ہے: میں نے عرض کیا کہ کچھ سمجھا ہوں ۔ میرے لیے کچھ وضاحت اور کیجیے آپ(علیه السلام) نے فرمایا: خدائے بزرگ و برتر کے نانوے نام ہیں ۔ ہر اسم کا اگر ایک مسمی ہو تو ننانوے خدا ہونے چاہئیں لیکن ”اللہ“ایک نام ہے کہ جو ان صفات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بہرحال اس کے تمام نام اس کی ذات کے غیر ہیں ۔ اے ہشام: روٹی نام ہے ایک چیز کا جسے کھایا جاتا ہے اور پانی نام ہے ایک چیز کا جسے پیا جاتا ہے اور لباس نام ہے ایک چیز کا جسے پہنا جاتا ہے اور آگ نام ہے اس چیز کو جو جلاتی ہے (لیکن یہ سب نام ہیں اور وہ چیز کہ جسے ہم کھاتے ہیں، پیتے ہیں، پہنتے ہیں اور جس کے جلانے سے ڈرتے ہیں وہ نام نہیں ہیں بلکہ عینیتِ خارجی ہے)۔(2) مشرکین مکہ رسول اللہ پر ایک اعتراض اور کرتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ یہ اپنی نماز بلند آواز سے پڑھتا ہے اور ہمیں بے آرام کرتا ہے، یہ کیسی عبادت ہے اور کیا طرز عمل ہے؟ قرآن رسول اللہ کو حکم دیتا ہے: اپنی نماز نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت آہستہ بلکہ درمیانی راہ اپناؤ (وَلَاتَجْھَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَاتُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیلًا)۔ لہٰذا مذکورہ بالا آیت مشہور فقہی اصطلاح کے مطابق جہریہ اور اخفائیہ نمازوں سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کے پیش نظر بلند یا آہستہ پڑھنے میں افراط و تفریط کا مسئلہ ہے ۔ فرمایا گیا ہے کہ نہ زیادہ بلند پڑھو کہ شور معلوم ہو اور نہ اتنا آہستہ کہ صرف جنبشِ لب باقی رہ جائے اور کان تک آواز ہی نہ آئے ۔ اکثر مفسرین نے آیت کی جوشانِ نزول ابن عباس سے نقل کی ہے وہ بھی اسی معنی کی موٴید ہے ۔ نیز امام باقر(علیه السلام) اور امام صادق علیہ السلام سے مروی جو متعدد روایات طرقِ اہلِ بیت(علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں وہ بھی اسی تفسیر کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔(3) مندرجہ بالا گفتگو کے پیشِ نظر اس آیت کے بارے میں جو دیگر تفاسیر بیان ہوئی ہیں وہ سب اصل مطلب سے دور معلوم ہوتی ہیں ۔ البتہ یہاں حد اعتدال سے کیا مراد ہے اور جس جہرو اخفات سے منع کیا گیا ہے، وہ کیا ہے؟ اس سلسلے میں پتہر یہ ہے کہ ”جہر“شور مچانے کے معنی میں ہے اور ”اخفات“اس قدر آہستہ بڑھنے کے معنی میں کہ انسان خود بھی نہ سن سکے ۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: الجھر بھا رفع الصوت، والتخافت بھا مالم تسمع نفسک، واقراٴ بین ذٰلک۔ ”جہر“آواز زیادہ بلند کرنے کو کہتے ہیں اور ”اخفات“یہ ہے کہ تم خود بھی نہ سن سکو ۔ ان دو میں سے کسی کو انجام نہ دو بلکہ ان دونوں کے درمیان حدِ وسط اختیارکرو ۔(4) رہا دن اور رات کی نمازوں میں جہرواخفات کا مسئلہ، تو جیسے ہم سطور بالا میں اشارہ کرچکے ہیں، یہ ایک الگ حکم ہے، اس کا مفہوم اور دلائل مختلف ہیں ۔ ہمارے فقاء (رضوان اللہ علیہم)نے ان کے مدارک کتاب الصلوٰة میں بیان کیے ہیں ۔ ۱۔ مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں ۔ 2۔ تفسیر المیزان، زیر بحث آیت کے ذیل میں، بحوالہ توحید صدوق۔ 3۔ تفسیر نورالثقلین، ج ۳ ص ۲۳۳ 4۔ تفسیر نورالثقلین، ج ۳ ص ۲۳۴
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:110-111
۱۔ تین صفات کا باہمی ربط
۱۔ تین صفات کا باہمی ربط: زیرِ نظر آیت میں خدا کی تین قسم کی صفات کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ نیز آیت کے ذیل کی طرف توجہ کی جائے تو کُل چار صفات ہوجاتی ہیں: پہلی صفت: یہ ہے کہ اس کی کوئی اولاد نہیں کیونکہ اولاد کا ہونا نیاز و احتیاج کی دلیل ہے ۔ جسمانی ہونے کی دلیل اور شبیہ و نظیر رکھنے کی دلیل ہے ۔ جسمانی ہونے کی دلیل اور شبیہ و نظیر رکھنے کی دلیل ہے جبکہ اس کا جسم ہے نہ وہ احتیاج رکھتا ہے اور نہ شبیہ و نظیر۔ دوسری صفت: یہ ہے کہ اس کا کوئی شریک کا وجود قدرت و حکومت کی محدودیت یا عجز و توانائی یا شبیہ و نظیر ہونے کی دلیل ہے اور اس کی کوئی شبیہ و نظیر بھی نہیں ہے ۔ تیسری صفت: یہ ہے کہ مشکلات اور ناتوانیوں کے لیے اس کا کوئی ولی نہیں کیونکہ اس خدائے عظیم و لامتناہی سے اس صفت کی نفی بھی واضح ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت اللہ سے ہر قسم کے مددگار اور شبیہ کی نفی کرتی ہے چاہے وہ اس سے کم تر ہو مثلاً اولاد یا اس جیا ہو مثلاً شریک یا اس سے بالا تر ہو مثلاً ولی۔ مرحوم طبرسی نے بعض مفسرین سے کہ جن کے نام انہوں نے نہیں لکھے، نقل کیا ہے کہ یہ آیت تین انحرافی گروہوں کے اعتقاد کی نفی کرتی ہے ۔ پہلے عیسائی اور یہودی کہ جو خدا کے بیٹے کے قائل تھے ۔ دوسرے مشرکین عرب جو اس کے لیے شریک خیال کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ صبح کے وقت اپنے مراسم عبادت میں کہتے تھے: لبیک لا شریک لک الاشریکا ہولک تیسرے ستارہ پرست اور مجوسی کہ جو خدا کے لیے ولی اور مددگا کے قائل تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:110-111
۲۔ تکبیر کیا ہے؟
۲۔ تکبیر کیا ہے؟ یہ جو قرآن نے یہاں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو بڑی تاکید سے حکم دیا ہے کہ خدا کی بڑائی شمار کرو یقینا اس کا مفہوم یہ ہے کہ پروردگار کی بزرگی اور بڑائی کا اعتقاد رکھا جائے نہ کہ صرف زبان سے ”اللہ اکبر“کہا جائے ۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ خدا کی بزرگی کا اعتقاد رکھنے کا یہ معنی نہیں کہ دوسرے موجودات کے مقابلے میں اسے برتر و بالاتر سمجھا جائے بلکہ ایسا مواز نہ اصلاً ہے ہی غلط۔ چاہیٴے کہ ہم اسے کسی چیز کے موازنہ سے برتر سمجھیں جیسا کہ امام صادق علیہ السلا نے ایک مختصر اور معنی خیز حدیث میں ہمیں تعلیم دی ہے: کسی نے آپ(علیه السلام) کے پاس کہا: اللہ اکبر امام نے فرمایا: اللہ کس چیز سے زیادہ بڑا ہے؟ اس نے عرض کیا: ہر چیز سے ۔ امام نے فرمایا: یہ کہہ کر تونے اللہ کو محدود کردیا (کیونکہ دیگر موجودات سے اس کا موازنہ کیا ہے اور ان سے برتر سمجھا ہے)۔ اس نے عرض کی: پھر ہم کیا کہیں: فرمایا : کہو: اللّٰہ اکبر من ان یوصفت یعنی خدا اس سے بڑا ہے کہ اس کی توصیف کی جاسکے ۔(1) ای برتر از خیال و قیاس و گمان و وہم و از آنچہ دیدہ ایم و نوشتیم و خواندہ ایم مجلش تمام گشت و بہ آخر رسید عمر ما ہمچنان در اوّل و صف تو ماندہ ایم اے! خیال، قیاس، گمان اور وہم سے بالا! اور اس سے بالا کہ جو ہم نے دیکھا، لکھا اور پڑھا ہے مجلس تمام ہوگئی اور عمر آخر کو پہنچ گئی لیکن ہم تیری پہلی صف پر کھڑے ہیں ۔ یہ بات جاذب نظر ہے ہے ایک نظر ہے کہ ایک اور حدیث جو امام صادق علیہ السلام ہی سے نقل ہوئی اس میں آپ (علیه السلام) نے فرمایا: و کان ثم شیء فیکون اکبر منہ کیا اصولی طور پر ذاتِ خدا کے مقابلے میں کوئی وجود ہے کہ جس سے وہ بڑا ہو؟ اس صحابی نے عرض کیا: تو پھر ہ کیا کہیں؟ فرمایا : کہو: اکبر من ان یوصف وہ اس سے برتر ہے کہ اس کی توصیف کی جاسکے ۔(2) ۱. نورالثقلین،ج ۳ ص ۲۳۹ 2 ۔ نورالثقلین، ج ۳ ص ۲۳۹